صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت نے صفِ اول کی صحت خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے یکساں، صلاحیت پر مبنی فریم ورک کے تحت بنیادی صحت مراکز کی ٹیموں کے لیے مربوط تربیت کا آغاز کیا ہے


یہ مربوط تربیتی ماڈل کمیونٹی پر مبنی افرادی قوت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ وہ ہمدردی پر مبنی، بروقت ردِعمل دینے والی اور اعلیٰ معیار کی صحت خدمات فراہم کر سکیں

یہ اقدام بنیادی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو بااختیار بناتا ہے، جو اس افرادی قوت کا 70 فیصد سے زائد حصہ ہیں (جن میں آشا ورکرز، اے این ایمز اور سی ایچ اوز شامل ہیں) جو وزیرِ اعظم کے ناری شکتی وژن کو آگے بڑھارہا ہے

یہ اقدام آخری مرحلے تک صحت خدمات کی فراہمی کو بہتر بناتا ہے،صف اول کے صحت کے عملے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے اور وکست بھارت @2047 کے وژن کو عملی شکل دینے میں مدد دیتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 MAY 2026 12:19PM by PIB Delhi

جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے عزم کو مضبوط بنانے اور صف اول کے صحت فراہم کرنے والوں کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے کے لیے، صحت و خاندانی بہبود کےمرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے حال ہی میں منعقدہ ‘‘جدت اور شمولیت سے متعلق 10واں قومی سربراہ اجلاس: بھارت کے صحت کے مستقبل کو تشکیل دینے والے بہترین طریقۂ کار’’ کے دوران بنیادی صحت کی ٹیموں کے لیے مربوط تربیت کا آغاز کیا۔

بنیادی صحت کی ٹیموں کے لیے مربوط تربیت ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، جو منتشر اور بکھری ہوئی صلاحیت سازی کے عمل سے نکل کر ایک واحد، منظم اور صلاحیت پر مبنی فریم ورک کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اقدام بھارت کےصف اول کے صحت کے عملے کو اس قابل بنائے گا کہ وہ آخری مرحلے تک اعتماد کے ساتھ جامع اور عوامی مرکزیت پر مبنی صحت خدمات فراہم کر سکیں۔

 

 

 

بھارت صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں اپنی سرمایہ کاری کے لحاظ سے نمایاں طور پر آگے ہے۔ حالیہ برسوں میں جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور کمیونٹی کی شمولیت پر خاص توجہ دی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صحت کی خدمات کو مساوی اور قابلِ رسائی ہونا چاہیے اور وہ لوگوں کے رہائشی علاقوں کے قریب دستیاب ہوں۔ اس سفر میں ایک اہم سنگِ میل آیوشمان بھارت پروگرام کا آغاز تھا، جس کے تحت آیوشمان آروگیہ مندِر کو احتیاطی، فروغ دینے والی اور علاج معالجے کی خدمات کے مرکزی نقطہ کے طور پر تصور کیا گیا۔ اس نقطہ نظر کی ایک نمایاں طاقت کمیونٹی کی شاندار شمولیت ہے، جو جن آروگیہ سمیتی، مہیلا آروگیہ سمیتی، دیہی صحت و صفائی کمیٹیوں اور اے اے ایم شِویروں جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ممکن بنائی گئی ہے۔

جیسے جیسے بھارت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے قریب پہنچ رہا ہے اور ایک زیادہ ترقی یافتہ مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، اس بات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ صحت کی سہولیات نہ صرف قابلِ رسائی ہوں بلکہ مؤثر ردِعمل دینے والی اور اعلیٰ معیار کی بھی ہوں۔ ملک بھر میں ہزاروں بنیادی صحت کی ٹیمیں لگن کے ساتھ کمیونٹیز کی خدمت کر رہی ہیں، اکثر مشکل حالات میں، جہاں بروقت اور مؤثر علاج کی فراہمی کا انحصار صرف انفراسٹرکچر پر نہیں بلکہ ان کے علم، مہارت اور اعتماد پر بھی ہوتا ہے جو وہ اپنے کام میں لاتے ہیں۔

اچھی طرح تربیت یافتہ اور بااعتماد بنیادی صحت کا عملہ معیاری علاج کی بہتری، اعلیٰ سطحی صحت مراکز پر دباؤ میں کمی اور صحت کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ بھارت کے اس عزم کو مزید تقویت دیتا ہے کہ احتیاطی اور فروغِ صحت پر مبنی خدمات کو فروغ دیا جائے، جو ایک صحت مند اور زیادہ ثمرآور ملک کی تعمیر کے بنیادی ستون ہیں اور معزز وزیرِ اعظم کے وکست بھارت @2047 کے وژن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس عوامی مرکزیت پر مبنی صحت کے وژن کو مزید مضبوط کرتے ہوئے، معزز وزیرِ اعظم نے کہا ہےکہ حقیقی ترقی انسانوں پر مرکوز ہوتی ہے۔ چاہے طبی سائنس میں کتنی ہی ترقی کیوں نہ ہو جائے، سہولیات ہر آخری فرد تک ہر آخری مقام پر پہنچنی چاہئیں۔

بنیادی صحت کی ٹیموں کے لیے مربوط تربیت اس بنیاد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مختلف پروگراموں پر مبنی تربیتوں کو ایک واحد، منظم اور صلاحیت پر مبنی فریم ورک میں یکجا کرکے یہ اقدام سیکھنے کے عمل کو آسان بناتا ہے اور فرنٹ لائن فراہم کنندگان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ جامع نگہداشت فراہم کر سکیں جس میں بیماری سے بچاؤ، ابتدائی تشخیص، علاج اور فالو اپ شامل ہیں،تاکہ لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب ہی درست وقت پر درست علاج مل سکے۔ بھارت کی تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگی میں، آئی جی او ٹی کرم یوگی جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مسلسل سیکھنے کو ممکن بنائیں گے، جس سے افرادی قوت زیادہ موافق اور مستقبل کے لیے تیار ہو گی۔

یہ اقدام دو اہم حوالوں سے منفرد ہے۔ پہلا یہ کہ یہ کمیونٹی پر مبنی افرادی قوت کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ ہمدردی پر مبنی، بروقت ردِعمل دینے والی اور اعلیٰ معیار کی صحت خدمات فراہم کر سکے۔ دوسرا یہ کہ یہ بنیادی صحت کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی خواتین کو بااختیار بناتا ہےجو اس افرادی قوت کا 70 فیصد سے زائد حصہ ہیں، جن میں آشا ورکرز، اے این ایمز اور سی ایچ اوز شامل ہیں۔ معزز وزیرِ اعظم نے مسلسل ناری شکتی کی اہمیت پر زور دیا ہے اور یہ اقدام اسی وژن کی ایک مضبوط عکاسی ہے۔ فرنٹ لائن پر موجود خواتین میں سرمایہ کاری کے ذریعے بھارت کمیونٹیز میں تبدیلی لا رہا ہے۔

مربوط تربیتی ماڈیولز بنیادی صحت کی ٹیموں کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ جامع اور عوامی مرکزیت پر مبنی صحت خدمات فراہم کر سکیں اور ساتھ ہی کمیونٹیز اور صحت کے نظام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کریں۔ یہ محض ایک تربیتی اصلاح نہیں بلکہ بھارت میں عوامی صحت کے مستقبل میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔

 

***

ش ح ۔ع ح۔  ع د

U. No.6802


(ریلیز آئی ڈی: 2258987) وزیٹر کاؤنٹر : 9