بجلی کی وزارت

بجلی کے وزیر  جناب آر کے سنگھ نے  ‘تنازع کو درگزر کرنے کے  طریقہ کار’ کی تشکیل کی منظوری دی


یہ میکنزم آزاد انجینئروں  پر مشتمل  ایک پینل ہوگا

اس فیصلے کا مقصد  پن بجلی  پروجیکٹوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں تنازعات کا  بر وقت حل حاصل کرنا ہے

وقت اور  لاگت کےزیاں کو روکنے کے لئے ایک اقدام

Posted On: 29 SEP 2021 11:27AM by PIB Delhi

‘آزاد انجینئر’  کے ذریعے‘‘تنازع کو در گزر کرنے  کے طریقہ کار  ’’ کو بجلی ، جدید اور قابل تجدید  توانائی  کے مرکزی وزیر  جناب آر کے سنگھ نے  منظوری دے دی ہے۔ پن بجلی  پروجیکٹوں کو  نافذ کرنے والی سی پی ایس  ای کے  تعمیراتی  ٹھیکوں کے لئے  کام کرنے  کی غرض سے  یہ لازم ہوگا کہ   ایک آزاد، تھرڈ پارٹی  ، انفرا پروجیکٹوں میں   ملک گیر   اور  بین الاقوامی  پیمانے   پر   کام کرنے والے ‘آزاد انجینئروں  کی تقرری   کا  ایک میکنزم’  تیار کرنا ضروری ہے، جو کہ  ایک  ‘‘ماہر ’’ ہونا چاہئے اور جسے اس موضوع کی  ڈومین معلومات  کے ساتھ ساتھ  کمرشیل  اور  قانونی اصولوں  کا علم بھی ہونا چاہئے۔ یہ  ‘آزاد انجینئر’ پروجیکٹ  کی باقاعدہ  دیکھ بھال کرسکے گا، جس میں تنازعات کو در گزر کرنے میں ایک مؤثر  کردار ادا کرنے کے لئے وہ  تمام کلیدی  شراکت داروں کے ساتھ کھلی بات چیت کرسکیں گے۔ یہ طریقہ کار  پورے طور پر  ابھرے  تنازعات میں  شامل  معاملات سے متعلق  ابتدائی نا اتفاقی  کی  تبدیلی کو  کم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، نیز  یہ  نا اتفاقیوں  کو  مہم جویانہ پیمانے پر  درست  اور  منصفانہ  طریقے سے  ختم کرنے کےلئے   بنایا گیا ہے۔ یہ  وقت اور  لاگت  کے زیاں  کو  در گزر کرنے میں مدد کرے گا، تاکہ پروجیکٹوں کی   بر وقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔

پن بجلی  سی پی ایس ایز  ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ  ہائیڈور پاور شعبے میں تنازعات کے حل کے لئے موجودہ طریقہ کار  آجروں  اور  ٹھیکیداروں کے درمیان  اُن کی تاسیسی  سطح پر  کھڑے ہونے والے  تنازعات  پر  توجہ مرکوز کرنے کا کوئی  باقاعدہ  بنیادی خاکہ  فراہم نہیں کرتا بلکہ  یہ  دونوں پارٹیوں کے درمیان  تنازعات   کھڑے ہونے اور انہیں نوٹیفائی کرنے کے بعد ہی ان پر  توجہ مرکوز کرتا ہے۔ان مسائل  کے  حل کے حصول میں  حائل  زمینی سطح کے  مسائل  اور مشکلات کا مطالعہ کرنے کے لئے  بورڈ کی سطح کے افسران کی  ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے  اپنی  رپورٹ  پیش کی، جس  پر وزارت میں غور  کیا گیا، جس کے دوران  سی ای اے  اور پن بجلی  سی پی ایس ایز    کے بورڈ کی سطح کے افسران بھی  موجود تھے۔

کمیٹی نے  یہ مشاہدہ کیا کہ  ٹھیکوں کو نافذ کرنے سے متعلق  نا اتفاقیوں یا  دعووں پر توجہ مرکوز کرنے میں تاخیر  سے  کافی  مالیاتی  اور  اقتصادی  نقصانات ہونے کے علاوہ  پروجیکٹ کی لاگت  اور  وقت  کا زیاں بھی ہوتا ہے۔ ابتدائی سطح پر ٹھیکوں سے متعلق نا اتفاقیوں  کا  صاف اور منصفانہ حل ،  طے کردہ وقت کی  مدت کے مطابق  ٹھیکے کی  کامیاب کارکردگی کے لئے ایک کلید ہے، جو  بجٹ  کے  مؤثر  استعمال اور  وقت اور  لاگت کے  زیاں  کے لئے  کلیدی  حیثیت  رکھتا ہے۔ ‘آزاد انجینئر’ کے ذریعے ‘‘تنازع کو در گزر کرنے کے طریقہ کار’’  کے لئے  ماڈل کانکٹریٹ کی گنجائش  کی  نمایاں خصوصیات  درج ذیل ہیں:

  1. بجلی کی وزارت  کو ایک شفاف اور  مقصدی  انتخاب  کے عمل کو اپناتے ہوئے  اعلیٰ سطح  کے تعلیم یا فتہ اور  ثابت ٹریک ریکارڈ کے   حامل  ڈومین مخصوص ماہرین کا  ایک پینل  تیار کرنا ہوگا۔ مزید بر آں  پینل میں کسی بھی طرح کی تبدیلی وزارت  ہی کرسکے گی اور  وزارت کو  باقاعدہ  وقفے کے ساتھ پینل کو  اپ ڈیٹ کرتے رہنا ہوگا۔
  2. سی پی ایس ای  اور  ٹھیکیدار کو  کاموں کے  ہر ایک پیکج کے لئے  ماہرین کے  مذکورہ بالا پینل میں سے مشترکہ طور پر صرف  ایک رکن کا ہی  انتخاب کرنا ہوگا۔
  • III. تحقیقات کی مدت کے دوران  آئی ای کے ذریعے مطلوبہ ضروری معلومات ، دونوں فریقوں کے ذریعے وقت کی مدت کے طریقہ کار میں فراہم کرنی ہوگی اور اس کی پیروی نہ کرنے سے جرمانے عائد کئے جاسکتے ہیں، جس کی تفصیلات ، ٹھیکے کی حساسیت مبنی ، ان کے متعلقہ ٹھیکوں میں سی پی ایس ایز کے ذریعے طے کی جائیں گی۔
  1. متعلقہ فریقین کے ذریعے اٹھائے گئے معاملات  کی جانچ  آئی ای کرے گا، جس میں وہ  اگر ضرورت پڑے تو  زمینی  ناپ تول  شامل کرتے ہوئے  مزید تحقیقات کرنے کے لئے  جانچ منعقد کرے گا اور  دونوں پارٹیوں کے ساتھ  سماعت یا  ثالثی کے معاملات کی  کارروائیاں بھی   کرے گا۔
  2. فریقین  کی ابتدائی سماعت پر مبنی  آئی ای کو  نا اتفاقیوں کی تعداد اور نوعیت پر  مبنی  وقت مدتی  حل بیان کرنا ہوگا، جو کہ  زیادہ سے زیادہ  30  دن کی  مدت  یا  توسیع شدہ  وقت کی مدت  کے اندر ہونا چاہئے، جو کہ  غیر معمولی وجوہات  اور  ضرورت کے مطابق  کی جاسکتی ہے اور جسے  ضبط تحریر میں لانا ہوگا۔
  3. آئی ای   کی تقرری یا   کانٹریکٹ کی  ابتدائی مدت  5  سال   یا دونوں میں سے جو کم ہو، ہوگی اور  اسے  سی پی ایس ای  اور  ٹھیکیدار کے درمیان  باہمی  اتفاق  کی بنیاد پر  سال  در سال  کے لئے  مزید  جاری کیا جاسکتا ہے، جو کہ  آئی ای  کے  اتفاق پر  انحصار کرے گی ،نیز اس کا انحصار  وزارت کی  حتمی  منظوری پر ہوگا۔
  4. آئی ای کے لئے  یہ  لازم ہوگا کہ وہ  ہر دو مہینے میں جاے وقوع  کا  دورہ کرے  تاکہ اسے  جاری پروجیکٹ کی  سرگرمیوں  کی مکمل معلومات ہو اور  ایسی کسی  صورت حال کا بھی  واضح علم ہو، جس کے نتیجے میں دونوں پارٹیوں کے  درمیان نا اتفاقی ہو سکتی ہو، مزید  بر آں نا اتفاقی  کے معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے جب کبھی  بھی ضرورت پڑے  ، اضافی دورے بھی کئے جاسکتے ہیں۔
  5. سی پی ایس ای  یا  ٹھیکیدار کو کسی بھی صورت میں آئی ای کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ آئی ای کے بارے میں  کسی طرح کی  منفی  معلومات حاصل ہونے کی صورت میں، جس میں اپنے  فرائض  کی انجام دہی نہ کرنے اور  مربوطیت  کی شکایت جیسی  منفی  سرگرمیاں شامل ہو سکتی ہیں، اس ماہر  کو  وزارت کے ذریعے  بذات خود  پینل سے ہٹا یا جائے گا اور  سی پی ایس ای  اور  ٹھیکیدار کے ذریعے مشترکہ طور پر ایک نئے  ماہر کا  انتخاب کیا جائے گا جو کہ  آئی ای کے فرائض  کی  کارکردگی کے لئے  پینل سے بھی  لیا جائے گا۔

آئی ای کے ذریعے  تنازعات کو در گزر کرنے کے  مندرجہ بالا  طریقہ کار  کو ان تمام  پن بجلی، سی پی ایس ایز کو  اپنانا ہوگا، جو  بجلی کے پروجیکٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ آئی ای کو  اس حقیقت سے  بالا تر  تمام معاملات میں نافذ کیا  جانا چاہئے کہ  ٹھیکیدار  کوئی سی پی ایس ای  یا  کوئی نجی پارٹی ہے۔ موجودہ معاملات میں  ، ڈی آر بی یا  ڈی اے بی کے ذریعے تنازع کو حل کے لئے، آئی ای کے ذریعے مذکورہ  تنازع کو در گزر کرنے کے میکنزم سے  تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کے لئے باہمی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ مستقبل کے ٹھیکوں کے لئے ،  صرف آئی ای کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کے طریقہ کار  کو  تنازع کو حل کرنے کے بورڈ  یا  تنازع  کے لئے  قانونہ فیصلے کے بورڈ کی جگہ پر استعمال کرنا ہوگا، اجرتی تفصیلات بھی  طے کرلی گئی ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(ش ح- اع- ق ر)

U-9501



(Release ID: 1759209) Visitor Counter : 207