ریلوے کی وزارت
پالگھر، مہاراشٹر میں ممبئی–احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے دوسری پہاڑی سرنگ کا کام مکمل
پہاڑی سرنگ (ایم ٹی-6) کی لمبائی 454 میٹر اور چوڑائی 14.4 میٹر ہے
تقریباً ایک ماہ میں پالگھر میں دو پہاڑی سرنگوں کاکام مکمل کیاگیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 FEB 2026 5:34PM by PIB Delhi
ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے ممبئی–احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مہاراشٹر کے پالگھر میں دوسری پہاڑی سرنگ کاکام مکمل کرلیاگیا ہے۔ یہ سرنگ 454 میٹر لمبی اور 14.4 میٹر چوڑی ہے، جس میں ممبئی–احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے اپ اور ڈاؤن دونوں ٹریک شامل ہوں گے۔

یہ بلٹ ٹرین منصوبے کے تحت ایک ماہ کے عرصے میں ضلع پالگھر میں دوسری پہاڑی سرنگ ہے جس کا کام مکمل کیاگیاہے ، جبکہ پہلاکام 2 جنوری 2026 کو سفالے کے قریب ایم ٹی-5 میں مکمل ہواتھا۔
پہاڑی سرنگ (ایم ٹی-6) کی کھدائی دونوں اطراف سے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ(این اے ٹی ایم)کے ذریعے کی گئی، جو ڈرلنگ اور کنٹرولڈ بلاسٹنگ پر مبنی جدید ترین طریقہ ہے۔ یہ کھدائی 12 ماہ کے اندر مکمل کی گئی۔ پہاڑی سرنگ میں پیش رفت اُس اہم انجینئرنگ مرحلے کو کہا جاتا ہے جب سرنگ کے دونوں سروں سے کھدائی کرنے والی ٹیمیں درمیان میں آ کر مل جاتی ہیں اور پہاڑ کے اندر ایک مسلسل راستہ تشکیل پا جاتا ہے۔

مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے ہائی اسپیڈ ریل ٹیم کو شاندار پیش رفت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے ٹیم کام کر رہی ہے اس نے ملک میں نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ تعمیرات اور ٹیکنالوجی میں متعدد نئی اختراعات کے باعث یہ منصوبہ عالمی سطح پر توجہ اور ستائش حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے میں استعمال ہونے والی کئی جدید تعمیراتی ٹیکنالوجیز اور بڑی مشینیں بھارت میں ہی تیار کی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ بلٹ ٹرین منصوبے کے گجرات حصے میں اگلے سال تجارتی خدمات شروع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2028 تک ہائی اسپیڈ ریل آپریشنز تھانے تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ 2029 تک یہ کوریڈور ممبئی تک مکمل ہو جائے گا۔
اس موقع پر پالگھر حلقے سے لوک سبھا کے رکن ڈاکٹر ہیمنت وشنو ساورا بھی موجود تھے۔ انہوں نے پالگھر میں ہائی اسپیڈ سرنگ میں پیش رفت پر مرکزی وزیر اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور، ڈیڈی کیٹڈ فریٹ کوریڈور (ڈی ایف سی) اور مجوزہ ودھون بندرگاہ سمیت کئی بڑے ریلوے منصوبوں کی وجہ سے ضلع میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2014 کے بعد مہاراشٹر میں ریلوے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے منصوبوں کی تکمیل تیز ہوئی اور خدمات بہتر بنی ہیں۔
نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈکو پالگھر جیسے پیچیدہ جغرافیائی حالات اور غیر معمولی سرنگی ساخت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے جہاں ٹنل بورنگ مشینیں زیادہ کارآمد نہیں ہوتیں۔ اس طریقے میں بھاری مشینری کی کم ضرورت ہوتی ہے اور شاٹ کریٹنگ، راک بولٹس اور لیٹس گرڈرز کے ذریعے حقیقی وقت میں ایڈجسٹمنٹ ممکن ہوتی ہے۔
سرنگ کے اندر کارکنوں کی حفاظت کے لیے مختلف جیو ٹیکنیکل آلات، حقیقی وقت کی نگرانی، مؤثر فائر سیفٹی اقدامات، مناسب وینٹیلیشن اور کنٹرولڈ رسائی کے انتظامات کیے گئے۔
مہاراشٹر میں منصوبے پر کئی محاذوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ویتارنا دریا پر منصوبے کا سب سے طویل پل پئیر لیول تک پہنچ چکا ہے جبکہ الہاس اور جگنی جیسے دیگر بڑے دریاؤں پر بنیادوں کا کام جاری ہے۔ چاروں اسٹیشنز، بڑے قومی و ریاستی شاہراہ کراسنگز کے لیے لانگ اسپین اسٹیل پلوں اور باندرہ کرلا کمپلیکس سے شلپھاتا کے درمیان 21 کلومیٹر طویل سرنگ پر بھی کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مہاراشٹر کے ضلع پالگھر میں اس وقت مجموعی طور پر سات پہاڑی سرنگوں پر کام جاری ہے۔
|
Sr. No.
|
Mountain Tunnel no.
|
Length
|
% completion
|
Remarks
|
|
1
|
MT-1
|
0.820
|
16%
|
|
|
2
|
MT-2
|
0.228
|
Preparatory works underway
|
|
3
|
MT-3
|
1.403
|
41%
|
|
|
4
|
MT-4
|
1.260
|
32%
|
|
|
5
|
MT-5
|
1.480
|
57%
|
Breakthrough achieved on 02 Jan 2026
|
|
6
|
MT-6
|
0.454
|
47%
|
Breakthrough achieved today
|
|
7
|
MT-7
|
0.417
|
29%
|
|
ایم اے ایچ ایس آر منصوبہ تقریباً 508 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں 352 کلومیٹر گجرات اور دادرا و نگر حویلی جبکہ 156 کلومیٹر مہاراشٹر میں شامل ہیں۔ اس منصوبے سے کوریڈور کے اطراف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے، علم و ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اضافہ ہونے اور نئے صنعتی و آئی ٹی مراکز کے قیام میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ یہ کوریڈور سابرمتی، احمد آباد، آنند، وڈودرا، بھروچ، سورت، بلیمورا، واپی، بوئسر، ویرار، تھانے اور ممبئی جیسے اہم شہروں کو آپس میں جوڑے گا، جو بھارت کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔
27 جنوری 2026تک تقریباً 334 کلومیٹر ویاڈکٹس، 17 دریائی پل اور قومی شاہراہوں، ریلوے لائنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں پر 12 بڑے کراسنگ مکمل کیے جا چکے ہیں۔ منصوبے کے گجرات حصے میں ٹریک بچھانے اور بجلی کاری کے کام میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
************
ش ح ۔ ف ا ۔ م ص
(U :1528 )
(ریلیز آئی ڈی: 2222817)
وزیٹر کاؤنٹر : 12