وزارت دفاع
“آپریشن سندور نے دہشت گرد حملوں پر محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی سوچ سے ہٹ کر ایک نئی سمت دکھائی ہے، اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے غیر متزلزل عزم کو فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے ظاہر کیا ہے۔”: وزیر دفاع
“آپریشن سندور نے بھارت کی تینوں افواج کی مشترکہ عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا؛ ہم نے یہ کارروائی اپنے طے کردہ اصولوں کے مطابق انجام دی اور اسی بنیاد پر اسے روکا”
“دہشت گردی ایک مسخ شدہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے؛ اسے مذہبی رنگ دے کر یا کسی پرتشدد نظریے سے جوڑ کر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے”
“دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اس کے عملیاتی، نظریاتی اور سیاسی پہلوؤں سے نمٹنا ضروری ہے”
“بھارت عالمی طور پر آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے لیے جانا جاتا ہے جبکہ پاکستان آئی ٹی (انٹرنیشنل ٹیررازم) کے لیے”
“سدرشن ایئر ڈیفنس سسٹم مصنوعی ذہانت کے شاندار استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے؛ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت مزید محفوظ اور مستحکم بنے گا”
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 APR 2026 12:35PM by PIB Delhi
“آپریشن سندور نے عالمی سطح پر ایک واضح اور دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ بھارت اب دہشت گرد حملوں کے جواب میں محض سفارتی بیانات جاری کرنے کی پرانی سوچ کا پابند نہیں رہا، اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے صرف نیت اور بیان بازی سے آگے بڑھتے ہوئے فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے اپنے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے،” وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 30 اپریل 2026 کو نئی دہلی میں قومی سلامتی سے متعلق سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے یہ پختہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی حالت میں دہشت گردی کا کوئی بھی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیکس، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کو اس عزم کے عملی اظہار کے طور پر بیان کیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا “دہشت گردی ایک مسخ شدہ اور گمراہ کن ذہنیت سے جنم لیتی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سیاہ داغ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض قومی سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر انسانی اقدار کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہ ایک وحشیانہ نظریے کے خلاف جدوجہد ہے جو ہر انسانی قدر کے برعکس ہے۔ ہم نے اس بھارتی نقطۂ نظر کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک دونوں جگہ واضح طور پر پیش کیا ہے۔”
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ جب تک دہشت گردی موجود ہے، یہ اجتماعی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے چیلنج بنی رہے گی۔ “دہشت گردی کو مذہبی رنگ دے کر یا اسے نکسل ازم جیسے پُرتشدد نظریات سے جوڑ کر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ انتہائی خطرناک ہے اور ایک طرح سے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکیں۔ دہشت گردی محض ایک ملک دشمن عمل نہیں بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں—عملیاتی، نظریاتی اور سیاسی۔ اس سے نمٹنے کے لیے ان تمام پہلوؤں پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے۔”
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت پر بات کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا: “بھارت اور پاکستان نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی، لیکن آج دنیا بھارت کو آئی ٹی یعنی ‘انفارمیشن ٹیکنالوجی’ کے لیے جانتی ہے، جبکہ پاکستان کو ایک مختلف آئی ٹی یعنی ‘انٹرنیشنل ٹیررازم’ کے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔”
جناب راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو بھارتی مسلح افواج کے باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کی ایک روشن مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ کارروائی کی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ بھارت کی فوجی طاقت اب الگ الگ نہیں بلکہ ایک متحد، مربوط اور عالمی سطح کی طاقت بن چکی ہے۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کو اپنے طے کردہ اصولوں اور اپنی مرضی کے وقت پر انجام دیا اور اسے بھی مکمل طور پر اپنی شرائط پر ہی روکا۔ انہوں نے کہا “اس کارروائی کے دوران ہم نے نہایت درستگی کے ساتھ صرف انہی عناصر کو نشانہ بنایا جنہوں نے ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے کارروائی اس لیے نہیں روکی کہ ہماری صلاحیتیں ختم ہو گئی تھیں یا کمزور پڑ گئی تھیں، بلکہ ہم نے اسے مکمل طور پر اپنی شرائط پر روکا۔ ہم طویل تنازع کو جاری رکھنے کے لیے بھی پوری طرح تیار تھے۔ ہمارے پاس درکار صلاحیت اور وہ بنیادی طاقت موجود ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع بحران میں اپنی طاقت میں تیزی سے اضافہ کرسکتے ہیں۔”
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا فوجی-صنعتی نظام بارہا یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ نہ صرف امن کے زمانے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے بلکہ جنگ کے دوران فوری رسد اور لاجسٹکس کی ضروریات کو بھی بخوبی سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران بھارت کسی نیوکلیائی حملے کی دھمکی یا دباؤ میں نہیں آیا اور اپنے طے شدہ اہداف حاصل کیے۔ انہوں نے کہا “یہ ‘نیا عالمی نظام’ ہے؛ اس نئے عالمی دور کایہ ‘نیا بھارت’ ہے۔ یہ وہ بھارت ہے جو دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ یہ ہمارے وزیرِ اعظم کی واضح پالیسی ہے جس نے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں بھارت کو نئی شکل دی ہے۔”
آپریشن سندور کو کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی قوت کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگرچہ یہ کارروائی صرف 72 گھنٹوں میں مکمل ہو گئی، لیکن اس سے قبل کی تیاری انتہائی وسیع اور طویل تھی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کی تیزی سے وسائل متحرک کرنے کی صلاحیت، اسٹریٹجک ذخائر، اور مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کی ثابت شدہ ساکھ اب دفاعی بازدار حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر تاثر میں نمایاں تبدیلی اور مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں اور دفاعی مصنوعات کی قابلِ اعتماد حیثیت کے حوالے سے مثبت رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ“متعدد ممالک نے بھارت سے اسلحہ اور دفاعی سازوسامان خریدنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں دفاعی برآمدات 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 62.66 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ ہم ان اہداف سے بھی آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔”
اپنے حالیہ جرمنی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ یورپ کی بڑی کمپنیاں بھارت کی نجی دفاعی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے ساتھ اشتراک کی خواہاں ہیں، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی ساکھ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی مضبوط حیثیت نہ صرف اس کی فوجی طاقت بلکہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت قائم کرنے کی اہلیت سے بھی مستحکم ہوئی ہے۔
بازدار حکمتِ عملی کی نوعیت میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ سائبر میدان، خلائی جنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اب اس کے لازمی اجزاء بن چکے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس تبدیلی کے مرکز میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ “براہموس جیسے جدید میزائل سسٹمز، جو آپریشن سندور کے دوران استعمال ہوئے، سے لے کر مختلف نگرانی پلیٹ فارمز تک،اے آئی کا مؤثر استعمال کیا گیا ہے۔ اس نے ہماری درستگی اور حملہ کرنے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا ہے۔ اگرچہ بڑی کارروائیوں کی معلومات عوام تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن بے شمار چھوٹی کارروائیاں اور عمل ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے ہی خطرات کو ناکام بنانے کے لیے فعال ہو جاتے ہیں۔ ان تمام مراحل میں اے آئی کا وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔”
مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور مؤثر جواب دینے میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا “اے آئی کا مطلب ‘ توسیع شدہ فوجی صلاحیت’ بھی ہے، جو ہمارے فوجیوں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔ جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق ہم تیزی سے اپنی فوج کو ٹیکنالوجی سے لیس، مربوط اور مؤثر جنگی قوت میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت فوج نے جدید، خود کفیل اور تیز رفتار جنگی یونٹس قائم کیے ہیں، جیسے ‘رُدرا’ بریگیڈز، ‘بھیرَو’ بٹالینز، ‘شکتی بان’ آرٹلری رجمنٹس، اور ‘دیوی استر’ بیٹریز، جو جدید ہائبرڈ خطرات کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔”

جناب راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کام کے طریقۂ کار میں تبدیلی لانے، فوجیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے دفاعی پنشن یافتگان سابق فوجیوں کے لیے تیار کیے گئے‘‘ اسپرش پورٹل’’ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والے چیٹ بوٹس کے ذریعے پنشن سے متعلقہ عمل کو نمایاں طور پر آسان بنایا گیا ہے، اور شکایات کے ازالے سے لے کر طبی ریکارڈ کی نگرانی تک تمام امور اے آئی پر مبنی نظام کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، AI پر مبنی آلات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں کہ فوجیوں کے اہلِ خانہ تعلیم اور صحت کے میدان میں پیچھے نہ رہیں۔
وزیرِ دفاع نے زور دے کر کہا کہ اس نئے عالمی نظام میں اے آئی بھارت کی اسٹریٹجک تیاری کا ایک لازمی جزو بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس پہل کو صرف فوج تک محدود نہیں رکھا بلکہ پورے ملک میں مہارت کی ترقی اور تحقیق کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ “انڈیا اےآئی’ مشن کے ذریعے ہم ملک بھر میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو عام کر رہے ہیں تاکہ چھوٹے سے چھوٹے شہروں کے نوجوان بھی اے آئی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ 10,000 سے زائد جی پی یو صلاحیت، فیوچر اسکلز پروگرام جیسے اقدامات، اور ڈیٹا و اے آئی لیبز کا قیام اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اس تکنیکی انقلاب میں پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔ ہم نے حال ہی میں کامیابی کے ساتھ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کی میزبانی کی، جہاں 20 سے زائد ممالک کے سربراہانِ مملکت اور 89 ممالک و تنظیموں نے ہمارے اے آئی منشور کی توثیق کی۔ آج بھارت عالمی اے آئی معیارات کی تشکیل میں قائدانہ رول ادا کر رہا ہے۔ ہم ‘سب کے لئے اے آئی’ کے اصول پر کاربند ہیں تاکہ اس کے فوائد صرف چند ممالک تک محدود نہ رہیں بلکہ عالم جنوب تک بھی پہنچیں۔”
تاہم، راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی کو محض مثبت زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ڈیپ فیکس، سائبر جنگ اور خودکار ہتھیاروں کے نظام جیسے نئے اور سنگین چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ “ہمیں ان چیلنجز کو سنجیدگی سے مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ آنے والے وقت میں یہ مزید شدت اختیار کریں گے۔ اگر اے آئی بے قابو ہو جائے تو جو ٹیکنالوجی ہم نے اپنی حفاظت کے لیے بنائی ہے وہی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اے آئی ہمیں صحیح سمت دے، نہ کہ ہمیں گمراہ کرے۔ اجتماعی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ہم اے آئی کی طاقت سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔”
وزیرِ دفاع نے کہا کہ میدانِ جنگ میں نگرانی، خودکار نظاموں، لاجسٹکس کی بہتری اور کمانڈ فیصلوں میں معاونت جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی کے رول کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “سدرشن ایئر ڈیفنس سسٹم ایک بڑا منصوبہ ہے جو اے آئی کے شاندار استعمال کی نمایاں مثال ہے۔ اے آئی ، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا سائنس کے ذریعے ہماری مسلح افواج نے اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک واضح لائحہ عمل تیار کیا ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے اے آئی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی مستقبل میں انہیں مزید لچکدار اور تیز ردعمل دینے کے قابل بنائے گی۔ ایسی نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہمارا ملک نہ صرف زیادہ محفوظ ہوگا بلکہ مزید مضبوط اور خوشحال بھی بنے گا۔”
اس موقع پر دفاعی سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ، محکمۂ دفاعی تحقیق و ترقی کے سکریٹری و ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر وی کامت اور چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ایئر مارشل اشوتوش دکشت بھی موجود تھے۔
*****
ش ح۔ش ب۔ ف ر
U-6497
(ریلیز آئی ڈی: 2256934)
وزیٹر کاؤنٹر : 18