وزیراعظم کا دفتر
مضبوط رابطوں کے ذریعے پائیداری، معاشی ترقی اور سلامتی کے لیے بھارت–سیشلز مشترکہ وژن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2026 3:28PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دعوت پر، جمہوریہ سیشلز کے صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمائنی 5 فروری سے 10 فروری ، 2026 ء تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔
صدر ہرمائنی کا یہ سرکاری دورہ، ان کی حلف برداری کے تقریباً 100 دن بعد ہو رہا ہے، جو بھارت اور سیشلز کے درمیان دیرینہ اور کثیرجہتی دوطرفہ شراکت داری کو مضبوط، وسیع اور گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے اس دورے کو ، اس اعتبار سے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ یہ سیشلز کی آزادی کے 50 ویں سال اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے 50 ویں سال پورا ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔
9 فروری ، 2026 ء کو ہونے والی میٹنگ کے دوران، وزیرِ اعظم مودی اور صدر ہرمائنی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر جامع اور نتیجہ خیز تبادلۂ خیال کیا گیا ۔ وزیرِ اعظم مودی نے اکتوبر ، 2025 ء میں منعقدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر صدر ہرمائنی کو مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے ، اس بات کی توثیق کی کہ بھارت اور سیشلز، قریبی بحری ہمسایہ ملکوں کی حیثیت سے، تاریخ اور خوشگوار تعلقات کے مضبوط روابط پر مبنی ایک خصوصی اور آزمودہ شراکت داری سے وابستہ ہیں، جسے جمہوریت اور تکثیریت جیسی مشترکہ اقدار نے فروغ دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات کو تسلیم کیا کہ سیشلز–بھارت تعلقات عوام پر مرکوز ہیں اور بحرِ ہند کے مغربی خطے میں سلامتی اور استحکام کو تقویت دیتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ، بھارت کے مہا ساگر وژن ( پورے خطے میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور ہمہ جہت ترقی ) میں سیشلز کے کردار کو ایک اہم ستون کے طور پر بھی دوہرایا۔
بھارت اور سیشلز کو جوڑنے والے تاریخی اور مضبوط عوامی روابط کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے قومی ترقیاتی ترجیحات پر قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کی سلامتی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کو فروغ دیا جا سکے۔
صدر ہرمائنی نے سیشلز اور خطے کے لیے بھارت کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے کردار کو اجاگر کیا اور سیشلز کے ترقی کے ایجنڈے کے حصول میں بھارت کی طویل مدتی مدد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
دونوں ممالک کی انفرادی صلاحیتوں کو اجاگر اور باہمی تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے مضبوط روابط کے ذریعے پائیداری، معاشی ترقی اور سلامتی کے لیے مشترکہ وژن ( ایس ای ایس ای ایل ) کا اعلان کیا۔
سیاسی تبادلے
دونوں رہنماؤں نے ، سیشلز اور بھارت کے درمیان باقاعدہ اعلیٰ سطحی سیاسی میٹنگوں ، دوروں اور مشاورت کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں فریقوں نے قیادت نیز وزارتی اور اعلیٰ سرکاری افسران کی سطح پر سیاسی اور سماجی و معاشی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون کو مزید وسعت دینے اور پارلیمانی تبادلوں میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس میں پارلیمانی کار روائیوں اور صلاحیت سازی سے متعلق عمل در آمد کے بہترین طریقوں کا تبادلہ شامل ہے۔
ترقیاتی شراکت داری
صدر ہرمائنی نے لائن آف کریڈٹ، گرانٹس، صلاحیت سازی اور اعلیٰ اثر رکھنے والے کمیونٹی ترقیاتی پروجیکٹس ( ایچ آئی سی ڈی پی ) کے ذریعے سیشلز کی ترقی اور سلامتی کی ضروریات اور امنگوں کے لیے بھارت کی مستقل حمایت کا اعتراف کیا۔ وزیرِ اعظم مودی نے ، سیشلز کے قومی ترقیاتی ایجنڈے میں ایک مرکزی اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ، بھارت کے کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں بالخصوص پائیداری، دفاع اور سمندری سلامتی، صلاحیت سازی، استحکام اور جامع ترقی پر توجہ مرکوز رہے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان عوام پر مرکوز ترقیاتی شراکت داری کو وسعت دینے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، بھارت نے 175 ملین امریکی ڈالر کے ’ خصوصی اقتصادی پیکج ‘ کا اعلان کیا۔ اس پیکج میں 125 ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے لائن آف کریڈٹ روپے میں اور 50 ملین امریکی ڈالر کی مالی امداد شامل ہوگی، جو ترقیاتی تعاون کے پروجیکٹوں ، شہری اور دفاعی اہلکاروں کی صلاحیت سازی، سمندری سلامتی اور دیگر شعبوں کے لیے فراہم کی جائے گی۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ بھارت کی تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن ، عالمی خطہ جنوب کے لیے ایک مثبت قوت ہے، دونوں رہنماؤں نے ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبے میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا۔ سیشلز میں شہریوں کے فائدے کے لیے حکمرانی کو ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، بھارت نے سیشلز کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ ( ڈی پی آئی ) ، بشمول ڈیجیٹل ادائیگیوں کے قیام کے لیے جامع کوششیں کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
صحت اور ضروری اشیائے صرف کے شعبوں میں تعاون
صدر ہرمائنی نے ، وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 10 ایمبولینس (بیسک لائف سپورٹ اور ایڈوانس لائف سپورٹ) کے عطیے پر شکریہ ادا کیا۔ جدید ترین آلات سے لیس یہ ایمبولینس ، سیشلز میں صحت کی ہنگامی خدمات کو مضبوط بنائیں گی۔ یہ اقدام بھارت–سیشلز شراکت داری کے عوام پر مرکوز نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سیشلز کی جانب سے انڈین فارماکوپیا ( آئی پی ) کو تسلیم کرنے سے معیاری ضروری ادویات کی خریداری کا عمل آسان ہوگا اور بھارت کی جن اوشدھی پہل کے تحت تعاون کے ذریعے سستی ادویات تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
دونوں رہنماؤں نے مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا:
- ادارہ جاتی روابط کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں تربیتی پروگراموں اور تبادلے کے دوروں پر عمل درآمد۔
- سیشلز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ، بھارت سے طبی ماہرین، نرسوں، نیم طبی عملے اور تکنیکی عملے کی بھرتی اور تعیناتی میں تعاون۔
- تبادلے کے دوروں اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے صحتِ عامہ کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا۔
- سیشلز میں نئے اسپتال کی تعمیر میں تعاون کے لیے مل کر کام کرنا۔
سیشلز حکومت کے لیے مہنگائی اور بلند معیارِ زندگی کی لاگت کو ایک بڑا چیلنج تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا:
- سیشلز کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کے طویل مدتی استحکام کے لیے تعاون، جس میں ادویات اور طبی آلات تک سستی اور قابلِ اعتماد رسائی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
- بھارت سے معیاری اور کم لاگت والی خوراک اور ضروری اشیائے صرف کی خریداری کے لیے ایک باضابطہ نظام قائم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا۔
- صدر ہرمائنی نے ، وزیرِ اعظم مودی کا 1000 میٹرک ٹن اناج کے عطیے پر شکریہ ادا کیا۔ خوراک کا یہ عطیہ سیشلز میں خوارک کی یقینی فراہمی کو مضبوط کرے گا اور عوام کے لیے خوراک کی قیمتوں میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
صلاحیت سازی، انسانی وسائل کی ترقی اور ادارہ جاتی روابط
صدر ہرمائنی نے ، سیشلز کی ادارہ جاتی اور انتظامی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ، بھارت کی مسلسل حمایت پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے ، صلاحیت سازی میں مضبوط تعاون کو اجاگر کیا، جس میں بھارتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون ( آئی ٹی ای سی ) پروگرام، سول سرونٹس، دفاعی عملے اور صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ، سیشلز کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق پولیسنگ، مالیات، زراعت، آ ب و ہوا کی تبدیلی ، سمندری سلامتی اور دیگر شعبوں میں مزید تربیتی پروگراموں اور ادارہ جاتی روابط کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں، رہنماؤں نے ہنر مندی میں اضافے کے اقدامات کو وسعت دینے، تعلیمی اداروں کے درمیان روابط اور ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز کے ساتھ عمل در آمد بڑھانے پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے مندرجہ ذیل امور پر اتفاق کیا:
- نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس ( این سی جی جی ) کے ذریعے بھارت میں ، سیشلز کے سول سرونٹس کے لیے حسبِ ضرورت تربیتی پروگرام پر عمل درآمد۔
- سائبر سکیورٹی اور مالیاتی خفیہ معلومات کے شعبوں میں صلاحیت سازی، تعاون اور تبادلوں کو مضبوط بنانا۔
- بھارت سے ماہرین کی سیشلز میں تعیناتی میں سہولت فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، قابلِ تجدید توانائی، قانون، آڈٹ، سمندری سلامتی، مالیات، زمین اور بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، ٹیکس انتظامیہ، خواتین کو بااختیار بنانے، ماہی گیری اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں صلاحیت سازی۔
- سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ذریعے میرین سائنسز اور تحفظ کے شعبے میں ۔ بھارت اور سیشلز کے درمیان صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینا۔
- چھوٹی ، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں ( ایس ایم ایز ) کے فروغ کے لیے تعاون اور شراکت داری۔
- سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ آف فارن سروس کے تعاون سے سیشلز کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگراموں کی تیاری۔
قابلِ تجدید توانائی، آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق اقدامات اور پائیداری
دونوں فریقوں نے قابلِ تجدید توانائی اور آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پائیداری کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں ماحولیات کے لیے ساز گار توانائی کے جدید حل بھی شامل ہیں۔ صدر ہرمائنی نے ، سیشلز کو قابلِ تجدید توانائی کے اہداف حاصل کرنے میں ، بھارت کی مستقل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی شمسی اتحاد کے تحت، حکومتِ ہند کی تعاون سے نافذ کیے گئے شمسی توانائی کے منصوبوں نے ، سیشلز میں بالخصوص زراعت اور صحت کے شعبوں میں ٹھوس اور مقامی سطح کے فوائد فراہم کیے ہیں ۔
آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور تیاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، دونوں رہنماؤں نے سیشلز میں ملٹی ہیزرڈ ابتدائی انتباہی نظام کے نفاذ کی حمایت پر اتفاق کیا۔
بھارت نے سیشلز کے پاور گرڈ کے انتظام میں تکنیکی مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ ملک کو ماحول کے لیے ساز گار سرکاری ٹرانسپورٹ نظام کی طرف منتقلی میں مدد مل سکے۔ دونوں فریقوں نے توانائی کے تحفظ، پائیداری، قابلِ تجدید توانائی اور گرین موبیلیٹی کے شعبوں میں تعاون اور منصوبوں کے نئے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ سیشلز کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات کو تسلیم کیا کہ جزیرہ نما ترقی پذیر چھوٹے ممالک ( ایس آئی ڈی ایس ) ، جیسے سیشلز کے لیے مالی وسائل تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ صدر ہرمائنی نے امید ظاہر کی کہ سیشلز عالمی پلیٹ فارمز پر ، بھارت کی مضبوط اور تعمیری آواز پر اعتماد جاری رکھ سکے گا تاکہ کثیر جہتی کمزوری کے تصور، بشمول ملٹی ڈائمینشنل ولنریبیلٹی انڈیکس ( ایم وی آئی ) کو ایک تکمیلی اور اہم تجزیاتی آلے کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ اس ضمن میں انصاف، مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریاں اور متعلقہ صلاحیتیں ( سی بی ڈی آر – آر سی ) اور قومی سطح پر طے شدہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط پر زور دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سیشلز، قدرتی آفات کو برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کے اتحاد ( سی ڈی آر آئی) میں شمولیت اختیار کرے گا۔
تجارت، سرمایہ کاری، روابط اور سیاحت
صدر ہرمائنی نے ، اس بات پر زور دیا کہ بھارتی کمپنیاں اور کاروباری ادارے ، سیشلز کو ایک اہم سرمایہ کاری مرکز کے طور پر دیکھیں اور سستے رہائشی منصوبوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی ، مالیاتی خدمات، سمندری معیشت ، سیاحت اور ماہی گیری کے شعبوں میں سیشلز کی جانب سے فراہم کردہ تجارتی اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات کو تسلیم کیا کہ براہِ راست پروازوں میں اضافے سے سیشلز کا سفر کرنے والے بھارتی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ، اس امر پر زور دیا کہ بھارت سے آنے والے سیاحوں میں اضافے نے سیشلز کے سیاحتی شعبے کو مزید پائیدار بنایا ہے ۔ مزید برآں، دونوں فریقوں نے ، دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط کو مزید بڑھانے کے امکانات پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، سیشلز اور بھارت کی مشترکہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مقصد کے لیے دوطرفہ تجارت کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہائیڈروگرافی میں تعاون
دونوں رہنماؤں نے ، ہائیڈروگرافی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ مشترکہ ہائیڈروگرافک سروے کے انعقاد کے ذریعے سیشلز کی سمندری معیشت کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔ اس ضمن میں، سیشلز ، بھارت کے تعاون سے سیشلز ہائیڈروگرافک یونٹ ( ایس ایچ یو ) قائم کرے گا۔ اس شعبے میں دوطرفہ تعاون کو سمت اور رفتار دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہائیڈروگرافی پر مشترکہ کمیشن کا تیسرا اجلاس ( تھرڈ جے سی ایم) 2026 ء کے اوائل میں سیشلز میں منعقد کیا جائے گا۔
دفاعی تعاون اور سمندری سلامتی
وزیرِ اعظم مودی اور صدر ہرمائنی نے ، اس امر پر زور دیا کہ سمندری سلامتی اور دفاع ، دوطرفہ شراکت داری کا ایک اہم اور آزمودہ ستون ہیں۔ وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ سیشلز، بھارت کے مہا ساگر وژن ( پورے خطے میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور ہمہ جہت ترقی) میں ایک اہم بحری شراکت دار ہے اور سیشلز کی سمندری سلامتی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ، بھارت کی مسلسل حمایت اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، اس بات کو تسلیم کیا کہ سمندری سلامتی اور دفاع کے شعبے میں سیشلز اور بھارت کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری ، علاقائی امن و استحکام کو مضبوط کرتی ہے اور سیشلز اور بھارت کے عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کو آگے بڑھاتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ، ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیشلز اور بھارت آزاد، کھلے، محفوظ اور سلامتی سے بھرپور بحرِ ہند کے خطے کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی پاسداری ، جہاز رانی کی آزادی اور قوانین پر مبنی بحری نظام پر قائم ہو۔ دونوں رہنماؤں نے بحری قزاقی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی، غیر منظم اور غیر رپورٹ شدہ ماہی گیری اور سرحد پار دیگر جرائم، بشمول منظم جرائم اور دہشت گردی کی مالی مدد سے جڑے جرائم سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کے عزم کو دوہرایا۔ انہوں نے سمندری شعبے سے متعلق آگاہی میں اضافے، معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور کام کاج کے مربوط انتظام کے ذریعے ، بحرِ ہند خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
صدر ہرمائنی نے سمندر کی مشترکہ نگرانی، ہائیڈروگرافک سروے ، دوطرفہ مشقوں، معلومات کے تبادلے اور سیشلز کی دفاعی افواج ( ایس ڈی ایف ) کی صلاحیت سازی کے لیے ، بھارت کی مستقل حمایت پر ، وزیرِ اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ، حسبِ ضرورت تربیت، بحری اور فضائی اثاثوں اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی فراہمی کے ذریعے سمندری سلامتی اور دفاع کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، ادارہ جاتی روابط کو بلند سطح تک لے جانے کے عمل کا آغاز کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ زیادہ مؤثریت، بہتر تال میل اور اعلیٰ سطح کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
صدر ہرمائنی نے ، سیشلز کے یومِ آزادی کی تقریبات میں ، بھارتی مسلح افواج کے دستوں کی شرکت پر ، بھارت کی ستائش کی۔ دونوں فریقوں نے 50ویں قومی دن کی تقریبات کے لیے بھی ، اس روایت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
صدر ہرمائنی نے ، مالی امداد کے تحت پی ایس زوروسٹر کی مرمت اور بحالی کی خاطر بھارت کی مسلسل حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حالیہ 10 یوٹیلیٹی گاڑیوں اور لیزر ریڈیئل کشتیوں کے 5 سیٹس کے عطیے کی بھی ستائش کی ، جس سے سیشلز دفاعی افواج کی لاجسٹکس کی ضروریات پوری ہوں گی ۔
علاقائی اور کثیر جہتی تعاون
بحرِ ہند کے خطے میں ، سمندری سلامتی کو فروغ دینے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں علاقائی میکانزم کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر خیالات کے تبادلے کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم مودی نے ، کولمبو سکیورٹی کانکلیو ( سی ایس سی ) کا مکمل رکن بننے کے سیشلز کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی اداروں میں ، بھارت کی مختلف امیدواری کی حمایت پر صدر ہرمائنی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ صدر ہرمائنی نے اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں ، بھارت کی مستقل رکنیت کے لیے سیشلز کی حمایت کا اعادہ کیا۔
عوامی روابط اور ثقافتی تعلقات
بھارت اور سیشلز کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کو تسلیم کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمائنی نے بھارت نژاد سیشلز کے شہریوں کی جانب سے سیشلز کے معاشی، سماجی اور ثقافتی ڈھانچے میں اہم خدمات کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے ، سیشلز کی معیشت اور بنیادی ڈھانچہ کی ترقی میں بھارتی پیشہ ور افراد کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔ اس موقع پر ، دونوں رہنماؤں نے ثقافت، سیاحت، تعلیم اور نوجوانوں کی شمولیت کے شعبوں میں تعاون کو باضابطہ اور ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ، دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر محیط جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ میٹنگ کے اختتام پر ، اس مشترکہ مفاہمت کا اعادہ کیا گیا کہ سیشلز–بھارت شراکت داری ، بحرِ ہند خطے میں استحکام اور ترقی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ، اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آج کیے گئے فیصلے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے ٹھوس اور دیرپا فوائد فراہم کریں گے۔
صدر ہرمائنی نے ، بھارت کے سرکاری دورے کے دوران پُر تپاک خیر مقدم اور شاندار مہمان نوازی پر ،وزیرِ اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم مودی کو باہمی طور پر موزوں وقت پر سیشلز کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
....................
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 1956
(ریلیز آئی ڈی: 2225499)
وزیٹر کاؤنٹر : 13