وزارت خزانہ

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے تحت 1,80,630 سے زائد کھاتوں کے لئے 7 سال میں 40,700 کروڑ روپے منظور کئے گئے


اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم ایس سی، ایس ٹی اور خواتین میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے: وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارامن

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کاروباریوں، ان کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے: مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر بھگوت کسن راؤ کراڈ

Posted On: 05 APR 2023 7:30AM by PIB Delhi

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم 5 اپریل 2016 کو شروع کی گئی تھی تاکہ اقتصادی شعبے میں لوگوں کو بااختیار بنانے اور ملازمتوں کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نچلی سطح پر انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جائے۔ اس اسکیم کو سال 2025 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

ان چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے جن کا سامنا متحرک، پرجوش اور خواہش مندایس ٹی، ایس سی اور خواتین کاروباریوں کو اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے دوران کرنا پڑ سکتا ہے، اسٹینڈ اپ انڈیا کو خواتین، درج فہرست ذاتوں(ایس سی) اور درج فہرست قبائل(ایس ٹی) کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیےزمرہ جات، مینوفیکچرنگ، خدمات یا تجارتی شعبے اور زراعت سے منسلک سرگرمیوں میں گرین فیلڈ انٹرپرائز شروع کرنے میں ان کی مدد کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا تھا ۔

اس موقع پر، خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا، ’’یہ میرے لیے فخر اور اطمینان کی بات ہے کہ 1.8 لاکھ سے زیادہ خواتین اور ایس سی/ایس ٹی کاروباریوں کے لئے 40,600 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرضے منظور کیے گئے ہیں۔

’’ وزیر خزانہ نے ایس یو پی آئی اسکیم کی 7 ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ‘‘اس اسکیم نے ایک ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے جو تمام درج فہرست تجارتی بینکوں کی بینک شاخوں سے قرضوں تک رسائی کے ذریعے گرین فیلڈ انٹرپرائزز کے قیام کے لیے ایک معاون ماحول فراہم کرتا ہے اور اسے جاری رکھتا ہے۔ اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے،

محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم نے صنعت کاروں کے کم خدمات یافتہ/ خدمات سے یکسر محروم طبقہ تک بغیر کسی پریشانی کے نرم شرائط والے قرضوں تک رسائی کو یقینی بناتے ہوئے متعدد زندگیوں کو سہارا دیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اسکیم نے خواہشمند کاروباری افراد کو اپنی کاروباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے وسائل فراہم کیے ہیں اور ممکنہ کاروباری افراد معاشی ترقی کو آگے بڑھانے اور ملازمت کے تخلیق کاروں کے طور پر ایک مضبوط ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کی 7 ویں سالگرہ کے موقع پر، مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر بھگوت کسن راؤ کراڈ نے کہا، ‘‘اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم مالی شمولیت کے قومی مشن کے تیسرے ستون پر مبنی ہے، یعنی ‘‘ فنڈس سے محروم افراد کے لئے فنڈ مہیا کرنا’’ اسکیم، اس نے شیڈول کمرشل بینکوں کی شاخوں سے ایس سی/ ایس ٹی اور خواتین کاروباریوں کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے قرضہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ یہ اسکیم کاروباری افراد، ان کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔’’

ڈاکٹر کراڈ نے کہا، ‘‘گزشتہ سات برسوں کے دوران اس اسکیم سے 1.8 لاکھ سے زیادہ کاروباریوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔’’ ڈاکٹر کراڈ نے مزید کہا، ‘‘یہ بھی میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ اس اسکیم کے تحت دیئے گئے 80فیصدسے زیادہ قرض خواتین کو فراہم کیے گئے ہیں۔’’

ایک ایسے موقع پر کہ جب ہم اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم(ایس یو پی آئی) کی ساتویں سالگرہ منا رہے ہیں، تو آئیے اس اسکیم کی خصوصیات اور کامیابیوں پر ایک نظر ڈالیں۔

اسٹینڈ اپ انڈیا کا مقصد یہ ہے کہ:

  • خواتین، ایس سی اور ایس ٹی زمرہ میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینا؛
  • مینوفیکچرنگ، خدمات یا تجارتی شعبے اور زراعت سے منسلک سرگرمیوں میں گرین فیلڈ انٹرپرائزز کے لیے قرض فراہم کرنا؛
  • کم از کم ایک درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے / درج فہرست قبائل کے قرض لینے والے اور کم از کم ایک خاتون قرض خواہ کو شیڈول کمرشل بینکوں کی فی بینک برانچ میں 10 لاکھ سے 100 لاکھ روپے کے درمیان بینک قرضوں کی سہولت فراہم کر نا۔

اسٹینڈ اپ انڈیا کیوں؟

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کو ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کاروباریوں کو اپنے کاروبار قائم کرنے، قرض حاصل کرنے اور کاروبار میں کامیابی کے لیے وقتاً فوقتاً درکار دیگر تعاون کے معاملات میں پیش آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ اسکیم ایک ایسا ماحولیاتی نظام تخلیق کرنے کی کوشش کرتی ہے جو کاروبار کرنے میں پیش نظر رکھے گئے طبقوں کو سہولت فراہم کرتا ہے اور ایک معاون ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد تمام بینک برانچوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ ایس سی، ایس ٹی اور خواتین قرض لینے والوں کو اپنا گرین فیلڈ انٹرپرائز قائم کرنے کے لیے قرض فراہم کریں۔ خواہشمند درخواست دہندگان اسکیم کے تحت درخواست دے سکتے ہیں:

  • براہ راست برانچ میں یا،
  • اسٹینڈ اپ انڈیا پورٹل (www.standupmitra.in) کے ذریعے یا،
  • لیڈ ڈسٹرکٹ منیجر(ایل ڈی ایم) کے ذریعے۔

کون سب لوگ قرض کے اہل ہیں؟

  • ایس سی/ ایس ٹی اور/یا خواتین کاروباری، 18 سال سے زیادہ عمر کے؛
  • اسکیم کے تحت قرضے صرف گرین فیلڈ پروجیکٹس کے لیے دستیاب ہیں۔ گرین فیلڈ کا مطلب ہے، اس تناظر میں، مینوفیکچرنگ، خدمات یا تجارتی شعبے اور زراعت سے منسلک سرگرمیوں میں فائدہ اٹھانے والے کا پہلی بار منصوبہ؛
  • غیر انفرادی کاروباری اداروں کی صورت میں، 51فیصد شیئر ہولڈنگ اور کنٹرولنگ حصص یا تو ایس سی/ایس ٹی اور/یا خواتین کاروباریوں کے پاس ہونا چاہیے۔
  • قرض لینے والوں کو کسی بھی بینک/مالیاتی ادارے میں نادہندہ نا مانا گیا ہو۔
  • اسکیم میں ‘15فیصد تک’ مارجن منی کا تصور کیا گیا ہے جو اہل مرکزی/ریاستی اسکیموں کے ساتھ مل کر فراہم کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی صورت میں، قرض لینے والے کو پراجیکٹ کی لاگت کا کم از کم 10فیصد اپنی شراکت کے طور پر لانا ہوگا۔

سرپرستی کی شکل میں امداد :

ممکنہ قرض دہندگان کو قرضوں کے لیے بینکوں سے منسلک کرنے کے علاوہ، اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے لیے سمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (ایس آئی ڈی بی آئی) کے ذریعے تیار کردہ آن لائن پورٹل www.standupmitra.in بھی ممکنہ کاروباریوں کو کاروباری اداروں کو قائم کرنے کی کوشش میں، ٹریننگ سے لے کر قرض کی درخواستیں بھرنے تک، بینک کی ضروریات کے مطابق رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ 8,000 سے زیادہ سرپرستی کرنے والی ایجنسیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے، یہ پورٹل ممکنہ قرض لینے والوں کو مخصوص مہارت کے ساتھ مختلف ایجنسیوں سے مربوط کرنے کے لیے ۔ ہنر مندی کے مراکز ، سرپرستانہ امداد، کاروباریت کی ترقی کے پروگرام کے مراکز ،( ڈیولپمنٹ پروگرام سینٹرز) ، ضلعی صنعتی مرکز(ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹر)، پتے اور رابطہ نمبر کے ساتھ مرحلہ وار رہنمائی کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔

21.03.2023 تک اس اسکیم کی کامیابیاں

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے تحت اسکیم کے آغاز سے 21.03.2023 تک 180,636 کھاتوں کو 40,710 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے ایس سی/ ایس ٹی اور خواتین استفادہ کنندگان کی تفصیلات، 21.03.2023 تک، ذیل میں ہیں:

ایس سی

ایس ٹی

خواتین

مجموعی

کھاتوں کی

تعداد

.منظور شدہ

(کروڑ میں)

کھاتوں کی تعداد

.منظور شدہ

(کروڑ میں)

کھاتوں کی تعداد

منظور شدہ

(کروڑ میں)

کھاتوں کی تعداد

.منظور شدہ

(کروڑ میں)

26,889

5,625.50

8,960

1,932.50

1,44,787

33,152.43

1,80,636

40,710.43

************

ش ح ۔س ب ۔ رض

U. No.3706



(Release ID: 1913722) Visitor Counter : 164