وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

اقتصادی جائزہ کلیدی مضبوطی کے لیے منظم سودیشی کا نظریہ پیش کرتا ہے : کلیدی سودیشی کے لیے سہ  سطحی فریم ورک


قومی ان پٹ لاگت میں تخفیف کی حکمت عملی : ایک لازمی بنیاد  جو مسابقت کو بنیادی ڈھانچہ مانتی ہے

ملک کو عالمی ویلیو چینوں کا حصہ بنانا ایک کلیدی ناگزیریت ہے، جس کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ دنیا ’’بھارتی کی خدمات خریدنے کے بارے میں سوچنے ‘‘ کے بجائے ’’سوچے بغیر ہندوستانی کی خدمات خریدے‘‘: اقتصادی جائزہ

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:38PM by PIB Delhi

بھارت نے حالیہ برسوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم آج ملک کو عالمی ماحولیات کی چنوتیوں کا سامنا ہے جو کہ مادی طور پر مختلف اور غیر یقینی ہے۔ ایک ایسی دنیا جو ارضیاتی سیاسی بکھراؤ، کلیدی تجارت، اتارچڑھاؤ کے شکار پونجی آمد، اور جدید ترین تکنالوجی  کا ایجاد ہونے جیسی تبدیلیاں ملاحظہ کر رہی ہے، ایسے مین مرکزی رکاوٹ اب صرف میکرو اکنامک انتظام کاری نہیں ہے۔ یہ ریاست کی صلاحیت کی گہرائی اور معیار ہے۔

اس غیر یقینی عالمی ماحول میں، بھارت کا نقطہ نظر تحفظ پسند اقتصادی پالیسی  کے متبادل سے آگے بڑھ کر ایک نپے تلے طریقے سے ، تین سطحی حکمت عملی کی طرف بڑھنا ہے جو اہم صلاحیتوں کو تیار کرتی ہے، ان پٹ لاگت کو کم کرتی ہے، جدید مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرتی ہے، اور خود انحصاری سے اسٹریٹجک ناگزیریت کی طرف آگے بڑھتی ہے۔

خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ،"اس ترتیب میں، سودیشی ناگزیر اور ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ ایک دفاعی اور جارحانہ پالیسی دونوں ہے تاکہ بیرونی صدمات کے پیش نظر پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسی پائیدار قومی صلاحیتوں کو استوار کیا جا سکے جو اقتصادی خودمختاری کو تقویت بخشیں"۔

اقتصادی جائزہ اس تبدیلی کو کلیدی مضبوطی- یعنی صدمات کو برداشت کرنے اور استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت سے اسٹریٹجک ناگزیریت – یعنی دوسروں کے لیے بھروسے، قابلیت اور قدرو قیمت کا وسیلہ بننے کی صلاحیت کی جانب ایک قدم کے طو رپر دیکھتا ہے۔

اندرونِ ملک اشیاء سازی کے لیے ایک منظم نقطہ نظر کے طو رپر سودیشی

سودیشی ایک منظم حکمت عملی ہونی چاہئے، کیونکہ تمام تر درآمداتی متبادل نہ تو قابل ہوتے ہیں اور نہ ہی مطلوبہ۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ،’’سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے والی پیداواریت، صلاحیت کو بہتر بنانے، اور برآمدات پر خصوصی توجہ کے بغیر تحفظ مضبوطی پیدا کرنے کے بجائے کمزوری پیدا کرتا ہے۔‘‘

یہ جائزہ اندرونِ ملک اشیاء سازی کے لیے سہ سطحی فریم ورک تجویز کرتا ہے تاکہ یہ کوشش نا اہلی کے بجائے طویل المدت اہلیت پیدا کرے۔ یہ تین سطحیں مندرجہ ذیل ہیں:

  • اعلی اسٹریٹجک عجلت کے ساتھ اہم کمزوریاں
  • اسٹریٹجک ادائیگیوں کے ساتھ معاشی طور پر قابل عمل صلاحیتیں۔
  • کم اسٹریٹجک عجلت یا زیادہ لاگت کا متبادل

یہ سطحیں ساکت نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ٹیکنالوجی کے پختہ ہونے، لاگت میں کمی، یا جغرافیائی سیاسی حالات میں تبدیلی کے ساتھ تیار ہوتے ہیں، جس سے برآمداتی صلاحیت کی جانب انڈیجنائزیشن مکمل ہوتی ہے ، جو کہ سوجھ بوجھ پر مبنی درآمداتی متبادل کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔

یہ جائزہ  قومی ان پٹ لاگت تخفیف سے متعلق اسٹریٹجی کا جائزہ لیتا ہے جو مسابقت کو بنیادی ڈھانچہ تسلیم کرتی ہے، اور کفایتی اور بھروسے مند ان پٹ کو مینوفیکچرنگ، برآمدات اور روزگار ک ےلیے ضروری تسلیم کرتی ہے، اور افزوں ان پٹ لاگت کو پوری  معیشت کے لیے ایک وسیع  اور مسلسل نقصان مانتی ہے۔ اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے، ’’‘بھارت کے لیے ، اگر سودیشی کو برآمدات کو کم کیے بغیر مضبوطی دینی ہے، تو اسے منظم ان پٹ لاگت میں تخفیف کے ساتھ جوڑا جانا چاہئے۔‘

اعلی درجے کی مینوفیکچرنگ صلاحیت سازی میں فیصلہ کن بن جاتی ہے، کیونکہ یہ ان کمزوریوں کو سامنے لے کرآتی ہے جنہیں محفوظ سرگرمیاں طویل عرصے تک پوشیدہ رکھ سکتی ہیں۔ یہ ریاست اور فرموں دونوں کے لیے ایک تناؤ کی آزمائش کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں متوقع اصول، آپریشنل اعتماد، اور ادارہ جاتی پیروی بقا کے لیے حالات ہیں۔

مشرقی ایشیائی ممالک کے تجربے سے سیکھتے ہوئے ، یہ جائزہ صنعت کاری  کے کردار کو اجاگر کرتا ہے ۔ صنعتی پالیسی کے کامیاب ہونے کی امید تب زیادہ ہوتی ہے جب اس میں ادارہ جاتی اصلاحات ہو، جس میں نتائج پر توجہ مرکوز کرنے والی نوکرشاہی، غلطیوں سے سیکھنے کی قوت برداشت (غلطیاں منظور ہیں؛ رکنا منظور نہیں) اور حمایت کو بھروسے مند طریقے سے واپس لینا شامل ہو( داخلہ اتنا ہی اہم جتنا باہر نکلنا ہے)۔

جہاں ایک جانب لچک ایک ضروری مقصد ہے، وہیں یہ اپنے آپ میں کافی نہیں ہے۔ ایک ملک جو محض جھٹکے برداشت کرتی ہے وہ رد عمل کا شکار رہتا ہے۔ ایک ملک جو نتائج کو شکل دیتا ہے وہ بااثر بن جاتا ہے، جو خودانحصاری سے بڑا معیار ہے اور مضبوطی سے  بڑی آرزو ہے۔ اقتصادی جائزہ سودیشی سے ار اسٹریٹجک مضبوطی سے اسٹریٹجک ناگزیریت تک ایک تسلسل کو پیش کرتا ہے، جس میں سوجھ بوجھ پر مبنی درآمداتی متبادل قومی طاقت میں مدد فراہم کرتا ہے اور بالآخر ہندوستان کو عالمی نظام میں شامل کرتا ہے، تاکہ دنیا ’’بھارتی خدمات خریدنے کے بارے میں سوچنے ‘‘سے ’’بغیر سوچے بھارتی خدمات خریدنے‘‘کی طرف بڑھے۔

 

**********

(ش ح –ا ب ن)

UR-ES-32


(रिलीज़ आईडी: 2220175) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Manipuri , Malayalam