ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
خواتین کے لیے ہنر مندی کا مرکز
Posted On:
24 JUL 2024 3:19PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم ) کے تحت، ہنر مندی کے فرو غ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای ) مختلف اسکیموں جیسے ۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی )، جن سِکھشن سنستھان (جے ایس ایس )، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس ) اور کرافٹسمین ٹریننگ اسکیم ( سی ٹی ایس )کے تحت ملک بھر میں خواتین سمیت سماج کے تمام طبقات کو ہنر مندی کے فروغ کے مراکز/انسٹی ٹیوٹ ، صنعتی تربیتی مراکز ( آئی ٹی آئیز ) وغیرہ کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ہنر مندی ، دوبارہ ہنر مندی اور اعلیٰ ہنر مندی کی تربیت فراہم کرتی ہے۔
پی ایم کے وی وائی کے تحت خواتین کی شرکت میں اضافہ کرنے کی خاطر ، آمد و رفت کی لاگت اور قیام و طُعام کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جے ایس ایس اسکیم کے تحت خواتین اور دیگر کمزور طبقات پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ حکومت ہند نے سبھی کورسز میں تمام آئی ٹی آئیز (سرکاری اور پرائیویٹ) میں خواتین امیدواروں کے لیے نشستوں کے 30 فی صد ریزرویشن کو منظوری دی ہے اور یہ سیٹیں ہر متعلقہ ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی عمومی ریزرویشن پالیسی کی بنیاد پر پُر کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ، 19 نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (این ایس ٹی آئی) اور 300 سے زیادہ آئی ٹی آئیز خصوصی طور پر خواتین کے لیے ہیں۔
ایم ایس ڈی ای کی اسکیم کے تحت، اس کے آغاز کے بعد سے جون، 2024 ء تک تربیت یافتہ کل امیدواروں میں سے تقریباً 36.59 فی صد خواتین ہیں ، جن میں قلیل مدتی تربیتی پروگراموں کے تحت بالترتیب جے ایس ایس اور پی ایم کے وی وائی کے تحت خواتین کا حصہ زیادہ سے زیادہ 82.01 فی صد اور 44.30 فی صد ہے ۔
اسکل ڈیولپمنٹ مراکز مانگ کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں۔ صرف خواتین کے لیے این ایس ٹی آئیز ، کل آئی ٹی آئیز اور خواتین آئی ٹی آئیز کی ریاست وار تعداد ضمیمہ-I میں دی گئی ہے ۔
ضمیمہ-I
این ایس ٹی آئیز اور آئی ٹی آئیز مراکز کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تعداد ( 30 جون ، 2024 ء تک):
نمبر شمار
|
ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
این ایس ٹی آئی ( خواتین کے لیے )
|
کل آئی ٹی آئیز ( سرکاری اور پرائیویٹ )
|
کل آئی ٹی آئیز
|
خواتین کے لیے مخصوص
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
0
|
4
|
0
|
2
|
آندھرا پردیش
|
0
|
521
|
6
|
3
|
اروناچل پردیش
|
0
|
7
|
1
|
4
|
آسام
|
0
|
46
|
4
|
5
|
بہار
|
1
|
1377
|
45
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
0
|
2
|
1
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
0
|
232
|
2
|
8
|
دلّی
|
0
|
53
|
5
|
9
|
گوا
|
1
|
13
|
1
|
10
|
گجرات
|
1
|
503
|
19
|
11
|
ہریانہ
|
1
|
389
|
22
|
12
|
ہماچل پردیش
|
1
|
270
|
12
|
13
|
جموں و کشمیر
|
1
|
50
|
6
|
14
|
جھارکھنڈ
|
0
|
348
|
13
|
15
|
کرناٹک
|
1
|
1504
|
17
|
16
|
کیرالہ
|
1
|
464
|
16
|
17
|
لداخ
|
0
|
3
|
1
|
18
|
لکشدیپ
|
0
|
1
|
0
|
19
|
مدھیہ پردیش
|
1
|
1077
|
14
|
20
|
مہاراشٹر
|
1
|
1042
|
16
|
21
|
منی پور
|
0
|
10
|
1
|
22
|
میگھالیہ
|
1
|
8
|
2
|
23
|
میزورم
|
0
|
3
|
0
|
24
|
ناگالینڈ
|
0
|
9
|
0
|
25
|
اوڈیشہ
|
0
|
525
|
1
|
26
|
پڈوچیری
|
0
|
15
|
1
|
27
|
پنجاب
|
1
|
351
|
38
|
28
|
راجستھان
|
1
|
1620
|
9
|
29
|
سکم
|
0
|
4
|
0
|
30
|
تمل ناڈو
|
1
|
503
|
10
|
31
|
تلنگانہ
|
1
|
302
|
4
|
32
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن و دیو
|
0
|
4
|
0
|
33
|
تری پورہ
|
1
|
22
|
1
|
34
|
اتر پردیش
|
2
|
3263
|
46
|
35
|
اتراکھنڈ
|
0
|
187
|
1
|
36
|
مغربی بنگال
|
1
|
302
|
4
|
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے فراہم کیں ۔
*****************************
)ش ح۔و ا ۔ ع ا (
U.No. 8646
(Release ID: 2036381)
Visitor Counter : 89