امور داخلہ کی وزارت
امورداخلہ اور امدادباہمی کےمرکزی وزیرجناب امت شاہ نے لوک سبھا میں حد بندی بل 2026، آئین (131ویں ترمیم) بل 2026 اور یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 پر بحث کا جواب دیا
حزب اختلاف کی اہم جماعت نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی مخالفت کی ہے—چاہے وہ شاہ بانو کیس ہو، تین طلاق کا خاتمہ ہو، یا لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا معاملہ ہو
سن1976 میں ایمرجنسی کے دوران،اس وقت کی وزیر اعظم نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے حد بندی کو روک دیا تھا اور آج بھی یہی اہم اپوزیشن جماعت حد بندی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے
مودی حکومت نے خواتین کے ریزرویشن بل کو نیک نیت اور جذبے کے ساتھ پیش کیا، جب کہ اسے تین دہائیوں تک مسترد کیا جاتا رہا، مگر اپوزیشن نے اسے منظور نہیں ہونے دیا
اپوزیشن کو نہ صرف 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں، بلکہ ہر سطح پر، ہر انتخاب میں اور ہر جگہ ’خواتین کے غصے‘ کا سامنا کرنا پڑے گا
ہمیں کسی بھی قسم کی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے، ہم خواتین کو بااختیار بنانے اور قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 10:18PM by PIB Delhi
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے آج لوک سبھا میں حد بندی بل 2026، آئین (131ویں ترمیم) بل 2026، اور یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 پر ہونے والی بحث کا جواب دیا۔
امورداخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیرجناب امت شاہ نے کہا کہ اس بحث میں 56؍خواتین سمیت 130 اراکین نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بحث کے دوران اپوزیشن اتحاد نے واضح طور پر خواتین کے ریزرویشن بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مخالفت طریقۂ کار کے بارے میں نہیں بلکہ صرف خواتین کے ریزرویشن کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کو نافذ کرنا ہے، جو دستور ساز اسمبلی نے ہماری جمہوریت کی بنیاد کے طور پر طے کیا تھا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آئین وقتاً فوقتاً حد بندی کی اجازت فراہمی کرتا ہے اور اسی عمل کے ذریعے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ حد بندی کی مخالفت کر رہے ہیں، دراصل وہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے نشستوں میں اضافے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے حکومت کو ایک متوازن، جامع اور عملی جمہوری ڈھانچہ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے اور اس وقت یہ ذمہ داری نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے پاس ہے۔جناب امت شاہ نے کہا کہ وفاقی توازن کو برقرار رکھنا، لوک سبھا میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی کو یقینی بنانا اور ریاستوں کے اختیارات میں توازن قائم کرنا بھی حد بندی کے اہم مقاصد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حد بندی میں نئی جغرافیائی حقیقتوں، انتظامی تبدیلیوں، شہری کاری، سڑکوں اور ریلوے کے ذریعے بہتر رابطہ اور نئے اضلاع کے قیام کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ تمام اصول آئین کے آرٹیکل 81، 82 اور 170 میں درج ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیےنریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے یہ آئینی ترمیم پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے، مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے اور ایک متوازن وفاقی ڈھانچہ قائم کرنے کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ کے مطابق 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کے بعد جو حد بندی کی مشق کی جائے گی، اس میں خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1971 میں اپوزیشن جماعت کی حکومت نے اس عمل کو منجمد کر دیا تھا، اسی لیے اس کا ذکر ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1971 سے نشستوں کی تعداد منجمد رہی ہے اور آج 127 ایسے حلقے ہیں، جہاں ووٹرز کی تعداد2 ملین سے زیادہ ہے۔ ان حلقوں میں ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کی مکمل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ 1972 میں اس وقت کی وزیر اعظم نے سب سے پہلے حد بندی بل پیش کیا، جس کے تحت نشستوں کی تعداد 525 سے بڑھا کر 545 کر دی گئی اور پھر انہیں منجمد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1976 میں ایمرجنسی کے دوران 42ویں ترمیم لائی گئی، جس کے ذریعے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے حد بندی کو روک دیا گیا۔ اس وقت بھی اس اہم اپوزیشن جماعت نے ملک کے عوام کو حد بندی سے محروم رکھا اور آج بھی یہی جماعت ملک کو اس سے محروم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2001 میں 84ویں آئینی ترمیم نافذ کی گئی، جس کے تحت نشستوں کی تعداد کو 2026 تک منجمد رکھا گیا۔ 1976 سے 2026 تک—یعنی 50 سال کے عرصے میں—ملک کے عوام کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی نہیں مل سکی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ بندش 2026 میں ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگراس وقت حد بندی کی جاتی ہے تو بھی یہ عمل 2029 سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ حد بندی کمیشن کو ہر حلقے میں عوامی سماعتیں کرنا لازمی ہوتا ہے۔
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ 1976 میں ملک کی آبادی 54 کروڑ 79 لاکھ تھی، جبکہ آج یہ بڑھ کر 140 کروڑ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جیسے جیسے ایوان کے اراکین کی تعداد میں اضافہ ہو، ویسے ویسے ایوان کے کام کے دنوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ریاست میں نشستوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ریاست کے متناسب حصے (pro rata share) پر اثر نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ اراکین نے سوال اٹھایا کہ مردم شماری وقت پر کیوں نہیں کرائی گئی۔ جناب امت شاہ نے وضاحت کی کہ مردم شماری 2021 میں ہونی تھی، لیکن اس وقت ملک صدی کی سب سے بڑی وباکووڈ-19 کا سامنا کر رہا تھا، جس کی وجہ سے اسے انجام دینا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وبا کے ختم ہونے کے بعد بھی ملک کو معمول پر آنے میں کافی وقت لگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب 2024 میں مردم شماری کا عمل شروع ہوا تو کچھ جماعتوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کا جائز مطالبہ اٹھایا۔ تمام فریقین سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذات پر مبنی مردم شماری بھی کی جائے گی اور جاری مردم شماری میں ذات کی گنتی شامل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف کی اہم کے دور حکومت میں نہ تو مردم شماری میں ذات کی گنتی شامل کی گئی اور نہ ہی کبھی مذہب کے بارے میں سوال کیا گیا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فیصلہ کیا ہے کہ 2026 کی مردم شماری ذات کی گنتی کے ساتھ کرائی جائے گی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ جیسے ہی یہ بل پیش کیا گیا، حزب اختلاف کی جماعت نے غلط فہمیاں پھیلانا شروع کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی غلط فہمی یہ پھیلائی گئی کہ حکومت نے یہ آئینی ترمیم ذات پر مبنی مردم شماری کو مؤخر کرنے کے لیے لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور غلط تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ جناب شاہ نے زور دے کر کہا کہ جنوبی ریاستوں کا اس ایوان پر اتنا ہی حق ہے ،جتنا شمالی ریاستوں کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لکشدیپ کو بھی اس ایوان پر وہی حق حاصل ہے جو اتر پردیش، گجرات اور بہار کو حاصل ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کو شمال-جنوب کے بیانیے کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان تقسیموں سے اوپر اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آئین کا حلف لیتے ہیں، وہی اب شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جناب امت شاہ نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے والا ہر رکن ہندوستان کی وحدت اور سالمیت کو برقرار رکھنے اور پورے ملک کی فلاح کے لیے کام کرنے کا عہد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی رکن اپنے حلقے، ریاست، مذہب یا ذات کے نام پر حلف نہیں اٹھاتا اور نہ ہی ملک کو تقسیم کر کے کوئی اقتدار حاصل کر سکتا ہے۔
امورداخلہ اور امدد باہمی کے مرکزی جناب امت شاہ نے کہا کہ حد بندی کمیشن اور آئینی اصلاحات کے حوالے سے یہ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہوگی، جو کہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کیرالہ کی لوک سبھا نشستوں کی مجموعی تعداد 129 ہے، جو ملک کی کل 543 نشستوں کا 23.76 فیصد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے تو یہ تعداد 129 سے بڑھ کر 195 ہو جائے گی۔ انہوں نےمزید کہا کہ حد بندی کے بعد جب ملک میں لوک سبھا کی کل نشستیں بڑھ کر 816 ہو جائیں گی، تو جنوبی ریاستوں کا حصہ 23.87 فیصد ہو جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حصہ 23.76 فیصد ہے، جو حد بندی کے بعد معمولی طور پر بڑھ کر 23.87 فیصد ہو جائے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایوان میں کچھ اراکین نے یہ غلط فہمی بھی پھیلائی کہ مسلم خواتین کو بھی ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ آئین ہند، حکومت اور ان کی جماعت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن پیدائش کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور اسے کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں کہیں بھی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن اتحاد کے رہنما خوشامدی سیاست کے تحت مسلم ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن واضح کیا کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہ دیا گیا ہے اور نہ ہی کبھی دیا جائے گا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اگر اس ملک میں کسی جماعت نے دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی)کی سب سے زیادہ مخالفت کی ہے تو وہ اہم اپوزیشن جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1957 میں کاکا کیلکر کمیشن کی سفارشات موصول ہوئیں، جن میں او بی سی کے لیے ریزرویشن کی تجویز دی گئی تھی، لیکن اس وقت کی حکومت نے اسے سرد خانے میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب منڈل کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی تو اپوزیشن کی حکومت نے اسے بھی نافذ نہیں کیا۔ بعد میں 1990 میں وی پی سنگھ کی حکومت آنے پر ہی منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت اپوزیشن جماعت کے ایک سینئر رہنما نے منڈل کمیشن کے خلاف اپنی زندگی کی سب سے طویل تقریر کی تھی۔ جناب شاہ نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن جماعت نے 1951 اور 1971 دونوں میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بھی مخالفت کی تھی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کے لیے انتخابات جیتنا سب سے اہم ہے، لیکن ہماری حکومت کے لیے ملک اور اس کے عوام سب سے پہلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی نمائندگی اور ان کی شمولیت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جوابدہی، شفافیت، مساوی مواقع اور انصاف کا تحفظ آئین کے نفاذ کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے عوام اپوزیشن کی سطحی فکر سے واقف ہیں اور آج سے ملک کی خواتین بھی جان جائیں گی کہ ان کے حقوق اپوزیشن جماعت نے سلب کیے ہیں۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرامت شاہ نے کہا کہ 1992 میں پی وی نرسمہاراؤکی قیادت والی حکومت نے 72ویں اور 73ویں آئینی ترامیم متعارف کروائیں اور پنچایتوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر ایک قابل ستائش کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 1996 میں ایچ ڈی دیوگوڑاوزیر اعظم بنے اور ستمبر 1996 میں 81ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا، جس کی کچھ جماعتوں نے مخالفت کی۔ بعد ازاں اس بل کا جائزہ لینے کے لیےگیتا مکھرجی کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن جب تک کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، 11ویں لوک سبھا تحلیل ہو چکی تھی اور بل ختم ہو گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 1998 میں 84واں آئینی ترمیمی بل لایا گیا، لیکن اسے بھی انہی جماعتوں نے مخالفت کا نشانہ بنایا اور حالات ایسے تھے کہ بل ایوان میں پیش بھی نہ ہو سکا اور 12ویں لوک سبھا کی تحلیل کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ 1999 سے 2003 کے درمیان 85واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا، لیکن اسے بھی ایک بار پھر انہی جماعتوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھی ختم ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2014 کے درمیان منموہن سنگھ نے 108واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا اور اسے راجیہ سبھا میں متعارف کروایا۔ یہ بل راجیہ سبھا سے منظور ہو گیا، لیکن لوک سبھا تک نہیں پہنچ سکا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس کی مخالفت نہیں کی، بلکہ حکومت کی حمایت کرنے والی جماعتوں نے ہی اس کی مخالفت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے ساتھ اتحاد میں شامل جماعتوں نے ہی اسے لوک سبھا میں پیش نہیں ہونے دیا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جان بوجھ کر خواتین کے ریزرویشن بل کو اس وقت پیش کیا ،جب 2024 کے انتخابات قریب تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اپوزیشن اس کی مخالفت نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے افتتاح کے بعد ’’ناری شکتی وندن ایکٹ‘‘ پہلا بل تھا جو متفقہ طور پر منظور ہوا اور راجیہ سبھا سے بھی پاس ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب اس کے نفاذ کا وقت آیا تو اپوزیشن نے ایک بار پھر مخالفت شروع کر دی، جسے ملک کی خواتین کبھی نہیں بھولیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں جائیں گی تو انہیں خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ تبدیلی کی ضرورت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لوک سبھا میں 22 خواتین منتخب ہوئیں، چھٹی میں 19، آٹھویں میں 44، چودہویں میں 51، سترہویں میں ریکارڈ 78 اور اٹھارہویں لوک سبھا میں 75 خواتین اراکین منتخب ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں خواتین کی سیاست میں حصہ لینے کا جذبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ حکومت نے خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے میں’خواتین کی قیادت میں ترقی‘ کے اصول پر مکمل طور پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی وزراء کونسل میں 10 خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سشما سوراج دہلی کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں،اوما بھارتی مدھیہ پردیش کی،وسوندھرا راجےراجستھان کی، جبکہ آنندی بین پٹیل گجرات کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ 70 سالوں میں اہم اپوزیشن جماعت نے ان ریاستوں کو کبھی خاتون وزیر اعلیٰ نہیں دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نےدروپدی مرموکو ملک کی پہلی قبائلی خاتون صدر جمہوریہ ہند بنایا۔ جناب شاہ نے کہا کہ حکومت نے ایک ایسا بل پیش کیا ،جو تین دہائیوں تک مسترد ہوتا رہا، لیکن بدقسمتی سے وہی اپوزیشن، جس نے پہلے اس بل کو منظور نہیں ہونے دیا، اب دوبارہ اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ملک بھر کی پنچایتوں میں تقریباً 1.4؍ملین خواتین منتخب نمائندوں کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چاہے کتنی ہی مخالفت کا سامنا کیوں نہ ہو، حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور قانون ساز اداروں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش جاری رکھے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف خواتین کے ریزرویشن بل ہی کی مخالفت نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب دفعہ 370 کو ختم کیا گیا تو اپوزیشن نے مخالفت کی۔ جب رام مندر تعمیر کیا گیا تو اس کی مخالفت ہوئی۔ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی مخالفت کی گئی۔ تین طلاق کے خاتمے کی مخالفت کی گئی۔گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)کے نفاذ کی مخالفت کی گئی۔آیوشمان بھارت اسکیم کی مخالفت کی گئی۔ نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کی مخالفت کی گئی۔ ماہی پروری اور امدادباہمی کی وزارتوں کے قیام کی مخالفت کی گئی۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کی تشکیل کی مخالفت کی گئی۔ نکسلزم کے خاتمے کی کوششوں کی مخالفت کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائیوں کی مخالفت کی گئی۔ سرجیکل اسٹرائیکس اور فضائی حملوں کی مخالفت کی گئی اور “آپریشن سندور” کی بھی مخالفت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جب ملک کی خواتین کے لیے ریزرویشن لایا جا رہا ہے، تو اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن اپوزیشن اس کی بھی مخالفت کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن اس کی مخالفت اس لیے کر رہی ہے، کیونکہ اسے وزیر اعظم نریندر مودی لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کا ریزرویشن نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے وزیر اعظم کی خواتین میں مقبولیت بڑھے گی اور اپوزیشن کو لگتا ہے کہ خواتین ووٹر پہلے ہی ان کی زیادہ حمایت کرتی ہیں، اسی لیے وہ اس ریزرویشن کی حمایت سے گریز کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2023 میں تمام جماعتوں اور ایوان کے اراکین نے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج اپوزیشن اس سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے، اس سے پہلے بھی شاہ بانو کیس اور تین طلاق جیسے معاملات پر اپوزیشن پیچھے ہٹ چکی ہے اور اسی طرح جب بھی خواتین کے ریزرویشن کی بات آئی، اپوزیشن پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ان کے رہنما نے تمام اراکین سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دیں، لیکن یہاں تو ‘ضمیر‘ ہی نظر نہیں آتا، تو ’اندر کی آواز‘ کہاں سے آئے گی؟ انہوں نے کہا کہ یہ بے رحمانہ سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے رہنماؤں کو جہاں بھی وہ انتخابات کے دوران جائیں گے، ملک کی خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
*****
ش ح۔م ع ن۔ ع ن
U NO:6056
(ریلیز آئی ڈی: 2253686)
وزیٹر کاؤنٹر : 7