خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
قومی کمیشن برائے خواتین نے ’بیٹی بچاؤ‘ کے موضوع پر ویبنار منعقد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 JAN 2022 5:15PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 24 جنوری 2022:
قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے آج نیشنل گرل چائلڈ ڈے کے موقع پر ’بیٹی بچاؤ‘ کے موضوع پر ایک ویبنار کا انعقاد کیا۔ اس کا مقصد بچیوں کی تعلیم، صحت اور تغذیہ سمیت ان سے متعلق مختلف مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے بچیوں کے حقوق کو فروغ دینا ہے۔ ویبنار کے دوران ہوئے تبادلہ خیالات کا مقصد لڑکیوں کے تئیں معاشرے کے نظریہ میں تبدیلی لاکر اور لڑکیوں کے ساتھ برتی جانے والی تفریق کو کم کرکے ان کے لیے نئے نقطہ نظر کو فروغ دینا تھا۔
چیئرپرسن محترمہ ریکھا شرما، ہریانہ حکومت کے سابق کابینی وزیر جناب او پی دھنکھڑ اور ’سیو دی چلڈرن ‘مہم کی سربراہ پرگیا وتس نے پینلسٹ کے طور پر ویبنار میں شرکت کی۔ چیئرپرسن نے لڑکیوں کی تعلیم، صحت، منتخب کرنے کی آزادی اور صحیح فیصلہ لینے کی آزادی سے متعلق مختلف مسائل کے بارے میں بات کی۔ محترمہ نے کہا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر کھڑی ہیں اور حکومت لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے خواتین پر مرتکز پالیسیوں کا آغاز کر رہی ہے۔
محترمہ شرما نے کہا، ’’لڑکیوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور قومی کمیشن برائے خواتین اپنے پروگراموں کے توسط سے ہر شعبے میں لڑکیوں کے تحفظ اور اختیارکاری کو یقینی بنا رہا ہے۔ ہماری حکومت لڑکیوں کی قائدانہ کوالٹی کا مظاہرہ کرنے کے لیے لڑکیوں کو مواقع فراہم کرا رہی ہے ، تاہم سماج کو ابھی بھی اپنی رجعت پسندانہ ذہنیت سے خود کو پاک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لڑکیاں آگے آکر تبدیلی برپا کرسکیں۔‘‘
جناب دھنکھڑ نے کہاکہ حکومت معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے فعال طور پر پہل قدمیاں متعارف کرا رہی ہے۔ جناب دھنکھڑ نے کہا، ’’اب معاشرے میں تبدیلی نظر آرہی ہے؛ حالانکہ، مزید تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمارے وزیر اعظم اور حکومت بچیوں کے تحفظ اور ان کو فروغ دینے کے تئیں کلی طور پر وقف ہیں ، جس کا مشاہدہ اب معاشرے میں بھی کیا جا رہا ہے۔‘‘
محترمہ وتس نے تین پی یعنی، پاورٹی (غربت)، پیٹریارکی (پدرانہ نظام) اور پرسیپشن (شعور) پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تین عناصر خواتین کو ان کے امکانات اور مضمرات سے محروم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی اختیارکاری اور ترقی کے حصول کے لیے بورڈ میں باہمی تعاون اور شراکت داری کے توسط سے اجتماعی کوششیں کرنا اہمیت کا حامل ہے۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت حکومت ہند کے تحت کام کرنے والا قومی کمیشن برائے خواتین ، اپنے پروگراموں اور پہل قدمیوں کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے پوری لگن سے کام کر رہا ہے اور یہ تبادلہ خیال اس موضوع کے تعلق سے مزید بیداری پیدا کرنے کی سمت میں ایک قدم تھا۔
نیشنل گرل چائلڈ ڈے کی شروعات پہلی مرتبہ 2008 میں خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کے ذریعہ کی گئی۔ بھارت کی لڑکیوں کو تعاون اور مواقع فراہم کرانے کے مقصد سے ، اسے ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بچیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں بیدار کرنے کے علاوہ ، لڑکیوں کی تعلیم ، ان کی صحت اور تغذیہ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرناہے۔
************
ش ح۔اب ن ۔ م ف
U. No. 687
(ریلیز آئی ڈی: 1792271)
وزیٹر کاؤنٹر : 201