ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی

کابینہ نے ’’ازسر نو تیار شدہ تقسیم کاری سیکٹر اسکیم : اصلاحات پر مبنی اور نتائج سے مربوط ایک اسکیم‘‘ کو منظوری دی

Posted On: 30 JUN 2021 4:20PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 30 جون، 2021: وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت کابینہ نے اصلاحات پر مبنی اور نتائج سے مربوط، از سر نو تیار کردہ تقسیم کاری سیکٹر اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد سپلائی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے ڈسکام کے علاوہ تمام ڈسکام/ بجلی کے محکموں کی آپریشنل اہلیت اور مالی استحکام میں بہتری لانا ہے۔ یہ امداد پیشگی اہلیت معیارات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مالی بہتری سے متعلق جائزہ فریم ورک کی بنیاد پر اندازہ کیے گئے ڈسکام کے ذریعہ بنیادی سطح پر کم از کم معیارات کی حصولیابی پر مبنی ہوگی۔ اس اسکیم کا نفاذ ’’سبھی کے لئے موافق ایک نظام‘‘ کے نقطہ نظر کے بجائے ہر ایک ریاست کے لئے تیار کردہ لائحہ عمل پر مبنی ہوگا۔

اسکیم پر خرچ 303758 کروڑ روپئے ہوگا، جس میں مرکزی حکومت کی جانب سے 97631 کروڑ روپئے کا تخمینہ جی بی ایس ہوگا۔ یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) اور لداخ جیسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لئے پی ایم ڈی پی ۔2015 کے ساتھ آئی پی ڈی ایس، ڈی ڈی یوجی  جے وائی کی اسکیموں کے تحت فی الحال جاری منظور شدہ پروجیکٹوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا، اور ان کی جی بی ایس کی بچت (تقریباً 17000 کروڑ روپئے) موجودہ اصولوں اور شرائط کے تحت 31 مارچ 2022 کو ختم ہونے تک ازسر نو تیار کردہ تقسیم کاری سیکٹر اسکیم کے مجموعی صرفے کا حصہ ہوں گی۔ ان اسکیموں کے تحت رقم کو آئی پی ڈی ایس کے تحت اور شناخت کیے گئے پروجیکٹوں کے لئے اور 31 مارچ 2023 تک آئی پی ڈی ایس اور ڈی ڈی یو جی جے وائی کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے پردھان منتری وکاس پروگرام(پی ایم ڈی پی) کے تحت چل رہے منظور شدہ پروجیکٹوں کے لئے دستیاب کرایا جائے گا۔

ازسر نو تیار کردہ تقسیم کاری سیکٹر اسکیم کا مقصد پیشگی اہلیت کے معیارات کو پورا کرنے اور بنیادی کم از کم معیار کی بنیاد پر سپلائی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے ڈسکام کو نتائج سے مربوط مالی امداد فراہم کرکے ان کی آپریشنل اہلیت اور مالی استحکام میں بہتری لانا ہے۔ یہ اسکیم سال 2025۔26 تک دستیاب رہے گی۔ اسکیم کے نفاذ کو سہل بنانے کے لئے آر ای سی اور پی ایف سی کو نوڈل ایجنسیوں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

اسکیم کے مقاصد

  1. 2024۔25 تک پورے بھارت میں اے ٹی اینڈ سی نقصانات کو 12 سے 15 فیصد تک کم کرنا۔
  2. 2024۔25 تک اے سی ایس ۔ اے آر آر کے فیصلے کو گھٹاکر صفر تک لانا
  3. جدید ڈسکامس کے لئے ادارہ جاتی صلاحیتیں پیدا کرنا
  4. مالی طور پر مستحکم اور آپریشن کے لحاظ سے مؤثر تقسیم کاری شعبے کے توسط سے صارفین کو سپلائی کی جانے والی بجلی کی کوالٹی کو بہتر بنانے، معتبریت میں اضافے اور اس کو مزید قابل استطاعت بناناہے۔

تفصیلات

یہ اسکیم اے ٹی اینڈ سی نقصانات، اے سی ایس ۔ اے آر آر وقفوں، بنیادی ڈھانچے کی تجدید کاری سے متعلق کارکردگی، صارفین خدمات، سپلائی کے گھنٹے، کارپوریٹ حکمرانی، وغیرہ سمیت پیش وضاحتی اور طے شدہ کارکردگی کے اشاروں کے معاملے میں ڈسکام کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ پیش کرتی ہے۔ڈسکام کو کم از کم 60 فیصد نمبرا ت حاصل کرنے ہوں گے اور اس سال اسکیم کے تحت سرمایہ حاصل کرنے کا اہل ہونے کے لئے کچھ معیارات سے متعلق کم از کم معیار کو پورا کرنا ہوگا۔

اس اسکیم میں کاشتکاروں کے لئے بجلی کی سپلائی میں بہتری لانے اور زرعی فیڈروں اور سولرائزیشن کے توسط سے انہیں دن کے وقت بجلی فراہم کرانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، تقریباً 20000 کروڑ روپئے کے صرفے سے 10000 زرعی فیڈروں کو علیحدہ کرنے کا کام انجام دیا جائے گا، یہ ان کسانوں کے لئے ازحد فائدہ ثابت ہوگا، جو ان وقف زرعی فیڈروں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ان کے توسط سے قابل اعتبار اور کوالٹی کی حامل بجلی حاصل کر سکیں گے۔ یہ اسکیم پردھان منتری کسان اورجا سرکشا ایوم اُتتھان مہا ابھیان (پی ایم۔ کسم) اسکیم کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے،جس کا مقصد تمام فیڈروں کو شمسی توانائی کے تحت لانا اور کاشتکاروں کو اضافی آمدنی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

اس اسکیم کی ایک اہم خاصیت پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ کے توسط سے عوامی۔نجی شراکت داری (پی پی پی) موڈ کو نافذ کرنے کے لئے صارف اختیارکاری کو اہل بنانا ہے۔ اس سے اسمارٹ میٹر صارفین ماہانہ بنیاد کے بجائے معمول کے حساب سے اپنی بجلی کی کھپت کی نگرانی کر سکیں گے، جو انہیں اپنی ضرورتوں کے مطابق اور دستیاب وسائل کے مطابق بجلی کے استعمال میں مدد کر سکتے ہیں۔ اس اسکیم کی مدت کے دوران 25 کروڑ اسمارٹ میٹر لگانے کی اسکیم کے پہلے مرحلے میں پری پیڈ اسمارٹ میٹر کو مشن موڈ میں لگانے کے عمل کو ترجیح دی جائے گی جس کے تحت (i) 15فیصد اے ٹی اینڈ سی نقصانات کے ساتھ 500 امرت شہروں کے سبھی بجلی ڈویژن (ii) مرکز کے زیر انتظام تمام علاقے (iii) ایم ایس ایم ای اور دیگر تمام صنعتی اور کمرشل صارفین (iv)  بلاک کی سطح پر اس سے اوپر کے تمام سرکاری دفاتر (v) بڑے نقصان والے دیگر علاقوں پر احاطہ کیا جائے گا۔ اس کے پہلے مرحلے میں دسمبر 2023 تک تقریباً 10 کروڑ پری پیڈ اسمارٹ میٹر لگانے کی تجویز ہے۔ پری پیڈ اسمارٹ میٹر کے قیام کی پیش رفت کی قریبی نگرانی کی جائے گی، خاص طور سے سرکاری دفاتر میں، تاکہ معینہ مدت کے اندر انہیں لگانے کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

زرعی کنکشنوں کی الگ الگ صورتحال اور بستیوں سے ان کی دوری کو دیکھتے ہوئے، زرعی کنکشنوں کو صرف فیڈر میٹر کے توسط سے کور کیا جائے گا۔

صارفین کے لئے پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ کے معینہ مدت کے اندر نفاذ کے ساتھ ساتھ پی پی پی موڈ میں مواصلاتی سہولت کے ساتھ فیڈر اور ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر (ڈی ٹی) سطح پر سسٹم میٹرنگ کرنے کی بھی تجویز ہے۔

سسٹم میٹر، پری پیڈ اسمارٹ میٹر سمیت آئی ٹی/ او ٹی آلات کے ذریعہ سے حاصل ڈاٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے فائدہ حاصل کیا جائے گا تاکہ ہر مہینے سسٹم کے ذریعہ تیار کھاتہ رپورٹ تیار کی جا سکے اور اس کے توسط سے ڈسکام کو نقصان میں تخفیف، مطالبات کی پیش گوئی، دن کا وقت(ٹی او ڈی)، ٹیرف، قابل احیاء توانائی (آر ای) ارتباط اور دیگر پیشن گوئی جائزے پر فیصلہ لینے میں اہل بنایا جا سکے۔ یہ ڈسکامس کی آپریشنل اہلیت اور مالی استحکام میں اضافہ کرنے کی سمت میں ایک بڑا تعاون پیش کرے گا۔ اسکیم کے تحت فنڈ کا استعمال تقسیم کاری شعبے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے متعلق ایپلی کیشنوں کی تیاری کے لئے بھی کیا جائے گا۔ اس سے ملک بھر میں تقسیم کاری شعبے میں اسٹارٹ اپس کی ترقی کو بڑھاوا ملے گا۔

اہم عناصر:

  1. صارف میٹر اور سسٹم میٹر
    1. زرعی صارفین کے علاوہ سبھی صارفین کے لئے پری پیڈ اسمارٹ میٹر۔
    2. ~25 کروڑ صارفین کو پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ کے دائرے میں لایا جائے گا۔
    3. پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ کے لئے شہری علاقوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، امرت شہروں اور زیادہ نقصان والے علاقوں کو ترجیح دیتے ہوئے یعنی 2023 تک ~10 کروڑ پری پیڈ اسمارٹ میٹر لگائے جائیں گے، بقیہ آئندہ مرحلوں میں لگائے جائیں گے۔
    4. توانائی حساب کتاب کو اہل بنانے کے لئے سبھی فیڈروں اور تقسیم کاری ٹرانسفارمروں کے لئے ترسیلی اے ایم آئی میٹر تجویز، جس سے ڈسکام کے ذریعہ نقصان میں تخفیف کے لئے بہتر اسکیم بنائی جا سکے۔
    5. پری پیڈ اسمارٹ میٹر لگانے سے ڈسکام کو ان کی آپریشنل اہلیت میں بہتری  لانے میں مدد ملے گی اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرانے کے لئے ڈسکام کے نظام کو مضبوطی فراہم ہوگی۔
  1. فیڈر کی زمرہ بندی
    1. یہ اسکیم غیر منظم فیڈروں کے لئے فیڈر زمرہ بندی کے سلسلے میں سرمایہ فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے، جو کسم کے تحت سولرائزیشن کو اہل بنائے گی۔
    2. فیڈروں کے سولرائزین سے سینچائی کے لئے دن میں کفایتی/ مفت بجلی حاصل ہوگی اور  کاشتکاروں کو اضافی آمدنی ہوگی۔
  1. شہری علاقوں میں تقسیم کاری نظام کی تجدیدکاری
    1. تمام شہروں میں سوپروائزری کنٹرول اور ڈاٹا حصولیابی (ایس سی اے ڈی اے)
    2. 100 شہری مراکز میں ڈی ایم ایس
  1. دیہی اور شہری علاقوں کے نظام کو مضبوط بنانا

خصوصی زمرے کی ریاستوں کے لئے پروویژن:

شمال مشرقی ریاستوں کی سکم اور جموں و کشمیر ، لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، انڈمان اور نکوبار جزائر اور لکشدیپ جیسی ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سمیت  خصوصی زمرے کی ریاستوں کو خصوصی زمرے کی ریاستوں کے طور پر مانا جائے گا۔

پری پیڈ اسمارٹ میٹرنگ کے لئے، 900 روپئے کی رعایت یا مکمل پروجیکٹ کے لئے فی صارف میٹر کی لاگت کا 15 فیصد ، جو بھی کم ہو، ’’خصوصی زمرے کے علاوہ‘‘ریاستوں کے لئے دستیاب ہوگا۔ ’’خصوصی زمرے‘‘کی ریاستوں کے لئے، متعلقہ رعایت1350 روپئے یا فی صارف لاگت کا 22.5 فیصد، جو بھی کم ہوگا۔

اس کے علاوہ، ڈسکامس اگر دسمبر 2023 تک ہدف بند تعداد میں اسمارٹ میٹر لگاتے ہیں تو مذکورہ بالا رعایت کی 50 فیصد کی اضافی خصوصی ترغیب کا بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسمارٹ میٹرنگ کے علاوہ دیگر کاموں کے لئے، ’’خصوصی زمرے کے علاوہ‘‘ ریاستوں کے لئے ڈسکامس کو دی جانے والی زیادہ سے زیادہ مالی امداد منظور شدہ لاگت کا 60 فیصد ہوگی، جبکہ خصوصی زمرے کی ریاستوں میں ڈسکامس کے لیے، زیادہ سے زیادہ مالی امداد کی لاگت کی رقم کا 90 فیصد کے بقدر ہوگی۔

*****

 

ش ح ۔اب ن

U:6065



(Release ID: 1731710) Visitor Counter : 70