وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بجٹ اجلاس 2026 کے آغاز پر  وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کے اہم نکات


صدرِ جمہوریہ کے خطاب میں 140 کروڑ بھارتی عوام کے اعتماد اور امنگوں کی جھلک نظر آتی ہے: وزیراعظم

بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ نوجوانوں، کسانوں اور صنعتکاروں کے لیے وسیع مواقع پیدا کرتا  ہے: وزیراعظم

ہماری حکومت اصلاحات، کارکردگی اور تبدیلی کے اصول پر یقین رکھتی ہے؛ قوم تیزی سے ’ریفارم ایکسپریس‘ پر آگے بڑھ رہی ہے: وزیراعظم

بھارت کی جمہوریت اور آبادی دنیا کے لیے امید کی ایک روشن مثال ہیں: وزیراعظم

یہ وقت حل تلاش کرنے، بااختیار فیصلے کرنے اور اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کا ہے: وزیراعظم

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 11:52AM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج پارلیمنٹ کے احاطے میں بجٹ اجلاس 2026 کے آغاز سے قبل میڈیا سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدرِ جمہوریہ کا خطاب 140 کروڑ شہریوں کے اعتماد کا اظہار، ان کی محنت کا احاطہ اور نوجوانوں کی امنگوں کی نہایت واضح عکاسی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ صدرِ جمہوریہ نے اجلاس اور سال 2026 کے بالکل آغاز میں ہی تمام معزز اراکینِ پارلیمنٹ کے سامنے کئی رہنما نکات پیش کیے۔ جناب مودی نے کہا کہ سربراہِ مملکت کی حیثیت سے صدرِ جمہوریہ نے سادہ الفاظ میں جو توقعات ظاہر کیں، انہیں یقیناً تمام اراکینِ پارلیمنٹ نے سنجیدگی سے لیا ہوگا، جس کی وجہ سے یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ بجٹ اجلاس ہے، جو اکیسویں صدی کی پہلی سہ ماہی کی تکمیل اور دوسری سہ ماہی کے آغاز کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 25 برس 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے نہایت اہم ہیں، اور یہ بجٹ صدی کی دوسری سہ ماہی کا پہلا بجٹ ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن، جو ملک کی پہلی خاتون وزیرِ خزانہ ہیں، پارلیمنٹ میں مسلسل نویں مرتبہ بجٹ پیش کر رہی ہیں، جو بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ایک قابلِ فخر لمحے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہ سال ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ شروع ہوا ہے، جہاں ایک پُراعتماد بھارت دنیا کے لیے امید کی کرن اور مرکزِ توجہ بن کر ابھر رہا ہے، جناب نریندر مودی نے کہا کہ اس سہ ماہی کے آغاز میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ بھارت کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور آگے بڑھنے کی امید افزا سمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ ایک بلند حوصلہ بھارت، امنگوں سے بھرپور نوجوانوں اور آتم نربھر بھارت کے لیے آزاد تجارت کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ بھارت کے صنعتکار اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے تمام صنعت کاروں سے اپیل کی کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے، جسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ کہا جا رہا ہے، کے نتیجے میں اب ایک وسیع منڈی کھل چکی ہے اس کا فائدہ اٹھائیں کیوں کہ بھارتی مصنوعات کم لاگت پر وہاں تک پہنچ سکیں گی۔ تاہم، انہوں نے صنعت کے رہنماؤں اور مینوفیکچررز کو خبردار کیا کہ وہ اطمینان یا غفلت کا شکار نہ ہوں بلکہ معیار پر بھرپور توجہ مرکوز کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بہترین معیار کی مصنوعات کے ساتھ اس کھلی منڈی میں داخل ہونا نہ صرف یورپی یونین کے 27 ممالک کے خریداروں سے منافع حاصل کرے گا بلکہ ان کے دل بھی جیت لے گا، جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک برقرار رہیں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی برانڈ کے ساتھ ہم آہنگ کمپنیوں کے برانڈ ایک نئی شناخت اور وقار قائم کریں گے۔ جناب مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 27 ممالک کے ساتھ یہ معاہدہ بھارت کے ماہی گیروں، کسانوں، نوجوانوں اور عالمی مواقع تلاش کرنے والے خدماتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بے پناہ امکانات لے کر آیا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ایک پُراعتماد، مسابقتی اور پیداواری بھارت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ قومی توجہ فطری طور پر بجٹ کی جانب مرکوز ہوتی ہے، لیکن اس حکومت کی شناخت ہمیشہ اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی (ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم) پر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ قوم اب تیزی کے ساتھ ریفارم ایکسپریس پر آگے بڑھ رہی ہے، اور اصلاحات کے اس سفر کو مزید رفتار دینے کے لیے مثبت توانائی کے ساتھ تعاون کرنے پر تمام معزز اراکینِ پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک طویل عرصے سے زیرِ التوا مسائل سے نکل کر طویل المدتی حل کی جانب بڑھ رہا ہے، جو پیش بینی کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سطح پر اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جناب مودی نے زور دیا کہ قومی ترقی کے لیے کیے جانے والے ہر فیصلے کا محور انسان ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت ٹیکنالوجی کے ساتھ مقابلہ کرے گا، اسے اپنائے گا اور اس کی طاقت کو قبول کرے گا، تاہم حکومت کبھی بھی انسانی مرکزیت پر مبنی نظاموں سے سمجھوتہ نہیں کرے گی، بلکہ ٹیکنالوجی اور حساسیت کے درمیان توازن کے وژن کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حتیٰ کہ ناقدین بھی حکومت کی آخری سطح تک رسائی پر توجہ کو تسلیم کرتے ہیں، جس کے تحت سرکاری اسکیمیں صرف فائلوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ براہِ راست عوام کی زندگیوں تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ریفارم ایکسپریس پر اگلے سلسلے  کی اصلاحات کے ساتھ یہ روایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔ جناب مودی نے اس بات کو واضح کیا کہ آج بھارت کی جمہوریت اور آبادی دنیا کے لیے ایک عظیم امید بن چکی ہیں، اور جمہوریت کے اس مندر میں بھارت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ طاقت، جمہوریت سے وابستگی اور جمہوری عمل کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کے احترام کا پیغام دے—ایسے پیغامات جنہیں عالمی سطح پر سراہا اور قبول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت انتشار کا نہیں بلکہ حل کا ہے، رکاوٹوں کا نہیں بلکہ راستہ نکالنے کا ہے۔ وزیراعظم نے تمام اراکینِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ حل کے اس دور کو تیز کرنے، بااختیار فیصلوں کو فروغ دینے اور آخری سطح تک رسائی کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں شریک ہوں۔آخر میں، وزیراعظم نے تمام اراکین کا  دلی شکریہ  ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

***

ش ح۔ ع و۔ خ م

U.NO.1230


(रिलीज़ आईडी: 2219973) आगंतुक पटल : 23
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , हिन्दी , Punjabi , Tamil , Kannada , Assamese , Bengali , Odia , English , Manipuri , Gujarati , Telugu