وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ہاتھوں وارانسی میں 72ویں قومی والی بال ٹورنامنٹ کا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے افتتاح


ہندوستان کی ترقی کی کہانی اور والی بال کے کھیل کے درمیان کئی مماثلتیں ہیں، والی بال ہمیں سکھاتا ہے کہ کوئی بھی کامیابی کبھی اکیلے حاصل نہیں ہوتی اور ہماری کامیابی ہمارے باہمی تال میل، ایک دوسرے پر اعتماد اور ٹیم کی تیاری پر منحصر ہوتی ہے: وزیراعظم

ہر فرد کا اپنا کردار اور اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور ہم اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ نبھاتا ہے، ہمارا ملک بھی بالکل اسی انداز میں ترقی کر رہا ہے: وزیراعظم

2014 کے بعد سے مختلف کھیلوں میں ہندوستان کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آئی ہے اور جب ہم جنریشن زیڈ کے کھلاڑیوں کو کھیل کے میدان میں ترنگا لہراتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمیں بے حد فخر محسوس ہوتا ہے: وزیراعظم

2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کا انعقاد ہندوستان میں ہونا طے پایا ہے اور 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے بھی ملک بھرپور کوششیں کر رہا ہے: وزیراعظم

प्रविष्टि तिथि: 04 JAN 2026 1:12PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے وارانسی میں 72ویں قومی والی بال ٹورنامنٹ کا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے افتتاح کیا۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ وارانسی کے رکنِ پارلیمان ہونے کے ناطے وہ تمام کھلاڑیوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے وارانسی میں قومی والی بال چیمپئن شپ کا آغاز ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کھلاڑی بے پناہ محنت کے بعد اس قومی ٹورنامنٹ تک پہنچے ہیں اور آنے والے دنوں میں وارانسی کے میدانوں میں ان کی محنت اور صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 28 ریاستوں کی ٹیمیں یہاں جمع ہوئی ہیں، جو ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتی ہیں۔ نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے چیمپئن شپ کے تمام شرکاء کو مبارکباد اور خیرمقدم کہا۔

بنارسی زبان کے ایک مقامی محاورے کو یاد کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ کھلاڑی اب وارانسی پہنچ چکے ہیں اور وہ اس شہر کو بھی قریب سے جانیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وارانسی کھیلوں سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے، جہاں کشتی، اکھاڑے، باکسنگ، کشتی رانی (کشتیوں کی دوڑ) اور کبڈی بے حد مقبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وارانسی نے کئی قومی سطح کے کھلاڑی پیدا کیے ہیں اور بنارس ہندو یونیورسٹی، یوپی کالج اور کاشی ودیاپیٹھ جیسے اداروں نے ایسے کھلاڑیوں کو پروان چڑھایا ہے جنہوں نے ریاستی اور قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ہزاروں برسوں سے وارانسی علم اور فن کی جستجو میں آنے والوں کا خیرمقدم کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ قومی والی بال چیمپئن شپ کے دوران وارانسی کا جوش و خروش برقرار رہے گا، کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کے لیے شائقین ملیں گے اور وہ وارانسی کی شاندار مہمان نوازی کی روایت کا بھی تجربہ کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ والی بال کوئی عام کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ توازن اور باہمی تعاون کا کھیل ہے، جہاں گیند کو ہمیشہ ہوا میں رکھے رکھنے کی کوشش میں عزم و حوصلہ بھی جھلکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والی بال کھلاڑیوں کو ٹیم اسپرٹ سے جوڑتا ہے، جہاں ہر کھلاڑی ’’ٹیم سب سے پہلے‘‘ کے منتر سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ ہر کھلاڑی کی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں، لیکن سب ٹیم کی جیت کے لیے کھیلتے ہیں۔ جناب مودی نے ہندوستان کی ترقی کی کہانی اور والی بال کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل سکھاتا ہے کہ کوئی بھی کامیابی اکیلے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دارومدار باہمی تال میل، اعتماد اور ٹیم کی تیاری پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کا اپنا کردار اور اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ہر کوئی اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے نبھاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھی اسی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے—صفائی سے لے کر ڈیجیٹل ادائیگیوں تک، ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ سے لے کر ترقی یافتہ بھارت کی مہم تک—جہاں ہر شہری، ہر طبقہ اور ہر ریاست اجتماعی شعور اور ’’انڈیا فرسٹ‘‘ کے جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آج دنیا ہندوستان کی ترقی اور معیشت کی تعریف کر رہی ہے، جناب مودی نے کہا کہ یہ پیش رفت صرف معاشی میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا عکس کھیل کے میدان میں نظر آنے والے اعتماد میں بھی جھلکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2014 کے بعد سے، مختلف کھیلوں میں ہندوستان کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آئی ہے، اور کھیل کے میدان میں جنریشن زیڈ کے کھلاڑیوں کو ترنگا لہراتے ہوئے دیکھ کر انہیں بے حد فخر محسوس ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب حکومت اور سماج دونوں ہی کھیلوں کے تئیں بے توجہی برتتے تھے، جس کے باعث کھلاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی اور بہت کم نوجوان کھیل کو بطور پیشہ اپناتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت اور سماج دونوں کے رویّے میں کھیلوں کے حوالے سے نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جناب مودی نے بتایا کہ حکومت نے کھیلوں کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور آج ہندوستان کا اسپورٹس ماڈل ’’کھلاڑی مرکوز‘‘ بن چکا ہے، جہاں صلاحیتوں کی نشاندہی، سائنسی تربیت، غذائیت اور شفاف انتخاب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ہر سطح پر کھلاڑیوں کے مفادات کو ترجیح دی جا سکے۔

وزیراعظم نے زور دے کر کہا: ’’آج ملک اصلاحات کے ایکسپریس پر سوار ہے، جس سے ہر شعبہ اور ترقی کی ہر منزل جڑی ہوئی ہے، اور کھیل بھی انہی میں سے ایک شعبہ ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کھیلوں کے شعبے میں بڑی اصلاحات کی ہیں، جن میں نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ اور کھیلو بھارت پالیسی 2025 شامل ہیں، جو درست صلاحیتوں کو مواقع فراہم کریں گی اور کھیلوں کی تنظیموں میں شفافیت کو بڑھائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات نوجوانوں کو بیک وقت کھیل اور تعلیم دونوں میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کریں گے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ٹی او پیز جیسے اقدامات ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو تبدیل کر رہے ہیں، جہاں مضبوط بنیادی ڈھانچہ، مالی معاونت کے نظام کی تعمیر اور نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مواقع فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، جناب مودی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے مختلف شہروں میں 20 سے زائد بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کی ہے، جن میں فیفا انڈر 17 ورلڈ کپ، ہاکی ورلڈ کپ اور شطرنج کے بڑے ٹورنامنٹس شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا: ’’2030 کے دولتِ مشترکہ کھیل ہندوستان میں منعقد ہوں گے اور 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے بھی ملک مضبوط کوششیں کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو مقابلے کے بڑے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسکولی سطح پر بھی نوجوان کھلاڑیوں کو اولمپک کھیلوں سے روشناس کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جناب مودی نے کہا کہ کھیلو انڈیا مہم کے ذریعے سینکڑوں نوجوانوں کو قومی سطح تک آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز قبل ہی سنسد کھیل مہوتسو کا انعقاد مکمل ہوا، جس میں تقریباً ایک کروڑ نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وارانسی کے رکنِ پارلیمان ہونے کے ناطے انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ سنسد کھیل مہوتسو کے دوران وارانسی کے لگ بھگ تین لاکھ نوجوانوں نے میدان میں اپنی طاقت اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔

کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس سے وارانسی کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید کھیل سہولیات تیار کی جا رہی ہیں اور مختلف کھیلوں کے لیے اسٹیڈیم تعمیر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اسپورٹس کمپلیکس قریبی اضلاع کے کھلاڑیوں کو تربیت کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سگرا اسٹیڈیم، جہاں یہ پروگرام منعقد ہو رہا ہے، اب متعدد جدید سہولیات سے لیس ہے۔

وزیراعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وارانسی بڑے پروگراموں کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے اور قومی والی بال مقابلے کے ذریعے ملک کے کھیلوں کے نقشے پر اپنی جگہ بنانا شہر کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس چیمپئن شپ سے قبل بھی وارانسی کئی اہم تقریبات کی میزبانی کر چکا ہے، جن سے مقامی لوگوں کو مواقع ملے اور مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہوا، جن میں جی-20 اجلاس، کاشی تمل سنگم اور کاشی تیلگو سنگم جیسے ثقافتی میلے، پراواسی بھارتیہ سمیلن اور شنگھائی تعاون تنظیم کی ثقافتی راجدھانی کے طور پر وارانسی کا انتخاب شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیمپئن شپ اب ان کامیابیوں میں ایک اور قیمتی اضافہ ہے اور اس طرح کے پروگرام وارانسی کو بڑے قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر قائم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت وارانسی میں خوشگوار سرد موسم ہے اور اس کے ساتھ لذیذ موسمی پکوان بھی دستیاب ہیں اور انہوں نے خاص طور پر ملائیوں سے لطف اندوز ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ بابا وشوناتھ کے درشن، گنگا میں کشتی سواری اور شہر کے تہذیبی ورثے کے تجربات کو بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور امید ظاہر کی کہ وارانسی کی دھرتی سے لگایا جانے والا ہر اسپائک، ہر بلاک اور حاصل کیا جانے والا ہر پوائنٹ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ آخر میں انہوں نے ایک بار پھر تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر دیگر معزز شخصیات کے ساتھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔

پس منظر

72ویں قومی والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد 4 سے 11 جنوری کے درمیان کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے 58 ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں ہندوستانی والی بال میں اعلیٰ معیار کے مقابلے، کھیل جذبے اور صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ متوقع ہے۔

وارانسی میں 72ویں قومی والی بال ٹورنامنٹ کی میزبانی شہر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھیلوں کی ترقی کو فروغ دینے پر بڑھتے ہوئے زور کی عکاس ہے۔ اس سے وارانسی کی شناخت بڑے قومی پروگراموں کے ایک اہم مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوتی ہے اور یہ شہر کی ثقافتی اور کھیلوں سے متعلق اہم سرگرمیوں کی میزبانی میں بڑھتے ہوئے کردار کے عین مطابق ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-113


(रिलीज़ आईडी: 2211241) आगंतुक पटल : 28
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam