وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بھگوان بدھ سے وابستہ پوتر پپرہوا باقیات کی عظیم بین الاقوامی نمائش کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کا انگریزی متن

प्रविष्टि तिथि: 03 JAN 2026 2:59PM by PIB Delhi

نمو بُدّھیا

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، جناب گجیندر سنگھ شیکھاوت جی، جناب کرن رجیجو جی، جناب رام داس اٹھاولے جی، جناب راؤ اندرجیت جی، دلّی کی وزیر اعلیٰ کی پہلے سے مقررہ کوئی  مصروفیت تھی اور اُنھیں واپس جانا پڑا، دلّی حکومت کے تمام معزز وزرا، دلّی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب سکسینہ جی، معزز سفارتی برادری کے ارکان، بدھ مت کے جید اسکالر، دھمّا کے پیروکارو، معزز خواتین و حضرات۔

ایک سو پچیس برس کے انتظار کے بعد بھارت کا ورثہ واپس لوٹ آیا ہے، بھارت کی وراثت دوبارہ اپنے وطن میں آ گئی ہے۔ آج سے بھارت کے عوام بھگوان بدھ سے وابستہ اُن پوتر باقیات کا دیدار کر سکیں گے اور ان کا آشیرواد  حاصل کریں گے۔ اس پوترموقع پر میں یہاں موجود تمام معزز مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس اہم موقع پر بدھ مت کی روایت سے وابستہ بھکشو اور مذہبی اسکالر  بھی ہمیں آشیرواد دینے کے لیے موجود ہیں۔ میں آپ سب کو سب سر جھکا کر سلام پیش کرتا ہوں ۔ آپ کی موجودگی اس تقریب کو نئی بلندیوں اور نئی توانائی سے نواز رہی ہے۔ سال 2026 کے آغاز میں یہ مبارک تقریب واقعی حوصلہ افزا ہے۔ یہ بھی میری خوش نصیبی ہے کہ سال 2026 کا میرا پہلا عوامی پروگرام بھگوان بدھ کے قدموں میں شروع ہو رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ بھگوان بدھ کے آشیرواد سے سال 2026 دنیا کے لیے امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کا نیا دور لے کر آئے۔

دوستو،

جہاں یہ نمائش منعقد کی گئی ہے، وہ مقام بذاتِ خود نہایت خاص ہے۔ قلعہ رائے پتھوڑا کا یہ علاقہ بھارت کی شاندار تاریخ کی سرزمین ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال قبل اُس دور کے حکمرانوں نے اس تاریخی قلعے کے گرد مضبوط اور محفوظ فصیلوں کے ساتھ ایک شہر آباد کیا تھا۔ آج اسی تاریخی شہر کے احاطے میں ہم اپنی تاریخ میں ایک روحانی اورپوترباب کا اضافہ کر رہے ہیں۔

دوستو،

یہاں آنے سے قبل میں نے اس تاریخی نمائش کو بغور دیکھا۔ بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  کا ہمارے درمیان ہونا ہم سب کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ ان کا بھارت سے جانا اور پھر واپس آنا، دونوں ہی اپنے اندر گہرے اسباق رکھتے ہیں۔ یہ سبق یہ ہے کہ غلامی صرف سیاسی اور معاشی ہی نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہمارے ورثے کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ بھگوان بدھ کےپوترآثار کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ غلامی کے دور میں یہ آثار بھارت سے باہر لے جائے گئے اور تقریباً ایک سو پچیس برس تک ملک سے باہر رہے۔ جو لوگ انہیں لے گئے اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ محض بے جان قدیم نوادرات تھے۔ اسی لیے انہوں نے ان پوتر آثار کو بین الاقوامی بازار میں نیلام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بھارت کے لیے یہ آثار ہمارے عقیدے سے وابستہ  ہیں، ہماری تہذیب کا ایک ناقابلِ جدا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت نے فیصلہ کیا کہ ان کی سرکاری نیلامی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج میں گودریج گروپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کے تعاون سے بھگوان بدھ سے وابستہ یہ پوتر آثار ان کی کرم بھومی، دھیان بھومی، مہابودھی بھومی اور مہاپرینروان بھومی، یعنی بھارت، واپس آ سکے۔

دوستو،

بھگوان بدھ کا گیان اور ان کے دکھائے ہوئے راستے پوری انسانیت کے لیے ہیں اور وقت کے ساتھ کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ حالیہ مہینوں میں ہم نے اس احساس کو بار بار محسوس کیا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں جہاں جہاں بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  گئے، وہاں عقیدت اور آستھا  کی لہریں اُمڈ آئیں۔ تھائی لینڈ میں، جہاں یہ باقیات  مختلف مقامات پر رکھے گئے، ایک ماہ سے بھی کم وقت میں چالیس لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے درشن کیے۔ ویتنام میں عوامی جذبات اتنےزبردست تھے کہ نمائش کی مدت بڑھانی پڑی، اور نو شہروں میں تقریباً ایک کروڑ نوّے لاکھ افراد نے ان باقیات  کو پورے جذبے  کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا۔ منگولیا میں گندن خانقاہ کے باہر ہزاروں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہے اور بہت سے لوگ بھارتی نمائندوں کو صرف اس لیے چھونا چاہتے تھے کہ وہ بدھ کی سرزمین سے آئے تھے۔ روس کے کالمیکیا خطے میں، محض ایک ہفتے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے ان پوتر باقیات کے درشن کیے، جو وہاں کی مقامی آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے ان پروگراموں میں، چاہے عام شہری ہوں یا حکومتوں کے سربراہان، سب یکساں عقیدت کے ساتھ مربوط نظر آئے۔ بھگوان بدھ سب کے ہیں۔ بھگوان بدھ سب کو جوڑتے ہیں۔

دوستو،

میں اپنے آپ  کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ بھگوان بدھ کو میری زندگی میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ میری جائے پیدائش وڈ نگر بدھ مت کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز رہی ہے۔ سارناتھ، جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا اُپدیش  دیا، آج میری کرم بھومی ہے۔ حتیٰ کہ جب میں حکومتی ذمہ داریوں میں شامل نہیں تھا، تب بھی میں ایک عقیدتمند  کی حیثیت سے بدھ مت کے پوتر مقامات کی یاترا کرتا رہا ہوں۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے مجھے دنیا بھر کے بدھ مت سے وابستہ مراکز کے دورے کا بھی موقع ملا ہے۔ نیپال کے لمبنی میں مایا دیوی کے پوتر  مندر میں درشن دینا اپنے آپ میں ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ جاپان کے تو-جی مندر اور کنکاکو-جی میں مجھے یہ احساس ہوا کہ بدھ کا پیغام وقت کی حدود سے ماورا ہے۔ چین کے شہر شی آن میں واقع بگ وائلڈ گوز پاگوڈا کا دورہ کیا، جہاں سے بدھ مت کے صحیفے پورے ایشیا میں پھیلے اور جہاں آج بھی بھارت کے کردار کو یاد کیا جاتا ہے۔ منگولیا کے گندن خانقاہ میں، میں نے لوگوں کے دلوں میں بدھ کی وراثت سے جڑی گہری جذباتی وابستگی کو محسوس کیا۔ سری لنکا کے انورادھا پورہ میں جے شری مہابودھی کے درشن کرنا شہنشاہ اشوک، بھکشو مہندا اور سنگھمیترا کی  روایت سے روشناس ہونے کا ایک روحانی تجربہ تھا۔ تھائی لینڈ کے وات فو اور سنگاپور کے بدھا ٹوتھ ریلک ٹیمپل کے دوروں نے بھی بھگوان بدھ کی تعلیمات کے اثرات کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں میری مدد کی۔

دوستو،

جہاں جہاں میں گیا، میری یہ کوشش رہی کہ وہاں کے لوگوں تک بھگوان بدھ کی وراثت کی کوئی علامت ضرور لے کر جاؤں۔ اسی لیے میں چین، جاپان، کوریا اور منگولیا میں بودھی درخت کے پودے ساتھ لے گیا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انسانیت کے لیے کتنا گہرا پیغام ہے کہ ایٹم بم سے تباہ ہونے والے شہر ہیروشیما کے نباتاتی باغ میں ایک بودھی درخت موجود ہو۔

دوستو،

بھگوان بدھ کی یہ مشترکہ وراثت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت صرف سیاست، سفارت کاری اور معیشت کے ذریعے ہی نہیں جڑا ہوا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرے رشتوں سے منسلک ہے۔ ہم ذہن اور جذبات کے ذریعے، عقیدے اور روحانیت کے ذریعے ایک دوسرے سےمربوط  ہیں۔

دوستو،

بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے پوتر باقیات  کا محافظ ہے بلکہ ان کی روایت کا زندہ امین بھی ہے۔ پپرہوا، ویشالی، دیونی موری اور ناگرجُن کونڈا میں ملنے والے بدھ کے باقیات  ان کے پیغام کی زندہ مثال  ہیں۔ بھارت نے سائنس اور روحانیت دونوں کے ذریعے ان  باقیات  کو ہر ممکن شکل میں محفوظ  رکھا ہے ان کا تحفظ کیا ہے۔

دوستو،

بھارت نے ہمیشہ دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثے کی ترقی میں تعاون کی کوشش کی ہے۔ نیپال میں تباہ کن زلزلے کے بعد جب قدیم استوپاؤں کو نقصان پہنچا، تو بھارت نے ان کی تعمیر نو میں مدد فراہم کی۔ میانمار کے باگان میں زلزلے کے بعد بھارت نے گیارہ سے زائد پاگوڈاؤں کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ خود بھارت میں بھی بدھ مت سےوابستہ مقامات اور باقیات  کی تلاش اور ان کے تحفظ کا کام مسلسل جاری ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، گجرات میں میری جائے پیدائش وڈ نگر بدھ مت کی روایت کا ایک بڑا مرکز رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی مدت کار میں وہاں بدھ مت سے متعلق ہزاروں باقیات  دریافت ہوئے۔ آج ہماری حکومت ان کے تحفظ اور نئی نسل کو ان سے واقف کرانے پر توجہ دے رہی ہے۔ وہاں ایک شاندار تجرباتی میوزیم تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً 2500 سال کی تاریخ کا تجربہ فراہم کرتا ہے۔ چند ماہ قبل ہی جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں بدھ دور کا ایک اہم مقام دریافت ہوا ہے اور اب اس کے تحفظ کے کام کو تیز کیا جا رہا ہے۔

دوستو،

گزشتہ دس سے گیارہ برسوں میں بھارت نے بدھ مت کے مقامات کو جدیدیت سے مربوط کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ بودھ گیا میں کنونشن سینٹر، مراقبہ اور تجرباتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ سارناتھ میں دھمیک استوپا پر لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو اور بدھ تھیم پارک بنایا گیا ہے۔ شراوستی، کپلوستو اور کشی نگر میں جدید سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ تلنگانہ کے نالگونڈہ میں ڈیجیٹل ایکسپیرینس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ سانچی، ناگرجن ساگر اور امراوتی میں عقیدت مندوں  کے لیے نئی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ آج ملک میں ایک بدھ سرکٹ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کے تمام بدھ مت سے وابستہ  مقامات کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو اور دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کوعقیدت  اور روحانیت کااحساس ہوسکے۔

دوستو،

ہماری کوشش ہے کہ بدھ مت کا یہ ورثہ فطری انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچے۔ گلوبل بدھسٹ سمٹ اور ویشاکھ اور آشاڑھ پورنیما جیسے بین الاقوامی پروگرام اسی سوچ کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ بھگوان بدھ کی ابھیدھمّ، ان کے اقوال اور تعلیمات اصل میں پالی زبان میں تھیں۔ ہم پالی زبان کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت پالی کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے دھمّا کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہوگی اور بدھ مت سے متعلق تحقیق کو بھی تقویت ملے گی۔

دوستو،

بھگوان بدھ کا فلسفۂ حیات سرحدوں اور جغرافیائی حدود سے ماورا تھا اور اس نے دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا۔’’بھوتو سبّ منگلم، رکھنتو سبّ دیوتا، سبّ بدھنوبھاوین سدّا سُتّی بھونتو تے‘‘ — یہ پوری دنیا کی بھلائی کی دعا ہے۔بھگوان بدھ نے انسانیت کو انتہاپسندی سے بچانے کی کوشش کی اور اپنے پیروکاروں سے فرمایا:’’اتّا دیپو بھوا بھکھّوے! پریکشّیا بھکشوو گرہیم، مد وچو نہ تُو گوروَت‘‘۔یعنی:’’بھکشوؤ! اپنے لیے خود چراغ بنو۔ میری باتوں کو بھی پرکھ کر قبول کرو، محض میرے احترام میں نہیں۔‘‘

دوستو،

بدھ کا یہ پیغام ہر دور اور ہر زمانے میں یکساں طور پر اہم ہے۔ خود اپنے لیے چراغ بننا خودداری کی بنیاد اور خود انحصاری کا جوہر ہے — ’’اتّا دیپو بھوا‘‘۔

دوستو،

بھگوان بدھ نے دنیا کو ٹکراؤ اور غلبے کے بجائے ساتھ چلنے کا راستہ دکھایا اور یہی ہمیشہ بھارت کا بنیادی فلسفہ رہا ہے۔ ہم نے خیالات کی طاقت اور جذبات کی گہرائی کے ذریعے ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں عالمی فلاح کا راستہ اپنایا ہے۔  اسی سوچ کے ساتھ کہ بھارت اکیسویں صدی کی دنیا میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی لیے جب ہم کہتے ہیں کہ یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ بدھ کا ہے، تو بھارت کا کردار واضح ہو جاتا ہے: انسانیت کے دشمنوں کے خلاف طاقت ضروری ہے، لیکن جہاں صرف اختلافات ہوں، وہاں بات چیت اور امن انتہائی ضروری ہیں۔

دوستو،

بھارت ’’سروجن ہِتائے، سروجن سُکھائے‘‘ کے اصول پر کاربند ہے۔ یہی بھگوان بدھ کی تعلیم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس نمائش میں آنے والا ہر فرد بھی اسی جذبے سے محسوس کرے گا۔

دوستو،

بھگوان بدھ کے یہ پوتر آثار بھارت کا ورثہ ہیں۔ ایک صدی سے زائد کے انتظار کے بعد یہ دوبارہ وطن واپس آئے ہیں۔ اس لیے میں ملک بھر کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں، ان پوتر  آثار کے درشن کریں، بھگوان بدھ کے افکار سے جُڑیں اور کم از کم ایک بار اس نمائش کو ضرور دیکھنے آئیں۔ میں خاص طور پر اسکول اور کالج کے طلبہ، نوجوان ساتھیوں اور بیٹیوں بیٹوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ لازمی طور پر یہ نمائش دیکھیں۔ یہ نمائش ہمارے ماضی کے وقار کو ہمارے مستقبل کے خوابوں سے منسلک کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ میں ملک بھر کے عوام سے اس نمائش میں شرکت کی اپیل کرتا ہوں۔ اسی اپیل کے ساتھ ایک بار پھر میں اس تقریب کی کامیابی کے لیے سب کو اپنی نیک خواہشات  پیش کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ!

نمو بُدّھیا!

***********

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 100


(रिलीज़ आईडी: 2211110) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Manipuri , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Telugu , Kannada , Malayalam