وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں پونگل کی تقریبات میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

प्रविष्टि तिथि: 14 JAN 2026 11:41AM by PIB Delhi

وڑکّم!

انیا پونگل نَلوالتکل!

آج پونگل ایک عالمی تہوار بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں تمل برادری اور تمل ثقافت سے محبت کرنے والے لوگ، اسے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں، اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ اس خاص تہوار کو آپ سب کے ساتھ منانا میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہمارے تمل زندگی میں پونگل ایک خوشگوار تجربے کی مانند ہے، اس میں اناج اُگانے والوں کی محنت، زمین اور سورج کے تئیں شکرگزاری کا جذبہ شامل ہے اور یہ تہوار ہمیں فطرت، خاندان اور معاشرے میں توازن قائم کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں لوہڑی، مکر سنکرانتی، ماگھ بہواور دیگر تہواروں کی بھی رونق ہے۔ میں بھارت اور دنیا بھر میں رہنے والے تمام تمل بھائیوں اور بہنوں کو پونگل اور دیگر تہواروں کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیوں،

میرے لیےیہ بھی بہت خوشی کی بات رہی ہے کہ گزشتہ سال مجھے تمل ثقافت سے جُڑے کئی پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ میں نے تمل ناڈو میں ایک ہزار سال پرانے گنگئی کونڈا چولپورم مندر میں پوجا کی۔ وارانسی میں کاشی تمل سنگم کے دوران ثقافتی اتحاد کی توانائی کو، ہر لمحہ جہاں بھی رہا، جڑا رہا اور میں نے محسوس بھی کیا۔ جب میں پمبن پل کے افتتاح کے لیے رامیشورم گیا، تو تمل تاریخ کی عظمت کا پھر ایک بار مشاہدہ ہوا۔ ہماری تمل ثقافت پورے بھارت کی مشترکہ وراثت ہے اور صرف یہی نہیں،یہ پوری انسانیت کی مشترکہ وراثت بھی ہے۔ میں جس جذبے “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” کی بات کرتا ہوں، وہ پونگل جیسے تہوار اس جذبے کو مضبوط بناتے ہیں۔

ساتھیوں،

دنیا کی تقریباً تمام تہذیبوں میں فصلوں سے جُڑا کوئی نہ کوئی تہوار منایا جاتا ہے۔ تمل ثقافت میں کسان کو زندگی کی بنیاد سمجھا گیا ہے۔ تِرُک کورل میں زراعت اور کسانوں پر تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ ہمارے کسان ملک کی تعمیر کے مضبوط ساتھی ہیں اور ان کی کوششوں سے “آتم نربھر بھارت” مہم کو بہت مضبوطی مل رہی ہے۔ مرکزی حکومت بھی کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے عزم کے ساتھ مسلسل کام کررہی ہے ۔

ساتھیوں،

پونگل کا تہوار ہمیں یہ تحریک دیتا ہے کہ فطرت کے تئیں شکرگزاری صرف الفاظ تک محدود نہ رہے، بلکہ اسے ہم اپنی طرزِ زندگی کا حصہ بنائیں۔ جب یہ زمین ہمیں اتنا کچھ دیتی ہے، تو اسے سنبھالنا بھی ہمارا فرض ہے۔ اگلی نسل کے لیے مٹی کو صحت مند رکھنا، پانی کو بچانا اور وسائل کا متوازن استعمال کرنا سب سے ضروری ہے۔ مشن جیسے “لائف”، “ایک پیڑ ماں کے نام”، “امرّت سرور”، جیسے ہماری مہم اسی جذبے  کے ساتھ کو آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم زراعت کو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں پائیدار زراعت کے طریقے، واٹر مینجمنٹ، میں تو مسلسل کہتا رہا ہوں، ‘پر ڈراپ مور کراپ’، نیچرل فارمنگ، ایگری ٹیک اور ویلیو ایڈیشن کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان تمام شعبوں میں ہمارے نوجوان نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے میں تمل ناڈو میں قدرتی کاستکاری سے جُڑے ایک کانفرنس میں شامل ہوا، جہاں میں نے دیکھا کہ ہمارے تمل نوجوان کس طرح شاندار کام کر رہے ہیں،یعنی وہ پروفیشنل زندگی کی بڑی چیزیں چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے مجھے ملے۔ میں زراعت سے جُڑے اپنے نوجوان تمل دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پائیدار زراعت میں انقلاب لانے کے اس مشن کو اور آگے بڑھائیں۔ ہمارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ہماری تھالی بھی بھری رہے، ہماری جیب بھی بھری رہے اور ہماری زمین بھی محفوظ رہے۔

ساتھیوں،

تمل ثقافت دنیا کی سب سے قدیم زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ تمل ثقافت صدیوں کو جوڑتی ہے، یہ تاریخ سے سیکھ کر حال کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اسی تحریک سے آج کا بھارت اپنی جڑوں سے طاقت لے کر نئے امکانات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آج پونگل کے اس مقدس موقع پر ہم اس اعتماد کو محسوس کر رہے ہیں جو بھارت کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایک ایسا بھارت جو اپنی ثقافت سے جُڑا ہے، اپنی زمین کا احترام کرتا ہے اور مستقبل کے لیے اعتماد سے بھرپور ہے۔ انیا پونگل نَلواڵتکل! وَلگا تمل، وَلگا بھارتم! ایک بار پھر آپ سب کو پونگل کی بہت بہت مبارکباد اور بہت بہت شکریہ۔

وڑکّم!

----------------------------------------------

ش ح۔ع ح۔ش ت

UN-NO - 565


(रिलीज़ आईडी: 2214443) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Manipuri , Punjabi , Gujarati , Odia , Kannada