وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان، سرکاری تعریف کے مقابلے میں معاشی اور عملی اعتبار سے کہیں زیادہ شہری نوعیت اختیار کرچکا ہے: اقتصادی جائزہ  2025–26


ہندوستان نے بڑے پیمانے پر تیز رفتار عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو وسعت دی ہے، جہاں تقریباً  24 شہروں میں 1,036 کلو میٹر میٹرو اور آر آر ٹی ایس نیٹ ورک فعال ہے

مالی سال 2025–26 تک شہری علاقوں کے 98 فیصد وارڈوں میں بلدیاتی ٹھوس کچرے  (ایم ایس ڈبلیو) کی گھر گھر سے وصولی کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے

پردھان منتری آواس یوجنا – شہری (پی ایم اے وائی- یو) کے دو مراحل کے تحت اب تک 122.06 لاکھ گھروں کی تعمیر کو منظوری دی جا چکی ہے

اقتصادی جائزہ کے مطابق، مستقبل کی شہری پالیسی میں الگ الگ منصوبوں کی بجائے پورے نظام کی کارکردگی کو ترجیح دی جانی چاہیے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 1:42PM by PIB Delhi

’’ہندوستان کے شہر محض رہائش کی جگہیں نہیں بلکہ ایک اہم معاشی ڈھانچے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ آبادی کی کثافت اور باہمی قربت ایسے معاشی فوائد پیدا کرتی ہے جو پیداوار میں اضافہ، لیبر مارکیٹ کی مضبوطی اور جدتِ طرازی کو ممکن بناتی ہے۔ اس طرح شہروں کا معاشی کردار ہندوستان کی ترقی کی سمت میں نہایت مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ یہ بات آج پارلیمنٹ میں خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعے پیش کئے گئے اقتصادی جائزہ 2025–26 میں کہی گئی ہے۔

اقتصادی جائزہ 2025–26 نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی اعتبار سے ہندوستان پہلے ہی ایک گہرا شہری ملک بن چکا ہے، جہاں قومی پیداوار کا بڑا حصہ شہروں اور شہری علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ اس شہر کاری کو شہریوں کے لیے عملی اور غیر محسوس دونوں حوالوں سے زیادہ مؤثر بنایا جائے۔

جائزہ میں شہروں کو معاشی اثاثے قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے سوچے سمجھے انداز میں سرمایہ کاری اور حکمت عملی کے تحت منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ شہروں کو معاشی بنیادی ڈھانچے کے طور پر تسلیم کرنا عوامی پالیسی، مالی ترجیحات اور منصوبہ بندی کے فریم ورک کو ہندوستان کے ترقیاتی سفر کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سمت میں پہلا اور ناگزیر قدم ہے۔

شہر ترقی کے محرک ہیں

اقتصادی جائزہ  2025–26 کے مطابق، ہندوستان معاشی اور عملی لحاظ سے سرکاری تعریفوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شہری نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ یوروپی کمیشن کے تحت گلوبل ہیومن سیٹلمنٹس لیئر (جی ایچ ایس ایل) اور گروپ آن ارتھ آبزرویشنز کے سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر، ہندوستان سنہ 2015 میں 63 فیصد شہری تھا، جو کہ 2011 کی مردم شماری میں ظاہر کی گئی شہر کاری کی شرح سے تقریباً دوگنی ہے۔

اقتصادی جائزہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق 2036 تک ہندوستان کے قصبوں اور شہروں میں 60 کروڑ افراد آباد ہوں گے، جو کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہوں گے، جبکہ 2011 میں یہ شرح 31 فیصد تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، شہری علاقے ملک کی تقریباً 70 فیصد مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ ڈالیں گے۔

نقل و حرکت

اقتصادی جائزہ 2025–26 کے مطابق، ہندوستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیز رفتار عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں توسیع کی ہے۔ سنہ 2025 تک، ملک کے تقریباً 24 شہروں میں 1,036 کلو میٹر میٹرو اور آر آر ٹی ایس لائنیں فعال ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کوریڈورز پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

اقتصادی جائزہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے پی ایم ای-بس سیوا  منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد شہری بس خدمات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل پر 10,000 الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں، جن کے لیے 20,000 کروڑ روپے کی مرکزی مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ادائیگی کے تحفظ کا نظام (پیمنٹ سکیورٹی میکانزم- پی ایس ایم) بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ بس آپریٹروں کی نقدی روانی (کیش فلو) یقینی بنائی جا سکے۔ مالی سال 2024–25 کے دوران، 14 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 7,293 الیکٹرک بسوں کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ، ڈپو اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 983.75 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جبکہ 437.5 کروڑ روپے کی رقم پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔

بہتر نتائج کے لیے، اقتصادی جائزہ 2025–26 نے بس بیڑوں میں اضافہ اور ڈیجیٹلائزیشن، مالی بنیادوں پر ای-بسوں کی تعیناتی، آخری میل تک اور مشترکہ سفری سہولیات کو فروغ دینے، ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ (ٹی او ڈی) کو عملی شکل دینے اور اسٹیشنوں کے اطراف ویلیو کیپچر میکانزم اپنانے کی سفارش کی ہے۔

شہری صفائی

اقتصادی جائزہ 2025–26 میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مرکزی حکومت نے سووچھ بھارت مشن – اربن (ایس بی ایم- یو) کے تحت دنیا کے سب سے بڑے اور پُرعزم صفائی اور کچرا مینجمنٹ پروگراموں میں سے ایک پر عمل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹل مشن برائے تجدیدِ نو اور شہری تبدیلی (اے ایم آر یو ٹی - امرُت) اور امرُت  2.0 کے تحت کی گئی سرمایہ کاری نے بھی اس مہم کو تقویت دی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صفائی کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کی سب سے اہم مثال تمام شہروں میں کھلے میں رفعِ حاجت کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

جائزہ کے مطابق، بلدیاتی ٹھوس کچرے (ایم ایس ڈبلیو) کی گھر گھر سے وصولی جو 2014–15 میں نہ ہونے کے برابر تھی، 2025–26 تک شہری علاقوں کے 98 فیصد وارڈوں تک پھیل چکی ہے۔ اس عمل کو ملک بھر میں موجود ڈھائی لاکھ سے زائد کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کے بیڑے کی مدد حاصل ہے۔

 

ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے شہری ترقی

اقتصادی جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ 9 مئی 2025 تک اسمارٹ سٹیز مشن (ایس سی ایم) کے تحت شامل شہروں میں منصوبہ بند بیشتر منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں اسمارٹ سڑکیں، سائیکل ٹریکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، بہتر پانی کی فراہمی اور سیوریج نظام اور جدید عوامی مقامات شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 8,067 منصوبوں میں سے 90 فیصد سے زائد مکمل ہوچکے ہیں، جن پر تقریباً 1.64 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

حکومت نے شہری علاقوں میں کم لاگت والی رہائش کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں براہِ راست ٹیکس اور جی ایس ٹی میں رعایتیں، ترجیحی شعبے کے قرضوں میں شمولیت اور انفرا اسٹرکچر کا درجہ دینا شامل ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا – اربن (پی ایم اے وائی- یو) کے دو مراحل کے تحت ملک بھر میں 122.06 لاکھ مکانات منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 96.02 لاکھ مکانات 24 نومبر 2025 تک مستحقین کو مکمل کرکے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

جائزہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ پردھان منتری اسٹریٹ وینڈر آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) نے شہری ریڑھی پٹری والوں کی روزگار کی بحالی اور مضبوطی میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

اقتصادی جائزہ کے مطابق، اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، نتائج کی ذمے داری کا تعین اور روزمرہ کے نفاذی عمل کو وقتی یا غیر منصوبہ بند مداخلت سے محفوظ رکھنا شہری نظم و نسق میں قواعد و ضوابط پر اعتماد قائم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

منصوبہ بندی، حکمرانی اور مالی وسائل

اقتصادی جائزہ 2025–26 کے مطابق، حکومتِ ہند نے شہروں اور شہری ترقی سے متعلق مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مربوط اور مسلسل اقدامات کیے ہیں۔ اربن انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (یو آئی ڈی ایف)، جس کا اعلان مرکزی بجٹ 2023–24 میں 10,000 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم کے ساتھ کیا گیا تھا، ایک ریوالونگ فنڈ کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ فنڈ مالیاتی اداروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے تاکہ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں کی مدد کی جا سکے، جو اگرچہ مکمل کریڈٹ اہلیت نہیں رکھتے، لیکن ان کے پاس قابلِ عمل انفرا اسٹرکچر منصوبے موجود ہیں۔

آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزہ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ ہر دس لاکھ یا اس سے زیادہ آبادی والے شہر کے لیے ایک قانونی حیثیت رکھنے والا 20 سالہ شہری مکانی اور معاشی منصوبہ (سٹی اسپیشل اینڈ اِکونومک پلان) تیار کرنا لازمی ہونا چاہیے، جسے ہر پانچ سال بعد اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اس منصوبے میں تین بنیادی اور ناقابلِ نظرانداز عناصر شامل ہوں گے:

  1. ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا منصوبہ
  2. رہائشی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ، جس میں سالانہ ہاؤسنگ یونٹس کے اہداف مقرر ہوں
  3. انفرا اسٹرکچر کوریڈورز سے منسلک زمین کی قدر میں اضافے (لینڈ- ویلیو کیپچر) کا فریم ورک

نظام پر مبنی شہری شعور کی آگاہی

اقتصادی جائزہ کے مطابق، ابلاغ کا مقصد مضبوط اور قابلِ اعتماد نظاموں کو تقویت دینا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کا متبادل بننا۔ سادہ، مقامی اور بار بار دہرائے جانے والے پیغامات، جو چند منتخب اور زیادہ اثر رکھنے والے رویّوں پر مرکوز ہوں، اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں عمل کے عین موقع پر پہنچایا جائے۔

نتیجہ

مستقبل کی شہری پالیسی میں الگ الگ منصوبوں کی بجائے پورے نظام کی کارکردگی کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ اس کے لیے رہائش، نقل و حرکت، صفائی، ماحولیاتی لچک اور مالیاتی نظم کو باہم مربوط کرنا ہوگا، تاکہ ایسے قابلِ رہائش اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے تیار شہر تشکیل دیے جا سکیں جو شمولیت کو فروغ دیں اور طویل مدت میں معاشی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔

اقتصادی جائزہ 2025–26 کے مطابق، ہندوستان کے شہری مستقبل کی تعمیر کا وعدہ اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہمارے شہر معاشی طور پر متحرک، سماجی طور پر جامع، ماحولیاتی طور پر پائیدار اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ م م ۔ م ر

UR-ES-30


(रिलीज़ आईडी: 2220017) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada , Malayalam