بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کے وی آئی سی نے آسام میں شہد کی چھوٹی مکھیوں کے استعمال سے ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان تصادم کو روکنے کیلئے پروجیکٹ ری-ہیب کا آغاز کیا

Posted On: 04 DEC 2021 2:09PM by PIB Delhi

نئی دہلی:04؍دسمبر، 2021۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001BGOC.jpg

کرناٹک میں اختراعی پروجیکٹ ری- ہیب (شہد کی مکھیوں کے ذریعے ہاتھیوں اور انسانوں کے تصادم کو کم کرنا) پروجیکٹ کی کامیابی سے ہمت افزائی حاصل کرتے ہوئے کھادی اینڈولیج انڈسٹری کمیشن(کے وی آئی سی) نے اب یہ پروجیکٹ آسام میں بھی شروع کیا ہے۔ جمعہ کے روز کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب وینائی کمار سکسینہ نے آسام کے گوال پاڑہ ضلع کے مورنوئی گاؤں میں پروجیکٹ ری- ہیب کا آغاز کیا جو ہاتھی- انسانی تصادم سے بری طرح متاثر ہے۔ یہ پروجیکٹ آسام میں مقامی محکمہ جنگلات کی مدد سے نافذ کیا جارہا ہے، اس علاقے میں، جو گھنے جنگلوں سے گھرا ہوا ہے، 2014 سے 2019 کے درمیان ہاتھیوں کے حملے میں 332 انسانی ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

پروجیکٹ ری- ہیب کے تحت ہاتھیوں کے انسانی علاقوں میں داخل ہونے والے راستوں پر شہد کی مکھیوں کے باکس لگاکر ‘‘بی فینس’’ قائم کی جاتی ہے۔ ان ڈبوں سے کچھ تار جوڑ دیے جاتے ہیں اور جب ہاتھی اس علاقے سے گزرتے ہیں تو ان کے تاروں کے ٹکرانے کی وجہ سے ڈبے ہلتے ہیں اور شہد کی مکھیاں اُڑ کر ہاتھیوں سے چمٹ جاتی ہیں اور انہیں  آگے بڑھنے سے روک دیتی ہیں۔ یہ جانوروں کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کو کم کرنے کا ایک کم لاگت والا اور مؤثر طریقہ ہے۔ یہ بات سائنسی طور پر ریکارڈ کی گئی ہے کہ ہاتھی شہد کی مکھیوں سے پریشان ہوتے ہیں، ہاتھی اس بات سے بھی خوف کھاتے ہیں کہ شہد کی مکھیاں ان کی سونڈ کے اندر گھس کر کھاٹ سکتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002J5Z6.jpg

مورنوئی اور دہی کاٹا گاوؤں میں ایک ہفتے کے اندر 330 مکھیوں کے باکس لگائے جائیں گے تاکہ ہاتھیوں کو دور رکھا جاسکے۔ یہ باکس ہاتھیوں سے متاثرہ  خاندانوں کے  33 کسانوں اور ان گاوؤں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو کے وی آئی سی کے ذریعے دیے گئے ہیں۔ ان گاوؤں میں ہر سال تقریباً 9 سے 10 مہینوں کے دوران ہاتھی گاوؤں کے کھیتوں میں گھس جاتے ہیں اور کھیتی برباد کردیتے ہیں۔ گاؤں والوں کیلئے پچھلے چند برسوں میں ان ہاتھیوں کا اتنا خوف بیٹھ گیا ہے کہ انہوں نے ہاتھیوں کے ڈر سے اپنے کھیت بونے چھوڑ دیے ہیں۔ ان گاوؤں میں دھان، لیچی،  کدوکی کھیتی ہوتی ہے جن پر ہاتھی حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان زون میں شہد کی مکھیوں کے ہاتھیوں پر ہونے والے اثرات کو ریکارڈ کرنے کیلئے اہم مقامات پر رات میں فوٹو لینے والے کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003DBY4.jpg

کے وی آئی سی کے چیئرمین نے کہا کہ پروجیکٹ ری- ہیب انسان- ہاتھیوں کے تصادم کو روکنے کیلئے ایک پائیدار حل ثابت ہوگا جو آسام میں بہت عام ہے۔ پروجیکٹ ری-ہیب کرناٹک میں بہت کامیاب رہا ہے اور اسے بہتر ٹیکنالوجی اور زیادہ مؤثر اثرات کے ساتھ آسام میں شروع کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ پروجیکٹ آنے والے مہینوں میں ہاتھیوں کے حملوں کو روکنے میں کامیاب رہے گا اور مقامی گاؤں والے اپنے کھیتوں پر واپس جاسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی شہد کی مکھیوں کے باکس کے ذریعے، جنہیں کے وی آئی سی نے شروع کیا ہے، ان کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر کے وی آئی سی کے شمال مشرقی زون کے رُکن دُیو تمو بھی موجود تھے۔

قابل ذکر ہے کہ پروجیکٹ ری- ہیب کے وی آئی سی کے نیشنل ہنی مشن کا ایک ذیلی مشن ہے۔ ہنی مشن شہد کی مکھیوں کی آبادی میں اضافہ کرنے، شہد کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور باکس قائم کرکے شہد کی مکھی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کا ایک پروگرام ہے جس میں پروجیکٹ ری- ہیب میں شہد کی مکھیوں کے باکس کو ہاتھیوں کے حملوں سے بچاؤ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

پروجیکٹ ری-ہیب 15 مارچ 2021 کو کرناٹک کے ضلع کوڈاگو میں گیارہ مقامات پر شروع کیا گیا تھا، صرف 6 ماہ کے عرصے میں اس پروجیکٹ سے ہاتھیوں کے حملوں میں 70فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

بھارت میں ہاتھیوں کے حملے میں ہر سال تقریباً 500 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، یہ پورے ملک میں شیروں کے حملوں سے ہونے والی اموات سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔ 2015 سے 2020 کے دوران ہاتھیوں کے حملے میں تقریباً 2500 افراد نے اپنی جان گنوائی ہے، ا س کے برعکس پچھلے پانچ برسوں کے دوران انسانوں کے ذریعے ردعمل میں تقریباً 500 ہاتھی بھی مارے گئے ہیں۔

ماضی میں حکومتوں نے ہاتھیوں کو روکنے کیلئے کھائیاں کھدوانے اور باڑ لگانے کیلئے کروڑوں روپئے خرچ کیے ہیں اور کروڑوں روپئے انسانی جانوں کے زیاں پر معاوضے کیلئے بھی خرچ کیے گئے ہیں۔ ان کھائیوں اور نوکیلے تاروں کی باڑ کی وجہ سے ہاتھیوں کے بچوں کی اموات بھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے یہ طریقہ کار ناقابل عمل ہوگیا ہے۔

 

-----------------------

ش ح۔وا۔ ع ن

U NO:13789



(Release ID: 1778372) Visitor Counter : 75