کامرس اور صنعت کی وزارتہ
پی ایم گتی شکتی کے تحت نیٹ ورک پلاننگ گروپ کے 109ویں اجلاس میں اہم بنیادی ڈھانچے سے متعلق پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا
این پی جی نے ریلوے کی وزارت ، ہاؤسنگ و شہری امور اور شہری ہوا بازی کی وزارت کے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 FEB 2026 11:32AM by PIB Delhi
نیٹ ورک پلاننگ گروپ کا 109واں اجلاس محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت میں منعقد کیاگیا۔ یہ اجلاس بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے مطابق ملٹی ماڈل رابطہ کاری اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
این پی جی نے پی ایم گتی شکتی کے اصولوں یعنی مربوط ملٹی ماڈل بنیادی ڈھانچے، معاشی و سماجی مراکز تک آخری میل رابطہ اور مکمل حکومتی نقطہ نظر کے مطابق دو ریلوے پروجیکٹوں، ایک میٹرو پروجیکٹ اور ایک ہوائی اڈہ پروجیکٹ کا جائزہ لیا۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے لاجسٹکس کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، سفر کے وقت میں کمی واقع ہوگی اور پروجیکٹوں کے طاس کے علاقوں میں نمایاں سماجی و معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
ان پروجیکٹوں کے جائزے اور متوقع اثرات کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پروجیکٹوں کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
جالندھر کینٹ–جموں توی اسٹیشن (پنجاب، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر) کے درمیان مجوزہ تیسری لائن: وزارت ریلوے نے جالندھر کینٹ اور جموں توی کے درمیان تیسری ریلوے لائن کی تعمیر کی تجویز پیش کی ہے، جس کی مجموعی لمبائی 210.750 کلومیٹر ہوگی اور یہ پنجاب، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر سے ہوکرگزرے گی۔ مجوزہ روٹ میں 27 اسٹیشن شامل ہوں گے اور یہ جالندھر، ہوشیار پور، کانگڑا، پٹھان کوٹ، کٹھوعہ اور سامبا جیسے اہم اضلاع سے گزرے گی۔ اس پروجیکٹ کا مقصد ریلوے کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کرنا اور نہایت اہمیت کے حامل اس کوریڈور میں رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ مجوزہ ریلوے لائن اسٹریٹجک، معاشی اور سماجی اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ سرحدی علاقوں تک دفاعی اہلکاروں، ساز و سامان اور رسد کی تیز اور قابلِ اعتماد نقل و حرکت کو یقینی بنا کر قومی سلامتی کے لیے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ ثابت ہوگی۔ معاشی نقطۂ نظر سے یہ پروجیکٹ زرعی پیداوار، تعمیراتی سامان اور ضروری اشیاء کی بہتر ترسیل کے ذریعے تجارت و کاروبار کو فروغ دے گا۔
منیک پور اور اٹارسی (جبل پور، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش) کے درمیان مجوزہ تیسری لائن: ریلوے کی وزارت نے منیک پور اور اٹارسی کے درمیان تیسری ریلوے لائن کی تعمیر کی تجویز پیش کی ہے، جس کی مجموعی لمبائی 518.532 کلومیٹر ہوگی اور یہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے ہوکرگزرے گی۔ مجوزہ روٹ چتر کوٹ، ستنا، مائہر، کٹنی، جبل پور، نرسنگھ پور اور نرمداپورم جیسے اہم اضلاع سے گزرے گا، جس سے شمالی اور وسطی ہندوستان کو جوڑنے والے اہم کوریڈور میں ریلوے رابطہ مضبوط ہوگا۔ یہ سیکشن علاقائی ریلوے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہے اور زیادہ مسافروں اور مال برداری کے نقل وحمل کی ضروریات میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
مجوزہ تیسری لائن سے ریلوے کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، نیٹ ورک کی مضبوطی بہتر ہوگی، اور بڑھتی ہوئی ٹریفک کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اضافی ٹرین خدمات متعارف کرائی جا سکیں گی، جس سے بھیڑ بھاڑ کم ہوگی۔ موجودہ ریلوے بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی صنعتی مراکز، مال برداری کے ہالز اور مشہور سیاحتی مقامات کو خدمات فراہم کرتا ہے، لیکن مستقبل کے نقل وحمل اور عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گنجائش میں اضافہ ناگزیر ہے۔ یہ منصوبہ ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور قابل اعتماد بنائے گا، علاقائی معیشت کی ترقی میں معاون ہوگا اور اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل کوریڈور کی مجموعی نقل و حمل کی کارکردگی کو مضبوطی فراہم کرے گا۔
سلچر (آسام) ڈولو کے مقام پر گرین فیلڈ ایئرپورٹ کی ترقی: شہری ہوا بازی کی وزارت نے آسام کے سلچر میں ڈولو پر ایک گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے فروغ کی تجویز پیش کی ہے، جو اسٹریٹجک طور پر نیشنل ہائی وے این ایچ۔27 کے نزدیک واقع ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد خطے میں ہوائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا اور موجودہ سول انکلیو کی گنجائش کی حدود کو دور کرتے ہوئے جدید ہوائی بنیادی ڈھانچے اور بہتر علاقائی و قومی رابطہ فراہم کرنا ہے۔
جب یہ ایئرپورٹ عملی طور پر کام کرنے لگے گا، تو توقع ہے کہ یہ کچھار ضلع اور آس پاس کے علاقوں میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر کام کرے گا۔ بہتر ہوائی رابطہ کاری تجارت، سیاحت اور کاروباری ترقی میں معاون ہوگی، جبکہ سڑکیں، لاجسٹکس، ہاسپی ٹیلٹی اور شہری بنیادی ڈھانچہ جیسے متعلقہ شعبوں میں بھی اس کے اثرات پیدا نمایاں ہوں گے، جس سے خطے کی پائیدار ترقی میں مدد حاصل ہو گی۔
سورت میٹرو کوریڈور II (فیز I) کی توسیع، سرولی سے ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل (ایچ ایس آر) کوریڈور (گجرات): ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت نے سورت میٹرو کوریڈور II (فیز I) کی سرولی سے ممبئی–احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور تک توسیع کی تجویز پیش کی ہے۔ 4.4 کلومیٹر بلند سطحی توسیع میں تین اسٹیشن شامل ہیں، اور مستقبل میں دو اضافی اسٹیشنوں کے لیے بھی جگہ فراہم کی گئی ہے، جس کا مقصد شہری نقل و حمل کو بہتر بنانا اور سورت کو علاقائی اور قومی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
مذکورہ پروجیکٹ ممبئی–احمد آبادایچ ایس آر کوریڈور کے لیے مخصوص فیڈر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو بلا رکاوٹ آخری میل رابطہ کاری فراہم کرے گا۔ اسٹیشن کی مربوط منصوبہ بندی، بشمول براہ راست میٹرو–ایچ ایس آر رابطے، فیڈر بس سہولیات اور غیر موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچہ، مسافروں کی سہولت کو بہتر بنائے گا، مختلف ٹرانسپورٹ کے طریقوں کو مربوط کرے گا، اور اس سےمجموعی نقل و حمل کے نظام کی کارکردگی اور پائیداری کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 3025
(ریلیز آئی ڈی: 2232594)
وزیٹر کاؤنٹر : 20