صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم کل اجمیر سے 14 سالہ لڑکیوں کے لیے ملک گیر ایچ پی وی  ٹیکہ کاری مہم کا آغاز کریں گے


بچّے دانی کے منھ کے کینسر کے خاتمے اور 'سوستھ ناری' (صحت مند خاتون) کے وژن کو آگے بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 FEB 2026 6:26PM by PIB Delhi

ملک میں صحت کی احتیاطی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے اور بھارت کی بیٹیوں کے مستقبل کی صحت کے تحفظ کی سمت ایک تاریخی قدم کے طور پر معزز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کل صبح 11:30 بجے راجستھان کے اجمیر سے 14 سالہ لڑکیوں کے لیے ملک گیر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ٹیکہ کاری پروگرام کا آغاز کریں گے۔

یہ ملک گیر آغاز بھارت کے عوامی صحت کے سفر میں ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے اور ’’سوستھ ناری‘‘ کے وژن کو عملی جامہ پہناتا ہے، جس کا مقصد خواتین کی صحت میں تحفظ، پیش بندی اور مساوات کو مرکزی حیثیت دینا ہے۔

یہ پروگرام ہر سال ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزکے زیرِ انتظام علاقوں میں تقریباً 1.15 کروڑ 14 سالہ لڑکیوں کو ہدف بنائے گا۔ یہ ویکسین نامزد سرکاری صحت مراکز پر مفت فراہم کی جائے گی۔  آیوشمان آروگیہ مندروں (پرائمری ہیلتھ سینٹرز)، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز، سب ڈسٹرکٹ اور ڈسٹرکٹ اسپتالوں کے ساتھ ساتھ سرکاری میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں یہ ٹیکہ لگایا جائے گا۔

ہر سیشن کی نگرانی تربیت یافتہ میڈیکل افسران کریں گے اور ماہر صحت ٹیمیں معاونت فراہم کریں گی۔ تمام مقامات پر فعال کولڈ چین پوائنٹس موجود ہوں گے اور انہیں 24 گھنٹے فعال سرکاری صحت مراکز سے منسلک رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی مضر اثر (اے ای ایف آئی) کی صورت میں فوری طبی امداد اور انتظام ممکن ہو سکے۔

ویکسینیشن رضاکارانہ ہوگی اور ٹیکہ لگانے سے قبل والدین یا سرپرستوں کی باخبر رضامندی حاصل کی جائے گی۔

خصوصی مہم مشن موڈ میں تین ماہ تک جاری رہے گی، جس دوران اہل لڑکیاں روزانہ نامزد مراکز پر ویکسین حاصل کر سکیں گی۔ اس کے بعد یہ ویکسین معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے دنوں میں دستیاب رہے گی۔

پس منظر:

گلوبوکان 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سروائیکل یعنی بچّے دانی کے منھ کا کینسر خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر ہے، جہاں ہر سال 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آتے ہیں اور تقریباً 80 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق تقریباً تمام معاملات ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کی خطرناک اقسام، خصوصاً 16 اور 18، کے مستقل انفیکشن سے ہوتے ہیں، جو بھارت میں 80 فیصد سے زائد معاملات کے ذمہ دار ہیں۔

اگرچہ ٹیکہ کاری اور ابتدائی جانچ کے ذریعے اس بیماری سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے، پھر بھی یہ بیماری خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔ ملک گیر ایچ پی وی ٹیکہ کاری پروگرام اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے متعارف کیا گیا ہے تاکہ کینسر میں تبدیل ہونے سے قبل وائرس کے انفیکشن کو روکا جا سکے۔

بھارت کے قومی پروگرام میں گارڈاسل ویکسین استعمال کی جائے گی، جو ایک کواڈری ویلنٹ ایچ پی وی ویکسین ہے اور اقسام 16 اور 18 (جو سروائیکل کینسر کا سبب بنتی ہیں) کے ساتھ ساتھ اقسام 6 اور 11 سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ایچ پی وی ٹیکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ مطالعہ کیے جانے والے ٹیکوں میں شامل ہیں اور 2006 سے اب تک عالمی سطح پر 50 کروڑ سے زائد ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق یہ ٹیکہ متعلقہ اقسام سے ہونے والے سروائیکل کینسر کی روک تھام میں 93 سے 100 فیصد تک مؤثر ہے۔

جون 2022 میں عالمی ادارۂ صحت کےماہرین کے اسٹریٹجک مشاورتی گروپ (سیج) نے قرار دیا کہ ایک خوراک کا شیڈول دو خوراکوں کے برابر تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دسمبر 2022 کے عالمی ادارۂ صحت کے پوزیشن پیپر میں بھی 9 سے 20 سال کی لڑکیوں کے لیے ایک خوراکی شیڈول کی توثیق کی گئی۔

بھارت کا طریقہ کار ان عالمی سفارشات اور قومی تکنیکی مشاورتی گروپ برائے حفاظتی ٹیکہ جات (این ٹی اے جی آئی) کی رہنمائی کے مطابق ہے۔

اس آغاز کے ساتھ بھارت ان 160 سے زائد ممالک میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول میں شامل کیا ہے۔ 90 سے زائد ممالک ایک خوراکی شیڈول نافذ کر رہے ہیں، جس سے کوریج، استطاعت اور پروگرام کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

متعدد ممالک میں وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کے بعد ایچ پی وی انفیکشن، قبل از کینسر زخموں اور سروائیکل کینسر کی شرح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

مسلسل فراہمی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے گیوی، دی ویکسین الائنس کے اشتراک سے شفاف اور عالمی سطح پر معاونت یافتہ خریداری نظام کے ذریعے ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ استعمال ہونے والی ویکسین بھارت کے ادویاتی نگران ادارے سے منظور شدہ ہے اور سخت معیار و کولڈ چین ضوابط پر پوری اترتی ہے۔

ریاستوں اور مرکزکے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدف شدہ آبادی کے مطابق ویکسین کی مناسب مقدار فراہم کی جا چکی ہے اور انہیں بلا رکاوٹ نفاذ اور آخری مرحلے تک ترسیل کے لیے تربیت بھی دی گئی ہے۔

اجمیر میں افتتاحی تقریب کے دوران تمام ریاستیں اور مرکزکے زیرِ انتظام علاقے اپنی اپنی این آئی سی یونٹس کے ذریعے ورچوئل طور پر شامل ہوں گے۔ معزز وزرائے اعلیٰ، منتظمین، ریاستی وزرائے صحت اور سینئر صحت حکام اپنے اپنے ہیڈکوارٹرز سے شرکت کریں گے۔ قومی افتتاح کے بعد ریاستیں اور یوٹیز اسی روز اپنے اپنے آغاز کی تقاریب منعقد کریں گی۔

ملک گیر ایچ پی وی ٹیکہ کاری پروگرام اس طرز حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے جہاں سائنسی شواہد، پالیسی عزم اور عملی تیاری مل کر عوامی صحت پر قابلِ پیمائش اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مرکزی وزارتِ صحت والدین اور سرپرستوں سے اپیل کرتی ہے کہ پروگرام کے آغاز کے بعد اپنی 14 سالہ بیٹیوں کو ایچ پی وی ٹیکہ ضرور لگوائیں۔

ایچ پی وی ٹیکہ کاری ایک مؤثر احتیاطی قدم ہے جو جانیں بچا سکتا ہے۔ ویکسینیشن کا انتخاب کر کے خاندان اپنی بیٹیوں کے لیے صحت مند اور کینسر سے پاک مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

************

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U : 3167   )


(ریلیز آئی ڈی: 2233683) وزیٹر کاؤنٹر : 20