خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال: خلائی شعبے میں نجی شراکت داری کو فروغ
Posted On:
20 MAR 2025 2:52PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز، وزیراعظم کا دفتر ، جوہری توانائی کا محکمہ، خلائی محکمہ کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرکے خلائی شعبے میں نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے:-
- خلائی شعبے کو غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو مکمل خلائی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی اجازت دینے کے لیے آزاد کیا گیا۔
- این جی ای سرگرمیوں کو فروغ دینے، ان کو فعال کرنے، اجازت دینے اور ان کی نگرانی کرنے کیلئے انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھورائزیشن سینٹر (اِن – اسپیس) قائم کیا گیا ہے ۔
- انڈین اسپیس پالیسی - 2023، معیارات، رہنما خطوط اور طریقہ کار(این جی پی) اور ایف ڈی آئی پالیسی ریگولیٹری وضاحت کو یقینی بنانے اور فروغ پزیر خلائی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
- خلاء میں اسٹارٹ اپس اور این جی ایز کی حمایت کرنے کے لیے ٹیکنالوجی ایڈاپشن فنڈ (ٹی اے ایف)، سیڈ فنڈ، پرائسنگ سپورٹ، مینٹرشپ اور ٹیکنیکل لیب جیسی مختلف اسکیمیں نافذ کی جارہی ہیں، این جی ای کے ساتھ 78 ایم او یوز پر دستخط کیے گئے ہیں اور 31دسمبر2024 تک 72 اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔
- اِن –اسپیس پی پی پی کے ذریعے ارتھ آبزرویشن (ای او) سسٹم قائم کرنے کی سمت کام کر رہا ہے۔
- ہندوستانی کمپنیوں کو چھوٹی سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) کی ٹیکنالوجی کی منتقلی جاری ہے۔
- ہندوستانی اداروں کے لیے مدارسے متعلق وسائل تک رسائی کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
- اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے آنے والے مالی سال میں 1,000 کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
مجموعی طور پر تقریباً 330 صنعتیں/اسٹارٹ اپس/ایم ایس ایم ایز اپنی سرگرمیوں جیسے خلائی سرگرمیوں کے لیے منظوری ،ڈیٹا کی تقسیم، ٹیکنالوجی کی منتقلی، پروموشنل سرگرمی،اِن - اسپیس تکنیکی مرکز تک رسائی اور اسرو کی تجرباتی سہولیات وغیرہ کے لیے اجازت کے لیے اِن- اسپیس سے وابستہ ہیں ۔
-----------------------
ش ح۔م ش ۔ ع ن
U NO: 8586
(Release ID: 2113227)
Visitor Counter : 24