وزیراعظم کا دفتر

وزیراعظم نے ڈجیٹل ادائیگی کے طریق کارای-روپی کا آغاز کیا

ای-روپی واؤچرکی بدولت ہر ایک کو نشان زد ،شفاف اور سقم سے مبرّا بہم رسانی میں مدد ملے گی: وزیراعظم

ای-روپی واؤچرڈی بی ٹی کو زیادہ موثر بنانےمیں اہم کردار اد ا کرے گا اور اس سے ڈجیٹل حکمرانی کو ایک نیا زاویہ ملے گا : وزیراعظم

ہم ٹکنالوجی کو غریبوں کی مدد کے ایک وسیلے کے طور پردیکھتے ہیں اور یہ ان کی ترقی کے لئے ایک وسیلہ ثابت ہوگا: وزیراعظم

بھارت ، جدت طرازی ٹکنالوجی کےاستعمال اور خدمات کی بہم رسانی میں دنیا کے بڑے ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے: وزیراعظم

دنیا ،بھارت میں ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے اور ڈجیٹل لین دین کے لئے گزشتہ چھ –سات سالوں کے دوران کئے گئے کام کے اثرات کا اعتراف کررہی ہے: وزیراعظم

Posted On: 02 AUG 2021 5:59PM by PIB Delhi

نئی دہلی30؍اگست-2021 :وزیراعظم نریند ر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ایک شخصی اور مقصد کے لئے وقف ڈجیٹل ادائیگی کے طریق کار ای –روپی کا آغاز کیا۔ای-روپی ڈجیٹل ادائیگی کے لئے  نقد رقم کے استعمال کے بغیراور کسی کے بھی رابطے میں آئےبغیر استعمال کیا جانے والا ایک ذریعہ ہے۔

اس موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ای –روپی واؤچر ملک میں ڈجیٹل لین دین میں ڈی بی ٹی کواور زیادہ موثر بنانے میں ایک بڑا کردار ادا کرنے جارہا ہے اور اس سے ڈجیٹل حکمرانی کو ایک نیا زاویہ ملے گا۔اس سے ہر کسی کو نشان زد ،شفاف اور سقم سے مبرا بہم رسانی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ای –روپی اس بات کی ایک علامت ہے کہ بھارت کس طرح لوگوں کی زندگیوں اور ٹکنالوجی کو جوڑکر ترقی کررہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ مستقبل کے لئے موزوں یہ اصلاحی پہل ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک آزادی کے 75سال مکمل ہونے کے موقع پر ‘‘ امرت مہوتسو ’’ منا رہا ہے۔

 

انہوں نے حکومت کے علاوہ بھی اگرکوئی تنظیم ،کسی شخص کے علاج معالجہ ،تعلیم  اور دیگرکسی بھی کا م کے لئے اس کی مدد کرنا چاہتی ہے  تو وہ اسے نقد رقم ادا کرنے کے بجائے ای –روپی واؤچردے سکے گی۔اس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گاکہ تنظیم کے دی گئی رقم کو اسی کام کے لئے استعمال کیا جاسکے گا،جس کا م کے لئے وہ رقم دی گئی ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ ای –روپی ایک شخص کے ساتھ مقصد کے لئے وقف طریق  کا ر ہے ۔ای –روپی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ رقم کو اسی مقصد کے لئے  کوئی بھی مدد یا کوئی بھی فائدہ فراہم کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ایک ایسا بھی وقت تھا جب ٹکنالوجی کو امیر لوگوں کے استعمال کی چیزسمجھا جاتا تھااور بھارت جیسے غریب ملک میںٹکنالوجی کےلئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔انہو ں نے اس وقت کو یاد کیا کہ جب اس حکومت  نے ٹکنالوجی کا ایک مشن کے طورپر استعمال کیا تھا توسیاسی لیڈروں اور بعض قسم کے ماہرین نے اس پرسوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ملک نے ان لوگوں کی سوچ کو بھی درکنارکردیا ہے اور انہیں  غلط ثابت کردیا ہے۔ آج ملک کی سوچ مختلف ہے۔یہ ایک نئی سوچ ہے ۔آج ہم ٹکنالوجی کو غربیو ں کی مدد  اور ان کی ترقی کے ایک وسیلے کے طور پردیکھ رہے ہیں۔

 

وزیراعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح ٹکنالوجی لین دین میںشفافیت اور ایمانداری لارہی ہے  اور کس طرح نئے نئے مواقع پیدا کرکے اور انہیں غریب افرادکودستیاب کرارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج کے اس منفرد وسیلے تک پہنچنے کے مقصدسے جے اے ایم سسٹم تخلیق کرکے ،جس سے کہ  موبائل اور آدھار کو منسلک کیا گیا ، گزشتہ کئی سالوں میں اس کی بنیادکی تیاری کی گئی تھی۔ جے اے ایم کے فائدے لوگوں تک پہنچنے میں کچھ وقت لگا اور ہم نے دیکھا کہ کس  طرح ہم لاک ڈاؤن مدت کے دوران ضرورتمندلوگوں کی مدد کرسکے ۔جبکہ دوسرے ممالک اپنے عوام کی مدد کرنے کے لئے جدوجہدکررہے تھے۔جناب نریندر مودی نے ا س بات کو اجاگرکیا کہ بھارت میں فوائد کی براہ راست منتقلی ڈی بی ٹی کے ذریعہ 17 لاکھ 50000 کروڑسے زیادہ روپے لوگوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست  منتقل کئے گئے ہیں۔300سے زیادہ اسکیموں  میں  ڈی بی ٹی استعمال ہورہا ہے۔90 کروڑسے زیادہ بھارتی افراد کو رسوئی گیس ، ایل پی جی ، راشن ، طبی علاج ومعالجہ ، وظیفہ ، پنشن  یا اجرتوں کی ادائیگی جیسے شعبوں کے ذریعہ کسی نہ کسی طرح فائدہ  پہنچ رہا ہے ۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت ایک لاکھ 35000 کروڑروپے براہ راست کسانو ں کے کھاتوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔اس طریقے سے گیہوں کی سرکاری خرید کے لئے 85000 کروڑروپے کی بھی ادائیگی کی گئی ۔ انہوں نے کہا : ‘‘ اس سب کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ  ایک لاکھ 78000 کروڑروپےغلط ہاتھوں میں جانے سے بچ گئے ہیں۔’’

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے اس بات کو نمایاں کیا کہ بھارت میں ڈجیٹل لین دین کے عمل میں پیش رفت کی بدولت غریب افراد ، محروم افراد ،چھوٹے کاروباری افراد،کسان اورقبائلی آبادی کو بااختیار بنایا جاسکا ہے  اور اس بات کو جولائی کے مہینے میں کئے گئے 6 لاکھ کروڑروپے  تک کے 300 کروڑیو پی آئی لین دین سے محسوس کیا جاسکتا ہے جو کہ ایک ریکارڈ  ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کو یہ ثابت کررہا ہے کہ ہم ٹکنالوجی کو استعمال کرنے او ر اسے حسب منشا ء بنانے میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب جدت طرازی اور خدمات کی بہم رسانی میں ٹکنالوجی کے استعمال کی بات ہوتو  بھارت ، دنیا کے بڑے ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی قیادت فراہم کرنے صلاحیت کا حامل ملک  ہے

وزیراعظم نے کہا کہ پی ایم سواندھی یوجناکی بدولت ملک کے چھوٹے قصبوں اور بڑے شہروں  میں 23 لاکھ سے زیادہ  خوانچہ فروشوں کی مدد کی گئی ہے۔عالمی وبا کی اس مدت کے دوران  لگ بھگ 2300 کروڑروپے انہیں ادا کئے گئے۔

وزیراعظم جناب نریندرمودی نے کہا کہ دنیا، بھارت میں ڈجیٹل بنیادی ڈھانچہ  اور ڈجیٹل لین دین کے لئے گزشتہ چھ سات برسوں میں کئے گئے کام کے اثرات کا اعتراف کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاص طور پر بھارت میں ،فِن ٹیک کی ایک زبردست بنیاد تیارکی گئی ہے، جو کہ ترقی یافتہ ملکوں تک میں موجود نہیں ہے۔

**********

 

ش ح۔ع م۔ رم

U NO. 7393



(Release ID: 1741811) Visitor Counter : 56