امور داخلہ کی وزارت
خواتین کے خلاف جرائم پر قابو پانے کے اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 MAR 2026 3:27PM by PIB Delhi
وزیر مملکت برائے امورداخلہ جناب بانڈی سنجے کمار نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ تعزیرات ہند (بھارتیہ نیاے سنہتا)، 2023 میں پہلی بار خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق دفعات کو ترجیح دی گئی ہے اور انہیں ایک ہی باب میں شامل کیا گیا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے لیے سزائے موت تک جیسی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ 18 سال سے کم عمر کی خاتون کے خلاف گینگ ریپ کے معاملے میں مجرم کو باقی قدرتی زندگی یا موت تک عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، جھوٹے شادی کے جھانسے، ملازمت، ترقی یا شناخت چھپاکر جنسی تعلقات قائم کرنے جیسے نئے جرائم بھی بھارتیہ نیاے سنہتا، 2023 میں شامل کیے گئے ہیں۔ خواتین کے تحفظ سے متعلق اہم دفعات کی فہرست ضمیمہ میں دی گئی ہے۔
عدالتی کارروائی کی رفتار، کارکردگی اور شفافیت کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے واسطے، نئے فوجداری قوانین میں دفعات بنائی گئی ہیں کہ تمام ٹرائلز ، تحقیقات اور کارروائی سمن کا اجرا، وارنٹ کی پیشی اور عمل درآمد، شکایت کنندہ اور گواہوں کی جانچ، انکوائری اور ٹرائلز میں شواہد کی ریکارڈنگ اور اپیل کی کارروائی یا کوئی دوسری کارروائی الیکٹرانک موڈ میں، الیکٹرانک مواصلات کے استعمال یا آڈیو ویڈیو الیکٹرانک ذرائع کے استعمال سے کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے ای-سمن، ای-ساکشیہ اور نیاے-شروتی (وی سی) جیسی ایپلی کیشنز بھی تیار کی ہیں۔ ای-سمن الیکٹرانک ذرائع سے سمن کی پیشی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ ای-ساکشیہ قانونی، سائنسی اور چھیڑ چھاڑ کے بغیر پیش کرنے ، تحفظ اور ڈیجیٹل شواہد کو الیکٹرانک طور پر جمع کرنے کے قابل بناتا ہے، اس طرح صداقت یقینی ہوتی ہے اور تاخیر کم ہوتی ہے ۔ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعےنیاے- شروتی (وی سی) ملزم افراد، گواہوں، پولیس اہلکاروں، استغاثہ، سائنسی ماہرین، قیدیوں وغیرہ کی ورچوئل پیشی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے ان ایپلی کیشنز کے ذریعے نئے فوجداری قوانین کا نفاذ عدالتی کارروائی کی رفتار، کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے میں معاون ہے، اس طرح ایک زیادہ موثر ، ٹیکنالوجی پر مبنی، بروقت اور شہریوں کے موافق انصاف کی فراہمی کے نظام کی حمایت ہوتی ہے۔
خواتین اور بچوں کے تحفظ کی دفعات
- تعزیرات ہند (بھارتیہ نیاے سنہیتا) ، 2023 کے ایک نئے باب-V میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کو دیگر تمام جرائم پر فوقیت دی گئی ہے۔
- تعزیرات ہند (بھارتیہ نیاےسنہیتا) میں اجتماعی عصمت دری کے نابالغ متاثرین کے لیے عمر کا فرق ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 16 سال اور 12 سال سے کم عمر کی لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے لیے مختلف سزائیں تجویز کی جاتی تھیں۔ اس شق میں ترمیم کی گئی ہے اور اب اٹھارہ سال سے کم عمر کی لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی یکساں سزا عمر قیدیا موت ہے۔
- iii. خواتین کو خاندان کے ایک بالغ رکن کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جو سمن یافتہ شخص کی جانب سے سمن وصول کر سکتی ہیں ۔ ’کچھ بالغ مرد ممبر‘ کی سابقہ اصطلاح کو ’کچھ بالغ ممبر‘ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
- متاثرہ کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے اور عصمت دری کے جرم سے متعلق تحقیقات میں شفافیت کو نافذ کرنے کے لیے ، متاثرہ کا بیان پولیس کے ذریعے آڈیو ویڈیو کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔
- عورتوں کے خلاف بعض جرائم کے لیے، متاثرہ کا بیان ، جہاں تک ممکن ہو ، خاتون مجسٹریٹ کے ذریعے اور اس کی غیر موجودگی میں مرد مجسٹریٹ کے ذریعے ایک عورت کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جانا ہے تاکہ حساسیت اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرین کے لیے ایک معاون ماحول پیدا کیا جا سکے۔
- میڈیکل پریکٹیشنرز کو عصمت دری کی متاثرہ کی میڈیکل رپورٹ 7 دن کے اندر تفتیشی افسر کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- یہ التزام کیاگیا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر یا 60 سال (سابقہ65 سال) سے زیادہ عمر کا کوئی مرد یا عورت یا ذہنی یا جسمانی طور پر معذور شخص یا شدید بیماری میں مبتلا شخص کو اس جگہ کے علاوہ کسی دیگر جگہ پر حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی جہاں ایسا مرد یا عورت رہائش پذیر ہے۔ ایسے معاملات میں جہاں ایسا شخص تھانہ جانے کو تیار ہو، انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
- نئے قوانین میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے متاثرین کو تمام اسپتالوں میں مفت ابتدائی طبی امداد یا طبی علاج فراہم کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ یہ شق ضروری طبی نگہداشت تک فوری رسائی کو یقینی بناتی ہے، جس سے مشکل وقت کے دوران متاثرین کی فلاح و بہبود اور صحت یابی کو ترجیح دی گئی ہے۔
- کسی جرم کا ارتکاب کرنے کے لیے بچے کو ملازمت پر رکھنے ، اجرت پر رکھنے یا اس میں مشغول کرنے کے عمل کو تعزیرات ہند(بھارتیہ نیاے سنہیتا) 2023 کی دفعہ 95 کے تحت قابل سزا جرم قراردیا گیا ہے، جس میں کم از کم سات سال قید کی سزا ہوتی ہے ، جس میں دس سال تک توسیع کی جا سکتی ہے۔ اس شق کا مقصدگینگ یا گروہوں کو جرائم کے ارتکاب کے لیے بچوں کو ملازمت پر رکھنے سے باز رکھنا ہے۔
******
ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا
Urdu No-3663
(ریلیز آئی ڈی: 2237664)
وزیٹر کاؤنٹر : 7