وزارت خزانہ

‏ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کی دستیابی اور پھیلاؤ‏


2015اور 2021کے درمیان شہری علاقوں میں 158فیصد کے مقابلے میں دیہی انٹرنیٹ سبسکرپشن میں 200‏ ‏ فیصد اضافہ ‏ ‏ہوا

 ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ نے معلومات کی مسلسل ترسیل اور اضافی اقتصادی قدر‏ کو یقینی بنایا

5 جی خدمات کے آغاز نے بھارت‏ ‏میں ٹیلی کمیونی کیشن میں اہم کامیابی کا سنگ میل طے کیا

بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور استعمال نے دنیا کی اس کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے

Posted On: 31 JAN 2023 1:47PM by PIB Delhi

‏اگرچہ روایتی بنیادی ڈھانچے کے کردار کو خوب تسلیم کیا گیا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں، ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کے کردار نے خاصی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2022-23 پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی دستیابی اور پھیلاؤ اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ‏

ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ میں پیش رفت‏

‏ڈیجیٹل نفوذ کا ستحکام‏

‏سروے میں کہا گیا ہے کہ 2014 سے پہلے ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو شہری گھرانوں کا استحقاق سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، ہر شہری کے لیے بنیادی افادیت کے طور پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کے وژن کے ساتھ، ڈیجیٹل انڈیا کو ایک اہم پروگرام کے طور پر 2015 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس نے گذشتہ 3 برسوں (2019-21) میں دیہی علاقوں میں اپنے شہری ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ انٹرنیٹ صارفین کا اضافہ کیا ہے (دیہی اور شہری علاقوں میں بالترتیب 95.76 ملین کے مقابلے میں 92.81 ملین)۔ یہ بھارت نیٹ پروجیکٹ اسکیم، ٹیلی کام ڈیولپمنٹ پلان، امپریشنل ڈسٹرکٹ اسکیم، جامع ٹیلی کام ڈیولپمنٹ پلان (سی ٹی ڈی پی) کے ذریعے شمال مشرقی خطے میں پہل اور بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ علاقوں کے لیے پہل وغیرہ جیسے اہم سرکاری اسکیموں کے ذریعے دیہی علاقوں میں وقف ڈیجیٹل مہموں کا نتیجہ ہے۔ ‏

‏سروے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ دیہی بھارت میں انٹرنیٹ صارفین میں نمایاں اضافہ کوویڈ 19 وبائی مرض کے دوران صدمہ برداشت کرنے کا اہم ذریعہ تھا جب کاروبار اور صارفین کی مانگ دونوں متاثر ہوئے تھے۔ برسوں میں تخلیق کردہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ نے نہ صرف معلومات کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنایا بلکہ کاروبار کے ڈیجیٹل بنانے پر معاشی قدر میں بھی اضافہ کیا۔ 2015اور 2021کے درمیان دیہی انٹرنیٹ سبسکرپشن میں 200فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ 158 فیصد ہے، جو دیہی اور شہری ڈیجیٹل کنکٹیویٹی کو ایک ہی سطح پر لانے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی حوصلہ افزائی کی عکاسی کرتا ہے۔ ‏

‏حکومتی پہل‏

‏اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ نیٹ کو مزید وسیع کرنے کے لیے، غیر منسلک علاقوں اور آبادیوں کو شامل کرنے کے لیے، حکومت کی طرف سے وقف طویل مدتی کوششیں کی گئی ہیں۔ ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ مصنوعات کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) جیسی سرکاری اسکیمیں گھریلو موبائل مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک کی تنصیب کو بھی فروغ دیں گی۔ بھارت نیٹ پروجیکٹ جیسے اقدامات کا مسلسل پھیلاؤ پورے بھارت میں رسائی، سستی، رابطے اور شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے جاری رہے گا۔ اس کے نتیجے میں ہمارے عزت مآب وزیر اعظم کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی جس کا مقصد ہر بھارتی کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا ہے، جیسے جیسے ہم بھارت کے ’ٹیکیڈ‘کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ‏

‏دور دراز علاقوں تک رسائی

‏اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ نچلی سطح پر ڈیجیٹل روابط کو مزید فروغ دینے اور صارفین کے تجربے کو بڑھانے کے لیے دیگر اقدامات میں ملک بھر کے غیراحاطہ کردہ گاؤوں میں 4 جی موبائل خدمات کی تکمیل کے لیے ایک پروجیکٹ کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی خطے کی ریاستوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ حکومت ایک جامع ٹیلی کام ڈیولپمنٹ پلان (سی ٹی ڈی پی) نافذ کر رہی ہے۔ ہمارے جزیروں کو مین لینڈ سے جوڑنے کے لیے ایک جامع اقدام بھی حکومت کے ذریعے جزائر کے لیے جامع ٹیلی کام ترقیاتی منصوبے کی پہل کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ ‏

‏5 جی لانچ- ایک اہم  کامیابی‏

‏اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ٹیلی مواصلات میں ایک اہم کامیابی 5 جی خدمات کا آغاز تھا۔ ٹیلی کام اصلاحات اور واضح پالیسی ہدایت کی وجہ سے 2022 کی سپیکٹرم نیلامی میں اب تک کی سب سے زیادہ بولیاں موصول ہوئیں۔ ایک بڑے اصلاحی قدم کے طور پر انڈین ٹیلی گراف رائٹ آف وے (ترمیمی) ضوابط، 2022 ٹیلی گراف بنیادی ڈھانچہ کی تیز رفتار اور آسان تعیناتی کی سہولت فراہم کرے گا تاکہ تیزی سے فائیو جی کے نفاذ کو ممکن بنایا جا سکے۔ حکومت نے وائرلیس لائسنسنگ میں طریقہ کار میں اصلاحات کی ہیں، جس میں جدت طرازی، مینوفیکچرنگ اور برآمد کو فروغ دینے کے لیے مختلف فریکوئنسی بینڈز کو ڈی لائسنس کرنا بھی شامل ہے۔ نیشنل فریکوئنسی ایلوکیشن پلان 5 (این ایف اے پی) سپیکٹرم کے صارفین کو متعلقہ فریکوئنسی اور پیرامیٹرز کے مطابق اپنے نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔ ‏

‏ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کی کہانی‏

‏اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچہ کا سفر قابل ذکر حد تک یادگار رہا ہے، جو 2009 سے شروع ہوا، جب آدھار کو پہلی بار لانچ کیا گیا تھا۔ اب چودہ سال ہو چکے ہیں، اور تب سے ڈیجیٹل سفر ملک کو بہت آگے لے آیاہے۔ ترقی کے تین محرکات جنھوں نے ڈی پی آئی کی ترقی کے لیے محرک کے طور پر کام کیا وہ سازگار ڈیموگرافکس، متوسط طبقے کی وسیع توسیع، اور ڈیجیٹل طرز عمل کے نمونے تھے۔ ترقی کے ان محرکات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کی ہے جو ہر فرد اور کاروبار کو پیپر لیس اور کیش لیس لین دین کرنے کے لیے بااختیار بناتی ہے۔ حکومت کے ذریعے شروع کی گئی مختلف اسکیمیں اور ایپلی کیشنز جیسے ’مائی اسکیم‘اور یونیفائیڈ موبائل ایپلی کیشن فار نیو ایج گورننس (یو ایم اے این جی)، ’بھاشنی‘ اور شہریوں کو مختلف شعبوں میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کردہ دیگر ای-گورنمنٹ خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ اوپن فورج جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اوپن سورس سافٹ ویئر کے استعمال اور ای گورننس سے متعلق سورس کوڈ کے اشتراک اور دوبارہ استعمال کو فروغ دیا گیا ہے۔ ‏

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001E6OH.jpg

 

اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ‏آج، ہمارے پاس ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچہ ایک طاقتور کہانی ہے جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال، زراعت، فن ٹیک، تعلیم اور ہنر مندی جیسے شعبوں میں کووڈ 19 کے دوران بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل استعمال سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی میں اقتصادی شعبوں میں بڑے پیمانے پر امکانات موجود ہیں۔ عام طور پر مشورہ دیا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو دنیا کے استعمال شدہ بہترین طور طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تاہم، بھارت نے اپنے ڈی پی آئی کو جس طرح تخلیق کیا اور اس کا استعمال کیا ، اسے عالمی سطح پر بہت سے ممالک کی توجہ حاصل ہورہی ہے۔ ‏

‏اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل منظرنامے کی ترقی کے دوش بدوش چلنے لیے عزم بستہ ہے جس میں قانون سازی اور فریم ورک سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ جہاں ڈیجیٹل سفر کا آغاز آدھار کے ساتھ ہوا، وہیں یو پی آئی نے ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ کوون، ای-روپی، ٹی آر ای ڈی ایس، اکاؤنٹ ایگریگیٹرز، او این ڈی سی، اوپن کریڈٹ اینیبلمنٹ نیٹ ورک (او سی ای این) وغیرہ جیسے دیگر اقدامات کے ساتھ، بھارت نے ایک منفرد اور ٹھوس ڈیجیٹل کہانی تیار کی ہے۔ یہ سفر جاری ہے اور بھارت کے ڈیجیٹل پبلک بنیادی ڈھانچہ اسپیس میں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ فزیکل اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کے درمیان ہم آہنگی بھارت کی مستقبل کی ترقی کی کہانی کی ایک اہم خصوصیت ہوگی۔‏

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 1037



(Release ID: 1895029) Visitor Counter : 278