وزیراعظم کا دفتر
گجرات کےواو تھراد میں مختلف ترقیاتی کاموں کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAR 2026 8:27PM by PIB Delhi
بھارت ماتا کی جئے!
بھارت ماتا کی جئے!
بھارت ماتا کی جئے!
پروگرام میں موجود وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی، گجرات اسمبلی کے اسپیکر شنکر بھائی، نائب وزیر اعلیٰ بھائی ہرش سنگھوی، گجرات حکومت کے تمام وزراء، ساتھی ارکان اسمبلی اور بناس کانٹھا، واو، تھراد اور شمالی گجرات کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
آج یہاں میری مائیں اتنی بڑی تعداد میں یہاں آئی ہیں، یہ مائیں-بہنیں اتنی بڑی تعداد میں آئی ہیں۔ یہ میری ماؤں اور بہنوں کو میرا خصوصی سلام!
ابھی کچھ ہی دن پہلے پوتر نوراتری کا تہوار مکمل ہوا ہے۔ یہ ماں امبا جی کی کرپا ہی ہے کہ مجھے آج ان کے قدموں میں آنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ ان کی کرپا سے آج، آپ سب کے، میرے اپنے اہل خانہ کے، آپ سب کے درشن کرنے کا مجھے آج فائدہ ملا ہے۔ میں ماں امبا جی کے قدموں میں سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔ وراہ روپ بھگوان شری دھرنی دھر جی، ’’مچھاڑا کرشن‘‘، میں انہیں بھی آج عقیدت کے ساتھ سلام کرتا ہوں۔ یہ بھی ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ آج ہم بھگوان مہاویر جینتی بھی منا رہے ہیں۔ ہمارا یہ علاقہ کئی جین تیرتھوں کی سرزمین ہے۔ میں بھگوان مہاویر کو سلام پیش کرتا ہوں اور آپ سب کو پوتر مہاویر جن کلیانک دن، مہاویر جینتی کی مبارکباد بھی دیتا ہوں۔
ساتھیو!
آج میرا دل ایک اور بات سے خوش ہے۔ جب میں یہاں آیا، تو پہلی بار میرا طیارہ براہ راست ڈیسا ایئربیس پر لینڈ ہوا۔ ڈیسا کا یہ ایئربیس بین الاقوامی سرحد سے صرف 130 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے کتنا اہم ہے۔
لیکن ساتھیو!
ڈیسا ایئرپورٹ کے اس پروجیکٹ کا، اس کا خیال آج سے شروع نہیں ہوا۔ جب میں یہاں وزیر اعلیٰ تھا، تب سے ہم نے زمین حاصل کی، میرے کسان بھائی بہنوں نے زمین دی، اور ہم چاہتے تھے کہ قومی سلامتی کے لیے، بھارت کی مغربی سرحد کی حفاظت کے لیے، یہ ڈیسا انتہائی اہم مقام ہے، یہاں ایئربیس ہونا بہت ضروری ہے۔ لیکن پتہ نہیں اس وقت دہلی میں جو لوگ حکومت کرتے تھے، انہیں گجرات کے تئیں پتہ نہیں کیا نفرت تھی، قومی سلامتی کا یہ پروجیکٹ بھی سالوں تک فائلوں میں دبا رہا۔ آپ نے جب مجھے دہلی بھیجا تو میں نے ان فائلوں کو باہر نکالا اور یہ آج اس کا نتیجہ ہے کہ ایئر فورس کا ایک بہت بڑا بیس اب ہمارے ڈیسا سے جڑ گیا ہے۔ اور یہ صرف ہوائی پٹی نہیں ہوتی، اس کی وجہ سے یہاں بہت سی سرگرمیاں ہونے والی ہیں، بہت بڑی تعداد میں جوان یہاں رہنے والے ہیں۔ اس علاقے کی ترقی میں اس کا بہت بڑا تعاون ہونے والا ہے۔ لیکن یہ جو تاخیر ہوئی، وہ دہلی میں اس وقت کی کانگریس حکومت کی وجہ سے ہوئی، اس کے رویے کی وجہ سے ہوئی اور قومی سلامتی کے تئیں ایسی بے رخی کو ملک کبھی معاف نہیں کرتا۔ یہ ہماری حکومت ہے، جس نے ڈیسا ایئرپورٹ کے کام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کروایا اور آج یہ ایئرپورٹ اس علاقے کے لیے ترقی کا ایک بڑا سنگ میل بن رہا ہے اور ملک کی ایک بہت بڑی اسٹریٹجک طاقت بھی ہے۔ میں اس ایئرپورٹ کے لیے اس پورے علاقے کو اور آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
واو-تھراد، بناس کانٹھا کا یہ علاقہ، آپ سب جانتے ہیں کہ یہاں سے میرا کتنا لگاؤ رہا ہے۔ یہاں کا کوئی گاؤں ایسا نہیں ہوگا جس کے ساتھ میری یادیں وابستہ نہ ہوں۔ آج میں یہاں آیا تو مجھے بہت سے پرانے لوگوں کے چہرے دیکھنے کا موقع ملا۔ اور روڈ شو بھی اتنا شاندار رہا کہ اس کی وجہ سے مجھے ایک فائدہ ہوا؛ بہت بڑی تعداد میں ایسے پرانے لوگ، جن سے دور سے ہی سہی، ملنے کا موقع مل گیا۔ جب میں تنظیم کا کام کرتا تھا، تب تو میں یہاں بہت گھوما ہوں۔ اسکوٹر پر چکر لگاتا تھا۔ آپ سب سے ملنے کا موقع ملتا تھا اور جب اپنے شمالی گجرات میں آتا تھا، تو مائیں اور بہنیں بہت اچھی روٹیاں بنا کر کھلاتی تھیں۔ باجرے کی روٹی، گھی، گڑ، لہسن کی چٹنی اور تازہ مکھن۔ آپ سب کا وہ پیار اور بے پناہ محبت میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ جتنا پیار آپ سب نے مجھے دیا ہے، خاندان کے ایک بیٹے کی طرح میری پرورش کی ہے، اسی لیے میں جہاں بھی ہوں، آپ کی اس محبت کو ترقی کی صورت میں سود سمیت واپس کرنے کی محنت کرتا ہوں۔ یہاں تنظیم کے کئی پرانے کارکن موجود ہیں، جن کے ساتھ مجھے دن رات کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ کئی بزرگ اب نہیں رہے، لیکن ان کے ساتھ مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ ایسے تمام ساتھی آج بی جے پی کے کارکنوں کی ایک پوری نئی نسل میرے سامنے ہے۔ اور جب ایسی کامیاب نسل سامنے ہو، تو انسان کو زندگی میں کچھ کرنے کا سکون ملتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آج ہمارے نوجوان کارکن، تنظیم کے کاموں کو اسی مہارت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ پروگرام، یہ ریلی، اس کا انتظام اور اتنی بڑی تعداد میں آپ سب کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے۔ میں نے دونوں کونوں میں جا کر دیکھا، مجھے لگا کہ دور دور تک ایک بار ہاتھ ہلا دوں، لیکن میری نظر جہاں تک جاتی ہے اس سے بھی دور لوگ بیٹھے ہیں اور کئی لوگ باہر کھڑے ہیں۔ بناس کانٹھا کے علاوہ پاٹن اور مہسانہ سمیت کئی اضلاع کے لوگوں کے بھی مجھے درشن کرنے کا موقع ملا، میں اس کے لیے آپ سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خاص طور پر میں اپنی ماؤں اور بہنوں کو ایک بار پھر سلام کرتا ہوں۔
ساتھیو!
آج سے 25 سال پہلے آپ نے مجھے بناس کانٹھا اور اس علاقے کی ترقی کی ذمہ داری سونپی تھی۔ میں جب تک گجرات میں رہا، میں نے اس کام کو مشن موڈ میں کیا، جتنا ہو سکا گجرات کو آگے بڑھایا۔ دہائیوں سے آپ کو جو پریشانیاں ہو رہی تھیں اور اس علاقے کی جو نظر اندازی ہو رہی تھی، ان تمام مشکلات کا خاتمہ ہوا۔ ترقی کی توقعات ایک کے بعد ایک پوری ہوتی گئیں۔ مجھے فخر ہے کہ یہاں ترقی کا جو سلسلہ شروع کرنے کی سعادت مجھے ملی تھی، وہ مسلسل جاری ہے۔ اور 2014 کے بعد سے تو اس میں ڈبل انجن کی حکومت کی طاقت بھی شامل ہوگئی ہے۔ آج بھی یہاں مرکز اور ریاست کے قریب 20 ہزار کروڑ روپے کے منصوبوں کا آغاز ہو رہا ہے، 20 ہزار کروڑ روپے۔ ان پروجیکٹس سے اس پورے علاقے کی تصویر بدل جائے گی۔ توانائی، سڑک، ریلوے اور ہاؤسنگ سیکٹر سے جڑے یہ پروجیکٹس یہاں کی زندگی کو ایک نئی رفتار دیں گے۔ میں ان تمام ترقیاتی کاموں کے لیے واو-تھراد، بناس کانٹھا اور پورے گجرات کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
آج روڈ انفراسٹرکچر سے جڑے جن پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، ان سے پورے شمالی گجرات کو رفتار ملے گی۔ یہاں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایڈَر سے وڈالی بائی پاس تک 4 لین ہائی وے کی تعمیر اور دھولاویرا سے سانتل پور تک ہائی وے کی اپ گریڈیشن کا کام، یہ گاؤں کو منڈیوں سے، کسانوں کو نئے مواقع سے اور نوجوانوں کو روزگار سے جوڑیں گے۔ احمد آباد-دھولیرا ایکسپریس وے، یہ پورا کوریڈور آج اس علاقے کے نام کیا گیا ہے۔ جب اتنی بڑی کنیکٹویٹی بنتی ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ صنعتیں بھی آتی ہیں اور سرمایہ کاری بھی آتی ہے۔ ساتھ ہی، اس علاقے کی ریل کنیکٹویٹی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ ہمت نگر سے کھیڑ برہما تک گیج کی تبدیلی، ہمارے شمالی گجرات کے قبائلی علاقے کو نیشنل براڈ گیج نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔ آج سے کھیڑ برہما، ہمت نگر اور اساروا کو جوڑنے والی نئی ٹرین سروس بھی شروع ہو گئی ہے۔
بھائیو اور بہنو!
بہتر سڑکیں، ہائی ویز اور ریلوے کے یہ منصوبے، یہ سب گجرات کی ہمہ جہت ترقی کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے ہماری پوری توجہ یہاں کی توانائی کی ضروریات پر بھی ہے۔ کیونکہ نئی صنعتیں، نئی سرمایہ کاری اور نئے مواقع تبھی آتے ہیں جب بجلی ہوتی ہے۔ اسی لیے آج کھاوڑا رینویبل انرجی پارک سے جڑے ٹرانسمیشن پروجیکٹس اتنے اہم ہیں۔ یہاں سے ساڑھے چار گیگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ یہ بجلی نئے کارخانوں کے بھی کام آئے گی، آپ کے گھروں تک بھی پہنچے گی اور کسانوں کے کھیتوں تک بھی فائدہ پہنچائے گی۔
ساتھیو!
آج سولر پاور میں گجرات کا پرچم پوری بلندی سے لہرا رہا ہے۔ آج رینویبل انرجی میں گجرات اس لیے اتنا آگے ہے، کیونکہ گجرات نے اس کی شروعات تب کی تھی جب بھارت میں اس طرف کوئی خاص توجہ ہی نہیں تھی۔ سال 2010 میں، یعنی آج سے 15-16 سال پہلے، میں نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے چارنکا میں رتن پور کے پاس ملک کے پہلے سولر پارک کا کام شروع کروایا تھا۔ جو بچے 15-16 سال کے ہیں، ان کی تو تب پیدائش بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ یہ اپنے آپ میں ایک ملٹی ٹیکنالوجی پارک ہے جس نے سولر انرجی کی تحریک شروع کی۔ آج گجرات میں جس طرح سولر انرجی کا کام ہوتا ہے، سورج کی طاقت سے بجلی پیدا کرنے کا کام ہو رہا ہے، جیسے آج ہی کھاوڑا رینویبل انرجی پارک سے جڑے منصوبے شروع ہوئے ہیں، وہ دن دور نہیں جب گجرات رینویبل انرجی میں دنیا کا ایک بہت بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔
ساتھیو!
آج جب دنیا میں بھارت کی ترقی کی بات ہوتی ہے، آج جب بھارت کی ’گروتھ اسٹوری‘ کا ذکر ہوتا ہے، تو ’گجرات ماڈل‘ کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور گجرات نے دکھایا ہے کہ ترقی کے لیے جتنے ضروری انفراسٹرکچر کے منصوبے ہیں، اتنی ہی ضروری عوامی بہبود کی اسکیمیں بھی ہیں۔ یعنی سڑکیں، ہائی ویز اور ریلوے کی ترقی تو ہونی ہی چاہیے، ساتھ ہی گاؤں، غریب اور عام انسان کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہونا چاہیے۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے ذریعے آج ہم یہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ آج یہاں آپ غور کیجیے، 40 ہزار کنبوں کو، گجرات میں 40 ہزار کنبوں کو پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت پکے گھر ملے ہیں، پکے گھر۔ ہزاروں کنبوں کو پکے گھر کی سہولت ملنا ان کے لیے ایک تحفظ ہوتا ہے، زندگی کی پہچان ہوتی ہے اور نئے خواب سجانے کا ایک حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس سے زندگی میں کتنی بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ جب پی ایم آواس میں جنہیں پکے گھر ملے ہیں، جن کے پاس زندگی میں آج تک گھر نہیں تھا، جنہوں نے اپنی زندگی فٹ پاتھوں پر گزاری تھی، جھونپڑیوں میں زندگی گزاری تھی، کچی مٹی کے مکان بنا کر وقت گزارا تھا، انہیں جب یہ پکے گھر ملے ہوں تو آشیرواد ملے گا کہ نہیں؟ آشیروادملے گا کہ نہیں؟ آشیرواد ملے گا کہ نہیں؟ آشیرواد ملے گا کہ نہیں؟ یہ آشیرواد کس کے نصیب میں جاتا ہے؟ یہ آشیروادکس کے نصیب میں جاتا ہے؟ کس کے نصیب میں جاتا ہے؟ آج 40 ہزار لوگوں کو گھر ملے ہیں نا، ان کے آشیرواد اور ان کے پونیےکے حقدار آپ سب ہیں، ملک کے شہری ہیں، کیونکہ آپ کے ایک ووٹ کی طاقت نے مجھے یہ خدمت کرنے کا موقع دیا اور یہاں 40 ہزار لوگوں کے اپنے پکے گھر بن گئے۔ اس پونیے کے صحیح حقدار آپ سب ہیں، میں تو صرف ایک ذریعہ ہوں۔ میں پی ایم آواس کے تمام مستفید بھائیوں اور بہنوں کو آج اس کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
آج آپ کے درمیان آیا ہوں، تو یہاں کا دہائیوں پرانا حال بھی یاد آ رہا ہے۔ وہ دن کوئی نہیں بھول سکتا جب شمالی گجرات کا نام آتے ہی لوگوں کے ذہن میں ایک الگ ہی تصویر بنتی تھی۔ خشک سالی، قحط، پانی کی کمی—10 سال میں 7 بار قحط پڑتا تھا۔ پانی بھرنے کے لیے 3-4 کلومیٹر مٹکے لے کر جانا پڑتا تھا۔ جدوجہد سے بھری یہ زندگی اور کانگریس حکومتوں کی طرف سے ہماری مسلسل نظر اندازی؛ ہم میں سے کون بھول سکتا ہے وہ دن جب کئی کئی کلومیٹر دور سے پانی لانا پڑتا تھا۔ گھر کی خواتین، بہن بیٹیوں کا بہت سارا وقت پانی کا انتظام کرنے میں خرچ ہو جاتا تھا۔ پانی کی قلت کی وجہ سے کسانوں کو بھی اپنی محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی تھی۔ مویشی پالنے والے بھی اپنے جانوروں کے پانی اور چارے کی فکر میں رہتے تھے۔ یہ مسئلہ طویل عرصے سے چلا آ رہا تھا۔ ہمارے یہاں پہلے مویشیوں کے باڑے چلتے تھے۔ جب گرمی آتی تھی تب مویشیوں کے باڑے چلتے تھے اور حکومت گھاس پہنچاتی تھی۔ پینے کے پانی کی دقت ہوتی تھی۔ دو دو دہائیاں ہو گئیں، اب سب بند ہو گیا ہے۔ کہیں نظر نہیں آتا، ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ گجرات کے لوگوں کا جذبہ تھا کہ ہم نے مل کر اپنی محنت سے تقدیر بدلنے کا عزم کیا۔ ہم نے ’سُجلام سُفلام یوجنا‘ کے ذریعے پانی کے مسئلے کا حل نکالا۔ نربدا کا پانی دور دور تک پہنچنے لگا۔ آبپاشی کا نیا نظام بنا۔
ساتھیو!
آج یہاں کا کسان صرف ایک فصل پر منحصر نہیں ہے۔ وہ اپنے حساب سے کھیتی باڑی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بناس کانٹھا کا نام آج جس طرح آلو کی پیداوار میں ابھرا ہے، وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔
اسی طرح بھائیو اور بہنو!
آج ہم ترقی کے جن کاموں کو آگے بڑھا رہے ہیں، ان کا فائدہ پورے شمالی گجرات کو ہوگا۔ واو-تھراد، بناس کانٹھا، پاٹن اور مہسانہ، ہر ضلع کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بہتر زندگی کے راستے کھلیں گے۔
ساتھیو!
گجرات کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس نے گزشتہ 25 سال سے ترقی کی اس عظیم مہم کو رکنے نہیں دیا ہے۔ گجرات نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اپنے ہی ریکارڈز کو خود ہی توڑا۔ پھر نئے ریکارڈ بنائے، پھر ریکارڈ توڑا اور پھر نئے ریکارڈ قائم کیے۔ ابھی گجرات کے انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا ذکر ہوا، اسی طرح ہم نے پورے گجرات میں گاؤں گاؤں کو اچھی سڑکوں سے جوڑا۔ ہائی اسپیڈ ہائی ویز بنائے۔ وندے بھارت جیسی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی سہولت بھی گجرات کو مل رہی ہے۔
بھائیو اور بہنو!
2005 میں، میں نے ترقی کو گجرات کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے ’شہری ترقیاتی سال‘ کا آغاز کیا تھا۔ تب اس کا بجٹ تقریباً ساڑھے چھ سو کروڑ روپے تھا۔ لیکن، ترقی کا پہیہ اتنی تیزی سے گھوما کہ آج یہ بجٹ 33 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اسی سمت میں 9 نئی میونسپل کارپوریشنزکے لیے 2300 کروڑ روپے کے قریب 300 تجاویز منظوری کے لیے آئی ہیں۔ 72 میونسپلٹیوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ گجرات حکومت نے اس سال ریاست کا جو بجٹ پیش کیا ہے، وہ بجٹ بھی 4 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ہے۔ یہ پیسہ گاؤوں، قصبوں اور شہروں کی کایا پلٹ کے لیے خرچ ہوگا۔ گاؤں گاؤں بہتر سہولیات بنائی جا رہی ہیں۔ گھر گھر پائپ کے ذریعے پانی پہنچایا جا رہا ہے۔
بھائیو اور بہنو!
پنچایت سے پارلیمنٹ تک جب تک آپ کا بھروسہ قائم رہے گا، ترقی کی یہ سپر فاسٹ ایکسپریس اسی رفتار سے چلتی رہے گی۔
ساتھیو!
بھارت کی ہمیشہ سے بڑی طاقت رہی ہے— مشکل وقت، کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نہ آئے، مشکل کے وقت ہمارا ملک متحد ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آپ دیکھ رہے ہیں، دنیا کے کئی ملک جنگ، بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔مغربی ایشیا میں جو حالات بنے ہوئے ہیں، ان کا اثر پوری دنیا پر ہے۔ توانائی کی ضروریات، یعنی ڈیزل، پٹرول اور گیس کی دشواریاں پوری دنیا میں بڑھ گئی ہیں۔ ایسے بحران میں بھی، بھارت نے حالات کو قابو میں رکھا ہے۔ اس کے پیچھے ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی اور اہل وطن کے اتحاد کی طاقت ہے۔
لیکن بھائیو اور بہنو!
بدقسمتی دیکھیے، ہمارے ملک میں کچھ سیاسی جماعتیں عالمی بحران کے دور میں بھی اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے سے باز نہیں آ رہیں! اس سیاسی سازش میں سب سے آگے اگر کوئی ہے، تو وہ کانگریس پارٹی ہے! آج جب ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، کانگریس کے لیڈر ملک کو بانٹنے میں لگے ہیں۔ آج جب ملک کو بھروسے کی ضرورت ہے، کانگریس خوف اور افواہیں پھیلانے میں لگی ہے۔ آج جب ملک کو صبر و تحمل کی ضرورت ہے، کانگریس لوگوں کو اکسانے میں جٹی ہوئی ہے۔ سیاسی گدھوں کی طرح کانگریس اس انتظار میں ہے کہ کب ملک پریشانی میں مبتلا ہو اور اس کے بہانے انہیں سیاسی فائدہ ملے!
بھائیو اور بہنو!
آج دنیا کے چھوٹے سے لے کر بڑے سپر پاور ممالک تک میں، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کہیں 10 فیصد، کہیں 20 فیصد، تو کہیں 25 فیصد تک بڑھی ہیں۔ لیکن، بھارت اس کا اثر ملک کی عوام پر نہیں پڑنے دے رہا ہے۔ کانگریس سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ اس لیے، وہ مسلسل افواہیں پھیلا رہی ہے تاکہ ملک میں ڈر کا ماحول بنے اور لوگ پٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں پر لائن لگا کر کھڑے ہوں اور بدانتظامی پھیل جائے! اس صورتحال کو لے کر یہ لوگ جھوٹا پروپیگنڈا کریں، یہی ان کی منشا ہے!
ساتھیو!
اقتدار سے دوری کانگریس پارٹی کو بوکھلا دیتی ہے۔ ابھی دہلی میں ہوئی عالمی اے آئی سمٹ میں بھی آپ نے دیکھا ہے، دنیا بھر کے مہمان یہاں موجود تھے، دہلی کی اے آئی سمٹ کی پوری دنیا میں ستائش ہو رہی تھی، لیکن کس طرح مخالفت کے لیے کانگریس کے لوگوں نے اپنے کپڑے تک پھاڑ دیے، ان کی کوشش تھی کہ دنیا کے سامنے بھارت کی شبیہ خراب ہو! آج کے حالات میں بھی کانگریس بھارت سے نفرت کرنے والی غیر ملکی طاقتوں کی زبان بول رہی ہے۔ ہمیں کانگریس کی اس سازش سے ہوشیار رہنا ہے۔
ساتھیو!
بھارت کسی بھی مشکل صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے، یہ ہم نے کورونا کے دور میں بھی دکھایا ہے۔ اسی طرح، یہ وقت بھی متحد رہنے کا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ آج جب پوری دنیا صرف اپنے بچاؤ میں لگی ہے، بھارت نہ صرف استحکام برقرار رکھے ہوئے ہے، بلکہ ترقی کی راہ پر بھی ہر دن آگے بڑھ رہا ہے۔ آج گجرات میں ہونے والے ہزاروں کروڑ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ میں ایک بار پھر، آپ سب کو ان ترقیاتی کاموں کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میں اہل وطن کے صبر، تعاون اور نظم و ضبط کے لیے ان کا بھی بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اے آؤجو (اچھا پھر ملیں گے)، رام رام آپ سب کو! اے آوجو، رام رام! آپ سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ آپ کا آشیروادلے کر اب آگے بڑھتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ!
وضاحت: یہ وزیر اعظم کے خطاب کا قریب ترین ترجمہ ہے۔ اصل تقریر ہندی میں پیش کی گئی تھی۔
********
ش ح۔ک ح۔ رض
U-5194
(ریلیز آئی ڈی: 2247518)
وزیٹر کاؤنٹر : 14