وزارت خزانہ

بجٹ 22۔2021 کا خلاصہ

Posted On: 01 FEB 2021 2:10PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  یکم  فروری 2021،        

حصہ ۔اے

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر  محترمہ نرملا سیتا رمن  نے  آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ  22۔2021 پیش کیا جو  اس صدی کا پہلا بجٹ ہونے کے ساتھ ساتھ  کووڈ۔ 19 کے غیر متوقع بحران کے تناظر میں  ڈیجیٹل  بھی ہے۔آتم نربھر بھارت کے نظریئے پر  تکیہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا  یہ ان 130 کروڑ ہندوستانیوں کا  اظہار ہے جو اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں میں مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ تجاویز  قوم اولین کے عہد ، کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے، مستحکم بنیادی ڈھانچے، صحت مند ہندوستان، اچھی حکمرانی، نوجوانوں کے لئے مواقع، سب سے تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور  شمولیاتی فروغ کے علاوہ  دیگر کے لئے مزید استحکام فراہم کریں گی۔علاوہ ازیں  تیز تر نفاذ کی راہ پر  بجٹ 16۔2015 کے 13 وعدے بھی شامل ہیں جنہیں ہماری آزادی کے 72 ویں برس کے موقع پر 2022 کے امرت مہا اتسو کے دوران پورا کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھی آتم نربھربھارت کے نظریئے کی  تائید کرتے ہیں۔

 

22۔2021 کے لئے بجٹ تجاویز کا انحصار  6 ستون ہیں

  1. صحت اور تندرستی
  2. فزیکل اور مالیاتی سرمایہ اور بنیادی ڈھانچہ
  3. خواہش مند  ہندوستان کے لئے شمولیاتی فروغ
  4. افرادی سرمائے کو ازسرنو استحکام
  5. اختراع اور تحقیق و ترقی
  6. کم سے کم سرکاری زیادہ سے زیادہ حکمرانی

 

1۔  صحت اور تندرسی

صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور  22۔2021 میں  223846 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ گزشتہ برس کے بجٹ جاتی  اختصاص کے مقابلے میں 94452 کروڑ روپے کا اضافہ ہے جو کہ 137 فیصد کا اضافہ بنتا ہے۔

وزیر مالیات نے اعلان کیا کہ مرکز کے زیر انتظام ایک نئی اسکیم، وزیراعظم آتم نربھر سوستھ بھارت یوجنا، کا آغاز کیا جائے گا جس کے لئے 6 سال کی مدت کے دوران تقریباً 64180 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔  یہ ابتدائی ، سیکنڈری اور علاقہ جاتی سے دیکھ بھال نظاموں کی صلاحیت میں بہتری ،  موجودہ قومی اداروں کا استحکام اور نئے ادارے وضع کرے گا ، جن کا مقصد  نئی اور ابھرتی ہوئی بیماریوں کی شناخت اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ یہ قومی صحت مشن میں ایک اضافہ ہوگا۔ اسکیم کے تحت اصل مداخلات ہیں:

 

اے۔  17788 دیہی اور 11024 شہری صحت اور تندرستی کے مراکز کے لئے  امداد۔

بی۔  11 ریاستوں میں تمام اضلاع اور 3382 بلاک عوامی صحت کااکائیوں میں مربوط عوامی صحت  لیب قائم کرنا۔

سی۔ 602 اضلاع اور 12 مرکزی اداروں میں انتہائی نگہداشت اسپتال کے بلاک قائم کرنا

ڈی۔  بیماری کے کنٹرول کے لئے قومی مرکز (این سی ڈی سی)، اس کی پانچ علاقائی برانچوں اور 20 میٹرو پولیٹن صحت  نگرانی کی اکائیوں کو مستحکم کرنا

ای۔  تمام عوامی صحت لیباریٹریوں کو منسلک کرنے کے لئے تمام ریاستوں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے صحت معلومات کے مربوط پورٹل کی توسیع کرنا۔  17 جدید عوامی صحت یونٹو ں کو فعال بنانا اور پوائنٹ آف اینٹری پر 33 موجودہ عوامی صحت کی یونٹوں کو  استحکام بخشنا جو کہ  32  ہوائی اڈوں ، 11 سمندری ساحلوں اور 7 زمینی کراسنگ پر قائم ہیں۔

ایف۔ پندرہ صحت ایمرجنسی آپریشن مراکز اور  2 متحرک اسپتالوں کا قیام کرنا اور

جی۔ ایک صحت، عالمی صحت تنظیم جنوبی ایشیا خطے کے لئے  ایک علاقائی تحقیقی پلیٹ فارم، 9 حیاتیاتی۔ تحفظ لیولIIIکی لیباریٹریاں اور ویرولوجی کے لئے  چار علاقائی قومی ادارے قائم کرنا

 

ویکسین

سال 22۔2021 کے بجٹ میں کووڈ۔ 19 ویکسین کے لئے 35000 کروڑ روپے کی  رقم مختص کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ہندوستان میں تیار مصنوعات  نمو کوکل ویکسین، جسے ابھی 5 ریاستوں تک محدود رکھا گیا ہے، ملک کی تمام ریاستوں میں فراہم کرایا جائے گا جس کا مقصد ہر سال 50000  بچوں کی سالانہ اموات کو ختم کرنا ہے۔

 

تغذیہ

تغذیاتی عناصر، فراہمی، بیرونی رسائی، اور ماحصل کو مستحکم کرنے کے لئے  حکومت سپلیمنٹری تغذیائی پروگرام اور  پوشن ابھیان کا انضمام کرے گی اور مشن پوشن 2.0 شروع کرے گی۔ سرکاری 112 خواہش مند اضلاع میں تغذیائی نتائی کو بہتر بنانے کےلئے  ایک تیز تر حکمت عملی اپنائے گی۔

 

پانی کی فراہمی اور سووچھ بھارت مشن کا یکساں احاطہ

وزیر مالیات نے اعلان کیا کہ جل جیون مشن (شہری) تمام 4378 لوکل اداروں میں یکساں پانی کی فراہم کے لئے شروع کیا جائے گا جس میں 2.86 کروڑ گھرانوں کے لئے نل کے کنکشن شامل ہونے کے ساتھ ساتھ  500 امرت شہروں میں محلول فضلہ کا انتظامیہ بھی شامل ہوگا۔ اسے 5 سال کے لئے نافذ کیا جائے گا اور اس کے لئے 287000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں شہری سووچھ بھارت مشن کا نفاذ مجموعی مالیاتی  141678 کروڑ روپے کی مختص کردہ رقم کے ساتھ 26۔2021  کے دوران 5 سال کی مدت کے لئے کیا جائے گا۔فضائی آلودگی کے بگڑتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بھی سرکار نے اس بجٹ میں ن 42 شہری مراکز کے لئے 2217 کروڑ روپے کی رقم فراہم کرنے کی تجویز رکھی ہے جن میں 10 لاکھ سے زیادہ کی آبادی ہے۔ پرانی  اور غیر فٹ گاڑیوں  کو ختم کرنے کے لئے گاڑیوں کی اسکرپنگ  کی ایک رضاکارانہ پالیسی کا بھی اعلان کیا گیا۔ ذاتی استعمال کی گاڑیوں کے معاملے میں 20 سال کے بعد اور تجارتی گاڑیوں کے معاملے میں 15 سال کے بعد خود کار فٹنس کے مراکز میں فٹنس کرانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

 

2۔  فزیکل اور مالیاتی سرمایہ اور بنیادی ڈھانچہ

آتم نربھر بھارت۔  پیداوار سے منسلک ترغیباتی اسکیم

وزیر خزانہ نے کہا کہ  ایک پانچ کھرب امریکی ڈالر کی مالیت کی معیشت کے لئے ہمارے مینوفیکچرنگ کے شعبے کو  پائیدار  بنیاد پر ڈبل ڈیجیٹ میں پیش رفت کرنی ہوگی۔ ہماری مینوفیکچرنگ کی کمپنیوں کو عالمی سپلائی چین کا ایک ناگزیر حصہ بننے، کلیدی مقابلہ جاتی ماحول اپنانے اور جدید ترین ٹکنالوجی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بالا تمام کو حاصل کرنے کے لئے،  آتم نربھر بھارت کے لئے  مینوفیکچرنگ کے عالمی چمپئن وضع کرنے کی غرض سے پی ایل آئی اسکیموں کا، 13 شعبوں کے لئے ، اعلان کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے  سرکار نے 22۔2021 کے مالیاتی سال سے شروع ہوکر آئندہ 5 برسوں کے لئے تقریباً 1.97 لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ اقدام کلیدی شعبوں کے اسکیل اورحجم میں اضافہ، عالمی چمپئنوں کو  وضع کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے نیز ہمارے نوجوانوں کو روزگار  فراہم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

 

ٹیکسٹائل

اسی طرح ٹیکسٹائل کی صنعت کو عالمی پیمانے پر  مقابلہ جاتی بنانے، وسیع سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور  روزگار وضع کرنے کو فروغ دینے کی غرض سے میگا انوسٹمنٹ ٹیکسٹائل پارکس (مترا) نامی اسکیم، پی ایل آئی اسکیم کے علاوہ ، شروع کی جائے گی۔ یہ پلگ اینڈ پلے سہولیات کے ساتھ عالمی درجہ کا بنیادی ڈھانچہ وضع کرے گی جو برآمدات میں عالمی چمپئن بنانے کے قابل ہوسکے گی۔تین سال کی مدت میں سات ٹیکسٹائل پارک قائم کئے جائیں گے۔

 

بنیادی ڈھانچہ

دسمبر 2019 میں  وزیر خزانہ کے ذریعہ اعلان کردہ قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن  (این آئی سی) اپنی طرز کی   ایسی اولین اسکیم ہے جو کسی بھی سرکار کے ذریعہ پہلے شروع نہیں کی گئی۔ این آئی پی  کا آغاز 6835 پروجیکٹوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ پائپ لائن میں اب توسیع ہوکر اس میں 7400 پروجیکٹ ہوگئے ہیں۔کچھ کلیدی بنیادی ڈھانچے کی وزارتوں کے تحت 1.10 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کے تقریباً 17  پروجیکٹ مکمل کئے جاچکے ہیں۔

 

بنیادی ڈھانچے کو مالیہ فراہم کرنا۔ مالیاتی ادارے کا فروغ (ڈی ایف آئی)

بنیادی ڈھانچے پر زور ڈالتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ  بنیادی ڈھانچے کو طویل مدتی قرضہ جاتی مالیہ کی ضرورت ہے۔ پیشہ وارانہ طور پر انتظام شدہ   ایک ترقیاتی  مالیاتی ادارہ  ہونا ضروری ہے جو  بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے لئے  ایک فراہم کار اور  قابل عمل بنانے والا ہوگا۔ اسی کے مطابق ڈی ایف آئی کے قیام کے لئے ایک بل متعارف کرایا جائے گا۔ سرکار نے اس ادارے کو  سرمایہ فراہم کرنے کی غرض سے  20 ہزار کروڑ روپے کی  رقم فراہم کی ہے نیز  اس کا مقصد تین برسوں میں مدت میں ایس ڈی ایف آئی کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ کروڑ روپے کی قرضے کا ایک پورٹ فولیو وضع کرنا ہے۔

 

اثاثے کی نقد کاری

عوامی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی نقد کاری کرنا نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ک لئے   ایک بہت اہم  مالیاتی اختیار ہے۔ اہم  گراؤنڈ فیلڈ بنیادی ڈھانچوں کے اثاثوں کی ایک ’’قومی  نقد کاری پائپ لائن‘‘  کا آغاز کیا جائے گا۔ اثاثوں کی نقد کاری کا ایک ڈیش بورڈ بھی وضع کیا جائے گا جس کا مقصد پیش رفت کو ٹریک کرنا اور سرمایہ کاروں کو رسائی فراہم کرنا ہے۔ جدید کاری کی اس سمت میں لئے گئے کچھ اہم اقدامات  ہیں:

اے۔ ہندوستان کی قومی شاہراہوں کی اتھارٹی اور پی جی سی  آئی ایل میں سے ہر ایک اسپانسرڈ ایک انو آئی ٹی رکھتی ہے جو کہ  بین الاقوامی اور اندرون ملک  ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو راغب کرے گی۔ 5000 کروڑ روپے کی تخمینی صنعتی  قدر کے ساتھ  5 آپریشنل شاہراہیں این ایچ اے آئی انو آئی ٹی کو  منتقل کی جارہی ہیں۔ اسی طرح  7000 کروڑ روپے مالیت کے  ترسیلی اثاثے پی جی سی آئی ایل  انو آئی ٹی کو منتقل کئے جائیں گے

بی۔  ریلویز مخصوص مال برداری کے کوریڈور  کے اثاثوں کی، قوم کے نام وقف ہونے کے بعد ، آپریشن اور دیکھ بھال کے لئے نقد کاری کرے گی۔

سی۔  ہوائی اڈوں کی اگلی کھیپ کی  نقد کاری کارروائیوں اور انتظامی رعایت کے لئے کی جائے گی۔

ڈی۔  دیگر کلیدی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی نقد کاری کے پروگرام کے تحت احاطہ کیا جائے گا، ان کے نام ہیں: (i)  این ایچ اے آئی کی فعال ٹول شاہراہیں  (ii) پی جی سی آئی ایل  کے ترسیلی اثاثے  (iii) جی اے آئی ایل ، آئی او سی ایل  اور ایچ پی سی ایل کی تیل اور گیس پائپ لائنیں   (iv) ٹیئر II اور ٹیئر III شہروں میں  ہندوستان کی ہوائی اڈوں کی اتھارٹی کے ہوائی اڈے  (v) ریلوے بنیادی ڈھانچے کے دیگر اثاثے   (vi) مرکزی ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن اور نیفڈ کے علاوہ  دیگر جیسے سی پی ایس ای کے ویئر ہاؤسنگ کے اثاثے اور  (vii) کھیل کود کے اسٹیڈیم۔

 

سڑکیں اور  شاہراہیں بنیادی ڈھانچے

 وزیر خزانہ نے  اعلان کیا کہ  3.3 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت والی 13000 کلو میٹر  سے زیادہ طویل  سڑکیں،  5.35 لاکھ کروڑ روپے مالیت والے کلیدی بھارت مالا  پروجیکٹ کے تحت لی جاچکی ہیں، جن میں سے 3800 کلومیٹر  سڑکوں کی تعمیر ہوگئی ہے۔ مارچ 2022 تک سرکار  دیگر 8500 کلو میٹر کے لئے راہ ہموار کرے گی اور 11000 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کے کوریڈور  کی تعمیر کی کرے گی۔ سڑک بنیادی ڈھانچے کو مزید استحکام فراہم کرنے کے لئے،  مزید اقتصادی کوریڈور کے لئے بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے  سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے لئے پہلے سے زیادہ 118101 لاکھ روپے کی رقم  مختص کی ہے، جس میں سے  108230 کروڑ روپے کی رقم سرمایہ جاتی ہے جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے۔

 

ریلوے بنیادی ڈھانچہ

ہندوستانی ریلویز نے ہندوستان کے لئے  ایک  قومی ریل پلان ۔ 2030 تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 2030 تک ایک ’مستقبل کے لئے تیار‘ ریلوے نظام وضع کرنا ہے۔ ہماری صنعت کے لئے  لاجسٹکس لاگت کو  کم کرنا ہماری حکمت عملی کی کلیدی ہے تاکہ ’میک ان انڈیا‘ کو فعال بنایا جاسکے۔ توقع ہے کہ  مغربی مخصوص مال برداری کا کوریڈور (ڈی ایف سی) اور  مشرقی ڈی ایف سی جون 2022 تک قوم کے نام وقف کردیا جائے گا۔

مسافروں کی سہولت  اور  تحفظ کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کی تجویز ہے۔

            اے۔ مسافروں کو بہتر سفری تجربہ فراہم کرنے کی غرض سے سیاحتی روٹس پر مربوط طور سے ڈیزائن کردہ وسٹا ڈوم  ایل ایچ بی کوچ  کو متعارف کرانا ۔

بی۔   گزشتہ چند برسوں میں کئے گئے سلامتی کے اقدامات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس کوشش کو اور زیادہ مستحکم کرنے کے لئے انڈین ریلوے کے  اونچائی والے نیٹ ورک اور بڑے پیمانے پر استعمال کئے جانے والے نیٹ روٹس  پر  ایک اندرون ملک تیار خود کار ریل تحفظ نظام فراہم کیا جائے گا جو انسانی غلطی کے باعث ہونے والے ٹرین کے ٹکراؤ کو ختم کردے گا۔

سی۔ بجٹ میں ریلوے کے لئے 110055 کروڑ روپے کی ریکارڈ رقم فراہم کی گئی ہے، جس میں سے 107100 کروڑ  روپے سرمایہ جاتی اختراجات کے لئے  ہے۔

 

شہری بنیادی ڈھانچہ

سرکار  میٹرو ریل نیٹ ورک کی توسیع اور  شہری بس خدمت  کو مربوط کرکے شہری علاقوں میں عوامی نقل و حمل کے حصے میں  اضافہ کرنے کے تئیں کام کرے گی۔  18000 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نئی اسکیم  کا آغاز کیا جائے گا، جس کا مقصد عوامی بس ٹرانسپورٹ خدمات کی توسیع کو حمایت فراہم کرنا ہے۔

مجموعی طور پر 702 کلومیٹر  فاصلے کے لئے روایتی میٹرو چل رہی ہے اور  1016 کلومیٹر  میٹرو اور آر آر ٹی ایس کا کام 27 شہروں میں زیر تعمیر ہے۔ ’میٹرو لائٹ‘ اور  ’میٹرو نی یو‘ نامی دو نئی تکنالوجیاں ، ایسے ہی تجربے سہولت اور تحفظ کے ساتھ  ٹیئر  II شہروں اور ٹیئر I  شہروں کے مضافات میں کہیں کم لاگت پر   میٹرو ریل نظام فراہم کرنے کے لئے  نصب کئے جائیں گے۔

 

بجلی کا بنیادی ڈھانچہ

گزشتہ 7 برسوں میں بجلی کے شعبے میں  139 گیگا واٹ کی تنصیبی صلاحیت کے ساتھ، بڑی تعداد میں اصلاحات اور کامیابیاں سامنے آئی ہیں جو  2.8 کروڑ اضافی گھرانوں کو جوڑتی ہیں اور  جس میں 1.41 لاکھ سرکٹ کلو میٹر  کی ترسیلی لائنوں کا اضافہ ہو اہے۔

 

تقسیم کار کمپنیوں کی  نمو پر  سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے  پانچ سال کی مدت کے لئے 305984 روپے کی رقم مختصر کرنے کے ساتھ  اصلاح پر مبنی نتائج سے منسلک بجلی کی  تقسیم کے شعبے کی ایک نو تشکیل شدہ اسکیم  شروع کرنے کی تجویز رکھی۔ یہ اسکیم پری پیڈ  اسمارٹ میٹرنگ اور فیڈر سیپریشن، نظام کی جدید کاری وغیرہ سمیت  بنیادی ڈھانچہ وضع کرنے کے لئے ڈسکام کو مدد فراہم کرے گی۔

 

ساحل ، جہاز رانی، آبی شاہراہیں، اہم بندرگاہیں اپنے طور پر  اپنی فعال خدمات کا انتظام کرنے کے عمل سے ایک مادل اپنائیں گی، جس میں ایک نجی ساجھیدار ان کے لئے کام کرے گا۔اس مقصد کے لئے بجٹ میں  مالی سال 22۔2021 کے لئے  پبلک پرائیویٹ ساجھیداری سے متعلق اہم بندرگاہوں کے ذریعہ  2000 کروڑ روپے سے زیادہ کی تجویز رکھی گئی ہے۔

 

ہندوستان میں مرچنٹ نیوی کے فلیگنگ کو روک دینے کی ایک اسکیم شروع کی جائے گی۔ اس کے لئے پانچ سال کی مدت میں 1624 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے  عالمی جہاز رانی میں ہندوستانی کمپنیوں کی شرکت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہندوستانی جہازوں کے لئے وسیع تر تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

 

پیٹرولیم اور قدرتی گیس

 

محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا  کہ گورنمنٹ نے کووڈ۔ 19 لاک ڈاؤن مدت کے دوران  بلا کسی رکاوٹ کے  ملک بھر میں  تیل کی فراہمی  جاری رکھی ہے۔ عوام الناس کی زندگی میں اس شعبے کی اہم نوعیت کو  مد نظر رکھتے ہوئے  مندرجہ ذیل کلیدی اقدامات کا  اعلان کیا جارہا ہے۔

 

اے۔  اجوولا اسکیم کو  ایک کروڑ سے زیادہ مستفدین کا احاطہ کرنے کے لئے توسیع دی جائے گی جس سے  8 کروڑ گھرانوں کو فائدہ پہنچ چکا ہے۔

بی۔  سرکاری شہری گیس تقسیم نیٹ ورک میں آئندہ تین سالوں میں مزید 100 اضلاع کا اضافہ کرے گی۔

سی۔  مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے میں گیس پائپ لائن کا ایک پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔

ڈی۔  ایک آزاد گیس نقل و حمل نظام آپریٹر  قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد  بلا امتیاز کھلی رسائی کی بنیاد پر  تمام قدرتی گیس کی پائپ لائنوں میں  عام نقل و حمل کی صلاحیت کی بکنگ کے لئے  سہولیت اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

 

مالیاتی سرمایہ

 

وزیر خزانہ سیبی  قانونی 1992،  ڈپازٹریز  قانون 1996، سکیوریٹیز کنٹریکٹ (ضابطہ) قانون 1956 اور سرکاری سکیورٹیز قانون 2007 کی گنجائشوں کو مستحکم کرنے کے لئے  ایک مربوط واحد سکیورٹیز مارکٹ کوڈ میں  تبدیل کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ سرکار، جی آئی ایف ٹی۔ آئی ایف ایس سی  میں ایک عالمی معیار کا فِن ۔ ٹیک  ہب  بنانے کی حمایت کرے گی۔

 

بیمے کے شعبے میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا

 

انہوں نے  بیمہ قانون 1938 میں ترمیم کرنے کی تجویز بھی رکھی جس کا مقصد  غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی حد کت 49 فیصد سے 74 فیصد تک کرنا اور بیرونی ملکیت کی اجازت کے علاوہ تحفظات کے ساتھ کنٹرول فراہم کرنا ہے۔ نئے خاکے کے تحت بورڈ کے  ڈائرکٹروں میں سے اکثریت اور کلیدی انتظامی افراد مقیم ہندوستانی ہوں گے، جن میں ڈائرکٹر میں سے کم سے کم 50 فیصد آزاد ڈائرکٹر  ہوں گے اور اس میں منافع کے مخصوص فیصد کو عام ذخیرے کے طور پر برقرار رکھا جارہا ہے۔

 

حصص کی فروخت اور اہم فروخت

 

کووڈ۔ 19 کے باوجود سرکار نے  حصص کی اہم فروخت کے تئیں کام کرنا جاری رکھا ہے۔  وزیر خزانہ نے کہا کہ بی پی سی ایل، ایئر انڈیا، ہندوستان کی جہاز رانی کی کارپوریشن، ہندوستان کی کنٹینر کی کارپوریشن، آئی ڈی بی آئی بینک، بی ای ایم ایل، پون ہنس، نیلاچل اسپات نگم لمیٹیڈ کے علاوہ  دیگر کمپنیوں میں  بڑی تعداد میں  لین دین کو 22۔2021میں مکمل کیا جائے گا۔ آئی ڈی بی آئی بینک کے علاوہ ، سرکار کی تجویز ہے کہ سال 22۔2021 میں سرکاری شعبے کے دو بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری کی جائے گی۔

 

22۔2021 میں  سرکار ایل آئی سی کے آئی پی او بی شروع کرسکتی ہےجس کے لئے  اسی اجلاس میں ضروری ترمیمات کی جائیں گے۔

 وزیر خزانہ نے  کہا کہ  یہ ایک انتہائی اہم اعلان ہے کہ  آتم نربھر پیکج میں انہوں نے عوامی شعبے کی کمپنیوں کے حصص کی اہم فروخت کی نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ نے مذکورہ پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔ یہ پالیسی تمام غیر اہم اور اہم شعبوں میں حصص کی فروخت کے لئے واضح روڈ  میپ فراہم کرتی ہے۔ سرکار نے چار شعبوں کو  رکھا ہے جو کہ  اہم ہے جن میں کم سے کم سی بی ایس ای کو برقرار رکھا جائے گا اور باقیماندہ کی نجکاری کی جائے گی۔ غیر اہم شعبوں میں، سی پی ایس ای کی یا تو نجکاری کی جائے گی یا پھر انہیں بند کردیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ  حصص کی فروخت کی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے نیتی آیوگ ، مرکزی عوامی شعبے کی کمپنیوں کی اگلی لسٹ پر کام کرے گا، جنہیں اہم حصص کی سرمایہ کاری کے لئے منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ بجٹ سال 21۔2020 میں  حصص کی سرمایہ کاری سے  175000 کروڑ روپے کی تخمینی رقم حاصل ہوگی۔

 

3۔  خواہش مند  ہندوستان کے لئے شمولیاتی فروغ

خواہش مند ہندوستان کے لئے شمولیاتی فروغ کے ستونوں کے تحت، وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ اس میں زراعت اور منسلک شعبوں، کسانوں کی بہبود اور دیہی ہندوستان، مہاجر ورکر اور لیبر اور مالیاتی شمولیت کا احاطہ کیا جائے گا۔

 

زراعت

زراعت پر توجہ مرکوز کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  حکومت  کسانوں کی بہبود کے تئیں پرعزم ہے۔ کم سے کم امدادی قیمتوں کا دور وسیع تبدیلیوں سے گزر چکا ہے جس کا مقصد  اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ  تمام اشیا کے لئے قیمت پیداوار کی لاگت سے کم سے کم ڈیڑھ گنا زیادہ ہونی چاہیے۔  سرکاری خرید میں بھی پائیدار اضافہ  ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو بڑے پیمانے پر ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے۔

 

گیہوں کے معاملے میں 14۔2013 میں کسانو کو ادا کردہ مجموعی رقم 33874 کروڑ روپے تھی۔ 20۔2019 میں  یہ رقم  62802 کروڑ روپے تھی اور 21۔2020 میں یہ بہتر ہوئی اور کسانوں کو ادا کردہ یہ رقم 75060 کروڑروپے ہوگئی۔  گیہوں اگانے والے کسانوں کی تعداد، جنہیں 21۔2020 میں زیادہ فائدہ ہوا، بڑھ کر  43.36 لاکھ ہوگئی جو کہ 20۔2019 میں 35.57 لاکھ تھی۔

 

دھان کے لئے 14۔2013 میں ادا کردہ رقم 63928 کروڑ روپے تھی۔ 20۔2019 میں اس میں اضافہ ہوکر یہ  141930 کروڑ  روپے ہوگئی۔ 21۔2020 میں اس میں اور اضافہ ہوا اور یہ 172752 کروڑ روپے ہوگئی۔  اس سے فائدہ اٹھانے والے کسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جو  20۔2019 میں  1.2 کروڑ  سے بڑھ کر  21۔2020 میں 1.5 کروڑ ہوگئی۔

 

اسی طرح دالوں کے معاملے میں 14۔2013 میں کسانوں کو ادا کی گئی رقم 236 کروڑ روپے تھی۔ 20۔2019 میں یہ بڑھ کر 8285 کروڑ روپے ہوگئی اور اب 21۔2020 میں یہ رقم 10530 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے جو کہ 14۔2013 کے مقابلے میں 40 گنا زیادہ ہے۔ کپاس کے کسانوں کی ادائیگی میں ایک وسیع تر اضافہ سامنے آیا ہے جو 14۔2013  میں  90 کروڑ سے بڑھ کر 25974 کروڑ روپے ہوگئی ہے (27 جنوری 2021 تک )۔

 

اس برس کے اوائل میں  وزیراعظم نے سب متوا  اسکیم کا آغاز کیا تھا اس کے تحت گاؤوں میں جائیداد کے مالکان کو ریکارڈ پیمانے پر حقوق فراہم کئے جارہے ہیں۔ اب تک تقریباً 1.80 لاکھ  جائیداد کے مالکان کو  کارڈ فراہم کئے جاچکے ہیں جو 1241 گاؤوں میں ہیں۔ وزیر خزانہ نے مالی برس 22۔2021 کے دوران  اس اسکیم کو تمام ریاستوں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں توسیع دینے کی تجویز رکھی ہے۔ 

 

اپنے کسانوں کو باقاعدہ قرضے فراہم کرانے  کی غرض سے سرکار نے مالی برس 2022 میں اضافہ کرکے  16.5 لاکھ کروڑ روپے کے زراعتی قرضے کا  ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی طرح دیہی بنیادی ڈھانچے ترقیاتی فنڈ میں 30000 کروڑ روپے سے اضافہ کرکے اسے 40 ہزار کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ 5000 کروڑ روپے کے سرمائے کے ساتھ این اے بی اے آر ڈی کے تحت  مائیکرو آبپاشی فنڈ   وضع کیا گیا ہے جسے دوگنا کردیا جائے گا۔

 

زراعت اور ذیلی مصنوعات کی قدر و قیمت میں اضافے اور اُن کی بر آمدات کے امکانات روشن کرنے کی غرض سے آپریشن گرین  اسکیم   ، جو فی الحال ٹماٹر ، پیاز اور آلو کے لئے نافذ ہے ، کے نفاذ کو  22 جلد خراب ہو جانے والی مصنوعات تک وسعت دی جائے گی ۔

تقریباً 1.68 کروڑ کاشت کار  درج رجسٹر ڈ ہیں اور 1.14 لاکھ کروڑ روپئے  کی تجارتی   لین دین ای – نام  کے ذریعے  عمل میں آئی ہے ۔ ای – نام نے زرعی منڈی میں ، جس نوعیت کی شفافیت کا رواج  عام کیا ہے ، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید 1000 منڈیوں کو ای – نام سے مربوط کیا جائے گا ۔ زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ کو   اے پی ایم سی کو  دستیاب کرایا جائے گا تاکہ وہ اپنی  بنیادی ڈھانچہ سہولتوں کو مستحکم بنا سکیں  ۔ 

 

ماہی پروری

وزیر خزانہ نے جدید ماہی گیری ساحلوں اور مچھلیاں جمع کرنے کے مراکز  کی ترقی کے لئے  خاطر خواہ سرمایہ کاری کی تجویز رکھی ہے ۔ ابتداً ، ماہی گیری کے پانچ ساحلوں – کوچی ، چنئی ، وشاکھا پٹنم ، پارا دیپ اور پٹوا گھاٹ کو اقتصادی سرگرمی کے مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی ۔ 

 

نقل مکانی کرنے والے کارکنان اور مزدور

          حکومت نے ایک ملک ایک راشن کارڈ اسکیم متعارف کرائی ہے ، جس کے توسط سے استفادہ کنندگان ملک میں کہیں بھی اپنا راشن حاصل کر سکتے ہیں ۔ وَن نیشن وَن راشن کارڈ منصوبہ 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں زیر عمل ہے اور اس   کے  توسط سے تقریباً 69 کروڑ استفادہ کنندگان یعنی مجموعی استفادہ کنندگان میں سے 86 فی صد استفادہ کنندگان پر احاطہ کیا جا چکا ہے ۔ بقیہ چار ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی اس سے مربوط کر دیا جائے گا ۔

          حکومت کی تجویز ہے کہ اس عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ، جو آج سے 20 برس قبل شروع ہوا تھا یعنی چار مزدور کوڈس کو نافذ کیا جائے۔ پہلی مرتبہ عالمی پیمانے پر سماجی تحفظ کے فوائد   پلیٹ فارم  پر  کام کرنے والوں کو فراہم کرائے جائیں گے ۔ کم ا زکم اجرت کا فارمولہ  تمام زمروں کے کارکنان پر نافذ ہو گا اور  وہ بھی ائمپلائیز اسٹیٹ  انشورنس کارپوریشن کے زیر تحفظ ہوں گے ۔  ہر زمرے کی خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہو گی اور معقول تحفظ کے ساتھ نائٹ شفٹ میں بھی کام ہو گا ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ آجروں پر نفاذ کی ذمہ داری ہو گی ۔ تاہم وہ اِس کے لئے  ایک  رجسٹریشن اور  ایک لائسنسنگ اور آن لائن ریٹرن کے پابند ہوں گے ۔ 

 

مالی شمولیت

          درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبیلوں اور خواتین کے لئے اسٹینڈ اَپ انڈیا اسکیم کے تحت  قرض کی سہولت کو فروغ دینے کے لئے وزیر خزانہ نے کم از کم  رقم  کے سلسلے میں  ضروری شرط کو 25 فی صد س گھٹا کر 15 فی صد کرنے کی شرط رکھی ہے اور اس میں زراعت سے متعلق ذیلی  سرگرمیوں کے حاصل کئے جانے والے قرض بھی شامل ہوں گے ۔ اس کے علاوہ ، ایم ایس ایم ای کے شعبے کو ، اِس بجٹ میں مدد فراہم کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ۔ حکومت نے اِس شعبے کو  ، اِس سال کے بجٹی تخمینے میں دوگنے سے زیادہ یعنی 15700 کروڑ روپئے کی رقم فراہم کی ہے ۔

          وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی ( این اے پی ) ، جس کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے ، اس سے اچھا رد عمل حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 15000 سے زائد اسکولوں کو  قومی تعلیمی پالیسی کے تمام عناصر کی شمولیت کے ساتھ عمدگی کے لحاظ سے بہتر بنایا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ این جی او / نجی اسکولوں / ریاستوں کی شراکت داری میں 100 نئے  سینک اسکول شامل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی تجویز رکھی کہ ایک اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف انڈیا قائم کیا جائے گا ، جو   ایک سرپرست ادارہ ہو گا اور اس کے چار علیحدہ  عناصر ہوں گے ، جو  معیار کا تعین ، منظوری ، ریگولیشن اور سرمایہ فراہمی سے متعلق ہوں گے ۔ لداخ میں قابل رسائی اعلیٰ تعلیم کے لئے حکومت ، لیہہ میں ایک مرکزی یونیورسٹی قائم کرنے کی تجویز رکھتی ہے ۔

 

درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود

          حکومت نے  قبائلی علاقوں میں  ہر ایک اسکول  کی لاگت  20 کروڑ سے بڑھا کر 38 کروڑ روپئے کرنے کے ساتھ   750 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول  قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔  پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں کے لئے یہ لاگت بڑھا کر 48 کروڑ روپئے کی گئی ہے ۔ اسی طریقے سے نو تشکیل شدہ بعد از میٹرک وظائف اسکیم کے تحت ، جو درج فہرست ذاتوں کی فلاح و بہبود کے لئے فراہم کی جاتی ہے ، مرکزی امداد  بڑھا کر 26-2025 ء تک 6 چالوں کے لئے 35219 کروڑ روپئے کر دی گئی ہے، جس سے چار کروڑ  درج فہرست طلباء کو فائدہ حاصل ہو گا ۔

 

ہنر مندی

          متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) کی شراکت داری میں ہنر مندی پر   مبنی استعداد کی معیار بندی  ، تجزیے اور اسناد بندی کے لئے ساتھ ہی ساتھ مستند ورک فورس کی بھرتی کے لئے ایک پہل قدمی زیر عمل ہے ۔ حکومت نے بھارت اور جاپان کے مابین ایک مشترکہ تربیتی  بین تربیتی پروگرام ( ٹی آئی ٹی پی ) بھی وضع کیا ہے تاکہ جاپان کی صنعتی اور پیشہ ورانہ ہنر مندیوں،  تکنیکات اور علم کو یہاں منتقل کیا جا سکے  اور اسے دیگر ممالک کے ساتھ بھی آگے بڑھایا جا سکے ۔

 

5 ۔ اختراع اور تحقیق و ترقی

          وزیر خزانہ نے کہا کہ جولائی ، 2019 ء کی بجٹی تقریر میں ، انہوں نے قومی تحقیقی فاؤنڈیشن کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ  آئندہ پانچ برسوں میں این آر ایف تخمینہ جاتی اخراجات 50000 کروڑ روپئے کے بقدر ہوں گے ۔ اس کے ذریعے ، اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں تحقیقی ایکو نظام ، شناخت شدہ قومی ترجیحاتی شعبوں میں  خصوصی توجہ کے ساتھ مستحکم بنایا جائے ۔

          حکومت ایک نئی پہل قدمی یعنی قومی لسانیاتی ترجمہ مشن ( این ٹی ایل ایم ) شروع کرے گی ۔ اس سے   حکمرانی اور پالیسی سے متعلق علم کی دولت  ، جو انٹر نیٹ پر دستیاب ہے ، اسے  اہم ہندوستانی  زبانوں میں دستیاب کرایا جائے گا ۔

          خلائی محکمے کے تحت ایک سرکاری دائرۂ کار کی صنعت یعنی  دی نیو اسپیس  انڈیا لمیٹیڈ ( این ایس آئی ایل ) ، پی ایس ایل وی – سی ایس 51 لانچ کرے گی ، جس کے تحت برازیل سے  امیزونیا سیارچے کو  داغا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی چند چھوٹے  بھارتی سیارچے  بھی ہوں گے ۔ 

          گنگا یان مشن  سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر   چار بھارتی خلاء نوردوں  کو     جینرک اسپیس فلائٹ  عناصر سے روس میں روشناس کرایا جا رہا ہے اور  تربیت فراہم کرائی جا رہی ہے ۔  اولین غیر انسانی لانچ دسمبر ، 2021 ء میں عمل میں آئے گا  ۔

 

6 ۔ کم از کم حکومت ، زیادہ سے زیادہ حکمرانی

          بجٹ کے آخری 6 ستونوں پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے  گذشتہ چند برسوں میں  خصوصی  عدالتوں میں  اصلاحات متعارف کرانے کے لئے متعدد اقدامات کی تجویز رکھی ہے تاکہ تیز رفتاری سے انصاف فراہم ہو سکے اور خصوصی عدالتوں کے کام کاج کو مزید معقول اور منطقی بنایا جا سکے ۔ حکومت نے  پارلیمنٹ میں  ذیلی حفظانِ صحت  پیشہ وران  سے متعلق نیشنل  کمیشن  کے قیام کے لئے ایک بل متعارف کرایا ہے تاکہ 56 ذیلی حفظانِ صحت پیشوں کے سلسلے میں  شفاف اور موثر  قواعد و ضوابط کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ آئندہ ہونے والی مردم شماری  بھارت میں ہونے والی اولین ڈجیٹل مردم شماری ہو گی ۔ اس بڑے اور سنگ میل  کام کے لئے 22-2021 ء میں 3768 کروڑ روپئے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔

          مالیاتی  پوزیشن کے سلسلے میں ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ  معیشت پر  وبائی صورتِ حال نے  اتنا اثر ڈالا کہ مالیاتی پوزیشن یعنی مالیاتی آمد کم ہوئی ۔ صحت کی صورت حال ایک دفعہ مستحکم ہونے کے بعد لاک ڈاؤن آہستہ آہستہ ہٹایا جا رہا ہے ۔ حکومت کے اخراجات کو  گھریلو  مطالبات کے احیا کے لئے بروئے کار لایا گیا ۔ اس کے نتیجے میں  21-2020  کے لئے اصل بجٹی تخمینہ جاتی اخراجات 30.42 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر تھے تاہم  نظر ثانی شدہ تخمینہ جاتی اخراجات اب 34.50 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر ہو گئے ہیں اور اخراجات کی کوالٹی کو بھی  بر قرار رکھا گیا ہے ۔   نظر ثانی شدہ بجٹی تخمینہ جاتی اخراجات میں اہم اخراجات 21-2020 ء میں 4.39 لاکھ کرو ڑروپئے کے بقدر تھے ، جب کہ 22-2021 ء میں یہ اخراجات 4.12 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر ہیں ۔

          وزیر  خزانہ نے کہا کہ نظر ثانی شدہ 21-2020 ء کے بجٹی تخمینے میں  مجموعی گھریلو پیداوار کے مقابلے میں خسارہ 9.5 فی صد کے بقدر رکھا گیا ہے  اور اس کے لئے سرکاری  قرضوں کے ذریعے سرمایہ فراہم کرایا جائے گا ۔  کثیر پہلوئی قرضے لئے جائیں گے ، چھوٹی بجت سرمایہ کے ذریعے  کام چلایا جا ئے گا اور مختصر مدتی قرضے لئے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو   80000 کروڑ روپئے کی مزید ضرورت ہو گی ، جس کے لئے حکومت   ان د و مہینوں میں منڈی رابطہ قائم کرے گی ۔ 22-2021 ء کے بجٹی تخمینے میں مالیاتی خسارہ کا تخمینہ مجموعی گھریلو پیداوار کے    لئے 6.8 فی صد ہے ۔ آئندہ برس کے لئے منڈی سے لیا جانے والا قرض تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر ہو گا ۔

          محترمہ سیتا رمن نے اعلان کیا کہ حکومت   مالی استحکام کے راستے پر  گامزن رہنے کے منصوبے پر عمل پیرا رہے گی اور  26-2025 ء تک مجموعی گھریلو پیداوار کے مقابلے میں مالیاتی خسارہ گھٹا کر 4.5 فی صد تک لائے گی اور  اس طریقے سے اس مدت میں  خاصا خسارہ  گھٹے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ   استحکام  کے حصول کے ذریعے   ٹیکس مالیات میں اضافہ ہو گا ، بہتر طور پر  لوگ  اس کی پابندی کریں گے اور اثاثوں کی منفعت بخش صورت حال اور سرکاری دائرہ کار کی  صنعتوں کی جانب سے افزوں حصولیابیاں حاصل ہوں گی ۔

15 ویں مالیاتی کمیشن کے نظریہ کے مطابق حکومت 22-2021 ء کے لئے ریاستوں کے سلسلے میں جی ایس ڈی پی کے چار فی صد کے قرض کی نارمل حدود کی اجازت دے گی ۔

          ایف آر بی ایم ایکٹ میں لازمی طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ  مجموعی گھریلو پیداوار سے متعلق 3 فی صد خسارے کا ہدف مارچ 21-2020 ء تک حاصل کر لیا جائے گا ۔ اس سال کی  غیر متوقع صورت حال اور غیر معمولی صورت حال نے لازم کر دیا ہے کہ    دفعہ 4 ( 5 ) اور دفعہ 7 ( 3 ) (بی) ایف آر بی ایم ایکٹ کے تحت  داخل کئے جانے والے گو شوارے میں کچھ ترمیم کی جائے  ، جو   وزیر خزانہ نے  ایف آر بی ایم دستاویزات کے ایک حصے کے طور پر ایوان   میں پیش کیا ہے ۔

          9 دسمبر ، 2020 ء کو پندرہویں مالیاتی کمیشن نے 2021 ء سے لے کر 2026 ء کی مدت پر احاطہ کرتے ہوئے  صدرِ جمہوریہ ہند کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی تھی ۔ حکومت نے   ، کمیشن کی اِس رپورٹ کو  ریاستوں کے 41 فی صد حصص  کی عمودی صورت حال کی وضاحتی  عرضداشت کے ساتھ  پیش کر دیا ہے ۔  کمیشن کی سفارشات پر بجٹ میں  22-2021 ء میں 17 ریاستوں کو محصولاتی خسارے گرانٹ کے طور پر 118452 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں ۔

 

حصہ - بی

بجٹ تقریر کے حصہ بی مں  ، مرکزی وزیر محترمہ نرملا ستا رمن نے ٹکسی انتظامہہ کو آسان بنانے ، قانونی چارہ جوئی بندوبست اور براہ راست ٹکس- انتظامہا کی پد ن گوثں کو آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ بالواسطہ تجویز پددا گوآں کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ طریقہ کار کو باقاعدہ بنانے اور کسٹمز کو عقلی بنانے پر مرکوز ہے۔

براہ راست ٹکس  کی تجاویز

وزیر خزانہ نے  انکم ٹیکس ریٹرن کو بھرنے میں بزرگ شہریوں کو راحت دیتے ہوئے انکم ٹیکس طریقہ کار کے وقت کی مدت میں  کمی، تنازعات کو حل کرنے کیلئے کمیٹی  کے قیام کا اعلان ، فیس لیس آئی ٹی اے ٹی، این آر آئی کو چھوٹ، آڈٹ استثنیٰ کی حد میں اضافے اور ڈیویڈینٹ آمدنی کیلئے بھی راحت دی ہے۔ انہوں نے ملک میں بنیادی ڈھانچے میں غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے ، سستے اور کرائے کے  گھروں کیلئے راحت ، آئی ایف ایس سی کیلئے ٹیکس ترغیبات، چھوٹے چیریٹیبل  ٹرسٹو ں کو راحت اور اسٹارٹ اپس کیلئے ترغیبات جیسے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

محترمہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ وبا کے بعد دنیا ایک نئی شکل میں ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے اور بھارت اس میں ایک سرکردہ کردار نبھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمارے  ٹیکس نظام کو شفاف، مؤثر ہونا ہوگا اور  ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کو فروغ دینا چاہئے۔ محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اسے ہمارے ٹیکس دہندگان پر کم سے کم بوجھ ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا  کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی ، منافع تقسیم ٹیکس کاخاتمہ اور چھوٹے ٹیکس دہندگان کیلئے چھوٹ میں اضافہ سمیت  ٹیکس دہندگان اور معیشت کے فائدے کیلئے سرکار کے ذریعے اصلاحات کی ایک سیریز متعارف کرائی  گئی تھی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سال 2020 میں انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والوں کی تعداد 6.48 کروڑ  رہی جبکہ 2014 میں یہ تعداد 3.31 کروڑ تھی۔

بجٹ میں 75 برس کی عمر اور اس سے زیادہ کے بزرگ شہریوں کو زیادہ راحت دی گئی ہے، ایسے بزرگ شہری جنہیں پنشن اور سود سمیت آمدنی حاصل ہوتی ہے انہیں انکم ٹیکس داخل کرنے سے راحت دی گئی ہے۔ انہیں ادائیگی کرنے والا بینک ہی ان کی آمدنی سے ضروری ٹیکس کی کٹوتی کرکے رقم  منتقل کردیگا۔ وطن واپس لوٹنے والے غیرمقیم شہریوں کے لئے انکم ٹیکس سے متعلق مشکل دفعات کو آسان  بنانے اور بیرون ملک سے ان کے سبکدوش ہونے کے بعد بھارت لوٹنے پر آمدنی سے متعلق اُمور کو آسانی سے حل کرنے کیلئے آسان قوانین کا التزام بجٹ میں  کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹی ڈی ایس  سے پاک  منافع کی ادائیگی   آر ای آئی ٹی / آئی این وی آئی ٹی  کو کرنے کی تجویز ہے۔ غیرملکی پورٹ فولیو والے سرمایہ کاروں کیلئے بجٹ میں  معاہدے کی کم شرح پر منافع آمدنی مںئ ٹکسے مںی کمی کی تجویز ہے۔ بجٹ میں یہ بھی التزام ہے کہ منافع آمدنی پر ایڈوانس ٹیکس کی  ادائیگی کی ذمہ داری منافع کی ادائیگی یا اس کے اعلان کے بعد ہی پدنا ہوتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ قدم اس لئے اٹھایا گای ہے کیونکہ شیئرہولڈروں کے ذریعے ایڈوانس ٹکسوں کی ادائیگی کرنے کیلئے منافع کی آمدنی کا صحیح۔ حساب نہیں  لگا یا جاسکتا ہے۔

 

وزیر خزانہ نے سستا مکان خریدنے کےلیے حاصل کیے گیے قرض کے لیے ادا کیے گئے 1.5 لاکھ روپے کے سود کی اضافی کٹوتی کے دعوے کے لیے اہلیت کی مدت کو 31 مارچ 2022 تک آگے بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ سستے مکانات کی سپلائی میں اضافے کےلیے انہوں نے سستے مکانات کے پروجیکٹوں کے لیے ٹیکس میں تعطل کے دعوے کے لیے اہلیت کی مدت کو ایک اور سال آگے بڑھا کر 31 مارچ ، 2022 تک بڑھائے جانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مہاجر مزدوروں کے لیے سستے کرائے کے مکانوں کی سپلائی کو فروغ دینے کے لیے وزیر موصوف نے نوٹیفائی کیے گیے سستے کرائے کے مکانوں کے پروجیکٹوں کے لیے نئی ٹیکس رعایت کا اعلان کیا۔

ملک میں اسٹارٹ اپس کو تحریک دینے کےلیے محترمہ سیتا رمن نے  اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیکس میں تعطل  کے دعوے کے واسطے اہلیت کی معیاد میں مزید ایک سال کی توسیع کر کے اسے 31 مارچ، 2022 تک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹارٹ اپس کو فنڈ فراہم کرانے کے لیے ترغیب دینے کے مقصد سے انہوں نے مزید ایک سال بڑھا کر 31 مارچ ، 2022 تک اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے کیپیٹل فائدے میں چھوٹ میں توسیع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مختلف فلاحی فنڈز میں ملازمین کی جانب سے جمع کرائے جانے والی رقم میں تاخیر کے نتیجے میں ملازمین کو سود / آمدنی کا مستقل نقصان ہوتا ہے۔ آجروں کی جانب سے ان فنڈز میں ملازمین  کے تعاون کی رقم کو وقت پر جمع کرائے جانے کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ آجروں کی جانب سے کٹوتی پر ملازمین کے تعاون کی رقم تاخیر سے جمع کرائے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ضابطے پر عمل کے بار کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں انکم ٹیکس کی کارروائی کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مدت ماضی کے چھ سال سے گھٹا کر تین سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ٹیکس چوری کے سنجیدہ معاملوں میں جہاں پر کہ ایک سال میں 50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کی آمدنی کو چھپانے کی شہادت موجود ہو، ٹیکس کے تعین کو پرنسپل چیف کمشنر کی منظوری کے بعد ہی دس سال تک کے لیے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

ٹیکس کے نظام میں مقدمے بازی کو کم کرنے کے حکومت کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کے ذریعے اعلان شدہ   ڈائریکٹر ٹیکس ویواد سے  وشواس  اسکیم کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ 30 جنوری ، 2021 تک 1 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ٹیکس دہندگان نے اس اسکیم کے تحت 85 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ٹیکس تنازعات کا نمٹارا کرایا۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کے مقدمات کو مزید کم کرنے کے لیے انہوں نے ایک ڈسپیوٹ ریزیولیشن کمیٹی کے قیام کی تجویز  پیش کی۔ 50 لاکھ روپے تک کی ٹیکس لائق آمدنی والا اور 10 لاکھ روپے تک کی متنازعہ آمدنی والا  کوئی بھی شخص  کمیٹی سے رابطہ کرنے کا اہل ہوگا۔ انہوں  نے نیشنل فیس لیس انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبیونل سینٹر کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

ڈیجیٹل لین دین کو تحریک دینے اور ڈیجیٹلی ہر طرح کا لین دین کرنے والے شخص کے بار کو کم کرنے کے لیے بجٹ میں 5 کروڑ روپے سے 10 کروڑ روپے تک کہ کاروبار میں 95 فیصد ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں  کو ٹیکس آڈیٹ کی حد میں اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں  پرائیویٹ فنڈنگ ، کمرشیل سرگرمیوں پر پابندی اور بنیادی ڈھانچے میں براہ راست سرمایہ کاری پر روک لگانے سے متعلق کچھ شرطوں میں چھوٹ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

 

زیرو کوپن بانڈ کے اجراء  کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی فنڈنگ  کرنے کی خاطر  بجٹ میں ٹیکس  میں مؤثر زیرو کوپن بانڈ  جاری کرکے بنیادی ڈھانچے کے قرضہ جاتی فنڈ حاصل کرنے کو نوٹیفائی کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

جی آئی ایف ٹی  شہر میں  بین الاقوامی مالی خدمات مرکز (آئی ایف ایس سی) کو فروغ دینے کے لئے بجٹ میں مزید  ٹیکس ترغیبات کی تجویز ہے۔

بجٹ میں درج فہرست  تمسکات ، منافع  پر آمدنی ، بینکوں کے سود  اور پوسٹ  آفس  وغیرہ  کے سود سے  ہونے والے فوائد کی تفصیلات کی تجویز پیش کی گئی ہے، جنہیں ریٹرن  داخل کرنے میں آسانی کے لئے پہلے سے بھرا جاسکتا ہے۔ تنخواہ پر انکم ٹیکس  کی ادائیگی ، ٹی ڈی ایس وغیرہ  کو پہلے  ہی ، پہلے سے درج کردہ ریٹرن میں تفصیلات  دی جائیں گی۔

تعلیمی اداروں اور اسپتال چلانے والے چھوٹے  خیراتی ٹرسٹ  پر  ضابطوں پر عمل در آمد کے بوجھ کو کم کرنے کی خاطر بجٹ میں  ان ٹرسٹ کے ذریعے  سالانہ  رقم کی وصولی  کو  موجودہ ایک کروڑ سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

 

بالواسطہ ٹیکس تجاویز

 

بالواسطہ ٹیکس تجاویز کے بارے  میں وزیر موصوف نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں  جی ایس ٹی  کی ریکارڈ وصولی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  جی ایس ٹی کو مزید آسان بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے  گئے ہیں۔ جی ایس ٹی این  نظام  کی اہلیت کا اعلان کیا گیا ہے، اینلائٹکس اور  مصنوعی ذہانت کو  ٹیکس چوری کرنے والوں اور جعلی بل بنانے والوں کی نشان دہی کے لئے تعینات کیا گیا ہے اور ان کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے  ایوان کو یقین دلایا کہ  جی ایس ٹی کو مزید آسان بنانے اور  خامیوں کو  دور کرنے کے لئے  ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

کسٹم ڈیوٹی کی پالیسی  کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ  اس  کا مقصد  ملک کی مینو فیکچرنگ کو فروغ دینا  اور  عالمی ویلیو چین  اور  بر آمدات  میں بہتر کارکردگی کے لئے  بھارت کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اب  خام مال  اور  اضافی قدر والی مصنوعات  کی بر آمدات  پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے  اس سال  کسٹم ڈیوٹی کے ڈھانچے میں 400  پرانی  چھوٹ پر نظر ثانی کرنے کی  تجویز پیش کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ  جامع  صلاح ومشورہ کیا جائے گااور یکم اکتوبر 2021  سے  خامیوں سے پاک کسٹم ڈیوٹی کا ایک نظر ثانی شدہ ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے  یہ تجویز بھی پیش کی کہ  کسٹم ڈیوٹی میں کوئی بھی نئی چھوٹ  اس کے اجراء کی تاریخ سے  دو سال تک  31  مارچ تک  جائز رہے گی۔

 وزیر خزانہ نے  چارجروں کے حصوں اور موبائل فون کے  کچھ ذیلی حصوں میں ٹیکس کی چھوٹ کو  ختم کرنے کا اعلان کیا  اور  صفر ٹیکس والے موبائل کے کچھ حصوں پر  2.5 فیصد  کا معمولی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے  نان الائے اور  اسٹین لیس اسٹیل کی مصنوعات پر یکساں  7.5 فیصد کی ڈیوٹی  لگانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے  31 مارچ 2022  تک  اسٹیل کے  اسکریپ  پر  ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ہاتھ سے بنے کپڑے کے خام مال پر ڈیوٹی  کو معقول بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے  نائیلون چین کو  پولیسٹر  اور  دیگر دھاگوں  پر برابر  ٹیکس لگانے کا اعلان کیا۔ کیپرولیکٹم، نائیلون چپس اور نائیلون فائبر پر  بی سی ڈی کی شرح میں کمی کرکے  یکساں 5  فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے کہا کہ اس سے  ٹیکسٹائل کی صنعت ، ایم ایس ایم ای  اور بر آمدات میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے  ملک میں  قدر میں اضافہ کرنے  کو ترغیب دینے کی خاطر کیمیکل پر کسٹم ڈیوٹی کی شرحوں میں کمی کا اعلان کیا۔ وزیر موصوف نے  سونے اور چاندی  پر کسٹم ڈیوٹی کو  معقول بنانے کا بھی اعلان کیا۔

وزیر  خزانہ نے کہا کہ  گھریلو صلاحیت میں اضافہ کرنے کی خاطر شمسی  سیل اور شمسی پینل کے لئے  مرحلے وار  مینو فیکچرنگ  منصوبے کو نوٹیفائی کیا جائے گا۔ انہوں نے  شمسی انویٹر پر ڈیوٹی کو  5  فیصد سے بڑھا کر 20  فیصد کرنے اور شمسی لال ٹینوں پر  ڈیوٹی کو 5  فیصد سے بڑھا کر 15  فیصد کرنے کا اعلان کیا۔

 وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں  کہا کہ  ملک میں  بھاری مشینوں کی مینو فیکچرنگ کی وسیع  صلاحیت اور  اس کے لئے شرحوں کے ڈھانچے  پر  نظر ثانی کی  جائے گی۔ البتہ انہوں نے سرنگ کھونے والی مشین اور کچھ آٹو پارٹس سمیت  کچھ  اشیاء پر ڈیوٹی کی شرحوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا۔

بجٹ میں ایم ایس ایم ای کے فائدے کے لئے کچھ تبدیلیوں کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں اسٹیل کے اسکریو، پلاسٹک بلڈر ویئر  اور پران فیڈ میں ڈیوٹی بڑھانا شامل ہے۔ ملبوسات ، چمپڑے اور دستکاری کی اشیاء کی بر آمدات  پر ترغیب کے لئے ڈیوٹی سے پاک اشیاء پر  در آمداتی ڈیوٹی کو معقول بنایا گیا ہے۔ اس میں مخصوص قسم کے چمڑے  کی بر آمدات پر  استثنیٰ کو ختم کرنے اور  سینتھیٹک جیم اسٹونس پر  کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی بھی گنجائش ہے۔

کسانوں کے فائدے کے لئے وزیر خزانہ نے  کپاس ، خام ریشم، اور ریشم کے دھاگے پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کا اعلان کیا۔  وزیر موصوف نے  کچھ اشیاء  پر زرعی بنیادی ڈھانچے اور  ترقی کے محصول کی بھی تجویز پیش کی۔ انہو ں نے کہا کہ  محصول لگاتے ہوئے  ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ زیادہ تر اشیاء کے لئے  صارفین پر  اضافی بوجھ نہ پڑے۔

ضابطوں کو معقول بنانے اور  عمل آوری کو آسان بنانے سے متعلق وزیر خزانہ نے  اے ڈی ڈی  اور سی وی ڈی  ٹیکسوں سے متعلق ضابطوں میں کچھ  تبدیلیوں کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  کسٹم کی  تحقیقات کو مکمل کرنے کے لئے  وقت کا تعین کرنے کا بھی  عمل کیا جا ر ہا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ  2020  میں شروع کی گئی  ترنت کسٹم پہل میں  ایف ٹی اے کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا ع۔ا گ۔ وا۔ م ن۔ م ع۔ م م۔  ن ا۔ت ح۔ م س۔ ع ا۔ ع ن۔ م ر۔ ق ر۔

(U-1034

                          



(Release ID: 1694209) Visitor Counter : 57