امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے منی پور میں صدر راج کے نفاذ کی منظوری کے لیے راجیہ سبھا میں ایک قانونی قرارداد پیش کی جےس ایوان نے منظور کر لیا
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ منی پور حکومت کے خلاف عدم اعتماد اس لیے نہیں لایا گیا ،کیونکہ اپوزیشن کے پاس مناسب اراکین نہیں تھے
یہ تشدد دہشت گردی، حکومتی ناکامی یا مذہبی تنازعہ نہیں ہے ،بلکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے دو برادریوں کے درمیان عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے ہونے والا نسلی تشدد ہے
منی پور میں حزب اختلاف کی حکومتوں کے دور میں، ایک سال میں اوسطاً 200 دن سے زیادہ ہڑتالیں، ناکہ بندی اور کرفیو ہوتا تھا اور ایک ہزار سے زیادہ لوگ انکاؤنٹر میں مارے جاتے تھے، اس وقت کے وزیر اعظم نے منی پور کا دورہ نہیں کیا تھا
نسلی تشدد اور نکسل ازم میں فرق ہے، لیکن حزب اختلاف دونوں میں کوئی فرق دیکھنے میں ناکام ہے
حکومت کے عوام کے خلاف کھڑے ہونے والے مسلح نکسلائٹس اور دو برادریوں کے درمیان نسلی تشدد سے نمٹنے کے طریقے مختلف ہیں
دونوں فریقوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور جلد ہی نئی دہلی میں ایک اور میٹنگ ہونے جا رہی ہے
وزیر داخلہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں کمیونٹیز صورتحال کو سمجھیں گی اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں گی
Posted On:
04 APR 2025 5:39PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے منی پور میں صدر راج کے نفاذ کی منظوری کے لیے راجیہ سبھا میں ایک قانونی قرارداد پیش کی، ایوان بالا نے اس قرارداد کو منظور کرلیا۔
قرارداد پیش کرتے ہوئے امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے وضاحت کی کہ منی پور حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اس لیے نہیں لائی گئی، کیونکہ اپوزیشن کے پاس ایسی تجویز پیش کرنے کے لیے مناسب ارکان نہیں تھے۔ جناب شاہ نے بتایا کہ ان کی پارٹی کے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دیا، جس کے بعد گورنر نے بی جے پی کے 37 ارکان اسمبلی، این پی پی کے 6، این پی ایف کے 5، جے ڈی یو کے 1 اور کانگریس کے 5 ارکان سے بات چیت کی۔ جب زیادہ تر ارکان نے یہ کہا کہ وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، جس کے بعد کابینہ نے صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی، جسے صدر نے منظور کر لیا۔
جناب امت شاہ نے ذکر کیا کہ 13 فروری 2025 کو صدر راج نافذ کیا گیا تھا، جبکہ منی پور میں دسمبر 2024 سے آج تک کوئی تشدد نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کی غلط فہمیاں نہ پھیلائی جائیں ۔ جناب شاہ نے نشاندہی کی کہ اگر ہم سات سال پہلے کی صورتحال کا حوالہ دیں ، جب منی پور میں حزب اختلاف کی پارٹی اقتدار میں تھی ، تب ریاست نے اوسطا ًایک سال میں 200 دن کی ہڑتالیں ، ناکہ بندی اور کرفیو کا تجربہ کیا تھا اور انکاؤنٹر میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جاتے تھے ۔ انہوں نے نشاندہی کرائی کہ اس دوران اس وقت کے وزیر اعظم نے منی پور کا دورہ نہیں کیا تھا ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نسلی تشدد اور نکسلز میں فرق ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب دو برادریوں کے درمیان تشدد ہوتا ہے تو اس سے نمٹنے کا طریقہ مسلح نکسلیوں سے نمٹنے سے مختلف ہوتا ہے ، جو حکومت اور ملک کے عوام کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اپوزیشن تشدد کی ان دو شکلوں میں فرق کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ جناب شاہ نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بنگال میں سندیش کھلی جیسے علاقوں میں سینکڑوں برسوں سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی رہی ،لیکن اپوزیشن نے کچھ نہیں کیا اور اسی طرح آر جی کر کیس میں بھی کچھ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوہرا معیار زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ منی پور میں نسلی تشدد میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے ، لیکن بنگال میں صرف انتخابات سے متعلق تشدد میں تقریبا 250 افراد مارے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دو نشستیں جیت کر انہیں سبق سکھانا چاہتی ہے ،لیکن ملک کے عوام نے پچھلے تین عام انتخابات میں اپوزیشن کو مسلسل سبق سکھایا ہے ۔
جناب امت شاہ نے اجاگر کیا کہ 2004 سے 2014 تک شمال مشرق میں 11,327 تشدد کے واقعات ہوئے، لیکن مودی حکومت کے دس سالوں میں یہ واقعات 70 فیصد کمی ہوکر 3,428 تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے مزید ذکر کیا کہ سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں 70 فیصد کمی آئی ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں 85 فیصد کمی آئی ہے۔ جناب شاہ نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت نے شمال مشرق میں 20 امن معاہدے کیے ہیں اور 10,000 سے زائد نوجوانوں نے اپنے ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ منی پور میں نسلی تشدد میں اب تک 260 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 70 فیصد اموات پہلے 15 دنوں میں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب منی پور میں نسلی تشدد ہوا ہے ۔ جناب شاہ نے ایوان کو بتایا کہ 1993 اور 1998 کے درمیان منی پور میں پانچ سالہ ناگا-کوکی تنازعہ ہوا ، جس کے نتیجے میں 750 افراد ہلاک ہوئے اور ایک دہائی تک چھٹپٹ واقعات جاری رہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے اس عرصے کے دوران ریاست کا دورہ نہیں کیا ۔ 98-1997میں ، کوکی-پائیٹ تنازعہ ہوا ، جس کی وجہ سے 50 سے زیادہ دیہاتوں کی تباہی ، 13 ہزار افراد کی نقل مکانی ، 352 اموات ، سیکڑوں زخمی اور 5000مکانات نذر آتش کیے گئے ۔ جناب شاہ نے مزید بتایا کہ 1993 میں چھ ماہ تک جاری رہنے والے میتی پنگل تنازعہ کے دوران 100 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے ۔ ان پرتشدد واقعات کے دوران بھی اس وقت کے وزیر اعظم نے منی پور کا دورہ نہیں کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی پارٹی نے اس وقت تشدد کی سیاست نہیں کی تھی ، لیکن آج اپوزیشن سیاسی خدمت سمجھ منی پور کے زخموں کو بڑھا رہی ہے ۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ منی پور ہائی کورٹ کے حکم سے پہلے منی پور میں سات سال کی حکمرانی میں ایک دن کی بھی ہڑتال یا کرفیو نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تشدد ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ منی پور میں قبائلی اور غیر قبائلی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے شروع ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشدد نہ تو حکومت کی ناکامی تھی اور نہ ہی دہشت گردی یا مذہبی تنازعہ ، بلکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو برادریوں کے درمیان پھیلنے والے عدم تحفظ کے احساس سے پیدا ہونے والا نسلی تشدد تھا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے ہی دن سپریم کورٹ نے اس حکم پر روک لگا دی ک،یونکہ اسے غیر آئینی قرار دیا گیا تھا ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کا نفاذ کسی کو بچانے کے لیے یا عدم اعتماد کی تحریک کی وجہ سے نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد ،حکومت ہند کے سابق ہوم سکریٹری جناب اجے کمار بھلا کو منی پور کا گورنر مقرر کیا گیا تھا ،اور اب ریاست میں امن وامان ہے۔ جناب شاہ نے ایوان کو بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے ہی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ایوان کے جاری اجلاس کے دوران بھی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں برادریوں کے درمیان ایک اور ملاقات جلد ہی نئی دہلی میں ہونے کا امکان ہے ۔ وزیر داخلہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں برادریاں صورتحال کو سمجھیں گی اور بات چیت کا راستہ اپنائیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی منی پور میں صورتحال معمول پر آئے گی ، فوری طور پر صدر راج اٹھا لیا جائے گا ، کیونکہ صدر راج برقرار رکھنا ان کی پارٹی کی پالیسی نہیں ہے ۔
****
UR-9535
(ش ح۔ م ع ن۔ن م )
(Release ID: 2119002)
Visitor Counter : 15