وزیراعظم کا دفتر
وزیراعظم نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے تناظر میں صورتحال اور اس کے تدارکی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے سی سی ایس کے اجلاس کی صدارت کی
ضروری اشیاء کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات پر تفصیل سے غور کیا گیا
کسانوں کے لیے کھاد کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کی غرض سے متبادل ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا
کیمیکلز، دواسازی، پیٹروکیمیکلز اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے درکار درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے متعدد اقدامات زیر غور آئے
قریب مستقبل میں بھارتی مصنوعات کے فروغ کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش اور ترقی پر بھی غور کیا گیا
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ حکومت کے تمام شعبے باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ عوام کو کم سے کم تکلیف ہو
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزراء اور سیکریٹریوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جائے جو مکمل حکومتی حکمتِ عملی کے تحت وقف ہو کر کام کرے
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ شعبہ وار گروپس تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ساتھ کام کریں
وزیراعظم نے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ اہم اشیاء کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAR 2026 9:06PM by PIB Delhi
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے تناظر میں صورتحال اور جاری و مجوزہ تدارکی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس کی صدارت کی۔
کابینہ سیکریٹری نے عالمی صورتحال اور حکومتِ ہند کی متعلقہ وزارتوں و محکموں کی جانب سے اب تک کیے گئے اور مجوزہ اقدامات پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ زراعت، کھاد، غذائی تحفظ، پیٹرولیم، توانائی، ایم ایس ایم ایز، برآمد کنندگان، جہاز رانی، تجارت، مالیات، سپلائی چینز اور دیگر متاثرہ شعبوں پر ممکنہ اثرات اور ان سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور آئندہ کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے عالمی معیشت پر قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اثرات اور بھارت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، اور فوری و طویل مدتی جوابی اقدامات پر غور کیا گیا۔
عام آدمی کی بنیادی ضروریات، بشمول خوراک، توانائی اور ایندھن کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ضروری اشیاء کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔
کسانوں پر اثرات اور خریف سیزن کے لیے کھاد کی ضرورت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ چند برسوں میں کھاد کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنے کے اقدامات سے بروقت دستیابی اور غذائی تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ مستقبل میں مسلسل فراہمی کے لیے کھاد کے متبادل ذرائع پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی طے پایا کہ تمام پاور پلانٹس میں کوئلے کے مناسب ذخائر بجلی کی کسی بھی کمی کو روکنے کے لیے کافی ہوں گے۔
کیمیکلز، دواسازی، پیٹروکیمیکلز اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے درکار درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے متعدد اقدامات زیر غور آئے۔ اسی طرح بھارتی مصنوعات کے فروغ کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کو مستقبل قریب میں ترقی دی جائے گی۔
مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کردہ اقدامات کو تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد آنے والے دنوں میں حتمی شکل دے کر نافذ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ وزراء اور سیکریٹریوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جائے جو مکمل حکومتی حکمتِ عملی کے تحت وقف انداز میں کام کرے۔ انہوں نے شعبہ وار گروپس کو بھی تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ تنازع مسلسل بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور پوری دنیا کسی نہ کسی صورت میں اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی حالت میں شہریوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ حکومت کے تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کریں تاکہ عوام کو کم سے کم تکلیف ہو۔ نیز ریاستی حکومتوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ اہم اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4638
(ریلیز آئی ڈی: 2243654)
وزیٹر کاؤنٹر : 36
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Khasi
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Manipuri
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam