پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مغربی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر بین وزارتی بریفنگ


شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ایل پی جی سلنڈروں کی گھبراہٹ میں بکنگ کرنے سے گریز کریں؛ ایجنسیوں پر ہجوم سے بچنے کے لیے بکنگ کے لیے ڈیجیٹل طریقوں کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے

حکومت کی سب سے بڑی ترجیح گھریلو ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے

گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 31 فیصد اضافہ ہوا ہے

ریاستی حکومتیں اور مرکز زیر انتظام علاقے ضروری اشیا کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں

بھارت کے دو ایل پی جی بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں؛ ان کے 16 تا 17 مارچ کو مُندرا اور کانڈلا بندرگاہوں پر پہنچنے کا امکان ہے

حکومت بندرگاہوں، شپنگ لائنوں اور لاجسٹکس سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری تجارت پر عملی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے

شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غلط معلومات سے محتاط رہیں اور صرف مستند ذرائع اور سرکاری حکومتی پلیٹ فارم پر ہی اعتماد کریں

آئندہ خریف 2026 کے لیے کھاد کے وافر ذخائر دستیاب ہیں

برکس کے اندر مغربی ایشیا کی صورتحال پر مشترکہ موقف کے حوالے سے بات چیت جاری ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 MAR 2026 6:26PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے آج نیشنل میڈیا سینٹر میں چوتھی بین وزارتی میڈیا بریفنگ منعقد کی تاکہ مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اس سے قبل اسی نوعیت کی بریفنگ 11، 12 اور 13 مارچ 2026 کو بھی منعقد کی جا چکی ہیں۔ اس موقع پر وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس، وزارتِ خارجہ، بندرگاہوں، جہازرانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت اور وزارت اطلاعات و نشریات کے سینیئر حکام نے توانائی کی فراہمی، سمندری کارروائیوں، خطے میں مقیم بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور متعلقہ مواصلاتی اقدامات کے بارے میں تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی

وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ایک افسر نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے انتظامات کے بارے میں، خصوصاً موجودہ جغرافیائی و سیاسی پیش رفت اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کے پیش نظر میڈیا کو بریف کیا۔ وزارت کے مطابق:

خام تیل / ریفائنری

  • تمام ریفائنریاں اس وقت اعلیٰ سطح پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کے مناسب ذخائر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہمارا ملک پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار میں خود کفیل ہے اور گھریلو طلب پوری کرنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی درآمد کی ضرورت نہیں ہے۔

ریٹیل آؤٹ لیٹ

  • آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے کسی بھی ریٹیل آؤٹ لیٹ پر ایندھن ختم ہونے کا کوئی معاملہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ حکومت عوام کو مشورہ دیتی ہے کہ گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں، کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر دستیاب ہیں اور فراہمی باقاعدگی سے جاری ہے۔

قدرتی گیس

  • ترجیحی شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی محفوظ رکھی گئی ہے، جس میں پی این جی اور سی این جی کو 100 فیصد فراہمی بغیر کسی کٹوتی کے جاری ہے۔ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صنعتی اور تجارتی صارفین کے لیے فراہمی کو 80 فیصد تک منظم کیا جا رہا ہے۔
  • گیل (جی اے آئی ایل) نے ملک کے بڑے شہری مراکز جیسے دہلی، ممبئی، احمد آباد، حیدرآباد، چنئی، بنگلورو، لکھنؤ، کانپور اور جے پور وغیرہ میں مجاز سٹی گیس ڈسٹری بیوشن اداروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی اور انہیں ہدایت دی کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے لیے نئے تجارتی پی این جی کنکشن کو تیز رفتار سے فروغ دیا جائے تاکہ ایل پی جی کی فراہمی پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

ایل پی جی

  • موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر ایل پی جی کی فراہمی اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
  • ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپ پر سلنڈر ختم ہونے کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
  • گھبراہٹ میں خریداری کے باعث ایل پی جی بکنگز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ بکنگ کی اوسط تعداد 55.7 لاکھ سے بڑھ کر گزشتہ روز 88.8 لاکھ صارفین کے لیے کمرشل سلنڈر کو ترجیحی بنیادوں پر تقسیم کے لیے ریاستی حکومتوں کے اختیار میں دیا گیا ہے۔ 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کمرشل ایل پی جی صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے۔
  • اس وقت سلنڈروں کی 84 فیصد بکنگ آن لائن طریقے سے کی جا رہی ہے۔

ریاستی حکومتوں کی جانب سے منعقد کیے گئے اجلاس

ضروری اشیا بشمول پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی کی صورتحال کی نگرانی میں ریاستی حکومتوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ہریانہ اور گوا کے معزز وزرائے اعلیٰ نے ریاست میں ایل پی جی کی طلب و رسد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سینئر سرکاری حکام اور آئل کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیے۔

تلنگانہ کے چیف سیکریٹری نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں اور محکمہ شہری رسد کے حکام کے ساتھ ایل پی جی کے ذخائر، فراہمی اور صارفین تک تقسیم کے امور کا جائزہ لیا۔

آئل کمپنیوں نے آندھرا پردیش کے کمشنر برائے شہری رسد کے ساتھ بھی اجلاس منعقد کیا اور انہیں ایل پی جی، پی ڈی ایس ایس کے او اور کمرشل ایل پی جی سے متعلق تمام پیش رفت سے آگاہ کیا۔

17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے صورتحال کی نگرانی کے لیے کنٹرول رومز قائم کر دیے ہیں، جبکہ کئی ریاستیں اور یوٹی باقاعدگی سے پریس بریفنگ بھی کر رہی ہیں۔

نفاذی کارروائی

  • ریاستی حکومتیں اور مرکز زیر انتظام علاقے پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیا کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
  • مہاراشٹر اور راجستھان میں محکمہ خوراک و شہری رسد اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مشترکہ معائنہ ٹیموں نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ سرکاری شعبے کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گزشتہ روز ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس پر تقریباً 1300 معائنے بھی کیے۔
  • اتر پردیش میں نفاذی ٹیموں نے 1,483 مقامات کا معائنہ کیا؛ 24 ایف آئی آرز درج کی گئیں (جن میں 4 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز اور 20 افراد کے خلاف)، 6 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 19 افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا عمل شروع کیا گیا۔
  • آندھرا پردیش (تروپتی)، بہار، اوڈیشہ اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں بھی ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے چھاپے مارے گئے۔

دیگر حکومتی اقدامات

  • حکومت کی سب سے بڑی ترجیح گھریلو ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر گھریلو صارفین اور ترجیحی شعبوں جیسے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے۔ ریفائنریوں سے ایل پی جی کی پیداوار میں بھی تقریباً 31 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
  • سی اے کیو ایم کے 13.03.2026 کے حکم کے مطابق این سی آر میں صنعتوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کو ایک ماہ کے لیے قدرتی گیس کی جگہ عارضی طور پر بایوماس/آر ڈی ایف پیلیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے؛ جہاں متبادل دستیاب نہ ہوں وہاں کوئلہ یا مٹی کا تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نظم و ضبط کے اقدامات کے تحت ایل پی جی بکنگ کے وقفے میں اضافہ کیا گیا ہے (شہری علاقوں میں 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک)۔ اس کے علاوہ 48,000 کلو لیٹر اضافی کیروسین ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کو مختص کیا گیا ہے اور مہمان نوازی کے شعبے میں ایل پی جی پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن جیسے کیروسین اور کوئلہ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
  • سرکاری شعبے کی آئل کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایل پی جی کی ڈیجیٹل بکنگ کو فروغ دیں، گھبراہٹ میں بکنگ کی حوصلہ شکنی کریں اور ڈیلرشپ پر غیر ضروری آمدورفت سے گریز کی ترغیب دیں۔

عوام کے لیے مشورہ

  • شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ حکومت گھریلو صارفین اور ضروری شعبوں کے لیے ایل پی جی کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
  • ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارم جیسے آئی وی آر ایس کال، ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھر بیٹھے سلنڈر بک کریں اور غیر ضروری طور پر ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔
  • شہریوں سے درخواست ہے کہ گھبراہٹ میں بکنگ سے بچیں اور ایل پی جی ایجنسیوں پر ہجوم سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل طریقوں کے ذریعے بکنگ کریں۔
  • صارفین جہاں دستیاب ہو متبادل ایندھن جیسے پی این جی استعمال کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، اور ان سے گزارش ہے کہ وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر اعتماد رکھیں جو کئی دہائیوں سے قابلِ اعتماد طریقے سے ایل پی جی فراہم کر رہی ہیں۔
  • میڈیا سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ درست معلومات کو عام کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ تفصیلی معلومات وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس اور سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سوشل میڈیا صفحات پر دستیاب ہیں۔

سمندری سلامتی اور جہازرانی کی کارروائیاں

بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے میڈیا کو خلیج فارس کے خطے میں موجودہ سمندری صورتحال اور اس علاقے میں کام کرنے والے بھارتی ملاحوں اور جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزارت کے مطابق:

  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی ملاحوں سے متعلق کسی نئے جہاز رانی کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں۔
  • گزشتہ روز تک آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج فارس کے علاقے میں موجود 24 جہازوں میں سے بھارت کے جھنڈے والے دو ایل پی جی بردار جہاز — شیوالک اور نندا دیوی — جو تقریباً 92,712 میٹرک ٹن ایل پی جی لے جا رہے ہیں، آج صبح سویرے آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ یہ جہاز بالترتیب 16 اور 17 مارچ کو مُندرا بندرگاہ اور کانڈلا بندرگاہ پہنچنے والے ہیں۔
  • اس وقت خلیج فارس کے علاقے میں بھارت کے جھنڈے والے 22 جہاز موجود ہیں جن پر 611 ملاح سوار ہیں۔ ڈی جی شپنگ جہاز مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیوں اور بھارتی سفارتی مشنز کے ساتھ مل کر صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے۔
  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈی جی شپنگ کنٹرول روم کو ملاحوں، ان کے اہلِ خانہ اور سمندری شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے تقریباً 312 کال اور 460 ای میل موصول ہوئیں۔ گزشتہ 15 دنوں میں کنٹرول روم نے 2,737 کال اور 4,900 سے زائد ای میل کا جواب دیا ہے۔
  • ڈی جی شپنگ میں ایک فوری رد عمل ٹیم چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے اور جہاز رانی کمپنیوں، سفارت خانوں، وزارتِ خارجہ اور پی اینڈ آئی کلب انشورر کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ تقریباً 1,300 ملاحوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خدشات اور مسائل کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔
  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خلیجی خطے کے مختلف ہوائی اڈوں اور علاقائی مقامات سے 30 ملاحوں کو وطن واپس لایا گیا، جس کے بعد مجموعی طور پر واپس لائے گئے ملاحوں کی تعداد 253 ہو گئی ہے۔
  • حکومت بندرگاہوں، جہاز رانی کمپنیوں اور لاجسٹکس سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری تجارت پر عملی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
  • بندرگاہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اینکریج، برتھ کرایہ اور ذخیرہ چارجز میں رعایت جیسے ریلیف اقدامات فراہم کریں۔
  • بعض معاملات میں لیز میں توسیع بھی دی گئی ہے، جن میں کامرجر پورٹ پر 25,000 میٹرک ٹن بارائٹ کارگو کے لیے توسیع شامل ہے۔
  • توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم بندرگاہوں پر ایل پی جی جہازوں کو ترجیحی برتھنگ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں بڑے بندرگاہوں پر 6 ایل پی جی جہاز وصول کیے گئے ہیں۔
  • بندرگاہیں خلیج کی طرف جانے والے بھاری جہازوں کے لیے محفوظ اینکریج علاقے بھی فراہم کر رہی ہیں، جو فی الحال وہاں سے گزرنے سے قاصر ہیں۔

خطے میں بھارتی شہریوں کی سلامتی

وزارت خارجہ نے مغربی ایشیا کے خطے میں مقیم یا سفر کرنے والے بھارتی شہریوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے حوالے سے تازہ معلومات فراہم کیں اور بھارتی برادری کے ساتھ بھارتی سفارتی مشن کی مسلسل رابطہ کاری کا خاکہ پیش کیا۔ وزارت کے مطابق:

  • تنازع شروع ہونے کے بعد سے بھارت مسلسل کشیدگی میں کمی اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتا رہا ہے۔ بھارت نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے کہ اشیا اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جائے اور شہری بنیادی ڈھانچے، خصوصاً توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے گریز کیا جائے۔
  • بھارت سیاسی اور سفارتی سطح پر اہم فریقوں، جن میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک، ایران، امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں، کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا ہے۔ وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور بھارتی سفارتی مشن اپنے ہم منصبوں کے ساتھ سرگرم رابطے میں ہیں تاکہ بھارت کی ترجیحات، خصوصاً توانائی کے تحفظ اور محفوظ سمندری آمدورفت کو اجاگر کیا جا سکے۔
  • شیوالک اور نندا دیوی کے علاوہ بھی بھارت جانے والے کئی جہاز خلیجی خطے میں انتظار کی حالت میں ہیں اور ان کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
  • تنازع کے باعث پروازوں میں خلل کے پیش نظر ایرانی حکام نے گزشتہ رات کوچی سے ایک چارٹرڈ پرواز کا انتظام کیا تاکہ پھنسے ہوئے ایرانی شہریوں کو واپس لایا جا سکے۔
  • آئندہ خریف 2026 سیزن کے لیے بھارت کے پاس کھاد کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ یوریا کے ذخائر گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہیں، ڈی اے پی کے ذخائر تقریباً دوگنا ہیں اور این پی کے کے ذخائر بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ ربیع سیزن کے اختتام پر گھریلو یوریا پیداوار کے کھپت سے زیادہ ہونے کی توقع ہے، جبکہ عالمی سطح پر پہلے ہی ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں اور مارچ کے اختتام تک سپلائی متوقع ہے۔
  • برکس کے اندر موجودہ صورتحال میں بعض رکن ممالک کی شمولیت کے باعث مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے حوالے سے شیرپا چینل کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ برکس کے چیئرمین کے طور پر بھارت مشاورت کو آسان بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے اور روس سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے ذریعے مسلسل مصروفِ عمل ہے۔
  • وزارت خارجہ مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہی ہے۔ بھارتی شہریوں کی سلامتی اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سوالات اور معلومات کے لیے ایک کنٹرول روم فعال ہے، جبکہ بھارتی سفارتی مشن 24 گھنٹے ہیلپ لائن چلا رہے ہیں، رہنما ہدایات جاری کر رہے ہیں اور پھنسے ہوئے بھارتیوں کو ویزا، ٹرانزٹ اور دیگر لاجسٹک معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
  • 28 فروری سے اب تک تقریباً 1,72,000 مسافر اس خطے سے بھارت واپس آ چکے ہیں۔ عمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے پروازوں کی بحالی کے ساتھ فضائی رابطہ بہتر ہو رہا ہے۔ بحرین، کویت اور عراق میں موجود بھارتیوں کو ویزا میں توسیع، ٹرانزٹ ویزا اور اگلے سفر کے انتظامات میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
  • گزشتہ روز عمان کے شہر صحار میں پیش آنے والے ایک واقعے میں دو بھارتی شہری جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے، تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ بھارتی سفارت خانہ متاثرہ افراد کی مدد کر رہا ہے، عمانی حکام کے ساتھ رابطہ میں ہے اور جاں بحق افراد کی لاشوں کی جلد وطن واپسی کے انتظامات کر رہا ہے۔
  • 11 مارچ کو عراق کے ساحل کے قریب پیش آنے والے واقعے میں جہاز سیف سی وشنو کے 15 بھارتی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور وہ اس وقت بصرہ میں موجود ہیں۔ بھارتی مشن ان کی مدد کر رہا ہے اور ان کی جلد وطن واپسی کے ساتھ ساتھ جاں بحق بھارتی شہری کی لاش کی واپسی کے انتظامات بھی کر رہا ہے۔ اس سے قبل پیش آنے والے واقعات میں پانچ بھارتی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور ایک شخص لاپتہ ہے۔ عمان، عراق اور متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفارتی مشنز مقامی حکام کے ساتھ مل کر لاپتہ شخص کی تلاش اور جاں بحق افراد کی لاشوں کی وطن واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

عوامی مواصلات

  • وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک افسر نے عوام تک مصدقہ معلومات کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے مواصلاتی اقدامات کے بارے میں بات کی۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ:
  • بعض سوشل میڈیا ہینڈل پر جعلی معلومات، بشمول اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو اور گمراہ کن پیغامات، پھیلائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور صرف مستند ذرائع اور سرکاری حکومتی ہینڈل پر ہی اعتماد کریں۔
  • ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ آن لائن یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے موبائل (ایس ایم ایس)، پورٹلز یا آئی وی آر ایس کے ذریعے کی جائے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ڈسٹری بیوٹرز کے پاس ذاتی طور پر جانے سے گریز کریں۔
  • ریاستی حکومتیں اور ضلعی سطح کی کمیٹیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں اور ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔
  • شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ گھبراہٹ میں بکنگ نہ کریں اور ایل پی جی سلنڈر صرف معمول کے ری فل سائیکل کے مطابق ہی بک کریں۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حکومت ہند مغربی ایشیا کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔ توانائی کی فراہمی کے تحفظ، بھارتی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے، سمندری کارروائیوں کو جاری رکھنے اور ملک بھر میں ضروری اشیا کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔

*********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                              U: 4078  


(ریلیز آئی ڈی: 2240246) وزیٹر کاؤنٹر : 14