تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی جناب امیت شاہ نے آج گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے امداد باہمی کے وزرا ساتھ ایک ’منتھن میٹنگ‘کی


مودی حکومت ملک کے  امداد باہمی کے شعبہ کو سائنسی انداز میں آگے بڑھا رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں

’منتھن  میٹنگ‘ کا مقصد 2047 تک ہندوستان کو مکمل طور پر ترقی یافتہ  ملک بنانے میں  امداد باہمی کے اداروں کے کردار کو مزید مضبوط کرنا ہے

صرف معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر کسی ملک کو مکمل طور پر ترقی یافتہ قرار نہیں دیا جاسکتا؛ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کا مطلب ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں 140 کروڑ (1.4 ارب) افراد باوقار زندگی گزار سکیں

ریاستوں کو اناج کے ذخیرے ، گردش اور ’امداد باہمی کے اداروں  کے درمیان تعاون‘ پر توجہ دینی چاہیے

پیداوار کے مقابلے میں ملک میں اناج کے ذخیرے کی گنجائش آئندہ دنوں میں تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے، جس میں سے دو گنا توسیع امداد باہمی کے شعبے کے ذریعے کی جانی چاہیے

ملک بھر میں سب کے لیے قابل رسائی ذخیرہ کے نظام کوصرف کو امداد باہمی کا شعبہ ہی قائم کر سکتا ہے

تمام ریاستیں بند پڑی چینی ملوں کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کریں

’امداد باہمی کے اداروں کےمابین تعاون‘ (سہکاریتا میں سہکار) کی اپیل کے تحت

امداد باہمی کے تمام اداروں کے بینک اکاؤنٹس ضلعی آپریٹو بینکوں میں ہی ہونا چاہیے

مرکزی حکومت کی تمام اسکیموں کے نفاذ میں کوآپریٹو بینکوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے

بھارت ٹیکسی خدمات بہت جلد ہر میونسپل کارپوریشن شہر میں دستیاب ہوگی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 FEB 2026 11:48PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امیت شاہ نے آج  گجرات کے گاندھی نگر میں ’سہکار سے سمردھی‘ کے موضوع کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کےامداد باہمی کے وزراء کے ساتھ ایک ’منتھن ‘میٹنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایتھنول، توانائی، نامیاتی پوٹاش، گوداموں اور پروٹین پاؤڈر پلانٹس سے متعلق 265 کروڑ روپے کے منصوبوں کاافتتاح کیااور سنگ بنیاد رکھا۔انہوں نے نمائش کا دورہ بھی کیا اور کوامداد باہمی کے شعبے میں بہترین طریقۂ کار اور بین الاقوامی سالِ کوآپریٹوز سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی۔ اس موقع پرامداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کرشن پال گُرجر، جناب مرلی دھر موہول،امداد باہمی کی وزارت کے سکریٹری اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

اپنے خطاب میں جناب امیت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے۔ آئندہ25 برسوں میں عالمی معیشت کی سمت متعین کرنے والے شعبوں میں  ہندوستان آج قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’منتھن میٹنگ‘ اس لیے منعقد کی گئی ہے کیونکہ ہم 2047 تک ہندوستان کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مکمل ترقی یافتہ ہندوستان کا مطلب ایسا نظام قائم کرنا ہے، جس میں 140 کروڑ افراد باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کوامداد باہمی کا شعبہ ہی وہ ذریعہ بن سکتا ہے جس کے ذریعے ملک کے ہر خاندان اور ہر فرد کو باوقار زندگی میسر ہوسکے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ زراعت، دیہی ترقی اور مویشی پروری کے شعبوں کو مضبوط کیے بغیر ملک کی  ہمہ جہت  کے ہدف کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم سب کو اس کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے لگن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں می امداد باہمی کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے سائنسی طریقۂ کار اپنایا گیا ہے اور اب اس کے نتائج نمایاں ہو رہے ہیں۔

امداد باہمی کے مرکزی وزیرنے کوآپریٹو شعبے کی قبولیت بڑھانے کے لیے چند اہم نکات پر زور دیا۔ اناج کے ذخیرے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ذخیرہ کی گنجائش کو تقریباً تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے، جس میں سے دو گنا اضافہ کوامداد باہمی کا شعبہ انجام دے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے اور اسے صرف پی اے سی ایس تک محدود نہ رکھا جائے؛ تحصیل سطح کی کو امداد باہمی کی ڈیریاں، ریاستی سطح کی مارکیٹنگ فیڈریشنیں، ضلعی کوآپریٹو بینک مالی معاونت کے ذریعے اور ضلعی خرید و فروخت یونینیں بڑے گودام تعمیر کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 70 فیصد غذائی اجناس شمالی ہند — پنجاب اور ہریانہ — سے حاصل کیے جاتے ہیں اور اگر خریداری، ذخیرہ اور تقسیم کو علاقائی سطح پر ہم آہنگ کیا جائے تو نقل و حمل کے اخراجات میں کم از کم 30 سے 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ ملک بھر میں ذخیرہ  کےنظام کو مربوط اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جانا چاہیے۔

جناب امیت شاہ نے کہا کہ تمام ریاستیں بند پڑی چینی ملوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر ایک امداد باہمی کا ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ مالی طور پر کمزور چینی ملیں کھاد اور گیس کی پیداوار بھی شروع کر سکتی ہیں اور کامیاب تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ چینی ملوں سے گیارہ تک مختلف مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں وہ اس کا عملی خاکہ حتمی شکل دیں گے اور جو ملیں فی الحال صرف چینی تیار کر رہی ہیں، ان میں دیگر ضروری اجزاء شامل کرنے میں قومی سطح کا  امداد باہمی کا ادارہ سہولت فراہم کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ریاستوں کو بھی لچکدار پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہر ریاست اپنے محکمۂ ڈیری اور محکمۂ امداد باہمی کی ٹیموں کو بناس ڈیری کے دورے پر بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ بناس ڈیری نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں، جن سے تمام ریاستیں نمایاں طور پر سبق حاصل کر سکتی ہیں۔

سہکاریتا میں سہکار‘ (امداد باہمی کے اداروں کے مابین تعاون) پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امداد باہمی کے تمام ادارے اپنے بینک اکاؤنٹس ضلعی کوآپریٹو بینکوں میں رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ کوآپریٹو بینکوں کو حکومت ہند کی تمام اسکیموں کے لیے نوڈل ایجنسی بنایا جا سکتا ہے۔ ریاستی حکومتوں کو یقینی بنانا چاہیے کہ پی ایم کسان اور بزرگوں کی پنشن جیسی اسکیموں کی رقوم انہی بینکوں کے ذریعے منتقل کی جائیں۔

جناب امیت شاہ نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں دہاڑی مزدوں، بڑھئیوں، پلمبروں اور الیکٹریشنز کے لیے بھی امداد باہمی کے ادارے قائم کیے جائیں گے تاکہ استحصال کے شکار ان طبقات کو منصفانہ اور باوقار معاوضہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ملک کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی امداد باہمی کے اداروں سے وابستہ ہوگی۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت ٹیکسی آئندہ برسوں میں ہر میونسپل کارپوریشن میں دستیاب ہوگی۔ پہلے ہی تین لاکھ سے زائد ڈرائیور اس سے جڑ ہو چکے ہیں اور اس سے ڈرائیوروں اور مسافروں دونوں کو فائدہ ہوگا۔

منتھن میٹنگ میں مختلف  پیشکش کے ذریعے  امدادباہمی کے شعبے سے متعلق اقدامات کی پیش رفت، کامیابیاں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ دیہی معیشت کو تیز رفتار بنانے کے لیے دو لاکھ نئی کثیر المقاصد پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز(پی اے سی ایس)، ڈیری اور ماہی گیری کی امداد باہمی کی سوسائٹیز کے قیام کی پیش رفت پر تبادلۂ خیال ہوا۔ کسانوں کے لیے ذخیرہ کے بہتر انتظام، قیمتوں میں استحکام اور منڈی تک بہتر رسائی یقینی بنانے کے مقصد سے دنیا کی سب سے بڑی اناج ذخیرہ اسکیم کے تحت جدید گوداموں کے ملک گیر نیٹ ورک کی توسیع پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں نئی قائم شدہ قومی امداد باہمی کے اداروں — نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ(این سی ای ایل)، نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ(این سی او ایل) اور بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ(بی بی ایس ایس ایل) میں ریاستوں کی فعال شرکت پر زور دیا گیا، تاکہ امداد باہمی کے شعبے کے ذریعے برآمدات، نامیاتی کاشتکاری اور معیاری بیجوں کی فراہمی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ریاستی امداد باہمی کے  قوانین میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات، 97ویں آئینی ترمیم کے مطابق ماڈل ایکٹ کو اپنانے، کوآپریٹو شوگر ملوں کی معاشی پائیداری اور منافع بخشی بہتر بنانے، ڈیری شعبے میں گردش اور پائیداری کو فروغ دینے اور امول و این ڈی ڈی بی کے تعاون سے نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام پر بھی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دالوں اور مکئی کی پیداوار کو فروغ دینے، کوآپریٹو بینکوں سے متعلق چیلنجز کے حل، خدمات سے متعلق مشترکہ یونٹس(ایس ایس ای) اور جامع ڈھانچے کو مضبوط بنانے، رکنیت کے دائرہ کار اور آگاہی مہمات کو فعال بنانے اور مؤثر میڈیا و رابطہ کاری حکمت عملی تیار کرنے جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی پیشکشیں اور مباحثے کیے گئے۔ اس کے علاوہ پی اے سی ایز اور آر سی ایس دفاتر کے کمپیوٹرائزیشن، امداد باہمی سے متعلق قومی اعدادوشمار کے استعمال، انسانی وسائل کی ترقی اور تربیت اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( این سی ڈی سی) کی اسکیمات کے بہتر نفاذ کے حوالے سے ریاستوں سے توقعات  اور تبادلہ خیال کیاگیا ہے۔

***

 

ش ح ۔ م ع ن ۔ م ذ

U. No.3142


(ریلیز آئی ڈی: 2233538) وزیٹر کاؤنٹر : 5