وزیراعظم کا دفتر
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ مشترکہ پریس میٹنگ کے دوران وزیر اعظم کے تبصر ے کا متن
प्रविष्टि तिथि:
12 JAN 2026 1:25PM by PIB Delhi
عزت مآب
میرے دوست ،
چانسلر فریڈرک مرز ، دونوں ممالک کے نمائندوں اورمیڈیا کے ساتھیو!
نمسکار! گوٹن ٹاگ!
آج سوامی وویکانند جینتی کے موقع پر چانسلر میرز کا ہندوستان میں خیرمقدم کرنا میرے لیے خاص خوشی کی بات ہے۔ یہ ایک خوش کن اتفاق ہے کہ سوامی وویکانند نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان فلسفے، علم اور روح کا ایک پل بنایا۔ چانسلر میرز کا آج کا دورہ اس پل کو نئی توانائی، نیا اعتماد اور نئی توسیع فراہم کرتا ہے۔ بطور چانسلر ان کا یہ دورہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کا پہلا دورہ ہے۔ یہ اس بات کا ایک مضبوط ثبوت ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ میں ان کی ذاتی توجہ اور عزم کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندوستان جرمنی کے ساتھ اپنی دوستی اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ گجرات میں ہم کہتے ہیں،’’ آوکارو مٹھو آپجے ری‘‘، یعنی پیار اور گرمجوشی کے ساتھ استقبال کرنا۔اسی جذبے کے ساتھ ہم چانسلر میرز کا ہندوستان میں تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔
دوستو!
چانسلر مرز کا دورہ ایک خاص وقت پر ہو رہا ہے ۔ گزشتہ سال ہم نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل کیے اور اس سال ہم اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال بھی منا رہے ہیں ۔یہ سنگ میل صرف وقت کی کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ یہ ہمارے مشترکہ عزائم ، باہمی اعتماد اور تعاون کو مستحکم کرنے کی علامت ہیں ۔ ہندوستان اور جرمنی جیسے ممالک کی معیشتوں کے درمیان قریبی تعاون پوری انسانیت کے لیے اہم ہے ۔ بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات نے ہماری اسٹریٹیجک شراکت داری کو نئی توانائی دی ہے ۔ ہماری دو طرفہ تجارت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور 50 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکی ہے ۔ دو ہزار سے زیادہ جرمن کمپنیاں طویل عرصے سے ہندوستان میں موجود ہیں ۔ یہ ہندوستان میں ان کے اٹل اعتماد اور یہاں موجود لامحدود امکانات کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کی ایک واضح جھلک آج صبح ہندوستان-جرمنی سی ای او فورم میں دیکھی گئی ۔
دوستو!
بھارت اور جرمنی کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون ہر سال مضبوط ہوا ہے اور آج اس کا اثر زمین پر واضح نظر آتا ہے ۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان اور جرمنی کی یکساں ترجیحات ہیں ۔ اس سلسلے میں تعاون بڑھانے کے لیے ہم نے بھارت-جرمنی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ علم ، ٹیکنالوجی اور اختراع کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بن جائے گا ۔ ہم آب و ہوا ، توانائی ، شہری ترقی اور شہری نقل و حرکت جیسے شعبوں میں مل کر نئے پروجیکٹوں کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ گرین ہائیڈروجن میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کا نیا میگا پروجیکٹ مستقبل کی توانائی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا ۔ ہندوستان اور جرمنی محفوظ ، قابل اعتماد اور لچکدار سپلائی چین بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں ۔ ان تمام موضوعات پر آج دستخط کیے جانے والے مفاہمت نامے ہمارے تعاون کو نئی رفتار اور طاقت دیں گے ۔
دوستو!
دفاع اور سلامتی میں بڑھتا تعاون ہمارے باہمی اعتماد اور مشترکہ وژن کی علامت ہے ۔ میں دفاعی تجارت سے متعلق طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے چانسلر مرز کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ہم دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی کام کریں گے جس سے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع کھلیں گے ۔
دوستو!
ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تاریخی اور عوام سے عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے کاموں نے جرمنی کی دانشورانہ دنیا کو ایک نیا وژن دیا ۔ سوامی وویکانند کے نظریے نے جرمنی سمیت پورے یورپ کو متاثر کیا اور میڈم کاما نے جرمنی میں پہلی بار ہندوستان کی آزادی کا جھنڈا لہرا کر ہماری آزادی کی خواہش کو عالمی سطح پر پہچان دی ۔ آج ہم اس تاریخی مشغولیت کو جدید شراکت داری کی شکل دے رہے ہیں ۔ نقل مکانی ، نقل و حرکت اور ہنر مندی کو بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے باصلاحیت نوجوان جرمنی کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ گلوبل اسکلز پارٹنرشپ پر آج جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ اسی اعتماد کی علامت ہے ۔ اس سے خاص طور پر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت میں آسانی ہوگی ۔ آج ہم نے کھیلوں کے میدان میں بھی مزید تعاون کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں ۔ یہ نوجوانوں کو جوڑنے کا ایک موثر ذریعہ ہوگا ۔ آج اعلیٰ تعلیم پر جامع روڈ میپ تعلیم کے شعبے میں ہماری شراکت داری کو ایک نئی سمت دے گا ۔ میں جرمن یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں اپنے کیمپس کھولنے کی دعوت دیتا ہوں ۔ میں ہندوستانی شہریوں کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ کا اعلان کرنے پر چانسلر مرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے ۔ مجھے خوشی ہے کہ گجرات کے لوتھل میں تعمیر کیے جا رہے نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس سے جرمن میری ٹائم میوزیم مربوط ہو رہا ہے ۔ یہ دونوں ممالک کی سمندری تاریخ کو جوڑنے والا ایک تاریخی قدم ہے ۔ گجرات آیورویدیونیورسٹی کا روایتی ادویہ کے شعبے میں جرمنی کے ساتھ قریبی تعاون ہے ۔ اس اہم موضوع پر آج جس مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں اس سے ہمارے تعاون کو مزید تقویت ملے گی ۔
دوستو!
ہندوستان اور جرمنی ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں ۔ ہماری دوستی کا اثر عالمی سطح پر بھی نظر آتا ہے ۔ گھانا ، کیمرون اور ملاوی جیسے ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے ساتھ ہماری سہ فریقی ترقیاتی شراکت داری دنیا کے لیے ایک کامیاب نمونہ ہے ۔ ہم گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی ترقی کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے ۔ ہند-بحرالکاہل دونوں ممالک کی اولین ترجیح ہے ۔ ہم اس شعبے میں اپنی ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ایک مشاورتی طریقہ کار شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ آج ہم نے یوکرین اور غزہ سمیت کئی عالمی اور علاقائی مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔ ہندوستان تمام مسائل اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور اس سمت میں تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے ۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی تمام انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ۔ ہندوستان اور جرمنی مل کر اس کا مقابلہ کرتے رہیں گے ۔ ہندوستان اور جرمنی اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات انتہائی اہم ہیں ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے جی4 کے ذریعے ہماری مشترکہ کوشش اس سوچ کا ثبوت ہے ۔
عالی قدر ،
140 کروڑ ہندوستانیوں کی طرف سے میں ایک بار پھر آپ کا ہندوستان میں پرتپاک استقبال کرتا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی بات چیت ہندوستان-جرمنی شراکت داری کو نئی توانائی اور واضح سمت دے گی ۔ میں آپ کے دورے ، آپ کے ذاتی رابطے اور ہندوستان کے تئیں آپ کی گہری دوستی کے لیے دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔
داکے شون۔
****
(ش ح –م ح۔اش ق)
U. No. 447
(रिलीज़ आईडी: 2213726)
आगंतुक पटल : 22