پارلیمانی امور کی وزارت

پارلیمانی اجلاسوں کے دوران حزب اختلاف کا جمہوریت مخالف اور پرتشدد رویہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب

حکومت نے کئی موقعوں پر بات چیت کی پیشکش کی لیکن سبھی اپیلیں رائیگاں گئیں

حزب اختلاف کے پاس خلل کا پہلے سے طے شدہ ایجنڈا تھا، اسے بحث میں کوئی دلچسپی نہیں تھی

حزب اختلاف کے اراکین کی یہ بدسلوکی ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک شرمناک واقعہ ہے۔ اسے قوم سے لازمی طور پر معافی مانگنی چاہئے

حزب اختلاف کے شرمناک اور خلل آمیز رویے پر سخت کارروائی کا مطالبہ

سال 2014 کے بعد سب سے زیادہ رکاوٹ کے باوجود راجیہ سبھا کے اس سیشن کے دوران روزانہ منظور ہونے والے بلوں کی تعداد 2014 کے بعد دوسری سب سے زیادہ تھی (یومیہ 1.1 بلوں کی منظوری)

Posted On: 12 AUG 2021 3:46PM by PIB Delhi

نئی دہلی 12 اگست 2021: حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ  کی جانب سے افسوسناک  کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔ اس سیشن میں ان کی حرکات استثنائی نہیں بلکہ جاری سلسلے کا حصہ تھیں۔گذشتہ سال ضابطہ نامہ پھاڑنے سے اب تک ایوان میں اپوزیشن کا جو انتہائی غیر پارلیمانی طرز عمل سامنے آیا ہے وہ دن بدن شرمناک ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات آج نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہی گئی۔ پریس کانفرنس میں مرکزی وزرا پیوش گوئل، جناب دھرمیندر پردھان، جناب مختار عباس نقوی، جناب پرہلاد جوشی، جناب بھوپندر یادو، جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر، جناب ارجن رام میگھوال اور جناب وی مرلی دھرن نے شرکت کی۔

وزرا نے بتایا کہ حزب اختلاف نے اعلانیہ کہہ رکھا تھا کہ اجلاس کی کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ ایوان میں کام کاج ہونے ہی نہ دیا جائے۔ درحقیقت حکومت نے کئی مواقع پر بات چیت کی پیشکش کی تھی لیکن ساری اپیلیں بہرے کانوں پر پڑیں اور ان لوگوں نے معزز وزیر کے ہاتھوں سے کاغذات چھین کر انہیں پھاڑ دیا۔ یہاں تک کہ معزز وزیر اعظم کو حلف لینے والے نئے وزراء کو متعارف کرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اپوزیشن کے کچھ اراکین نے چاہِ ایوان کے تقدس کی بے حرمتی کی یعنی وہاں ایوان کے بیچوں بیچ موجود میز پر چڑھ گئے اور صدر نشیں پر ضابطہ نامے کو  پھینکا۔

پارلیمنٹ میں میز پر کھڑا پارلیمانی رکن نہ صرف میز پر کھڑا تھا بلکہ پارلیمانی اخلاقیات کو پامال کر رہا تھا۔ وہ نہ صرف صدر نشیں کی جانب ضاطہ نامہ پھینک رہا تھا بلکہ پارلیمانی طرز عمل کو ایوان سے باہر پھینک رہا تھا۔ اس طرح کا رویہ ہمارے ایوان میں بے نظیر ہے اور حزب اختلاف نے ایوان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حزب اختلاف کا رویہ ادارے کے وقار پر حملہ تھا اور سیکرٹری جنرل کو شدید زخمی کر سکتا تھا۔ حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے بدسلوکی ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں شرمناک بدنامی کا واقعہ ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ اپنی حرکتوں پر معذرت خواہ بھی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ان شرمناک حرکتوں کو بہادری سمجھ رہے ہیں۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ حزب اختلاف نے پورے سیشن میں صرف اس لئے بدتمیزیاں کی ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ عوامی فلاح و بہبود کے مسائل زیر غور آئیں۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حزب اختلاف کے اس شرمناک اور خلل آمیز رویے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وہ قومی عدم اتحاد  کے لئے اپوزیشن کا اتحاد قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہیں قوم کو جواب دینا ہوگا۔

اپوزیشن نے بلوں کی منظوری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم  یہ تو پارلیمانی بحث کی اجازت دینے سے ان کے انکار کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ محض چیخ و پکار سے آگے بڑھ کر ان لوگوں نے پارلیمانی عمل میں خلل ڈالنے کے لئے تشدد سے بھی کام لیا اور عملے سے بدتمیزی کی۔ بغیر بحث کے بلوں کے منظور ہونے کے بارے میں یہ تشویش اُس وقت کہاں تھی جب یو پی اے کے دور  میں متعدد بل شور و غل کے درمیاں منظور کئے گئے تھے۔ 2006 اور 2014 میں  ترقی پسند اتحاد (یو پی اے 1 اور 2) حکومت نے عجلت میں 18 بل منظور کئے تھے۔

سال 2014 کے بعد سب سے زیادہ خلل کے باوجود راجیہ سبھا میں اس سیشن کے دوران روزانہ منظور ہونے والے بلوں کی تعداد 2014 کے بعد سے دوسرے نمبر پر رہی  (یعنی یومیہ  1.1 بل  منظور کئے گئے)۔ رکاوٹوں / التوا کی وجہ سے (11 اگست تک) 76 گھنٹے 26 منٹ کا زیاں ہوا۔ اور 2014 میں راجیہ سبھا کے 231 ویں اجلاس کے بعد سے رکاوٹوں / التوا کی وجہ سے روزانہ سب سے زیادہ ضائع ہونے والے  وقت کا اوسط  4 گھنٹے 30 منٹ تھا۔

تمام افراتفری اور رکاوٹ کے باوجود  راجیہ سبھا میں 19 بل منظور ہوئے (بشمول او بی سی ریزرویشن میں آئینی ترمیم)۔ یہ بل قومی مفاد کے ہیں اور یہ غریبوں، او بی سی، مزدوروں، تاجروں اور ہمارے معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچائیں گے۔ یہ حکومت کی پارلیمنٹ میں قانون سازی کا ایجنڈا چلانے کے حکومت کے عزم، پیداواری صلاحیت اور اہلیت کی عکاسی کرتا ہے  جس کا مقصد ملک کے شہریوں کی خواہشات کی تکمیل ہے۔ یہ ہمارے ملک کا مستقبل طے کرے گا۔ سیشن کے دوران حکومت نے کامیابی سے سرکاری کام کاج  کیا۔

مانسون اجلاس کی تفصیلات

1۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 2021 جو پیر، 19 جولائی 2021 کو شروع ہوا تھا، بدھ ، گیارہ اگست 2021 کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ اس اجلاس کےد وران 24 دن میں سترہ نشستیں ہوئیں۔

2۔ پہلے اس اجلاس میں 19 جولائی 2021 سے تیرہ اگست 2021 کے دوران 19 نشستیں ہونی تھیں، لیکن دونوں ایوانوں میں لگاتار خلل کے باعث اور لازمی سرکاری کام کاج کی تکمیل کے لئے اسے مختصر کردیا گیا۔

3۔ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ذریعہ 22 بل منظور کئے گئے جن میں مطالباتِ زر سے متعلق اخراجات کے دو بل برائے 22-2021 اور 18-2017 کے لئے اضافی گرانٹ شامل ہیں، جو لوک سبھا سے منظور کئے گئے اور راجیہ سبھا کو بھیجے گئے اور انھیں آرٹیکل 109(5) کے تحت منظوری ملنی ہے۔ ان 22 بلوں کی مکمل فہرست ضمیمے میں موجود ہے۔

4۔ چار بل جو آرڈیننس کی جگہ آئے۔ ٹرائبیونل ریفارمز (ریگولرائزیشن اور کنڈیشن آف سروس) آرڈیننس 2021۔ دیوالیہ پن کو ڈ(ترمیمی) آرڈیننس 2021، قومی راجدھانی اور اطراف میں ہوا کے معیار کے بندوبست کا کمیشن آرڈیننس 2021 اور لازمی ڈیفنس خدمات آرڈیننس 2021، جو مانسون اجلاس سے قبل صدر کے ذریعہ جاری کئے گئے تھے، انھیں غور وخوض کے بعد ایوانوں سے منظور کیا گیا۔

5۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں سے منظورہ شدہ کچھ اہم بل:۔

اے۔ اقتصادی سیکٹر/کاروبار میں آسانی کے اقدامات

ٹیکسیشن قوانین (ترمیمی) بل 2021کے تحت یہ گنجائش ہے کہ اگر لین دین 28 مئی 2012 سے قبل کیا گیا تھا تو کسی بھی ہندوستانی اثاثوں کے بالواسطہ ٹرانسفر کے لئے ماضی رخی ترمیم کی بنیاد پر کسی ٹیکس کی مانگ نہیں کی جائے گی۔

دی جنرل انشورنس بزنس (نیشنلائزیشن) ترمیمی بل 2021 پبلک سیکٹر کی انشورنس کمپنیوں میں زیادہ سے زیادہ نجی حصہ داری دیتا ہے اورانشورنس بڑھانے اور سماجی تحفظ اور پالیسی رکھنے والوں کے مفادات کی حفاظت اور معیشت کی تیز رفتار ترقی کے لئے ہے۔

ڈپازٹ انشورنس اور کریڈ گارنڈی کارپوریشن (ترمیمی) بل 2021 کھاتہ رکھنے  والوں کو اپنے پیسوں تک بہ آسانی اور برقت رسائی کا موقع دیتا ہے چاہے بینکوں پر بندشیں ہوں، ڈپازیٹر اپنے کھاتوں  تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

محدود جوابدہی ساجھیداری(ترمیمی) بل 2021 کے تحت بعض جرائم کو سول ڈیفالٹ میں بدلا گیا ہے اور ان جرائم کی سزاؤں کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے۔

فیکٹرنگ ریگولیشن (ترمیمی) بل 2021 کے تحت بہت چھوٹی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی مدد کے لئے ہے جس میں انھیں قرضے لینے کی سہولت دی گئی ہے۔ ورکنگ کپٹل کی دستیابی بڑھنے سے بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے سیکٹر میں ترقی ہوگی اور ملک میں روزگار بھی بڑھے گا۔

بی۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی اصلاحات

دی میرن ایڈز ٹو نیویگیشن بل 2021 کے تحت ہندوستان میں نیوی گیشن کے لئے مدد گار آلات کی تیاری، فروغ اور دیکھ ریکھ کی گنجائش ہے، نیوی گیشن کے آپریٹروں کی تربیت اور سرٹیفکیشن ، اس کی تاریخی ، تعلیمی اور ثقافتی اہمیت کا فروغ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، جن میں ہندوستان شامل ہے۔

دی ان لینڈ ویسل بل 2021 اندرون ملک آبی راستوں کے ذریعہ مناسب لاگت اور محفوظ کاروبار کے لئے ہے۔ اندرون ملک آبی راستوں سے متعلق قانون کے یکساں نفاذ، محفوظ نیوی گیشن، جان اور مال کی حفاظت نیوی گیشن جہازوں کے ذریعہ آلودگی کی روک تھام، اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے ٹرانسپورٹیشن میں شفافیت اور جوابدہی وغیرہ شامل ہیں۔

ائرپورٹ اکنومک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا(ترمیمی) بل 2021 میں بڑے ہوائی اڈوں کی تعریف میں تبدیلی کرنے کی تجویز ہے جس سے چھوٹے ہوائی اڈوں کی ترقی ہوسکے گی۔

سی۔ تعلیمی اصلاحات

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرنٹرشپ اینڈ منجمنٹ بل 2021 میں فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرنٹرشپ اور بندوبست کے بعض اداروں کو قومی اہمیت کے ادارے قرار دیتا ہے اور فوڈ ٹیکنالوجی ، انٹرپرنٹرشپ اور بندوبست کے لئے ہدایات اور تحقیق فراہم کرتا ہے۔

سنٹرل یونیورسٹیز(ترمیمی) بل 2021 کے تحت دیگر باتوں کے علاوہ سنٹرل یونیورسٹیز ایکٹ 2009 میں ترمیم شامل ہے تاکہ مرکزی انتظام والے علاقے لداخ میں سندھو سنٹرل یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کا قیام ہوسکے۔

ڈی۔ سماجی انصاف سے متعلق اصلاحات

کنسٹی ٹیوشن(127 ویں ترمیم) بل 2021 کے تحت یہ خاطر خواہ طور پر وضاحت مطلوب ہے کہ ریاستی سرکار اور مرکزی انتظام والے علاقوں کو خود اپنے ریاستی/یوٹیز کے سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ طبقات کی فہرست بنانے کا اختیار دیا جائے۔

نابالغوں کے انصاف (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ترمیمی بل 2021 میں گنجائش ہے کہ عدالت کے بجائے ضلع مجسٹریٹ(بشمول ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ)گود لینے کے احکام جاری کریں گے۔ بل میں یہ بھی شامل ہے کہ سنگین جرائم کو اس زمرے کے جرائم میں شامل کیا جائے گا جن میں زیادہ سے زیادہ سزا سات سال سے زیادہ کی قید اور کم از کم سزا کا تعین نہیں ہے یا سات سال قید سے کم ہے۔

آئین (درج فہرست قبائل) آرڈر(ترمیمی) بل 2021 اروناچل پردیش سے متعلق درج فہرست قبائل کی فہرست میں تبدیلی کے لئے ہے۔

6۔ راجیہ سبھا میں ضابطہ 176 کے تحت دو مختصر وقفے کے تبادلہ خیال’’کووڈ -19 عالمی وباء کے بندوبست ، ٹیکہ کاری کی پالیسی پر عملدرآمد اور ممکنہ تیسری لہر کے چلینج‘‘ اور ’’زرعی مسائل اور حل‘‘(نامکمل رہا) شامل ہیں۔

7۔ اس کے علاوہ لو ک سبھا اور راجیہ سبھا سے بالترتیب ایک ایک بل واپس لیا گیا۔ ٹرائبیونل اصلاحات(قابل عمل اور کام کی نوعیت) بل 2021 اور ایک عرصے سے زیرالتواء بل’’خواتین کی غیر شائستہ تصویر کشی(امتناعی) ترمیمی بل 2012

***

ضمیمہ

سترہویں لوک سبھا کے چھٹے اجلاس اور راجیہ سبھا کے 254 ویں اجلاس(مانسون اجلاس2021) کے دوران ہوئے قانونی کام کاج

I۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور 22بل

  1. نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی انٹرپرینٹرشپ اور بندوبست بل 2021
  2. دی میرن ایڈز ٹو نیویگیشن بل 2021
  3. نابالغان کے انصاف (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ترمیمی بل 2021
  4. دی فیکٹرنگ ریگولیشن (ترمیمی) بل 2021
  5. دی انڈلینڈ ویسل بل 2021
  6. دیوالیہ پن کوڈ(ترمیمی) بل 2021
  7. ناریل کے فروغ کے بورڈ(ترمیمی) بل 2021
  8. ائرپورٹ اکنومک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا(ترمیمی) بل 2021
  9. قومی راجدھانی خطہ اور اطراف میں ہوا کے معیار کے بندوبست کا بل 2021

10. لازمی ڈیفنس خدمات بل 2021

11.محدود جوابدہی پارٹرنرشپ(ترمیمی) بل 2021

12.ڈپازٹ انشورنس اور کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن ترمیمی بل 2021

13.کنسٹی ٹیوشن (درج فہرست قبائل) بل 2021

14. ٹرائبیونل اصلاحات بل 2021

15. ٹیکس قوانین (ترمیمی)بل 2021

16. سنٹرل یونیورسٹیز (ترمیمی) بل 2021

17. جنرل انشورنس بزنس (نیشنلائزیشن) ترمیمی بل 2021

18. نیشنل کمیشن فارہومیوپیتھی (ترمیمی) بل 2021

19. دی نیشنل کمیشن فارانڈین سسٹم آف میڈیسن ترمیمی بل 2021

20. آئین (127 ویں ترمیم) بل 2021

21. اخراجات کا بل (نمبر3) 2021

22. اخراجات کا بل (نمبر4) بل 2021

 

II۔دو پرانے بل جنہیں واپس لیا گیا

1.ٹرائبیونل اصلاحات (معقولیت اور خدمات کی نوعیت) بل 2021

2. خواتین کی غیر شائستہ عکاسی(امتناعی) ترمیمی بل 2012

* دو بل لوک سبھا سے منظوری کے بعد راجیہ سبھا کی سفارش حاصل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں لیکن لوک سبھا واپسی کی مقررہ چودہ دن کی مدت کے اندر یہ واپس نہیں ہوسکتے ۔ بل کی مدت ختم ہونے کے بعد دونوں ایوانوں سے منظوری اسی شکل میں حاصل کریں گے جیسے کہ یہ لوک سبھا سے منظور کئے گئے۔ یہ آئین کی دفعہ 109 کی شق (5) کے تحت لوک سبھا سے منظور کئے گئے ہیں۔

 

 

U.No.7785

ش ح۔رف۔س ا



(Release ID: 1745318) Visitor Counter : 144