شہری ہوابازی کی وزارت

شہری ہوا بازی کی وزارت نے ڈرون سے متعلق اصلاح شدہ ضابطے 2021 مشتہر کئے

Posted On: 26 AUG 2021 12:01PM by PIB Delhi

مارچ 2021 میں شہری ہوابازی کی وزارت (ایم او سی اے) نے یو اے ایس ضابطے 2021 شائع کئے ہیں۔ انہیں ماہرین تعلیم، اسٹارٹ اپس، حتمی طور پر مستفید ہونے والے افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں کے فطری طور پر بندشی خیال کیا تھا۔ کیوں کہ  ان کے لئے خاطر خواہ کاغذاتی کارروائی درکار تھی، ڈرون کی ہر پرواز کےلئے اجازت لینے کی ضرورت تھی اور آزادانہ پرواز کے لئے بہت کم ‘‘فری ٹو فلائی’’ گرین زون دستیاب تھے۔ اس سلسلے میں موصولہ معلومات کی بنیاد پر حکومت نے یو اے ایس ضابطے 2021 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوران کی جگہ اصلاح شدہ ڈرون ضابطے 2021 پیش کئے ۔

بغیر پائلٹ والے طیارہ نظام (یو اے ایس)، جنہیں عام طور پر ڈرون کہا جاتا ہے، سے معیشت کے تقریبا تمام شعبوں کو زبردست فائدہ پہنچتا ہے۔ ان میں زراعت، کان کنی، بنیادی ڈھانچہ، نگرانی، ایمرجنسی اقدامات، نقل وحمل، مخصوص جغرافیائی، علاقائی نقشہ بندی، دفاع اور قانون کا نفاذ وغیرہ شامل ہیں۔ ڈرون اپنی رسائی، ہمہ گیریت اور با آسانی استعمال خاص طور پر بھارت کے دور دراز کے اور ناقابل رسائی علاقوں میں بھی آسانی سے ان کے استعمال کی وجہ سے روزگار کے خاطر خواہ مواقع مہیا کرسکتے ہیں اوران کی وجہ سے اقتصادی ترقی ہوسکتی ہے۔  

جدت طرازی، اطلاعاتی ٹیکنولوجی، کمیاب انجینئرنگ اور زبردست گھریلو مانگ کے پیش نظر، بھارت میں سال 2030 تک ڈرون کاایک عالمی مرکز بننے کی صلاحیت ہے۔

ڈرون ضابطے 2021 کی 30 کلیدی خصوصیات:

  1. یہ ضابطے اعتماد، خود کی ذمہ داری سے توثیق اور کسی بے جامداخلت کے بغیر نگرانی کی بنیاد پر تیار کئے گئے ہیں۔
  2. یہ ضابطے، حفاظت اور سلامتی سے متعلق زیر غور امور کا توازن برقرار رکھتے ہوئے غیر معمولی ترقی کا دور متعارف  کرانے کی غرض سے تیار کئے گئے ہیں۔
  3. کئی منظوریوں کو ختم کردیا گیا ہے: منفرد اجازت کا نمبر، منفرد اصلی نشاندہی کا نمبر، مینوفیکچرنگ اور فضائی امور سے متعلق اہل ہونے کا سرٹیفکیٹ، دیکھ بھال سے متعلق سرٹیفکیٹ، درآمدات سے متعلق منظوری، موجودہ ڈرون کی منظوری، آپریٹر کی اجازت، تحقیق و ترقی کی تنظیم کی منظوری، طلباء کا ریموٹ پائلٹ کا لائسنس، ریموٹ پائلٹ انسٹرکٹر سے متعلق اجازت، ڈرون پورٹ سے متعلق منظوری وغیرہ وغیرہ۔
  4. فارمس کی تعداد کو 25 سے کم کرکے 5 کردیا گیا ہے۔
  5. فیس کی قسموں کو 72 سے کم کرکے 4 کردیا گیا ہے۔
  6. فیس کی مقدار کو کم کرکے معمولی سطح تک کردیا گیا ہے اور اسے ڈرون کے سائز سے الگ کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ریموٹ پائلٹ کی لائسنس فیس کو 3000 روپئے (بڑے ڈرون کے لئے) سے کم کرکے ڈرون کے تمام زمروں کے لئے ایک سو روپئے کم کردیا گیا ہے اوریہ دس سال تک قابل عمل ہے۔
  7. ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کو استعمال میں آسان اورایک ہی مقام پر تمام سہولیات فراہم کرنے کے  نظام کے طور پر تیار کیا گا ہے۔ اس میں انسانی عمل دخل کم سے کم ہوگا اور زیادہ تر اجازت نامے، خود سے تیار کئے جاسکتے ہیں۔
  8. ان ضوابط کی اشاعت کے 30 دن کے اندر اندر باہم اثر پذیر ہوائی نقشہ کو سبز، زرد اور سرخ زونز کے ساتھ ڈجیٹل اسکائی پلیٹ فارم پر نمایاں کیا جائے گا۔
  9. گرین زون میں ڈرون کی پرواز  کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ گرین زون کا مطلب، چار سو فٹ یا 120 میٹر  کے عمودی فاصلے تک کی ہوائی حدود، جسے ہوائی نقشہ میں ایک ریڈ (سرخ) زون یا یلو (زرد) زون کے طور پر نہیں دکھایا گیا ہے  اورایک عملی ہوائی اڈے کی حدود سے 8 اور 12 کلو میٹر کے فاصلے کے درمیان واقع علاقے کے اوپر دوسو فٹ یا 60 میٹر کے عمودی فاصلے تک کی ہوائی حدود۔
  10. یلو(زرد ) زون کو ہوائی اڈے کے احاطہ سے 45 کلو میٹر سے کم کرکے 12 کلو میٹر تک کردیا گیا ہے۔
  11. مائیکرو ڈرونس (غیر  کمرشیل استعمال کے لئے) اور نینو ڈرونس کے لئے کسی ریموٹ پائلٹ لائسنس کی  ضرورت نہیں۔
  12. کسی رجسٹریشن یا لائسنس کے  جاری کرنے سے پہلے سکیورٹی کلیئرنس کی  ضرورت نہیں۔
  13. تحقیق اور ترقیاتی ادارے کے ذریعے  جو اپنے یا کرایے پر حاصل کئے گئے علاقے میں ڈرون آپریٹ کر رہے ہوں اور یہ  علاقے گرین زون میں واقع ہوں، وہاں ٹائپ سند، منفرد شناخت نمبر اور ریموٹ پائلٹ  لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔
  14. ہندوستانی ڈرون کمپنیوں میں غیر ملکی  آنرشپ پر  کوئی پابندی نہیں۔
  15. ڈی جی ایف ٹی کے ذریعے ڈرون کی در آمد  کو منضبط کیا  گیا ہے۔
  16. ڈی جی سی اے کی جانب سے  در آمد  کلیئرنس کی  ضرورت ختم کردی گئی ہے۔
  17. ڈرونس کے ضابطوں 2021  کے تحت  ڈرون کی کوریج 300  کے جی سے بڑھا کر 500  کے جی کردی گئی ہے۔ اس سے ڈرون ٹیکسیوں  کا بھی احاطہ ہو سکے گا۔
  18. ڈی جی سی اے  ڈرون  کی تربیت کی ضرورتوں ، اورسیز ڈرون اسکولس تجویز کرے گا، اور  پائلٹ لائسنس آن لائن فراہم کرے گا۔
  19. ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کے ذریعےمجاز ڈرون اسکول کی جانب سے پائلٹ  کے ریموٹ سرٹیفکٹ حاصل کرنے  کے 15  دن کے اندر  ڈی جی سی اے کے ذریعے  ریموٹ   پائلٹ  لائسنس جاری کیا گیا جائے گا۔
  20. ٹائپ سند  جاری کرنے کے لئے ڈرونس کی ٹیسٹنگ  کوالٹی کونسل آف انڈیا یا  مجاز ٹیسٹنگ کمپنیوں کے ذریعے کی جائے گی۔
  21. ٹائپ سند کی اسی ضرورت ہوگی جب ایک ڈرون ہندستان میں آپریٹ کیا جائے گا۔ بر آمدات کے لئے ڈرونس کی در آمد اور مینو فیکچرنگ کو  ٹائپ سرٹیفکیشن اور منفرد  شناخت نمبر سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
  22. نینو اور ماڈل ڈرونس (تحقیق یا  ری کریئشن مقاصد کے لئے بنائے گئے  ہیں) ٹائپ سند سے مستثنی ہیں۔
  23. مینوفیکچررس  اور در آمد کار  سیلف سرٹیفکیشن روٹ کے ذریعے ڈیجیٹل اسکائی  پلیٹ فارم پر  اپنے ڈرونس منفرد  شناخت نمبر  جنریٹ کرسکتے ہیں۔
  24. ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کے ذریعے ڈرونس کی  ڈی – رجسٹریشن  اور  ٹرانسفر کے لئے آسان  پروسس  وضع کئے گئے ہیں۔
  25. نومبر 2021  کو  یا اس سے پہلے ہندوستان میں موجود ڈرونس کو  ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم کے ذریعے ایک منفرد شناختی نمبر جاری کیا جائے گا، بشرطیکہ ان کے پاس  ایک ڈی اے این ، ایک  جی ایس ٹی  پیڈ انوائس ہو اور  وہ  ڈی جی سی اے کی منظور شدہ ڈرونس کی فہرست کا حصہ ہوں۔
  26. استعمال کرنے والوں کے ذریعے  خود نگرانی کے لئے ڈیجیٹل اسکائی پلیٹ فارم پر  ڈی جی سی اے کے ذریعے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) اور ٹریننگ  طریقہ کار مینولس (ٹی پی ایم) تجویز کیا جائے گا۔
  27. خلاف ورزیوں کے  ارتکاب   کی صورت  میں  جرمانے کی رقم گھٹا کر بھارتی کرنسی میں  ایک لاکھ  کردی گئی ہے۔
  28. نو پرمیشن -  نو ٹیک آف (این پی این ٹی) ریئل ٹائم ٹریکنگ بیکان جیو فینسنگ وغیرہ جیسی  سکیورٹی اور  تحفظ  کی خصوصیات  کو مستقبل میں نوٹیفائی کیا جائے گا۔
  29. ڈرون کاریڈورس کو  کارگو ڈیلیوری کے لئے  تیار کیا  جائے گا۔
  30. اکیڈمیا، اسٹارٹ اپس  اور دیگر شراکت داروں کی  شرکت کے ساتھ  حکومت کی جانب سے ڈرون پروموشن کونسل قائم کی جائے گی تاکہ ایک  نمو والے ریگولیٹری نظام کی راہ ہموار ہوسکے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح- ع م ، ح ا- ق ر ۔ ف ر)

U-8299



(Release ID: 1749208) Visitor Counter : 146