کامرس اور صنعت کی وزارتہ

ڈی جی ایف ٹی کی ’کووڈ -19 ہیلپ ڈیسک‘ بین الاقوامی تجارت سے متعلق مسائل کو مربوط اور حل کر رہی ہے

Posted On: 10 MAY 2021 3:22PM by PIB Delhi

کووڈ-19 کے معاملات میں تیزی کے پیش نظر، محکمہ تجارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کی’کوڈ - 19 ہیلپ ڈیسک‘ نے 26 اپریل 2021 سے برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کردی ہیں تاکہ کاروبار اور صنعت کو درپیش پریشانیوں کا پتہ لگا کر انھیں حل کیا جا سکے۔

ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ جن شعبوں میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں ان میں محکمہ تجارت/ ڈی جی ایف ٹی سے متعلق مختلف امور، درآمدات اور برآمدات کے لیے لائسنس کے امور، کسٹم کلیئرنس میں تاخیر اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں، درآمد/ برآمد سے متعلق دستاویز سازی کے مسائل، بنکاری امور، نقل و حمل/ پورٹ ہینڈلنگ/ شپنگ/ ہوائی نقل و حرکت سے متعلق امور، اور برآمدی اکائیوں کو چلانے کے لیے افرادی قوت کی دستیابی سے متعلق مختلف امور اہم ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی دیگر وزارتوں / محکموں / ایجنسیوں سے وابستہ کاروبار سے متعلق مسائل کے بارے میں معلومات مرتب کی جارہی ہیں اور انھیں متعلقہ ایجنسیوں کے پاس حل کے لیے بھیجا جارہا ہے۔

 

ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ مدد کے لیے شناخت کیے جانے والے اہم علاقوں میں شامل ہیں-

 

  • آکسیجن کنسنٹریٹرز / آکسی میٹر / کوڈ سے متعلقہ طبی آلات کی درآمد - ضابطوں اور نرمی کی درخواست کی گئی ہے؛
  • لائسنسوں کے مراعات کی درخواست کی حیثیت؛
  • بنکاری سے متعلق امور-شپنگ کے بلوں کیRBI EDPMS سسٹم میں عکاسی نہیں ہو رہی ہے۔
  • کسٹم کلیئرنس کے مسائل
  • دستاویز سازی کے مسائل
  • برآمدات کی ذمہ داری میں توسیع
  • ٹرانسپورٹ / پورٹ ہینڈلنگ / شپنگ / فضائی نقل و حرکت

 

مدد، پالیسی میں شفافیت اور نرمی وغیرہ کے حصول کے لیے 15 دن کے عرصے میں 163 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 78 کا مکمل طور پر تصفیہ کر دیا گیا۔ اس عرصے میں مربوط / حل شدہ بڑے مسائل میں شامل ہیں:

 

  • پی ای ایساو نے 6 مئی، 2021 کو آکسیجن سلنڈروں اور انجمادیٹینکروں / کنٹینروں کی درآمد کے لیے رجسٹریشن اور منظوری دینے سے پہلے عالمی مینوفیکچررز کی پیداواری سہولیات کا معائنہ کیے بغیر آن لائن رجسٹریشن کے عمل کو آسان بناکر درآمدات کی رجسٹریشن کے اصولوں میں نرمی کردی
  • ہندوستان میں آکسیجن سلنڈروں کی درآمد کے لیے لازمی بی آئی ایس اور ایس آئی ایم ایس کی شرائط کا جاری کیا جانا۔ اس سے تعمیل سے متعلق بوجھ کم ہوگا اور ایس آئی ایم ایسرجسٹریشن کے لیے ادا کی جانے والی فیس کو معاف کردیا جائے گا۔
  • ڈی جی ایف ٹی نے شپنگ بل کو آر بی آئی-ڈی پی ایم ایس سسٹم کے ذریعہ نہیں دکھائے جانے کے معاملے کو آر بی آئی کے سامنے اٹھایا تاکہ برآمد کنندہ ایف ٹی پی کے تحت فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کر سکے۔
  • ڈی جی ایف ٹی نے صنعتی سرگرمیوں کے لیے آکسیجن سپلائی مختص کرنے اور ڈی پی آئی آئی ٹی کے ساتھ آکسیجن پروڈکشن پلانٹ لگانے کے لیے سبسڈی کے لیے کچھ صنعتوں کی طرف سے کی جانے والی درخواست کا مسئلہ اٹھایا
  • لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرناٹک میں ٹیکسٹائل کی صنعت متاثر ہونے کے معاملے کو ڈی جی ایف ٹی نے کامیابی کے ساتھ حل کیا۔

 

صنعت سے جڑے لوگ مدد کے لیے ’کووڈ -19 ہیلپ ڈیسک‘ سے رابطہ کرسکتے ہیں اور اپنے مسائل ڈی جی ایف ٹی کی ویب سائٹ (https://dgft.gov.in) پر درج کرسکتے ہیں یا dgftedi[at]nic[dot]in پر ای میل کرسکتے ہیں۔محکمہ تجارت اس طرح کے تمام معاملات کو دوسری وزارتوں / محکموں اور ریاستی حکومتوں / مرکز زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اٹھانے کا پابند ہے۔

                                          **************

ش ح۔ف ش ع-م ف

U: 4362



(Release ID: 1717714) Visitor Counter : 186