وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 APR 2026 5:43PM by PIB Delhi

معزز اسپیکر صاحب!

اس اہم بل پر آج صبح سے بحث کا آغاز ہوا ہے۔ یہاں موجود بہت سے ساتھیوں نے جن نکات کو چھوا ہے، وہ ضرور حقائق اور دلائل کے ساتھ ایوان کو آگاہ کریں گے۔ اور اسی لیے میں ان موضوعات میں جانا نہیں چاہتا۔

معزز اسپیکر صاحب!

قوم کی زندگی میں کچھ اہم لمحات آتے ہیں اور اس وقت معاشرے کی ذہنی کیفیت اور قیادت کی صلاحیت، ان لمحات کو سمیٹ کر قوم کی امانت بنا دیتی ہے، ایک مضبوط ورثہ تیار کر دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ ویسے ہی لمحے ہیں۔ ضرورت تو یہ تھی کہ 25-30 سال پہلے جب یہ خیال سامنے آیا، ضرورت محسوس ہوئی، تب ہی ہم اسے لاگو کر دیتے تو آج ہم اسے کافی پختگی تک پہنچا چکے ہوتے اور ضرورت کے مطابق اس میں وقتاً فوقتاً اصلاحات بھی ہوتیں اور یہی تو جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ ہم مدر آف ڈیموکریسی ہیں۔ ہماری ہزاروں سال پرانی جمہوریت کا ایک ارتقائی سفر رہا ہے اور اس سفر میں ایک نیا باب جوڑنے کا ایک اچھا موقع ایوان کے ہم تمام ساتھیوں کو ملا ہےاور میں نے آغاز میں کہا ہے کہ ہم سب خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسے اہم کام اور ملک کی نصف آبادی کو اس ملک کی تعمیر کی پالیسی سازی کے عمل میں حصے دار بنانے کا اعزاز مل رہا ہے۔ یہ ہم لوگوں کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام معزز اراکین پارلیمنٹ، میں آج اِدھر اُدھر کی بات نہیں کرنا چاہتا، ہم تمام ارکان پارلیمنٹ اس اہم موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ہم سب بھارتی مل کر ملک کو ایک نئی سمت دینے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے نظام حکومت کو حساسیت سے بھرنے کی ایک بامعنی کوشش کرنے جا رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس غور و فکر سے جو امرت نکلے گا، وہ نہ صرف ملک کی سیاست کی شکل و صورت کا تعین کرے گا، بلکہ یہ ملک کی سمت اور حالت بھی طے کرنے والا ہے۔ ہم اتنے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔

معزز اسپیکر صاحب!

اکیسویں صدی میں بھارت ایک نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں بھارت کی پذیرائی آج ہم سب محسوس کر رہے ہیں اور یہ ہم سب کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ ایک وقت ہمارے پاس آیا ہے اور اس وقت کو ہم نے ایک وِکست بھارت کے عزم کے ساتھ جوڑا ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ وِکست بھارت کا مطلب صرف بہترین قسم کی ریل، سڑکیں، انفراسٹرکچر یا کچھ معاشی ترقی کے اعداد و شمار نہیں ہے، ہم صرف اتنی ہی ترقی یافتہ بھارت کی محدود سوچ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وِکست بھارت وہ ہو جس کی پالیسی سازی میں سب کا ساتھ، سب کا وِکاس کا منتر شامل ہو۔ ملک کی 50 فیصد آبادی پالیسی سازی کا حصہ بنے، یہ وقت کا تقاضا ہے۔ ہم پہلے ہی دیر کر چکے ہیں، وجوہات کچھ بھی رہی ہوں، ذمہ دار کوئی بھی رہا ہو، لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جب ہم اکیلے میں ملتے ہیں، تب مانتے ہیں کہ ہاں یار! لیکن جب اجتماعی طور پر ملتے ہیں، مجھے یاد ہے جب اس کی کارروائی چلی تھی، تمام پارٹیوں سے ملنا ہوا، سوائے ایک جماعت کے، جن جن سے بھی ملنا ہوا، ہر ایک نے اصولی مخالفت نہیں کی تھی۔ بعد میں جا کر جو کچھ بھی ہوا ہوگا، سیاسی رخ اختیار کیا جا رہا ہے،لیکن جو صرف سیاسی زاویے سے ہی سوچتے ہیں، میں انہیں بھی مشورہ دینا چاہوں گا، ایک دوست کے طور پر مشورہ دیتا ہوں اور یہ سب کے کام آئے گا۔ ہمارے ملک میں جب سے خواتین کے ریزرویشن کو لے کر بحث ہوئی ہے اور اس کے بعد جب جب الیکشن آیا ہے، ہر الیکشن میں خواتین کو ملنے والے اس حق کی، جس جس نے مخالفت کی ہے، ملک کی خواتین نے انہیں معاف نہیں کیا ہے۔ ان کا حال برے سے برا کیا ہے، لیکن یہ بھی دیکھیں کہ 2024کے الیکشن میں ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ یہ اس لیے نہیں ہوا کہ2024 میں سب نے اتفاق رائے سے اسے پاس کیا، تو یہ موضوع ہی نہیں رہا۔ کسی کے حق میں سیاسی فائدہ نہیں ہوا، کسی کا نقصان بھی نہیں ہوا۔ ہم نے سہولت کے ساتھ ان مسائل کی بنیاد پر الیکشن لڑا، کیونکہ 24 میں سب ساتھ تھے۔ کچھ لوگ یہاں ہیں، کچھ لوگ نہیں ہیں، لیکن سب ساتھ تھے۔ آج بھی میں کہتا ہوں، اگر ہم سب ساتھ چلتے ہیں، تو تاریخ گواہ ہے کہ یہ کسی ایک کے سیاسی حق میں نہیں جائے گا۔ یہ ملک کی جمہوریت کے حق میں جائے گا، ملک کی اجتماعی فیصلہ سازی کی طاقت کے حق میں جائے گا اور ہم سب اس کی کامیابی کے حقدار ہوں گے۔ نہ ٹریژری بینچ اس کا حقدار رہے گا، نہ مودی اس کا حقدار رہے گا، یہاں بیٹھے ہوئے سب حقدار ہوں گے اور اس لیے جن لوگوں کو اس میں سیاست کی بو آ رہی ہے، میں چاہوں گا کہ وہ خود کے نتائج کو پچھلے 30 سال میں دیکھ لیں۔ فائدہ ان کا بھی اسی میں ہے، میں راستہ دکھا رہا ہوں کہ اسی میں فائدہ ہے کہ جو نقصان ہو رہا ہے، اس سے بچ جاؤ گے اور اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

معزز اسپیکر صاحب!

مجھے یاد ہے، تب تو میں حکومتی نظام کی سیاست میں نہیں تھا، میں ایک تنظیم کے کارکن کے ناطے کام کرتا تھا۔ اس وقت گلیاروں میں ایک بحث سننے کو ملتی تھی کہ دیکھیں یہ کیسے لوگ ہیں، پنچایتوں میں ریزرویشن دینا ہے، تو بہت آرام سے دے دیتے ہیں، لیکن پنچایتوں میں ریزرویشن دینا ہے تو آرام سے دیتے ہیں ،کیونکہ اس میں انہیں اپنا عہدہ جانے کا ڈر نہیں لگتا۔ انہیں لگتا ہے، ہم محفوظ ہیں یار، وہاں دے دو۔ یہ اس وقت گلیاروں میں بہت چرچا تھی کہ بولے یہ کبھی نہیں کریں گے یہاں بیٹھے ہوئے، کیوں؟ کیونکہ ان کا کچھ جائے گا اور اس لیے باقی پنچایتوں کا ہو جاتا ہے، 50 فیصد تک پہنچ گئے۔

میں سیاسی نقطۂ نظر سے ایک اور بات سمجھانا چاہتا ہوں، ساتھیو،

آج سے25 سال 30 سال پہلے جب بھی مخالفت ہوتی تھی تو وہ سیاسی سطح سے نیچے نہیں جاتی تھی۔ آج ایسی غلطی نہ کریں۔ پچھلے 30–25 برسوں میں پنچایتی انتخابات کے ذریعے نچلی سطح پر جو بہنیں منتخب ہو کر آئی ہیں، ان میں ایک سیاسی شعور پیدا ہو چکا ہے۔ وہ اب زمینی سطح  پر رائے عامہ بنانے والی (اوپینین میکر) بن چکی ہیں۔ 30 سال پہلے وہ خاموش رہتی تھیں، سمجھتی تھیں مگر بولتی نہیں تھیں، لیکن آج وہ آواز بلند کر رہی ہیں۔اسی لیے اب جو بھی حمایت یا مخالفت ہوگی، وہ ان لاکھوں بہنوں کو متاثر کرے گی جو کبھی نہ کبھی پنچایت میں کام کر چکی ہیں، نمائندگی کر چکی ہیں اور عوام کے مسائل کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہ فعال ہیں اور کہتی ہیں کہ صفائی جیسے کاموں میں تو ہمیں آگے کیا جاتا ہے، جو گھر میں بھی پہلے سے ہوتا تھا، لیکن اب ہمیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائےاور فیصلہ سازی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں ہوتی ہے۔لہٰذا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ سیاسی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں، انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ 30–25 برسوں میں لاکھوں خواتین زمینی سطح پر لیڈر بن چکی ہیں۔ اب وہ صرف 33 فیصد نمائندگی کی بات نہیں کر ر ہی ہیں بلکہ آپ کے فیصلوں کو بھی متاثر کریں گی۔ جو آج مخالفت کرے گا، اسے طویل مدت تک اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اس لیے سیاسی دانشمندی بھی اسی میں ہے کہ خواتین کی اس ابھرتی ہوئی قیادت کو تسلیم کیا جائے۔میں نے یہاں سنا کہ ہمارے ملائم سنگھ جی اس موضوع کو اٹھاتے رہے، ان کے کنبے کے افراد بھی اسے آگے بڑھاتے رہے۔ آپ ملک کی خواتین پر بھروسہ کریں، ان کی سمجھداری پر اعتماد کریں۔ ایک بار 33 فیصد خواتین کو یہاں آنے دیں، انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ کس کو نمائندگی دینی ہے۔ ہم ان کی صلاحیت پر شک کیوں کرتے ہیں؟ ایک بار انہیں موقع تو دیں!یہ بات درست ہے کہ میں انتہائی پسماندہ طبقے سے آتا ہوں۔ لیکن میری ذمہ داری ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلوں اور یہی میرا آئین مجھے سکھاتا ہے۔ میرے لیے آئین ہی سب سے بڑا ہے، اور یہی آئین کی طاقت ہے کہ میرے جیسے عام پس منظر کے فرد کو اتنی بڑی ذمہ داری ملی ہے۔ اس لیے میں ملک کے عوام اور آئین سازوں کا شکر گزار ہوں۔

لیکن، معزز اسپیکر صاحب!

معزز اسپیکر صاحب!

آج ہم زندگی کے ہر شعبے میں دیکھتے ہیں کہ ناری شکتی ملک کا نام روشن کرنے میں کہیں پیچھے نہیں ہے۔ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہر میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اتنی بڑی صلاحیت کے باوجود ہم انہیں نمائندگی دینے سے کیوں روکنا چاہتے ہیں؟ ان کی شمولیت سے ہماری طاقت بڑھے گی۔ اس لیے میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو سیاسی نظر سے نہ دیکھیں، یہ قومی مفاد کا فیصلہ ہے۔

معزز اسپیکر صاحب!

آج ہمارے سامنے ایک سنہری موقع ہے کہ ہم سب مل کر کھلے دل سے فیصلہ کریں اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں خواتین کی شراکت کو یقینی بنائیں۔ آج پورا ملک اور خاص طور پر ناری شکتی ہمارے فیصلوں کو دیکھے گی ، لیکن فیصلوں سے زیادہ ہمارے ارادوں کو دیکھے گی ۔ اور اس لیے ہماری نیت کا نقصان ، ملک کی خواتین کی طاقت کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

معزز اسپیکر صاحب!

سال2023 میں ہم نے اس ایوان میں اس قانون کو متفقہ طور پر قبول کیا تھا، جس سے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم اسے مزید کب تک روکے رکھیں گے؟ مردم شماری اور دیگر معاملات کے حوالے سے جو رکاوٹیں آئیں، جیسے کووڈ وغیرہ، وہ سب کے سامنے ہیں، لیکن اب ہمارے پاس 2029 تک موقع ہے۔ اگر ہم تب بھی یہ کام نہ کریں، تو ہم خواتین کا اعتماد کھو دیں گے۔اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مزید تاخیر نہ کی جائے۔ اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین اور خواتین کارکنان سے مشاورت کی گئی ہے۔ باضابطہ اور غیر باضابطہ دونوں سطحوں پر بات چیت ہوئی ہے اور اب ہمیں ایک راستہ نکالنا ہوگا تاکہ ہم خواتین کی طاقت کو قومی دھارے میں شامل کر سکیں۔

معزز اسپیکر صاحب!

میں ایک بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ملک کو ٹکڑوں میں سوچنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہم نے حلف ایک متحد قوم کے طور پر لیا ہے۔ چاہے کشمیر ہو یا کنیا کماری، ہمیں ایک ہی بھارت کے طور پر سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوگا۔میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا، نہ ہی کسی کے ساتھ امتیاز ہوگا۔ ماضی میں جو تناسب طے ہوا، وہی برقرار رہے گا اور اسی کے مطابق اضافہ بھی ہوگا۔ اگر آپ کو ‘‘ضمانت’’ کا لفظ چاہیے تو میں ضمانت دیتا ہوں، اگر ‘‘وعدہ’’ چاہیے تو میں وعدہ کرتا ہوں۔ جب نیت صاف ہو تو الفاظ کے کھیل کی ضرورت نہیں رہتی۔

معزز اسپیکر صاحب!

میں آج ایوان کے تمام ساتھیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، ہم کسی غرور میں نہ رہیں اور میں ‘ہم’’ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں، ‘‘میں’’ اور ‘‘تم’’ کی بات نہیں کر رہاکہ ہم ملک کی ناری شکتی کو کچھ دے رہے ہیں۔ نہیں، یہ ان کا حق ہے اور ہم نے کئی دہائیوں سے انہیں اس حق سے محروم رکھا ہے۔ آج ہمیں اس کی تکمیل  کرتے ہوئے اس غلطی سے نکلنے کا موقع ملا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ ہر بار کس طرح چالاکی اور ہوشیاری سے کام لیا گیا۔ ہم کہتے رہے کہ ہم اس کے حق میں ہیں، ہم اس کے ساتھ ہیں، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تکنیکی بہانے سے اسے روک دیا گیا۔ ہر بار ایسے ہی مسائل کھڑے کیے گئے۔ 33 فیصد خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کرنے کی ہمت کسی میں نہیں رہی، وہ دور گزر چکا ہے، لیکن کھل کر حمایت کرنے کی ہمت بھی نہیں دکھائی گئی۔ اسی لیے تکنیکی بہانے بازی یہ کرو تو وہ، وہ کرو تو یہ اب ملک کی خواتین کو سمجھانا ممکن نہیں ہوگا۔ ایوان میں نمبروں کا کھیل کیا ہوگا، یہ وقت طے کرے گا، لیکن یہ طے ہے کہ اب اس طرح کی بہانہ بازی اور تکنیکی رکاوٹوں کے ذریعے معاملات کو الجھا کر تین دہائیوں تک اسے روکے رکھنے کا سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔آپ نے جو حاصل کرنا تھا، کر لیا اب اسے چھوڑ دیجیے۔ کیا تین دہائیاں روکنے کے لیے کم تھیں؟ تین دہائیوں تک آپ نے روکے رکھا، پھر بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، تو اب اسے آگے بڑھنے دیجیے۔

معزز اسپیکر صاحب!

یہاں کے کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ مودی کے اس میں کہیں نہ کہیں سیاسی مفادات ہیں ۔  ارے بھائی ، ان کو بولنے دیجیئے، یہاں پر بیچارے کے منہ پر تالا لگا ہوا ہے، وہاں  بنگال میں کوئی بولنے نہیں دیتا اس کو ۔

معزز اسپیکر صاحب!

معزز اسپیکر صاحب!

دیکھیں ، اگر آپ اس کی مخالفت کرتے ہیں ، تو یہ فطری ہے کہ مجھے سیاسی فائدہ ملے گا ۔  لیکن اگر آپ ساتھ جائیں تو کوئی نہیں کرے گا ، اسے لکھ لیں۔  کسی کے پاس نہیں ہوگا ، کیونکہ تب ایک الگ پہلو ہوتا ہے ، تب کسی کو فائدہ نہیں ہوتا ۔  اور اس لیے ہم کریڈٹ نہیں چاہتے ، جیسے ہی یہ گزر جاتا ہے ،  میں کل اشتہار دے کر سب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں ، میں سب کی تصویر پرنٹ کروانے کے لیے تیار ہوں ، آئیے کریڈٹ لیں!  کیا آپ اپنے کریڈٹ اسکور کے بارے میں فکر مند ہیں ؟  کریڈٹ نہ لیں ، آپ جو تصویر پرنٹ کرنا چاہتے ہیں ، ہم اسے حکومت کے خرچ پر کروائیں گے ۔  میں آپ کو سامنے سے کریڈٹ کا ایک خالی چیک دے رہا ہوں ۔

معزز اسپیکر صاحب!

ہماری پارلیمانی جمہوریت میں خواتین کی شرکت محض تعداد کے کھیل یا جمہوری نظام میں اصلاحات تک محدود نہیں ہے ۔  مادر جمہوریت کے طور پر، مدر آف ڈیموکریسی کے طور پر ، یہ فیصلہ ہندوستان کا عزم ہے ، یہ ثقافتی عزم ہے اور اسی عزم کی وجہ سے پنچایتوں میں یہ نظام بنایا گیا ہے اور اب یہ 20 سے زیادہ ریاستوں میں 50فیصد ہو گیا ہے اور ہم نے تجربہ کیا ہے ، مجھے لوگوں نے طویل عرصے تک ، طویل عرصے تک وزیر اعلی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع دیا ہے اور اسی عرصے میں میں نے نچلی سطح پر خواتین کی قیادت دیکھی ہے ۔  یہ میرا تجربہ ہے کہ حساسیت کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کا ان کا عزم ترقی کے سفر کو تیز کرنے میں بہت کارآمد رہا اور اسی تجربے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ اس ایوان میں ان کی آواز ایک نئی قوت بنے گی ، نئی سوچ کا اضافہ ہوگا ، ملک کی سمت کے لیے حساسیت کا اضافہ ہوگا ، جب حقائق اور منطق کی بنیاد پر تجربے کا اضافہ ہوگا ، تب میں سمجھتا ہوں کہ اس کی طاقت کئی گنا بڑھ جائے گی اور ایوان کتنا مالامال ہوتا ہے ۔

معزز اسپیکر صاحب!

ہمارے ملک میں تجربہ کار خواتین کی طاقت کی کوئی کمی نہیں ہے ، بااختیار افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ، ہمیں یقین ہے ، وہ اپنا تعاون دیں گی، وہ بہت اچھا تعاون کریں گی اور آج بھی ہماری بہنیں جو یہاں موجود ہیں ، جب بھی انہیں موقع ملا ہے ، انہوں نے اپنی باتوں کا اظہار بہت اچھا کیا ہے اور ایوان کو تقویت بخشی ہے ۔

معزز اسپیکر صاحب!

آج ملک میں 650 سے زیادہ پنچایتیں ہیں ، ضلع پنچایتیں ، تقریبا 3500 خواتین ان کی قیادت کر رہی ہیں اور ان کے پاس مرکزی کابینہ کے وزیر سے زیادہ ذمہ داری ، پیسہ اور نظام ہے ۔  تقریبا 6700 بلاک پنچایتوں میں سے 2700 سے زیادہ بلاک پنچایتوں کی سربراہی خواتین کرتی ہیں ۔  آج ملک کے 900 سے زیادہ شہروں میں شہری بلدیاتی اداروں کے سربراہ کے طور پر میئر  ہوں یا  قائمہ کمیٹیوں کے کام کاج دیکھنے والی بہنیں ہیں ۔  اور مجھے یقین ہے کہ آج ملک جو ترقی کر رہا ہے اس میں ان کا بھی اہم تعاون ہے ، یہ ہمارے لیے اس  احسان مندی کو قبول کرنے کا موقع ہے ۔  اور جب یہ تجربہ ایوان سے جڑے گا تو اس سے اس کی طاقت کئی گنا بڑھ جائے گی ۔

معزز اسپیکر صاحب

طویل انتظار یعنی ایک طرح سے یہ سوالیہ نشان ہم سب کے لیے بنایا جانا چاہیے ، ہم نے ایسی صورتحال پیدا کی ہے ۔  یہ ایک موقع ہے کہ ہم جو بھی پرانی حدود ، مشکلات سے باہر نکلیں ، ہمیں ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ملک کی ترقی میں خواتین کی طاقت کی شرکت کو یقینی بنانا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ اگر آج ہم مل کر فیصلے کریں اور میں گزارش کروں گا کہ ہم اسے اتفاق رائے کے ساتھ آگے لے جائیں اور جب یہ اتفاق رائے کے ساتھ بڑھے تو ٹریژری بینک پر دباؤ پڑتا ہے ۔  اجتماعی طاقت سے ہمیں بہت سے اچھے نتائج ملتے ہیں ۔

معزز اسپیکر صاحب!

میں یہ کہنے میں زیادہ وقت نہیں لوں گا کہ اسے سیاسی پیمانے پر نہیں تولا جانا چاہیے ۔  جب بھی ہم کچھ فیصلے کرنے والے ہوتے ہیں ، جو ملک کی ، اتنے بڑے ملک کی آدھی ذمہ داری لے رہے ہوتے ہیں ، ان کا بھی کچھ حق ہوتا ہے  ہمیں یہاں نہیں رکنا چاہیے ۔  اور دوسرا ، تعداد کے حوالے سے ، تعداد کے حوالے سے ، تعداد کے حوالے سے ، ایک رائے پہلے ہی تشکیل دی جا چکی تھی ،  ایک بحث تھی کہ جناب جو کچھ بھی ہو ، اسے کم نہ کریں ، زیادہ کریں ، پھر جلد ہی ہو جائے گا ۔  وہ مزید موضوع اب آیا ہے کہ چلو بھائی اس تعداد میں اضافہ کریں جو پہلے 33فیصدزیادہ تھی ، تاکہ کسی کو محسوس نہ ہو کہ میرا حق چلا گیا ہے ۔  ایک نئی طاقت شامل کی جائے گی ، اضافی طاقت شامل کی جائے گی اور اب ایوان کی ویسی ہی تشکیل بھی کی گئی ہے ۔

معزز اسپیکر صاحب!

میں ہلکے لہجے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا، ہر ایک کی اپنی سیاسی وجوہات ہوتی ہیں اور شکست کا خوف تھوڑا حیران کن ہوتا ہے ،  لیکن جب یہاں کوئی نیک کام کیا جاتا ہے تو اسے نہیں دیکھنا چاہیے، اس لیے کالا ٹیکہ لگانے کی روایت ہے ۔  میں کالا ٹیکہ لگانے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں!

بہت بہت شکریہ!

******

 

 

ش ح۔ ک ح۔ کے ا۔م ع –ن ع۔خ م۔الف ک م

U.NO.5925


(ریلیز آئی ڈی: 2252712) وزیٹر کاؤنٹر : 15