وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

عالمی عدم استحکام کے باوجود ہندوستان  کی بیرونی کارکردگی پائیداری کی مظہر ہے : اقتصادی جائزہ 26-2025


سال 2005 سے 2024 کے دوران عالمی تجارتی برآمدات میں بھارت کا حصہ تقریباً دوگنا ہو کر 1 فیصد سے بڑھ کر 1.8 فیصد تک پہنچ گیا ہے

یو این سی ٹی اے ڈی  نے بھارت کو تجارتی شراکت داروں کے تنوع کے لحاظ سے ایک نمایاں معیشت قرار دیا ہے، اور گلوبل ساؤتھ میں تیسرے نمبر پر رکھا ہے

عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مالی سال 2026 میں بھی برآمدات کی رفتار برقرار ہے، جہاں پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی میں اپنی اپنی مدت کے اب تک کے بلند ترین برآمداتی  اعداد و شمار درج کیے گئے ہیں

مالی سال 2025 میں خدمات کی برآمدات 387.6 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ گئیں، جو 13.6 فیصد اضافے کی عکاس ہیں

مالی سال 2025 میں ٹیلی کام آلات کی برآمدات میں سال بہ سال بنیاد پر 51.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 2:04PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 26-2025 پیش کیا۔ اقتصادی سروے کے مطابق بھارت کی بیرونی کارکردگی عالمی جھٹکوں کے مقابلے میں مضبوط لچک کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں ایک تیزی سے ترقی کرتی معیشت کی وہ ساختی خصوصیات نمایاں کی گئی ہیں جو عالمی منڈیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے انضمام کی جانب گامزن ہے۔

بھارت کی تجارتی کارکردگی کے رجحانات

اقتصادی سروے کے مطابق عالمی تجارت میں ایک اہم کردار کے طور پر بھارت کا مسلسل ابھار، عالمی تجارتی برآمدات اور تجارتی خدمات کی برآمدات دونوں میں اس کے بڑھتے ہوئے حصے سے واضح ہوتا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ورلڈ ٹریڈ اسٹیٹسٹکس کے مطابق، 2005 سے 2024 کے دوران عالمی تجارتی برآمدات میں بھارت کا حصہ تقریباً دوگنا ہو کر 1 فیصد سے بڑھ کر 1.8 فیصد ہو گیا ہے؛ اسی طرح، عالمی تجارتی خدمات کی برآمدات میں بھارت کا حصہ دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 2 فیصد سے 4.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

بھارت نے نہ صرف عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھایا ہے بلکہ اپنے تجارتی شراکت داروں اور برآمدی و درآمدی مصنوعات کے دائرۂ کار میں بھی نمایاں تنوع پیدا کیا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی  کی ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2025 کے مطابق، بھارت تجارتی شراکت داروں کے تنوع کے لحاظ سے سرِفہرست معیشتوں میں شامل ہے اور گلوبل ساؤتھ میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ اس کا ٹریڈ ڈائیورسٹی اسکور گلوبل نارتھ کی تمام معیشتوں سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالیاتی اشیائی تجارت کے تنوع کے اشاریے  کے اعتبار سے، بھارت گلوبل ساؤتھ میں چوتھے نمبر پر ہے، جہاں اس سے آگے تھائی لینڈ، چین اور ترکیہ ہیں، اور بھارت کا انڈیکس اسکور 0.88 درج کیا گیا ہے۔

01-17.jpg

بھارت نے نہ صرف عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھایا ہے بلکہ اپنے تجارتی شراکت داروں اور برآمدی و درآمدی مصنوعات کے دائرۂ کار میں بھی نمایاں تنوع پیدا کیا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی  کی ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2025 کے مطابق، بھارت تجارتی شراکت داروں کے تنوع کے لحاظ سے سرِفہرست معیشتوں میں شامل ہے اور گلوبل ساؤتھ میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ اس کا ٹریڈ ڈائیورسٹی اسکور گلوبل نارتھ کی تمام معیشتوں سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالیاتی اشیائی تجارت کے تنوع کے اشاریےکے اعتبار سے، بھارت گلوبل ساؤتھ میں چوتھے نمبر پر ہے، جہاں اس سے آگے تھائی لینڈ، چین اور ترکی ہیں، اور بھارت کا انڈیکس اسکور 0.88 درج کیا گیا ہے۔

مالیاتی اشیائی تجارت

 

مالی سال 2025 میں بھارت کی اشیائی برآمدات مجموعی طور پر 437.7 ارب امریکی ڈالر رہیں، جن میں غیر پٹرولیم برآمدات 374.3 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ گئیں۔ الیکٹرانکس، دواسازی، برقی مشینری اور آٹوموبائلز برآمدی ترقی کے اہم محرکات کے طور پر سامنے آئے، جو اعلیٰ قدر والی مینوفیکچرنگ میں بڑھتی ہوئی مسابقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق، مالی سال 2025 میں ٹیلی کام آلات کی برآمدات میں سال بہ سال بنیاد پر 51.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دواؤں کی تیاریوں اور حیاتیاتی مصنوعات کی برآمدات میں 11.2 فیصد (سال بہ سال) اضافہ ہوا۔ یہ رجحانات الیکٹرانک مینوفیکچرنگ میں بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا ثبوت ہیں اور عالمی دواسازی مرکز کے طور پر اس کے مقام کی مزید توثیق کرتے ہیں۔

زرعی برآمدات مالی سال 2020 میں 34.5 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 51.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے 8.2 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) درج ہوئی۔ آئندہ چار برسوں میں زرعی مصنوعات، سمندری مصنوعات اور خوراک و مشروبات کی مشترکہ برآمدات کے 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق، پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اقدام نے موبائل مینوفیکچرنگ، مخصوص الیکٹرانک اجزا، ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس (اے پی آئی) اور طبی آلات سمیت کئی شعبوں کی نمایاں تجارتی کارکردگی کو ممکن بنایا ہے۔

 مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران ان شعبوں کی برآمدات کی اوسط سالانہ شرحِ نمو (اے اے جی آر ) 10.6 فیصد رہی، جبکہ درآمدات میں 12.6 فیصد درج کی گئی۔ مالی سال 2001 سے 2025 کے درمیان دواسازی کی برآمدات 1.9 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 30.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تقریباً 16 گنا اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت منڈیوں کے تنوع، ضابطہ جاتی ہم آہنگی، اور پیداواری و تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

درآمدات کے محاذ پر، مالی سال 2025 میں اشیائی درآمدات سال بہ سال بنیاد پر 6.3 فیصد بڑھ کر 721.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ غیر پٹرولیم، غیر قیمتی و نیم قیمتی زیورات کی درآمدات میں اضافہ ہے، جو مالی سال 2024 کے 421 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 446.5 ارب امریکی ڈالر ہو گئیں۔ یہ رجحان اہم درمیانی خام مال اور سرمایہ جاتی اشیا کی بڑھتی ہوئی طلب سے منسوب کیا جاتا ہے، جو ملک کے اندر مضبوط اور پائیدار  گھریلو طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

 

02-17.jpg

حالیہ طور پر طے پانے والے بھارت–برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) اور بھارت–عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) سمیت آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کا بڑھتا ہوا نیٹ ورک، نیز امریکہ، چلی اور پیرو کے ساتھ جاری روابط، بھارت کی متنوع تجارتی حکمتِ عملی کی بنیاد کو مضبوط بناتے ہیں اور عالمی ویلیو چینز میں گہرے انضمام کی حمایت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات دسمبر 2025 میں اور یورپی یونین کے ساتھ جنوری 2026 میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے۔

خدمات کے شعبے میں تجارت

مالی سال 2025 میں خدمات کی برآمدات 387.6 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی بلند سطح تک پہنچ گئیں، جو 13.6 فیصد کے اضافے کی عکاسی کرتی ہیں، اور اس طرح ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات کے عالمی مرکز کے طور پر بھارت کے مقام کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ اس ترقی میں گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی) کے عالمی مرکز کے طور پر بھارت کی کامیابی کا بھی اہم کردار ہے، جن کی تعداد میں مالی سال 2020 سے 2025 کے دوران 7 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) ریکارڈ کی گئی۔

اسی دوران، خدمات کی درآمدات میں سال بہ سال بنیاد پر 11.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 198.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ درآمدات میں یہ اضافہ کاروباری اور مالیاتی خدمات کی سرحد پار بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، مالی سال 2025 میں خدماتی تجارت کا سرپلس بڑھ کر 188.8 ارب امریکی ڈالر ہو گیا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

***

ش ح۔ ع و۔ خ م

UR-ES -17


(रिलीज़ आईडी: 2220240) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Punjabi , Kannada , Malayalam