صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن، احمد آباد کے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کی

Posted On: 27 FEB 2025 7:24PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (27 فروری 2025)، احمد آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن کے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کی۔

 

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے چاروں طرف بہت سے مسائل ہیں اور ان میں سے کئی کے لیے ڈیزائن میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کہ بہت زیادہ وسائل کی۔ تخلیقی سوچ ایسے حل کی طرف لے جا سکتی ہے جو زندگی کی آسانی کو بہتر بنا سکتے ہیں، خاص طور پر پسماندہ کمیونٹی کے لیے۔ انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈیزائن اکثر ہمارے ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں کم توجہ دینے والا لیکن اہم عنصر ہوتا ہے۔ انھیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن نے معاشرے کی بہتری کے لیے ایک خدمت کے طور پر ڈیزائن پر زور دیتے ہوئے ڈیزائن کے تصور میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ روایتی طور پر ہمارے ملک میں ڈیزائن کو تمام کمیونٹیز میں روزمرہ کی زندگی کے تانے بانے میں بُنا گیا ہے۔ ہمیں مزید روایتی کمیونٹیز کے ڈیزائن سسٹم سمیت علمی نظاموں کا مطالعہ کرنے اور دستاویز بند کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے ثقافتی طرز عمل 21ویں صدی میں دنیا کو درپیش کچھ چیلنجوں کی کلید رکھتے ہیں۔ لہٰذا، ہندوستان کی متنوع ثقافتوں سے اخذ کیے گئے تاریخی حل کو زندہ کرنا اور اختراع کے لیے ان کا فائدہ اٹھانا نہ صرف ملک کو فائدہ دے گا بلکہ عالمی ترقی میں بھی تعاون کرے گا۔

 

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمارے ڈیزائنر نے مثبت سماجی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ سماجی شعبے میں مؤثر ڈیزائن مداخلتیں کر رہے ہیں نیز صحت کی دیکھ بھال، رہائش اور صفائی جیسے اہم شعبوں میں بہتری لا رہے ہیں۔ وہ اپنی مہارت اور کاریگری کو حقیقی دنیا کے مسائل سے نمٹنے پر مرکوز کر رہے ہیں، جو اکثر پسماندہ کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح، وہ شہری اور دیہی تقسیم کو ختم کرنے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے طلبا سے کہا کہ خوبصورت چیزیں بنانا ایک تخلیقی کام ہے جس سے خوشی کے ساتھ ساتھ مالی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن انھیں عملی پہلو کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ ایسے مسائل ہیں جو ان کے حل کے منتظر ہیں۔ انھوں نے طلبا سے مزید کہا کہ ان کی تخلیقی چنگاری لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہے۔ انھوں نے طلبا کو مشورہ دیا کہ اگر ممکن ہو تو گاؤں اور دور دراز علاقوں میں کچھ وقت گزاریں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے دنیا کو دیکھنے کے نئے طریقوں کی ترغیب ملے گی اور وہ وہاں کے لوگوں کی سیکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ انھوں نے طالب علموں سے زور دے کر کہا کہ وہ معمولی ’چرخے‘ کے بارے میں سوچیں اور پھر گاندھی جی کے بارے میں سوچیں جنھوں نے اسے دوبارہ دریافت کیا اور اس کے ڈیزائن کو بڑھانے کے لیے لوگوں کی تلاش کی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کا واحد مقصد لاکھوں لوگوں کو غربت سے نجات دلانا تھا۔ ڈیزائن کے بارے میں ان کے تصور کی اپنی الگ خوبصورتی تھی۔

صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہ کرم یہاں کلک کریں -

**********

ش ح۔ ف ش ع

U: 7628


(Release ID: 2106761) Visitor Counter : 17