پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر کی فروخت بدستور مستحکم، یکم اپریل سے اب تک 17.83 لاکھ سے زائد سلنڈر فروخت کئے گئے
گزشتہ روز ملک بھر میں 5 کلوگرام ایف ٹی ایل کے 81,000 سے زائد سلنڈر فروخت ہوئے
پی این جی توسیع کی تازہ صورتحال: مارچ سے اب تک 5.27 لاکھ کنکشنز کو گیس فراہم کی جا چکی ہے؛ مزید 2.60 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار ہے، جس سے کنکشنز کی مجموعی تعداد 7.87 لاکھ ہو گئی؛ 5.97 لاکھ نئے صارفین رجسٹر ہوئے
ملک بھر میں خردہ فروخت کے مراکز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں
خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں؛ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھارتی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا
پورے بھارت میں بندرگاہی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری، کسی قسم کی بھیڑ یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں
وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا میں صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے؛ بھارتی برادری کی سلامتی اور بہبود بدستور اولین ترجیح
پروازوں کی مجموعی صورتحال میں بہتری؛ 28 فروری سے اب تک تقریباً 12.38 لاکھ مسافر خطے سے بھارت پہنچ چکے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 APR 2026 5:21PM by PIB Delhi
مغربی ایشیا کی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر حکومتِ ہند شہریوں کو باخبر رکھنے کے لیے مسلسل معلومات فراہم کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آج نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک میڈیا بریفنگ منعقد کی گئی، جس میں پیٹرولیم و قدرتی گیس، بندرگاہیں، جہازرانی و آبی گذرگاہیں، اور خارجہ امور کی وزارتوں کے افسران نے ایندھن کی دستیابی، بحری سرگرمیوں، خطے میں موجود بھارتی شہریوں کی مدد، اور اہم شعبوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے اقدامات سے متعلق تازہ معلومات فراہم کیں۔
توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے میڈیا کو موجودہ ایندھن کی فراہمی کی صورتحال سے آگاہ کیا اور اس بات کواجاگرکیا کہ مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عوامی ایڈوائزری اور شہری بیداری اقدامات
- شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں، کیونکہ حکومت ان کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
- افواہوں سے ہوشیار رہیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
- ایل پی جی صارفین سے درخواست ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔
- شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ متبادل ایندھن جیسے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور برقی یا انڈکشن چولہوں کا استعمال کریں۔
- تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر روزمرہ استعمال میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
حکومت کی جانب سے تیاری اور فراہمی کے انتظامی اقدامات
- جاری جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کی 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔
- کمرشل ایل پی جی کے لیے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فارما، فولاد، آٹو موبائل، بیج اور زراعت جیسے شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی دی جا رہی ہے۔ مزید برآں، مائیگرنٹ مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کی فراہمی کو 2 اور 3 مارچ 2026 کی اوسط یومیہ فراہمی کی بنیاد پر دوگنا کر دیا گیا ہے۔
- حکومت نے سپلائی اورمانگ دونوں پہلوؤں پر متعدد متوازن اقدامات پہلے ہی نافذ کر دیے ہیں، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ کا وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور مختلف شعبوں کے لیے ترجیحی فراہمی شامل ہے۔
- ایل پی جی کی مانگ پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن جیسے مٹی کا تیل اور کوئلہ بھی دستیاب کرائے گئے ہیں۔
- وزارتِ کوئلہ نے کول انڈیا اور سنگارینی کولیئرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے صارفین میں تقسیم کے لیے ریاستوں کو اضافی کوئلہ فراہم کریں۔
- ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشنز کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں۔
ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ مربوط کوششیں اور ادارہ جاتی نظام
- ریاستی حکومتوں کو لازمی اشیاءکے ایکٹ ، 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر ، 2000 کے تحت سپلائی کی نگرانی کرنے اور ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت کو پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت لازمی اشیاء کی سپلائی کی صورتحال کی نگرانی اور ان کو منظم کرنے میں بنیادی رول ادا کرنا ہوگا ۔حکومت ہند نے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو متعدد خطوط اور وی سی کے ذریعے اس بات کا اعادہ کیا ہے ۔
- حکومت ہند نے 27مارچ2026 اور 02اپریل2026 کے خطوط کے ذریعے شہریوں کو ایندھن کی مناسب دستیابی کے بارے میں یقین دلانے کے لیے فعال عوامی مواصلات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ میٹنگیں کی جا رہی ہیں ۔ اس تناظر میں ، 02اپریل2026 کو (سکریٹری ، ایم او پی این جی کی صدارت میں) اور 06اپریل2026 کو (سکریٹری ، ایم او پی این جی کے ساتھ ساتھ اطلاعات و نشریات اور صارفین کے امور کے سکریٹریوں کی صدارت میں) میٹنگیں بلائی گئیں جن میں درج ذیل باتوں پر زور دیا گیا:
- روزانہ پریس بریفنگ جاری کرنا اور باقاعدہ عوامی ایڈوائزریز جاری کرنا ۔
- سوشل میڈیا پر فرضی خبروں/گمراہ کن معلومات کی فعال طور پر نگرانی اور ان کا سدباب کرنا ۔
- ضلعی انتظامیہ کی طرف سے روزانہ نافذ کرنے والی مہمات کو تیز کرنا اور او ایم سی کے ساتھ مل کر چھاپہ ماری اور معائنہ کا عمل جاری رکھنا۔
- اپنی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اندر تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ آرڈر جاری کرنا۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو الاٹ کیے گئے اضافی ایس کے او کے لیے ایس کے او الاٹمنٹ آرڈر جاری کرنا ۔
- پی این جی اپنانے اور متبادل ایندھن کو فروغ دینا ۔
- ایل پی جی سپلائی کو ترجیح دینا ، خاص طور پر گھریلو ضروریات کے لیے اور سپلائی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی ہدف تقسیم کو اپنانا ۔
- تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے کنٹرول روم اور ضلعی نگرانی کمیٹیاں قائم کی ہیں ۔
- بہت سی ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے پریس بریفنگ جاری/انجام دے رہے ہیں ۔
نفاذ اور نگرانی کی کارروائیاں
- ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں نفاذ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کل ملک بھر میں 2300 سے زائد چھاپے مارے گئے۔
- سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں پی ایس یوز ، او ایم سیز نے اچانک معائنوں کو مزید بہتر بنایا ہے اور 307 ایل پی جی تقسیم کاروں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ کل تک 70؍ ایل پی جی تقسیم کاروں کو معطل کیا جاچکا ہے۔
ایل پی جی کی سپلائی
گھریلو ایل پی جی کی فراہمی کی صورتحال:
- ایل پی جی کی سپلائی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔
- گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
- ایل پی جی تقسیم کاروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی سپلائی میں کمی کی اطلاع نہیں ملی۔
- کل صنعت کی سطح پر آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ 98 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
- ڈلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی) کے ذریعے ڈلیوری کی شرح میں تقریباً 94 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، تاکہ کسی قسم کی غیر قانونی منتقلی کو روکا جا سکے۔ ڈی اے سی صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہوتا ہے۔
تجارتی ایل پی جی کی فراہمی اور تقسیم کے اقدامات
- کل تجارتی ایل پی جی کی تقسیم کو بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جس میں 10 فیصد اصلاحات سے منسلک تقسیم بھی شامل ہے۔
- حکومت ہند نے مورخہ 6؍اپریل 2026کے خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ ہر ریاست میں تارکین وطن مزدوروں کو فراہم کیے جانے والے روزانہ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی مقدار کو دوگنا کیا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ 02 تا 03 مارچ 2026 کے دوران تارکین وطن مزدوروں کو فراہم کی گئی اوسط یومیہ سپلائی (سلنڈروں کی تعداد) کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو کہ مورخہ 21مارچ2026 کے خط میں بیان کردہ 20 فیصد کی حد سے تجاوز کرتا ہے۔ یہ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر ریاستی حکومت کے اختیار میں ہیں، جو اپنی ریاست میں صرف تارکینِ وطن مزدوروں کو تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی ایز) کی مدد سے فراہم کیے جائیں گے۔
- یکم اپریل 2026 سے اب تک 17.83 لاکھ سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت کیے جا چکے ہیں۔ کل ملک بھر میں 81,000 سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت ہوئے۔
- 3 اپریل 2026 سے اب تک پی ایس یو، او ایم سیز نے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کے لیے 8500 سے زائد آگاہی کیمپ لگائے ہیں، جن میں 1,33,000 سے زائد سلنڈرز بھی فروخت کیے گئے۔
- کل 250 سے زائد کیمپوں کے ذریعے 5,549 سلنڈرز فروخت ہوئے۔
- آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے ساتھ مل کر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تجارتی ایل پی جی کی تقسیم کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کر رہی ہے۔
- اپریل 2026 کے دوران (23 مارچ 26 تک) مجموعی طور پر 1,47,262 میٹرک ٹن تجارتی ایل پی جی فروخت ہوا ہے، جو 19 کلوگرام سلنڈرز کے 77.50 لاکھ سے زائد کے برابر ہے۔
قدرتی گیس کی فراہمی اور پی این جی کی توسیعی اقدامات
- صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ڈی-پی این جی اور سی این جی-ٹرانسپورٹ کے لیے 100 فیصد سپلائی یقینی بنائی گئی ہے۔
- کھاد بنانے والے پلانٹس کے لیے مجموعی گیس کی فراہمی کو ان کی چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 95 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔
- اس کے علاوہ صنعتی اور تجارتی شعبوں، بشمول سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورکس کے ذریعے سپلائی کو بھی 80 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔
- سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں (جی ایز) میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کینٹینز جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشنز کو ترجیح دیں تاکہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کو کم کیا جا سکے۔
- سی جی ڈی کمپنیاں، جن میں آئی جی ایل، ایم جی ایل، گیل گیس اور بی پی سی ایل شامل ہیں، گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشنز کے لیے مراعات بھی فراہم کر رہی ہیں۔
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے درکار منظوریوں کے عمل کو تیز کریں۔
- حکومت ہند نے 18 مارچ 2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اضافی 10 فیصد تجارتی ایل پی جی کی فراہمی کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی کی طویل المدتی منتقلی میں معاونت کریں۔ مجموعی طور پر 22 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے ایسے ہیں، جو پی این جی کی توسیع سے منسلک اصلاحات کے تحت اضافی تجارتی ایل پی جی الاٹمنٹ حاصل کر رہے ہیں۔
- سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت نے 24 مارچ 2026 کے خط کے ذریعے سی جی ڈی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک خصوصی “تیز رفتار منظوری فریم ورک” اپنایا ہے، جس کے تحت درخواستوں کو تین ماہ کی مدت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کم وقت میں نمٹایا جائے گا۔
- حکومت ہند نے 24 مارچ 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت “نیشنل گیس اینڈ پیٹرولیم پراڈکٹس ڈسٹری بیوشن (پائپ لائنز اور دیگر سہولیات کی تنصیب، تعمیر، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) آرڈر، 2026” جاری کیا ہے۔یہ آرڈر ملک بھر میں پائپ لائنوں کی تنصیب اور توسیع کے لیے ایک مربوط اور وقت کی پابندی والا فریم ورک فراہم کرتا ہے،جس سے رہائشی علاقوں سمیت منظوریوں میں تاخیر اور زمین تک رسائی کے مسائل کم ہوں گے اور قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیز ترقی ممکن ہو گی۔ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع تیز ہونے، آخری صارف تک بہتر رسائی، صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ اور ہندوستان کی گیس پر مبنی معیشت کو مضبوط بنانے کی امید ہے۔
- پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ڈی-پی این جی کنکشنز کی فراہمی میں تیزی لائی جائے۔ اسی طرح نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 کو 30 جون 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ پی این جی کی توسیع کی رفتار کو برقرار رکھا جا سکے۔
- صاف، محفوظ اور خود انحصار توانائی کے مستقبل کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند نے ایک ماڈل ڈرافٹ اسٹیٹ سی بی جی (کمپریسڈ بایو گیس) پالیسی تیار کی ہے۔ یہ پالیسی ایک جامع اور لچکدار رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرے گی، جس کے تحت ریاستیں سرمایہ کاری کے لیے سازگاراور عملی نفاذ پر مبنی نظام تشکیل دے سکیں گی۔ جو ریاستیں اس پالیسی کو اپنائیں گی، انہیں تجارتی ایل پی جی کی اضافی الاٹمنٹ کے اگلے مرحلے میں ترجیح دی جائے گی۔
- ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وزارت(ایم او ای ایف سی سی) نے مورخہ 07اپریل2026 کے حکم نامے کے ذریعے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز(ایس پی سی بی)اور آلودگی کو کنٹرول کرنے سے متعلق کمیٹیوں(پی سی سیز) کو ضروری ہدایات جاری کرے تاکہ سی جی ڈی نیٹ ورک/بنیادی ڈھانچے کے لیے قیام یا آپریشن کی اجازت 15 دن کے اندر فراہم کی جائے۔
- مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 5.27 لاکھ پی این جی کنکشنز کو گیس فراہم کی جا چکی ہے اور اضافی 2.60 لاکھ کنکشنز کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی تعداد 7.87 لاکھ کنکشنز ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 5.97 لاکھ صارفین نئے کنکشنز کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
- 23 اپریل 2026 تک 42,000 سے زائد پی این جی صارفین نے MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشنز سرنڈر کر دیے ہیں۔
خام پوزیشن اور ریفائنری آپریشن
- تمام ریفائنریاں کافی خام انوینٹریز کے ساتھ اعلی صلاحیت پر کام کر رہی ہیں ، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
- گھریلو کھپت کو سہارا دینے کے لیے ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے ۔
- گھریلو بازار کے لیے پیٹروکیمیکل فیڈ اسٹاک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بین وزارتی مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) قائم کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد ، حکومت ہند نے تاریخ 01.04.2026 کے حکم کے ذریعے پیٹروکیمیکل کمپلیکس سمیت آئل ریفائنری کمپنیوں کو سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی (سی ایچ ٹی) کے ذریعہ مقرر کردہ اہم شعبوں کے لیے سی 3 اور سی 4 اسٹریمز کی کچھ کم از کم مقدار دستیاب کرنے کی اجازت دی ہے ۔
- محکمہ فارماسیوٹیکلز ، محکمہ کیمیکلز اینڈ پیٹرو کیمیکلز (ڈی سی پی سی) محکمہ سے موصولہ درخواستوں کی بنیاد پرصنعت اور داخلی تجارت کے فروغ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے لیے فارما اور کیمیائی شعبے کی کمپنیوں کے لیے ایل پی جی پول سے 1000 ایم ٹی یومیہ کی فراہمی کی گئی ہے ۔
- 9 اپریل 2026 سے ممبئی ، کوچی اور متھرا ریفائنریوں نے کیمیکل اور فارما انڈسٹری کو 6400 میٹرک ٹن سے زیادہ پروپیلین فروخت کی ہے ۔
خوردہ ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں کے اقدامات
- ملک بھر میں خوردہ دکانیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں ۔
- مشرق وسطی کے بحران کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ؛ تاہم ، صارفین کے تحفظ کے لیے ، حکومت ہند نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے ۔
- 11.04.2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے حکومت ہند نے ڈیزل پر ایکسپورٹ لیوی کو بڑھا کر 55.50 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف پر 42 روپے فی لیٹر کر دیا ہے، تاکہ مقامی مارکیٹ میں ان مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
- پٹرول اور ڈیزل کی باقاعدہ خوردہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور پی ایس یو او ایم سی کے خوردہ آؤٹ لیٹس پر قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔
مٹی کے تیل کی دستیابی اور تقسیم کے اقدامات
- ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدہ الاٹمنٹ کے علاوہ 48,000 کلو میٹر مٹی کے تیل کی اضافی الاٹمنٹ فراہم کی گئی ہے ۔
- 18 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایس کے او الاٹمنٹ کے احکامات جاری کیے ہیں ، جبکہ ہماچل پردیش اور لداخ نے کوئی ضرورت ظاہر نہیں کی ہے ۔
میری ٹائم سیفٹی اور شپنگ آپریشن
بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے خلیج فارس میں موجودہ سمندری صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کیں ۔ وزارت نے کہا:
- بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت بحری مسافروں کی فلاح و بہبود اور بلا رکاوٹ سمندری کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے وزارت خارجہ ، ہندوستانی مشنوں اور سمندری اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تال میل برقرار رکھے ہوئے ہے ۔
- خطے میں تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے ۔
- ڈی جی شپنگ کنٹرول روم 24 گھنٹوں ساتوں دن کام کر رہا ہے اور اس نے ایکٹیویشن کے بعد سے 7,553 کالز اور 16,033 سے زیادہ ای میلز کو نمٹایا ہے ، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 150 کالز اور 394 ای میلز شامل ہیں ۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے اب تک 2,729 سے زیادہ ہندوستانی ملاحوں کی بحفاظت وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے ، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خلیجی خطے کے مختلف مقامات سے 49 ملاح شامل ہیں ۔
- ہندوستان بھر میں بندرگاہ کی کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں ، کسی بھی قسم کی بھیڑ کی اطلاع نہیں ہے ۔
خطے میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت
وزارت خارجہ خلیج اور مغربی ایشیاء کے خطے میں ابھرتی ہوئی پیش رفت کے ساتھ فعال طور پر مصروف ہے ، جس میں وہاں رہنے والی ہندوستانی برادری کی فلاح و بہبود ، حفاظت اور حمایت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ جیسا کہ وزارت نے بتایا ہے:
- وزارت خارجہ خلیج اور مغربی ایشیاء کے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر سخت نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے ، جس میں ہندوستانی برادری کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔
- وزارت معلومات کے اشتراک اور مدد کے لیے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں ہے ۔
- ہندوستانی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم کام کر رہا ہے ۔
- خطے میں ہندوستانی سفارت خانے اور قونصل خانے چوبیس گھنٹے ہیلپ لائنیں چلا رہے ہیں اور شہریوں کی سرگرم طور پر مدد کر رہے ہیں ۔
- مشن مقامی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں اور حفاظتی رہنما خطوط ، سفری اپ ڈیٹس ، قونصلر خدمات اور فلاحی اقدامات کا احاطہ کرتے ہوئے باقاعدہ مشورے جاری کر رہے ہیں ۔
- ہمارے مشن خدشات کو دور کرنے کے لیے ہندوستانی کمیونٹی ایسوسی ایشنز ، پیشہ ورانہ گروپوں اور ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ سرگرم طور پر مشغول ہیں ۔
- ہندوستانی ملاحوں کی فلاح و بہبود ایک ترجیح بنی ہوئی ہے ، مشن مقامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی ، قونصلر مدد اور ضرورت پڑنے پر ہندوستان واپسی میں سہولت فراہم کرنے سمیت مدد فراہم کرتے ہیں ۔
- خطے سے ہندوستان کے لیے اضافی پروازیں چلنے کے ساتھ مجموعی طور پر پروازوں کی صورتحال میں بہتری آتی جا رہی ہے ۔ 28 فروری سے اب تک تقریبا 12,38,000 مسافروں نے خطے سے ہندوستان کا سفر کیا ہے ۔
- متحدہ عرب امارات میں ، ایئر لائنیں، آپریشنل اور حفاظتی تحفظات کی وجہ سے محدود تجارتی پروازیں چلا رہی ہیں ، جس میں متحدہ عرب امارات سے ہندوستان کے لیے تقریبا 110 پروازیں چلنے کی توقع ہے ۔
- سعودی عرب اور عمان کے مختلف ہوائی اڈوں سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں جاری ہیں ۔
- قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلی ہیں اور قطر ایئر ویز ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہے ۔
- کویتی فضائی حدود اب کھل گئی ہیں ، توقع ہے کہ ایئر لائنز جلد ہی محدود آپریشن دوبارہ شروع کر دیں گی ۔ سعودی عرب کے دمام سے غیر طے شدہ پروازیں جاری ہیں ۔
- گلف ایئر بھارت کے لیےپروازیں چلارہی ہے اور بحرین کی فضائی حدود کھلی ہیں ۔
- عراق کی فضائی حدود محدود پروازوں کے ساتھ کھلی ہیں ، جنہیں ہندوستان کے آگے کے سفر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
- ایران کی فضائی حدود کارگو اور چارٹرڈ پروازوں کے لیے جزوی طور پر کھلی ہیں ۔ سفارت خانے نے اپنی ایڈوائزری کا اعادہ کیا ہے، جس میں ہندوستانی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے سفر سے گریز کریں اور وہاں موجود لوگوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے باہر نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ اب تک 2432 ہندوستانی شہریوں کو آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے جانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ، جن میں 1,096 طلباء اور 657 ماہی گیر شامل ہیں ۔
- اسرائیل کی فضائی حدود کھلی ہیں ، ہندوستان کے آگے کے سفر کے لیے محدود پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا ہے ۔
******
) ش ح – ش ب ۔ م ع ن۔ ا م ۔ض ر- م ا - ر ب -ق ر-م الف)
U.No.6281
(ریلیز آئی ڈی: 2255379)
وزیٹر کاؤنٹر : 15