وزارت خزانہ
بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجہ کی صنعتیں(ایم ایس ایم ایز) ہندوستان کی صنعتی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں: اقتصادی سروے 26-2025
ایم ایس ایم ایز مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 35.4 فیصد، برآمدات میں 48.58 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 31.1 فیصدکی حصہ داری ہے
مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران صنعتی قرض کے نمو میں ایم ایس ایم ای کریڈٹ بنیادی محرک رہا
سیلف ریلائنٹ انڈیا فنڈ کے تحت 30 نومبر 2025 تک 682 ایم ایس ایم ایز کو سرمایہ کاری کے ذریعہ 15,442 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کی جا چکی ہے
ہندوستان کے لیے عالمی سپلائی چین میں ایک مربوط شرکت کی مضبوطی روزگار پر مبنی صنعتی ترقی کو فروغ دینے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، جو وکست بھارت@2047 کے وسیع تر ترقیاتی ہدف کے ساتھ ہم آہنگ ہے: اقتصادی سروے 26-2025
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:08PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اقتصادی جائزے 26-2025 کے مطابق بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ایز) ہندوستان کی صنعتی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ایم ایس ایم ایز ملک کی مینوفیکچرنگ کا تقریباً 35.4 فیصدبرآمدات کا تقریباً48.58 فیصد اور جی ڈی پی کا 31.1 فیصد حصہ رکھتی ہیں۔7.47 کروڑ سے زائد اداروں پر مشتمل یہ شعبہ 32.82 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جس کے باعث یہ زراعت کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ ہے۔ عالمی سطح پرایم ایس ایم ایز کل کاروبار کا تقریباً 90 فیصدہیں اور عالمی روزگار کے 50 فیصد سے زائد کے لیے ذمہ دار ہیں۔ جائزے کے مطابق جیسے جیسے ہندوستان کا مینوفیکچرنگ شعبہ عالمی انضمام کی جانب بڑھ رہا ہے ایم ایس ایم ای شعبے کا کردار مؤثر سپلائی چین میں شمولیت، مقامی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور جامع علاقائی ترقی کی حمایت کے لیے نہایت اہم ہے۔
جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ایم ایس ایم ای قرض ایک تسلسل کے ساتھ مثبت رفتار پر قائم ہے، جسے حکومت کی جانب سے قرض کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے متعدد اقدامات سے تقویت ملی ہے۔
جائزے کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران صنعتی قرضے کی نمو میں ایم ایس ایم ای کریڈٹ بنیادی محرک رہا۔ مجموعی طور پر ایم ایس ایم ای قرض کی سال در سال شرح نمو بڑی صنعتوں کو دیے گئے قرضے کی سال در سال نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ایس ایم ای پبلک مارکیٹس میں نمایاں اور تیز رفتار توسیع دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات سازگار مارکیٹ حالات اور ڈیجیٹل ریٹیل سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہیں۔
سیلف ریلائنٹ انڈیا (ایس آر آئی) فنڈ جو ایم ایس ایم ایز کو ایکویٹی فنڈنگ کے طور پر 50,000 کروڑ روپے فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا،30 نومبر 2025 تک 682 ایم ایس ایم ایز کو 15,442 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ذریعے معاونت فراہم کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی،ایم ایس ایم ای-انوویٹوجزو کے ذریعے اختراع کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے، جو انکیوبیشن، ڈیزائن میں مداخلت اور آئی پی آر کے تحفظ میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
سال 2024 میں ہندوستانی کا عالمی مینوفیکچرنگ مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں تخمینہ 2.9 فیصد اور عالمی اشیائی برآمدات میں 1.8 فیصد حصہ رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کے پاس عالمی مینوفیکچرنگ میں اپنے قدم مزید مضبوط کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے۔
ہندوستان کے لیے عالمی سپلائی چین میں ایک مربوط شرکت میں مضبوطی-بالخصوص محنت کشوں پر مبنی اور اسمبلنگ سے وابستہ شعبوں میں-وکست بھارت@2047 کے وسیع تر ترقیاتی وژن کے تحت روزگار پر مبنی صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کا ایک اہم راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اقتصادی جائزے کے مطابق، جدید مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی کے تناظر میں ہندوستان کی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر مبنی اور اختراعی ٹیکنالوجی مسابقت کو بہتر بنانے اور مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جائزے پُرامید انداز میں ترقی کے محرکات اور ایک جامع ماحولیاتی نظام کے کلیدی کردار کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مسابقت کا مکمل سامنا، بنا سمجھوتہ کئے سخت معیارات کے ساتھ ساتھ کم منافع کے مارجن اور متحرک ترسیلی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی ممکن ہو سکے گی۔اقتصادی جائزے کے مطابق دیگر ترقیاتی محرکات-جیسے بنیادی ڈھانچے، سرمایہ بازار، ڈیجیٹل حکمرانی اور خدماتی برآمدات-آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں، اقتصادی جائزہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہندوستانی کی قومی مینوفیکچرنگ مشن حکمتِ عملی پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ مستقل اور بڑے پیمانے پر صلاحیت اور کارکردگی کو فروغ دیا جا سکے۔
******
ش ح- م ش- ع ر
UR-ES-13
(रिलीज़ आईडी: 2220228)
आगंतुक पटल : 8