وزارت خزانہ

ای- روپی ،ڈیجیٹل ادائیگی کے نئے وسیلے ، ای -روپی کے بارے مین سب کچھ جانئیے

Posted On: 06 AUG 2021 10:57AM by PIB Delhi

نئی دہلی:06؍اگست 2021

(وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2 اگست کو ڈیجیٹل ادائیگی کے طریق کار ای روپی کا آغاز کیا جو ڈیجیٹل ادائیگی کیلئے ایک نقدی کے بغیر اورانسانی رابطہ کے بغیر استعمال کا ایک وسیلہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ای روپی واؤچر ، ملک میں ڈیجیٹل لین دین میں فائدوں کی براہ راست منتقلی(ڈی بی ٹی) کو زیادہ مؤثر بنانے میں ایک زبردست کردار ادا کرنے جارہا ہے۔ اور یہ ڈیجیٹل حکمرانی کو ایک نیا زاویہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای روپی اس بات کی ایک علامت ہے کہ کس طرح بھارت ، لوگوں کی زندگیوں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کرکے ترقی کررہا ہے۔)

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/9HCPY.jpg

 

ای روپی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

ای روپی بنیادی طور پر ایک ڈیجیٹل واؤچر ہے جو ایک متعلقہ شخص کو اس کے فون پر ایک ایس ایم ایس ، کیو آر کوڈ کی شکل میں ملتا ہے ۔ یہ پیشگی ادائیگی والا واؤچر ہے ،جسے کوئی بھی شخص کسی بھی ایسے مرکز پر جاکر ، جہاں یہ قابل قبول ہے ، بھنا سکتا ہے یا اس کے ذریعہ نقد رقم حاصل کرسکتا ہے ۔

مثال کے طور پر اگر حکومت کسی ملازم کا ایک مخصوص اسپتال میں ،ایک مخصوص علاج کرانا چاہتی ہے،تو وہ ایک ساجھیدار بینک کے ذریعہ مقررہ رقم کا ایک ای۔ روپی واؤ چر جاری کرسکتی ہے۔ملازم اپنے فیچر فون /اسمارٹ فون پر ایک ایس ایم ایس یا ایک کیو آر کوڈ وصول کرے گا،اس کے بعد وہ مخصوص اسپتال میں جاکر علاج معالجہ سے متعلق خدمات حاصل کرسکتا ہے اور پھر اپنے فون پر موصولہ ای ۔ روپی واؤچر کے ذریعہ ادائیگی کرسکتا ہے۔

اس لئے ای ۔ روپی ایک مرتبہ استعمال ہونے والا انسانی رابطہ کے بغیر نقدی کے بغیر واؤچر پر مبنی ادائیگی کا انداز ہےجس کی بدولت اسے استعمال کرنے والا شخص ایک کارڈ،ڈیجیٹل ادائیگی سے متعلق ایپ یا انٹر نیٹ بینکنگ تک رسائی کے بغیر واؤچر کو بھنا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/103Q8Y.jpg

 

ای ۔ روپی کو ڈیجیٹل کرنسی کے ساتھ الجھانا نہیں چاہئے جسے ریزرو بینک آف انڈیا غوروفکر کررہا ہے۔ اس کے بجائے ای ۔ روپی کسی شخص پر مخصوص ، یہاں تک کےکسی  مخصوص  مقصد کاڈیجیٹل واؤچر ہے۔

 

ای ۔روپی صارفین کے لئے کس طرح مفید  ہے؟

ای ۔ روپی کے استعمال کے لیے، مستفید ہونے والے شخص کا بینک کھاتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، جو کہ ڈیجیٹل ادائیگی  سے متعلق دیگر طریق کار کے مقابلے ایک بہت اہم خصوصیت ہے۔ ایک آسان، انسانی رابطے کے بغیر دو مرحلے والے نقد رقم حاصل کرنے کے عمل کو یقینی بناتا ہے جس کے لیے ذاتی معلومات سے مطلع کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ای –روپی، بنیادی فون پر بھی کام کرتا ہے۔ اسی لیے اسے ایک ایسا شخص بھی استعمال کر سکتا ہے جس کے پاس اسمارٹ فون نہ ہو۔ اور اسے انٹرنیٹ رابطے کی کمی والی جگہوں پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ای –روپی کی سرپرستی کرنے والوں کے لیے کیا فائدے ہیں؟

ای –روپی کے فائدے کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی)کو مستحکم بنانے اور اسے زیادہ شفاف بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا امکان ہے۔ اس لیے واؤچر س کے طبیعاتی اجرا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی بدولت لاگت میں بھی کچھ کمی ہوگی۔

خدمت فراہم کرنے والوں کے لیے کیا فائدے ہیں؟

ایک پیشگی ادائیگی کا واؤچر ہونے کے سبب، ای –روپی کی بدولت خدمت فراہم کرنے والے کو بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

2.PNG

ای –روپی کو کس نے تیار کیا ہے؟

ادائیگیوں سے متعلق بھارت کی قومی کارپوریشن(این سی پی آئی) نے، جو بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق نظام پر نظر رکھتی ہے۔ نقدی کے بغیر لین دین کے عمل کو فروغ دینے کی غرض سے، واؤچر پر مبنی ادائیگیوں کے نظام، ای-روپی کا آغاز کیا ہے۔۔

اسے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے مالی خدمات کے محکمے اور صحت کی قومی اتھارٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

کون سے بینک ای –روپی جاری کرتے ہیں؟

این پی سی آئی نے ای-روپی لین دین کے لیے گیارہ بینکوں کے ساتھ ساجھیداری کی ہے۔ یہ ہیں: ایکسز بینک، بینک آف بڑودہ، کینرہ بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، انڈین بینک، انڈس انڈ بینک، کوٹک مہیندرا بینک، پنجاب نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا(ایس بی آئی) اور یونین بینک آف انڈیا۔

حصولیابی کے ایپس ہیں: بھارت پے، بھیم بڑودہ مرچنٹ پے، پائن لیبس، پی این بی مرچنٹ پے اور وائی او این او(یونو)، ایس بی آئی مرچنٹ پے۔

مزید بینکوں اور حصولیابی کرنے والے ایپس کے جلد ہی ای –روپی پہل میں شامل ہونے کی توقع ہے۔

اب ای –روپی کو کہاں استعمال کیا جا سکتا ہے؟

این پی سی آئی نے شروعات میں 1600 سے زیادہ اسپتالوں کے ساتھ تال میل قائم کیا ہے جہاں ای-روپی کو بھُنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ای-روپی استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے کیوں کہ نجی شعبہ بھی ملازمین کو فائدہ پہنچانے اور بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری ادارے یعنی کاروبار سے کاروبار کے مابین ہونے والے لین دین کے لیے اسے اختیار کر رہے ہیں۔

************

 

ش ح- ع م۔ س ک

U. No.7533



(Release ID: 1743177) Visitor Counter : 61