صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

کووڈ -19سے متعلق تازہ جانکاری


بااختیار گروپ 2 نے طبی آکسیجن کی فراہمی سے متعلق پریشانی سے بچنے کے لئے کارروائی شروع کی

ہندوستان میں یومیہ پیداوار کی گنجائش (7287) میٹرک ٹن اور اسٹاک (ایم ٹی 50000-)فی الحال یومیہ کھپت (3842 ایم ٹی )سے زیادہ ہے
ریاستیں آکسیجن وسائل کے لئے تجزیہ کریں گی

ڈی پی آئی آئی ٹی ، ایم اوایچ ایف ڈبلیو اور اسٹیل کی مرکزی وزارت نے یومیہ سطح پر زیادہ بوجھ والی ریاستوں میں مشترکہ طور پر صورتحال کا جائزہ لیا

Posted On: 15 APR 2021 9:54AM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  15اپریل 2021: میڈیکل آکسیجن کووڈ سے متاثر ہ مریضوں کے علاج میں  ایک اہم جزو ہے۔ صنعتوں اور اندرونی تجارت کے فروغ  کے محکمے کے سکریٹری ڈاکٹر گروپرساد مہاپاترا کی سربراہی میں  افسروں کے ایک بین وزارتی بااختیار گروپ (ای جی 2) متاثرہ ریاستوں کو میڈیکل آکسیجن سمیت لازمی طبی آلات  کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے مارچ 2020  میں کووڈ عالمی وبا  کے دوران تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ گروپ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت  ، ٹیکسٹائل کی وزارت   ، آیوش کی وزارت ، ایم ایس ایم ای کی وزارت سمیت مختلف وزارتوں  اور محکموں کے سینئیر افسروں  پر مشتمل ہے۔

گزشتہ ایک سال کے عرصے سے  ای جی 2 متاثرہ ریاستوں کو  میڈیکل آکسیجن سمیت لازمی طبی آلات کی بلارکاوٹ سپلائی کو آسان بنانے کے علاوہ ان کی لگاتار نگرانی کررہا ہے اور وقتاََ فوقتاََ پیدا ہونےوالے چیلنجز سے نمٹ رہا ہے ۔ کووڈ کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے موجودہ تناظر میں ای جی 2 ریاستوں کو طبی آکسیجن کی سپلائی  کے ساتھ ساتھ لازمی طبی آلات کی سپلائی کو پورا کرنے او ران کی سپلائی کو آسان بنارہا ہے۔ای جی 2 ضرورت کے مطابق ریاستوں کو  طبی آکسیجن کی سپلائی کو آسان بنانے کے لئے ریاستو  ں ،آکسیجن مینوفیکچررس اور  دیگر شراکتداروں کے ساتھ آئے دن  میٹنگ اور بات چیت کرتا رہا ہے ۔

یہ بات  کہنا لازمی ہے کہ ملک میں  آکسیجن کے لئے تقریباََ 7127 میٹرک ٹن کی کافی پیداوار کی گنجائش ہے اور ضرورت کے مطابق  اسٹیل  پلانٹس میں  سرپلس آکسیجن کی دستیابی  استعمال کی جارہی ہے۔ملک یومیہ 7127  میٹرک ٹن آکسیجن کی   یومیہ پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس  کے برخلاف  گزشتہ دوروزسے کُل  پیداوار  100فیصد رہی ہے ۔ ای جی 2  کی جانب سے ہدایات کے مطابق  جب سے میڈیکل آکسیجن کی سپلائی میں  اضافہ ہوا ہے ،  اس کی  کُل  پیداوار میں   بھی گزشتہ دوروز  کے دوران  100فیصد کا اضافہ ہوا  ہے۔12  اپریل  2021  کو  ملک میں  میڈیکل آکسیجن کی کھپت  3842  میٹرک ٹن تھی ، جو کہ روزانہ  پیداوار کی صلاحیت کا 54 فیصد ہے ۔ملک میں زیادہ سے زیادہ میڈیکل آکسیجن کی کھپت مہاراشٹر ، مدھیہ پردیش ، اترپردیش ، کرناٹک ، تمل ناڈو ، نئی دلی ،چھتیس گڑھ ، پنجاب اور راجستھا ن کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔

بڑھتے ہوئے معاملوں کے  پیش نظر ریاستوں کی ضرورتوں کے ساتھ طبی آکسیجن کی کھپت کی رفتار کو  بنائے رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لئے مینوفیکچرنگ  پلانٹس کے ساتھ  صنعتی آکسیجن اسٹاک سمیت  ملک کا  موجودہ اسٹاک  50000 میٹرک ٹن سے زیادہ ہے ۔آکسیجن مینوفیکچرنگ یونٹس کی  پیداوار میں اضافے کے ساتھ وافر اسٹاک دستیاب ہے اور آکسیجن کی موجودہ دستیابی  بھی کافی ہے۔ساتھ ہی ساتھ  ریاستوں سے  کہا جارہا ہے کہ و ہ میڈیکل آکسیجن کا معقول   استعمال کریں  اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آکسیجن ضائع نہ ہو۔ ا س  کے علاوہ ریاستیں  کنٹرول روم قائم کریں  تاکہ ضرورت کے مطابق  آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

                   ای جی 2 نے مختلف متاثرہ ریاستو ں  کو میڈیکل آکسیجن  کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔  یہ اقدامات حسب ذیل ہیں:

آکسیجن کی پیداوار میں  اضافہ

           ہر آکسیجن مینوفیکچرنگ  پلانٹس کی  پیداوار ی صلاحیت کے مطابق یہ آکسیجن  مینوفیکچرنگ یونٹس  میں   100فیصد پیداوار کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے ۔

سرپلس  اسٹاک کا استعمال :

          اسٹیل پلانٹس میں  دستیاب سرپلس اسٹاک کا استعمال کیا جائے ۔گزشتہ چند روز میں  اسٹیل پلانٹس سے اسٹاک کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے ۔سی پی ایس یو کے اسٹیل  پلانٹس کے اسٹاک سے  14 ہزار میٹرک  ٹن آکسیجن  آنے کے ساتھ ہی  ملک میں کل ایل ایم او اسٹاک میں   بڑھوتری  کرنے میں مدد ملی ہے۔

آکسیجن وسائل کے ساتھ چوٹی کی ریاستوں کی ضرورتوں کی خاکہ بندی :

         ایسی سرکردہ ریاستیں ، جہاں آکسیجن کے وسائل موجود ہیں ، ان کی ضروریات کا تخمینہ لگائیں ۔ساتھ ہی ساتھ ان وسائل کا بھی تخمینہ لگائیں جو پوری ریاست میں  دستیاب ہیں اور  فولاد پلانٹ میں  بھی دستیاب  ہیں تاکہ  آکسیجن  سورسنگ کے معاملے میں  ریاستوں کے لئے افزوں  شفافیت  اور یقین دہانی کو ممکن بنایا جاسکے ۔اس  طرح  مہاراشٹر  کے ڈولوی  میں  جے ایس  ڈبلیو  ،چھتیس  گڑھ  بھلائی میں سیل اور کرناٹک  بلاری  میں جے ایس ڈبلیو جیسے  اسٹیل پلانٹس سے یومیہ بنیاد پر سرپلس میڈیکل آکسیجن   لیتارہا ہے ۔ اسی  طرح  مدھیہ پردیش  ،چھتیس گڑھ کے بھلائی میں  اسٹیل  پلانٹس سے اپنی آکسیجن کی سپلائی بڑھاتا رہا ہے۔

          جوموجودہ چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ کم ضرورت والی ریاستوں  سے آکسیجن زیادہ ضرورت والی ریاستوں  کو پہنچائی جائے ۔ ان ریاستوں کے ساتھ سرپلس وسائل کے تخمینوں  کو ،جنہیں آکسیجن کی زیادہ ضرور ت ہے،  مینوفیکچررس  ،ریاستوں  اور دیگر شراکتداروں کے اشتراک سے  حتمی شکل دی جارہی ہے۔ ان ریاستوں میں  مہاراشٹر ، گجرات ، مدھیہ پردیش  ، اترپردیش ،دلی اور چھتیس گڑھ شامل ہیں۔

          لکوڈ میڈیکل آکسیجن ( ایل ایم او ) کے لئے ٹرانسپورٹ ٹینکرس کی نقل وحمل کو آسان بنانے کے لئے ریاستو  ں کے ٹرانسپورٹ محکموں اورریلوے کی ٰوزارت کے ساتھ سڑک ، ٹرانسپورٹ اورشاہراہوں کی وزارت کے تحت   ایک ذیلی گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ ریل کے ذریعہ آکسیجن ٹینکروں کی نقل وحمل کے لئے سرگرمی سے کام کیا جارہا ہے۔

          دوردراز کے علاقوںمیں واقع اسپتالوںمیں آکسیجن کی  خودپیداوار بڑھانے کے لئے پلانٹس کو 100فیصد طورپر مکمل کرنے کے لئے پی ایم کیئر س کے تحت  منظور کئے گئے  پی ایس  اے  پلانٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔

          ڈی پی آئی آئی ٹی ،ایم او ایچ ایف ڈبلیو ،اسٹیل کی وزارت  ، انتہائی متاثرہ مختلف ریاستوں ،  پٹرولیم اور  دھماکہ خیز مادے کے تحفظ سے  متعلق ادارے  پی ای ایس او  کے افسروں کے درمیان روزانہ ہونے والے تفصیلی  تبادلہ خیال  کی بنیاد  پر متاثرہ ریاستوں کے لئے میڈیکل آکسیجن کی سپلائی کے لئے وسائل کی تفصیلی یومیہ خاکہ بندی  تیاری کے مرحلے میں ہے تاکہ میڈیکل آکسیجن کی بلاروکاوٹ سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے ۔

          ای جی 2 میڈیکل آکسیجن کی مانگ اور سپلائی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے   کہ   میڈیکل آکسیجن کی بلاروکاوٹ سپلائی کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔

*************

ش ح۔ح ا  ۔رم

U- 3719



(Release ID: 1711956) Visitor Counter : 149