امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل، 2025 اور مسلمان وقف (منسوخی) بل، 2024 پر بحث میں شرکت کی

Posted On: 02 APR 2025 9:38PM by PIB Delhi

اپوزیشن یہ غلط فہمی پھیلا رہی ہے کہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں اور ان کی طرف سے عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت ہے

 

اپوزیشن اقلیتی برادری کو خوفزدہ کرکے اپنا ووٹ بینک بنانے کی کوشش کر رہی ہے

 

حکومت مسلم بھائیوں اور ان کے عطیات یعنی وقف سے وابستہ ٹرسٹوں کی مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی

 

متولی، واقف، وقف سبھی مسلمان ہوں گے، لیکن یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ وقف کی جائیداد کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھا جا رہا ہے یا نہیں

 

مذہبی عطیات سے متعلق وقف بورڈ کے کام میں کسی غیر اسلامی رکن کو جگہ نہیں ملے گی

 

وقف بورڈ یا اس کے احاطے میں مقرر کردہ غیر مسلم اراکین کا کام مذہبی سرگرمیوں سے متعلق نہیں ہوگا

 

کسی بھی مذہب کا شخص چیریٹی کمشنر بن سکتا ہے، وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بورڈ خیرات سے متعلق قانون کے مطابق چلے، یہ انتظامی کام ہے ، مذہبی نہیں

 

وقف بورڈ کا کام وقف کی جائیدادیں بیچنے والوں کو پکڑ کر باہر نکالنا ہونا چاہیے

 

اپوزیشن چاہتی ہے کہ ان کی حکمرانی میں جو گٹھ جوڑ چل رہا تھا وہ جاری رہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا

 

اگر 2013 میں وقف قانون میں ترمیم نہ کی جاتی تو اس بل کو لانے کی ضرورت نہ پڑتی

سال2013 میں خوشنودی کے لیے راتوں رات وقف قانون کو حتمی شکل دی گئی، جس کی وجہ سے دہلی میں لیوٹینز زون کی 123 وی وی آئی پی جائیدادیں وقف کو دے دی گئیں

 

نریندر مودی حکومت ایک بہت واضح اصول پر چلتی ہے کہ ہم ووٹ بینک کے لیے کوئی قانون نہیں لائیں گے کیونکہ قانون انصاف اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے

 

ہر کسی کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کا حق ہے، لیکن لالچ ، بہکاوے اور خوف کے لیے مذہب تبدیل نہیں کیا جا سکتا

 

سال 2013 میں لائے گئے ترمیمی بل پر دونوں ایوانوں میں کل ساڑھے پانچ گھنٹے بحث ہوئی جبکہ اس بل پر دونوں ایوانوں میں 16 گھنٹے سے بحث ہو رہی ہے

 

ہم نے ایک مشترکہ کمیٹی بنائی ، 38 میٹنگیں ہوئیں ، 113 گھنٹے بحث ہوئی اور 284 اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا اور ان سب سے ملک بھر سے تقریبا ایک کروڑ آن لائن تجاویز آئیں اور ان سب کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ قانون بنا اور اسے اس طرح مسترد نہیں کیا جا سکتا

 

یہ حکومت ہند کا قانون ہے جس کے سب پابند ہیں اور سب کو اسے قبول کرنا ہوگا

 

سال 1913 سے 2013 تک وقف بورڈ کی کل زمین 18 لاکھ ایکڑ تھی، جس میں سال 2013 سے 2025 تک 21 لاکھ ایکڑ نئی زمین شامل کی گئی

 

بیس  ہزار جائیدادیں لیز پر دی گئی تھیں، لیکن ریکارڈ کے مطابق 2025 میں یہ جائیدادیں صفر ہوگئیں، یہ جائیدادیں بیچ دی گئیں

 

یہ بل زمین کو تحفظ فراہم کرے گا ، کسی کی زمین محض اعلان نامے سے وقف نہیں ہوگی

 

عطیہ صرف اپنی جائیداد سے کیا جا سکتا ہے، اس لیے وقف ملکیت کے بغیر ذاتی جائیداد نہیں لے سکے گا

 

وقف کی جائیداد کا اعلان کرنے کا حق ختم کر دیا گیا ہے اور اب اس کی تصدیق ضلع کلکٹر کو کرنی ہوگی

 

جناب امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ اقلیتی برادری کے لوگوں میں خوف پیدا کرنا ایک فیشن بن گیا ہے

 

یہاں تک کہ رام جنم بھومی، تین طلاق اور سی اے اے کے دوران بھی مسلم طبقے کے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن مسلم طبقے کو بھی معلوم ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے

 

دو سال ہو گئے ہیں، سی اے اے کی وجہ سے کسی کی شہریت نہیں گئی، اگر سی اے اے کی وجہ سے کسی کی شہریت گئی ہے تو اپوزیشن یہ معلومات ایوان کے سامنے رکھے

 

یہ مودی حکومت کا عزم ہے کہ اس ملک کے کسی بھی شہری کو اس کے مذہب سے قطع نظر نقصان نہیں پہنچایا جائے گا

 

امورِداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل، 2025 اور مسلمان وقف (منسوخی) بل، 2024 پر بحث میں شرکت کی۔

بحث میں شرکت کرتے ہوئے جناب امت شاہ نے کہا کہ وقف ایک عربی لفظ ہے اور اس کی تاریخ کا تعلق احادیث سے ہے۔ آج جس طرح سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس سے مراد اللہ کے نام پر جائیداد کا عطیہ یا مقدس مذہبی مقاصد کے لیے جائیداد کا عطیہ ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ وقف کے عصری معنی اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر کے دور میں وجود میں آئے۔ آج کی زبان میں وقف ایک قسم کی خیراتی اوقاف ہے، جہاں کوئی شخص مذہبی یا سماجی فلاح و بہبود کے لیے جائیداد کا عطیہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے عطیات صرف نجی ملکیت کے ہو سکتے ہیں اور سرکاری جائیداد یا کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کی جا سکتی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی بھی غیر اسلامی رکن کو وقف بورڈ میں مذہبی خیراتی سرگرمیوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذہبی اداروں کے انتظام میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کا کوئی التزام نہیں ہے اور وہ اس طرح کے التزامات نہیں بنانا چاہتے۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے اور یہ دعویٰ کررہا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیدادوں میں مداخلت کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپوزیشن اپنا ووٹ بینک بنانے کے لیے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وقف بورڈ یا اس کے احاطے میں مقرر کردہ کوئی بھی غیر مسلم رکن مذہبی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوگا۔ ان کا کردار صرف اتنا ہوگا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ خیراتی کاموں سے متعلق معاملات کا انتظام وانصرام قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جا ری رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں وقف ایک ٹرسٹ کی طرح کام کرتا ہے، جہاں ٹرسٹی اور منیجنگ ٹرسٹی ہوتے ہیں۔ وقف میں واقف (عطیہ دہندہ) اور متولی (منتظم) ہوتے ہیں جو اسلام کے پیروکار ہوتے ہیں۔ جناب شاہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ لفظ وقف خود اسلام سے آیا ہے، اس لیے صرف وہی لوگ وقف کا انتظام کر سکتے ہیں جو اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ وقف ایک مذہبی معاملہ ہے، لیکن وقف بورڈ یا وقف کی جائیدادیں خود مذہبی ادارے نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق، چیریٹی کمشنر کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ ٹرسٹ کا انتظام نہیں کر رہے ہیں ؛ ان کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بورڈ خیراتی قوانین کے مطابق کام کرے۔ جناب شاہ نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، مذہبی نہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وقف بورڈ کا بنیادی کام وقف کی جائیدادوں کا استحصال کرنے والوں کی شناخت کرنا اور انہیں ہٹانا ہونا چاہیے۔ اس میں ان افراد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جنہوں نے وقف کے نام پر سینکڑوں سالوں سے انتہائی کم نرخوں پر جائیدادیں لیز پر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف سے آمدنی کم ہو رہی ہے، جبکہ اس رقم کو اقلیتی برادری کی ترقی اور اسلام کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ وقف بورڈ اور اس کے دفاتر کا بنیادی کام ان فنڈز کی چوری کو روکنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن اپنے دور حکومت میں جاری گٹھ جوڑ کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

امورِداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر 2013 میں وقف قانون میں ترمیم نہ کی جاتی تو یہ بل ضروری نہ ہوتا۔ تاہم، 2014 کے انتخابات سے پہلے، 2013 میں، لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر راتوں رات وقف قانون میں زبردست تبدیلی کردی گئی، جس کی وجہ سے دہلی کے لیوٹینز زون میں 123 ہائی پروفائل جائیدادیں وقف کو مختص کی گئیں۔ دہلی وقف بورڈ نے شمالی ریلوے کی زمین وقف کو منتقل کر دی۔ ہماچل پردیش میں زمین کو غیر قانونی طور پر وقف کی جائیداد میں تبدیل کر دیا گیا اور غیر مجاز مساجد بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ تمل ناڈو میں 1500 سال پرانے تروچیندور مندر کی 400 ایکڑ زمین کو وقف کی ملکیت قرار دیا گیا۔ جناب شاہ نے ذکر کیا کہ کرناٹک میں ایک کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وقف کی 29,000 ایکڑ زمین تجارتی استعمال کے لیے لیز پر دی گئی تھی۔سال 2001 اور 2012 کے درمیان وقف کی 2 لاکھ کروڑ روپے کی جائیدادیں نجی اداروں کو 100 سال کے لیے لیز پر دی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلورو میں ہائی کورٹ کو 602 ایکڑ زمین کے حصول کو روکنے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ کرناٹک کے وجے پور کے ہونواڈ گاؤں میں 1500 ایکڑ زمین پر اختلاف مسئلہ بنا دیا گیا تھا اور 500 کروڑ روپے کی اس زمین کو ایک پانچ ستارہ ہوٹل کو صرف 12,000 روپے ماہانہ پر لیز پر دیا گیا تھا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ ساری رقم غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے، نہ کہ امیروں کی لوٹ مار کے لیے۔ کرناٹک میں دتپیٹھ مندر پر دعوی کیا گیا تھا۔ تالیپرمبا میں، 75 سال پرانے دعوے کی بنیاد پر 600 ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ عیسائی برادری کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ملک میں بہت سے گرجا گھروں نے وقف بل کی مخالفت کی ہے کیونکہ وہ اسے مسلم برادری کی ہمدردی حاصل کرنے کے ایک ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ تاہم چار سالوں میں مسلم بھائیوں کو بھی احساس ہو جائے گا کہ یہ بل درحقیقت ان کے فائدے میں ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ تلنگانہ میں، 66,000 کروڑ روپے کی 1700 ایکڑ زمین پر دعوی کیا گیا تھا۔ اسی طرح آسام میں موریگاؤں ضلع میں 134 ایکڑ زمین پر دعویٰ کیا گیا۔ ہریانہ میں ایک گرودوارہ سے متعلق چودہ مرلہ زمین وقف کے حوالے کی گئی اور پریاگ راج میں چندر شیکھر آزاد پارک کو بھی وقف کی ملکیت قرار دیا گیا۔ مہاراشٹر میں، وڈانگے گاؤں میں مہادیو مندر پر دعوی کیا گیا اور بِیڑ میں، وقف بورڈ نے کنکلیشور سے زبردستی 12 ایکڑ زمین لے لی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ حکومت کا مسلم بھائیوں کی مذہبی سرگرمیوں یا وقف سمیت ان کے قائم کردہ ٹرسٹوں میں مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متولی، واقف اور وقف پر ان کا کنٹرول رہے گا، لیکن اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ وقف کی جائیدادوں کو ذاتی فائدے کے بجائے مناسب طریقے سے محفوظ رکھا جائے اور اُن کا استعمال قانون کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے صدیوں پرانی عطیہ کردہ جائیداد کو پانچ ستارہ ہوٹل کے لیے محض 12,000 روپے ماہانہ پر لیز پر دینے کے جواز پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے بجائے اس رقم کو غریب مسلمانوں، طلاق شدہ خواتین، یتیم بچوں اور بے روزگار نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، جس سے انہیں خود کفیل اور ہنر مند بننے میں مدد ملے۔ انہوں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ وقف کے پاس لاکھوں کروڑ روپے کی زمین ہے، لیکن اس کی سالانہ آمدنی صرف 126 کروڑ روپے ہے، جس سے بدانتظامی اور غلط استعمال کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب 2013 کا ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا تو اس وقت کی حکومت کے سینئر رہنماؤں نے وقف املاک کے غلط استعمال کو روکنے اور مجرموں کی ذمہ داری طے کرنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت قوانین کی وکالت کی تھی ۔جناب امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ موجودہ بل کا مقصد وقف املاک کے لیے ایک شفاف آڈٹ نظام قائم کرنا ہے۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا کہ اپوزیشن نے ایک ترمیم کی تجویز پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وقف بورڈ کے احکامات کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بل قانونی چیلنجوں کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس بل سے گذشتہ معاملات پر اثر نہیں پڑے گا ، لیکن اپوزیشن گمراہ کر رہی ہے اور اس کے مضمرات کے بارے میں مسلمانوں میں خوف پیدا کر رہی ہے۔

وقف بل میں ضلع کلکٹر کے کردار کے بارے میں جناب امت شاہ نے کہا کہ جب بھی ملک میں کسی مندر کے لیے زمین خریدی جاتی ہے تو کلکٹر ہی اس کی ملکیت کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وقف کی زمین کی تحقیقات کرنے والے کلکٹر کی مخالفت کیوں ہوتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ صرف کلکٹر کو یہ تصدیق کرنے کا اختیار ہے کہ وقف کی زمین حکومت کی ہے یا نہیں۔

امورِ داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ مودی حکومت ایک واضح اصول پر عمل کرتی ہے کہ-ووٹ بینک کی سیاست کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، کیونکہ قوانین سے انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کا مقصد پورا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسی ایوان میں مودی حکومت نے خواتین کے لیے 33فیصد ریزرویشن کا قانون منظور کیا اور پسماندہ طبقات کو آئینی حقوق دیے۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ اگرچہ ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے، لیکن مذہبی تبدیلی لالچ، بہکاوےیا خوف کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ 2013 کے ترمیمی بل پر دونوں ایوانوں میں کل 5.5 گھنٹے بحث ہوئی، جبکہ موجودہ بل پر 16 سےگھنٹے بحث جاری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی، جس نے 38 اجلاس منعقد کیے، 113 گھنٹے بحث میں حصہ لیا اور 284 اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کیا۔ مزید برآں، ملک بھر سے ایک کروڑ آن لائن تجاویز موصول ہوئیں، جن کا اس قانون کا مسودہ تیار کرنے سے پہلے اچھی طرح سے تجزیہ کیا گیا۔ اس لیے اسے غیر سنجیدگی سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ ایوان میں ہر رکن کو اظہارِ رائےکی آزادی حاصل ہے۔ یہاں کسی ایک خاندان کا اختیار نہیں ہے۔ ممبران پارلیمنٹ عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہوتے ہیں، جو کسی کے حق میں ایوان میں موجود نہیں ہوتے اور وہ عوام کی آواز بلند کریں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ قانون بھارت کی پارلیمنٹ نے نافذ کیا ہے، جس پر عمل سب کے لیے لازمی ہے اور اس لیے اسے سب کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ 1913 سے 2013 تک وقف بورڈ کے تحت کل زمین 18 لاکھ ایکڑ تھی۔ تاہم، 2013 اور 2025 کے درمیان، اس زمین میں 21 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا، جس سے کل 39 لاکھ ایکڑ ہوگئی اور 2013 کے بعد 21 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا۔ جناب امت شاہ نے اس کا بھی انکشاف کیا کہ اگرچہ 20,000 جائیدادیں اصل میں لیز پر دی گئی تھیں، لیکن اب 2025 میں سرکاری ریکارڈبتاتے ہیں کہ کوئی بھی جائیداد لیز پر نہیں دی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جائیدادیں فروخت کر دی گئی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ کیتھولک اور چرچ کی تنظیموں نے اس قانون کی حمایت کی ہے اور 2013 کی ترمیم کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ بل زمین کی حفاظت کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی بھی زمین محض اعلان نامے کے ذریعے وقف نہ کی جائے-اسے قانون کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ محکمۂ آثار قدیمہ اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے تعلق رکھنے والی زمین کو محفوظ کیا جائے گا اور شیڈول 5 اور 6 کے مطابق قبائلی زمینوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ مزید برآں اس بل کے تحت عام شہریوں کی نجی املاک محفوظ رہیں گی۔ جناب شاہ نے واضح کیا کہ صرف اپنی جائیداد ہی عطیہ کی جا سکتی ہے، یعنی وقف- بناملکیت والی نجی جائیداد حاصل نہیں کر سکتا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اس بل میں وقف ایکٹ میں معلومات ظاہر کرنے کا ایک لازمی عمل شامل ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جائیداد کو وقف قرار دینے کا اختیار ختم کر دیا گیا ہےاور اب اس طرح کے اعلانات کی تصدیق ضلع کلکٹر کے ذریعے کی جائے گی۔ مزید برآں ، وقف کی کسی بھی نئی جائیداد کو شفاف عمل کے ذریعے رجسٹر کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے پاس اب وقف ٹرسٹ ایکٹ کے تحت اپنے ٹرسٹ رجسٹر کرنے کا اختیار ہے، جس سے اس مقصد کے لیے علیحدہ وقف قانون غیر ضروری ہو گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ اقلیتی برادری میں خوف پیدا کرنا ایک رجحان بن گیا ہے۔ انہوں نےاس کا ذکر کیا کہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے رام جنم بھومی مندر، تین طلاق اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر بات چیت کے دوران بھی اسی طرح کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسلم برادری اچھی طرح سے جانتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے(اپوزیشن نے) جھوٹا دعوی کیا تھا کہ سی اے اے کی وجہ سے مسلمان اپنی شہریت کھو دیں گے، تاہم دو سال بعد بھی ایک بھی شخص نے بھی اپنی شہریت نہیں کھوئی۔ انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ اگر سی اے اے کی وجہ سے کسی کی شہریت چھین لی گئی ہے تو وہ ایوان میں ثبوت پیش کریں۔ جناب امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بھی اسی طرح کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن آج جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت ہے، دہشت گردی میں کمی آئی ہے، ترقی ہو رہی ہے اور سیاحت پروان چڑھ رہی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے مسلم برادری کو خوفزدہ کرکے اپنا ووٹ بینک بنانے کی کوشش کی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ مودی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے کہ اس ملک کے کسی بھی شہری کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، نقصان نہ پہنچایا جائے۔

*************

(ش ح ۔ک ح۔ع ن(

U. No. 9408


(Release ID: 2118181) Visitor Counter : 53