کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے‘بھارت بلڈکان 2026’ کے تعارفی تقریب کی نقاب کشائی کی
حکومت صنعت کو یکطرفہ اقدامات سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے: جناب پیوش گوئل
اس سال ہماری برآمدات پچھلے سال سے زیادہ ہوں گی: جناب گوئل
جناب گوئل نے’زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ‘ اور ’دام کم، دم زیادہ‘مینوفیکچرنگ کے لئے وزیر اعظم کی اپیل کو اجاگر کیا
ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ حالیہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) اور متعدد ممالک و گروپوں کے ساتھ تیز رفتار مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا ایک ابھرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کی خواہشمند ہے: جناب گوئل
بھارت کی صلاحیت کو بعض ماہرین اور میڈیا درست طور پر نہیں سمجھ پا رہے ہیں: جناب گوئل
جناب گوئل نے بھارتی صنعت کو آسٹریلوی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور اسے گیم چینجر قرار دیا
Posted On:
29 AUG 2025 1:00PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں بھارت بلڈکان 2026 کے تعارفی تقریب کا افتتاح کیا، جس میں ملک بھر سے آئے صنعتکار بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ بھارتی صنعت کو کسی بھی ملک کے یکطرفہ اقدامات کے باعث غیر ضروری دباؤ یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے صنعت کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں متبادل منڈیوں کی ضرورت ہے اور یقین دلایا کہ وزارتِ تجارت دنیا بھر میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئی تجارتی راہیں کھول رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی روابط کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ گھریلو کھپت کو فروغ دینا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس ایسے اقدامات سامنے لانے کی توقع رکھتا ہے جو فوری طور پر مانگ میں اضافہ کریں گے اور ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط تقویت فراہم کریں گے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت اس امر پر مرتکز ہے کہ کوئی بھی شعبہ پیچھے نہ رہ جائے-چاہے وہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کا معاملہ ہو یا اندرونِ ملک مواقع کو تقویت دینے کا۔ انہوں نے کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیو سی او) میں سرگرم شمولیت کی بھی حوصلہ افزائی کی تاکہ بھارت اعلیٰ معیار کی مصنوعات کا قابلِ اعتماد سپلائر بن کر ابھرے۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ اس سال کی برآمدات پچھلے سال سے زیادہ ہوں گی، جو بھارتی صنعت کی بڑھتی ہوئی مسابقت اور لچک کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیر موصوف نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی اُس مستقل اپیل کو یاد دلایا جو 2014 سے جاری ہے کہ بھارت میں"زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ" مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے یومِ آزادی کے پیغام کا بھی حوالہ دیا جس میں وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی مصنوعات کو "دام کم، دم زیادہ" یعنی سستی لیکن طاقتور ہونا چاہیے۔ جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ڈھانچہ آج بھی قومی ترقی کا مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی صلاحیت کو بعض ماہرین اور میڈیا درست طور پر نہیں سمجھ رہے۔ انہوں نے نشان دہی کی چند تجزیہ کار ملک کی صلاحیت کو کم تر سمجھتے ہیں، لیکن بھارتی صنعت کی لچک، اسٹارٹ اَپس کی طاقت اور عوام کا اعتماد ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ بھارت نے کووڈ-19 اور حتیٰ کہ جوہری پابندیوں جیسے بڑے چیلنجز کو کامیابی سے عبور کیا اور آج یہ دنیا کی تجارت میں اپنے حصے کو بڑھانے کے لیے مضبوطی سے تیار کھڑا ہے۔
وزیر موصوف نے آسٹریلیا میں شدید مکانات کی کمی کی طرف بھی توجہ دلائی، جہاں تقریباً 10 لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارتی کاروباری اداروں، مزدوروں اور ماہرین کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہا کہ آسٹریلیا مالی تعاون، تکنیکی مہارت اور افرادی قوت کے لیے بھارت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی پروفیشنلز کو آسٹریلوی معیار پر پورا اترنے کے لیے تربیت اور سرٹیفیکیشن کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا: "اگر ہم نے یہ موقع کھو دیا تو اس کے ذمے دار صرف ہم خود ہوں گے۔" جناب گوئل نے اسے بھارت کے تعمیراتی اور مالیاتی شعبوں کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا۔
جناب پیوش گوئل نے مزید اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے وسیع ہوتے ہوئے نیٹ ورک کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے، جن میں آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سوئٹزرلینڈ، ناروے، لیختنسٹائن، آئس لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں، جبکہ یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے بھارتی صنعتوں جیسے تعمیرات، اسٹیل اور متعلقہ شعبوں کے لیے مزید عالمی مواقع فراہم کریں گے۔
جناب گوئل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کئی ترقی یافتہ ممالک بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جیسے ممالک بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی شراکت داری نہ صرف بھارت کی برآمدات اور عالمی منڈی میں انضمام کے امکانات کو تقویت دے گی بلکہ ملک کی صاف توانائی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو بھی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
گزشتہ سال بھارت بلڈکان کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی بات تھی کہ پروگرام نے حکومت کی کم سے کم شمولیت کے باوجود اتنی بڑی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے صنعت کے رہنماؤں پر زور دیا کہ بھارت بلڈکان 2026 کو ایک خود کفیل اور صنعت کی قیادت میں چلنے والا اقدام بنایا جائے، جس میں ضرورت پڑنے پر حکومت معاون کردار ادا کرے۔
وزیر موصوف نے تجویز دی کہ 2026 کا ایڈیشن صرف دارالحکومت تک محدود نہ ہو بلکہ اسے ملک کے دیگر حصوں تک بھی لے جایا جائے تاکہ اس شعبے کی صلاحیتوں سے متعلق بیداری پھیلائی جا سکے۔ انہوں نے منتظمین پر زور دیا کہ تمام متعلقہ شعبوں کی وسیع شمولیت کو یقینی بنائیں، ماضی کے شرکاء کے لیے ایک مؤثر فیڈ بیک میکانزم قائم کریں اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کریں تاکہ یہ ایونٹ حقیقتاً ایک عالمی پلیٹ فارم بن سکے۔
انہوں نے اسٹیل اور خام لوہے میں موجود وسیع برآمدی امکانات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت سالانہ 1.5 کروڑ ٹن اسٹیل برآمد کر سکتا ہے، جس سے برآمدات کے مجموعے کو اعلیٰ معیار اور مسابقتی قیمت والی مصنوعات کے ساتھ مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ آئیے ایسا انفراسٹرکچر بنائیں جو پورے بھارت کو ایک ساتھ باندھ دے۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس بات پر کیا کہ بھارت بلڈکان 2026 بھارت کی طاقت، اختراع، لچک اور مسابقت کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا، جب ملک وکست بھارت 2047 کی جانب بڑھ رہا ہے۔
29 اپریل سے 2 مئی 2026 تک نئی دہلی کے یشوبھومی کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والا بھارت بلڈکان، بھارت کے بلڈنگ اور کنسٹرکشن میٹریل انڈسٹری کے لیے ایک بین الاقوامی فلیگ شپ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 1 ٹریلین امریکی ڈالر کی قدر والی بھارتی تعمیراتی منڈی، جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے، کے تناظر میں یہ ایونٹ سیمنٹ، سیرامکس، ٹائلز، سینیٹری ویئر، پینٹس، ہارڈویئر، الیکٹریکلز اور دیگر 37 متعلقہ شعبوں میں بھارت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
یہ نمائش بھارتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں فروغ دینے، برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
تعارفی تقریب کے ساتھ ہی، بھارت بلڈکان 2026 کو صرف ایک نمائش کے طور پر نہیں بلکہ بھارت کی تعمیراتی صنعت میں عالمی موجودگی کو مستحکم کرنے اور ترقی کے قومی وژن کو آگے بڑھانے کا ایک اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –ع ح- م ق ا)
U. No.5430
(Release ID: 2161804)
Visitor Counter : 33