دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ دیہی ترقی نے مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر دیہی اسکیموں کے تحفظ کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا یا


وزارت کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود دیہی روزگار کی بلا تعطل فراہمی، فنڈز کی بروقت ترسیل، مکانات کی تعمیر، دیہی سڑکوں کی ترقی اور روزگار کے ذرائع کا تحفظ یقینی بنایا جائے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 APR 2026 4:15PM by PIB Delhi

وزارتِ دیہی ترقی نے ملک بھر میں اہم دیہی فلاحی اور بنیادی ڈھانچے کے پروگراموں کے بلا تعطل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تیاریوں کا ایک جامع جائزہ لیا ہے۔ یہ اقدام مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے عالمی سپلائی چینز، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور مہنگائی کے رجحانات پر ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

وزارت ان پیش رفتوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے جن کے دیہی روزگار، مکانات کی تعمیر، سڑکوں کی ترقی اور واٹرشیڈ سرگرمیوں پر بالواسطہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت پیشگی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ فوائد کا تسلسل برقرار رہے، فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی ہو اور جاری اسکیموں کا ہموار نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔

روزگار کا تحفظ اور اجرت کی معاونت

مہاتما گاندھی نیشنل دیہی روزگار ضمانتی ایکٹ (منریگا)2005 مکمل طور پر فعال ہے اور یہ مجوزہ وی بی–جی رام جی ایکٹ، 2025 کے نفاذ تک جاری رہے گا۔ دیہی گھرانوں کو اجرتی روزگار کی فراہمی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔

تمام قانونی حقوق اور استحقاقات، جن میں مانگ کی بنیاد پر روزگار کی فراہمی اور اجرتوں کی بروقت ادائیگی شامل ہے، مکمل طور پر برقرار ہیں اور ان میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ موجودہ اجرتی شرحیں بدستور نافذ العمل رہیں گی۔

مناسب لیکویڈیٹی برقرار رکھنے اور اجرتوں کی بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 17,744 کروڑ روپے‘منریگا’ کے اجرتی جزو کے تحت پہلی قسط کے طور پر جاری کیے جا رہے ہیں۔

مجوزہ وی بی–جی رام جی ایکٹ کے نفاذ کے بعد اس میں 125 دن کے اجرتی روزگار کی بہتر ضمانت فراہم کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ نظرثانی شدہ اجرتی شرحیں علیحدہ طور پر جاری کی جائیں گی۔

ہاؤسنگ پروگرام کو سپلائی چین کے چیلنجز کے لیے تیار کیا گیا ہے

دیہی علاقوں میں “سب کے لیے مکانات” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی پردھان منتری آواس یوجنا–دیہی(پی ایم اے وائی-جی) پر عمل کر رہی ہے، جس کے تحت مارچ 2029 تک 4.95 کروڑ مکانات کی تعمیر کی جائے گی۔

ممکنہ مادی سپلائی میں رکاوٹوں یا قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر وزارت نے پیشگی تیاری کے طور پر براہِ راست فائدہ منتقلی(ڈی بی ٹی) کی بروقت ادائیگی، آواس سافٹ کے ذریعے ریئل ٹائم نگرانی، جیو ٹیگنگ، اور جاری مکانات کی تیز رفتار تکمیل کو ترجیح دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مزدوری کے دنوں ، صفائی، پینے کے پانی، ایل پی جی اور بجلی کی فراہمی کے ذریعے مضبوط رابطہ  کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مستحقین کو بنیادی سہولیات کا مکمل پیکیج فراہم ہو سکے۔

مستقبل میں مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے مواد کے ذخیرہ مراکز  کے قیام جیسے ساختی اقدامات کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ نظام کو مزید مضبوط اور لچکدار بنایا جا سکے۔

دیہی سڑکوں کا پروگرام پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے

پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت منصوبے ریاستوں کی جانب سے تجویز کردہ موجودہ شرحِ لاگت  کے مطابق منظور کیے جاتے ہیں۔

پی ایم جی ایس وائی-1،2،3 اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لیے دیہی رابطہ منصوبوں کے تحت تمام منظور شدہ کام یا تو ٹینڈر ہو چکے ہیں یا تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔

 

پی ایم جی ایس وائی-4 کے تحت تقریباً 12,100 کلومیٹر سڑکوں کے کام منظور کیے جا چکے ہیں اور اس وقت ٹینڈرنگ کے مرحلے میں ہیں۔ فی الحال عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا اثر محدود ہے کیونکہ بٹومین منصوبے کی مجموعی لاگت کا نسبتاً کم حصہ ہے۔

مستقبل کے منصوبوں کو موجودہ مارکیٹ حالات اور لاگت کے رجحانات کے مطابق اپ ڈیٹ شدہ شرحِ لاگت کے ساتھ جانچا جائے گا۔

زراعت اور قدرتی وسائل کی مضبوطی

زمینی وسائل کا محکمہ (ڈبلیو ڈی سی-پی ایم کے ایس وائی) (واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ – پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا) 2.0 کو 50 لاکھ ہیکٹر رقبے میں نافذ کر رہا ہے، تاکہ پانی کے تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافہ، باغبانی اور چارہ جات کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ محکمہ وزارتِ زراعت و کسان بہبود اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے اور پروگراموں کا ہموار نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

***

 ش ح۔ ش ت۔ ج ا

U.No. 6080


(ریلیز آئی ڈی: 2253843) وزیٹر کاؤنٹر : 9