سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ہندوستان کے اعلی مفکروں نے ایس ٹی آئی پی کے مسودہ پر اپنے ویژن اور خیالات پیش کئے

اس پالیسی دستاویزات کامقصد ملک کے مستقبل کی تشکیل کرنے کےلئے ہر ایک چیز کادھیان رکھنا ہے: پروفیسر کے وجے راگھون، پرنسپل سائنسی مشیر، حکومت ہند
‘‘ہم تخلیق شدہ معلومات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، تاہم ہمیں اختراع کرنے کے لئے انہیں مکمل طور سے کام میں لانے- اختراع کو علم سے جوڑنے کی ضرورت ہے’’:پروفیسر آسوتوش شرما، سکریٹری ، محکمہ برائے سا ئنس و ٹکنالوجی

Posted On: 24 JAN 2021 3:41PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،24جنوری/پانچویں قومی سائنس ٹکنالوجی اور اختراع پالیسی کے مسودے کو  مستحکم کرکے افکار و نظریات کو تقویت دینے کے لئے  مسودے کے بعد ایک مشاورتی عمل شروع کیا گیا  جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کچھ سرکردہ ماہرین اور مفکروں نے شرکت کی۔

حکومت ہند کے  پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر کے وجے راگھون نے 23 جنوری 2021 کو ویبنار کے ذریعہ  منعقدہ مشاورت میں کہا ‘‘پچھلے کچھ برسوں میں  ٹکنالوجی میں بے شمار تبدیلی کے ساتھ  ڈیجیٹل انقلاب آیا ہے، اس تبدیلی کی وجوہات بتاتے ہوئے  ہمیں ثقافت کی مضبوط بنیادوں سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سمت میں ایک قدم  لینگویج لیباریٹریوں کو مستحکم کرنا ہے۔  اس کےعلاوہ بڑے پیمانے پر لرننگ کے لئے ایس ٹی آئی کے لئے عملی نفاذ بھی اہم ہے۔اس پالیسی دستاویزات کامقصد ملک کے مستقبل کی تشکیل کرنے کے لئے ہرایک شے پر  دھیان دینے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے حتمی دستاویزات میں پالیسی امن فریم ورک مسودہ کو شامل کرنے اور نفاذ کی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

محکمہ برائے سائنس و ٹکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر آسوتوش شرما نے کہا‘‘ مستقبل کے لئے تیار ہونے کے لئے ریاستوں کو  مرکزکے ساتھ  جڑنے ، نیز ان کے مسائل کوحل کرنے کے لئے سائنس، ٹکنالوجی اور اختراع کا  استعمال کرنےکی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ سا تھ بین الاقوامی رابطے اور  سائنسی ڈپلومیسی پر بھی یکساں طور سے دھیان دینے کی ضرورت ہے’’۔ انہوں نے کہاکہ‘‘ بھارت میں  اختراع کےلئے  تخلیقی معلومات  پر فوکس کرتےہیں تاہم  ہمیں  اختراع کرنے کے لئے انہیں مکمل طور سے کام میں لانے- اختراع کو علم سے جوڑنے کی ضرورت ہے’’۔

محکمہ برائے سائنس و ٹکنالوجی کے مشیر  اورایس ٹی آئی پی سکریٹریٹ کے سربراہ ڈاکٹر اکھلیش گپتا نے کہا‘‘مشاورت کے 300 دور ہوچکے ہیں ، پہلی مرتبہ ہم نے ریاستوں، متعلقہ وزارتوں اور بھارت نزاد برادریوں سے مشورہ کیا۔ اس طرح  کی مشاورتیں دستاویز کومزید جامع بنائیں گی۔

قدرتی آفات کے بندوبست کی قومی اتھارٹی کے سابق رکن، سمندری ترقیات کے محکمہ کے سکریٹری اور دنیا کے معروف زلزلہ کے ماہر ڈاکٹر ہرش گپتا نے سائنس اور ٹکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے  افرادی قوت اور مالیاتی منصوبہ کے لئے  مقررہ وقت کی حد کے ساتھ ایک خاکہ تیار کرنے اورتنفیذی میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکہ میں ہارورڈکینیڈی اسکول میں سائنس اور ٹکنالوجی مطالعات کی ماہر  پروفیسر شیلا جے سنوف نے کہاکہ  کسی بھی ملک میں  سماجی علوم، انسانی علوم اور اخلاقیات  کا رول یکساں طور پر اہم ہے اورپالیسی کو اسے ظاہر کرنا چاہئے۔

راجیہ سبھا کے سابق سکریٹری جنرل اوریوپی کے چیف سکریٹری جناب یوگیندر نارائن نے سپروائزروں کی ٹریننگ اور ادارہ جاتی اشتراک و تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے اعزازی پروفیسر اجے سود نے ملک میں  اکیڈمیوں کے رول اور بالخصوص سائنسی حکمت عملی میں انہیں مزید سرگرم طریقہ سے جوڑنے تاکہ وہ فعال ہوجائیں اور  زیادہ بامعنی انداز میں اپنا تعاون دیں، پرغوروفکر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

احمدآباد میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹس ا ٓف منیجمنٹ کے سا بق پروفیسراورزمینی سطح پر اختراعات میں دنیا کے بے حد مشہور و معروف پروفیسر انل گپتانے آرٹ کوسائنس کے قریب لانے کی اہمیت کو اجاگرکیا اور اداروں میں ثقافت کے کردار پرزور دیا۔  انہوں نے ہر ایک معلومات فراہم کرنے والے کو  اعزاز دینے اوریومیہ  بنیاد پر کرشی وگیان کیندروں، بھارتی ریلوے اور ڈاک گھروں جیسے موجودہ نٹ ورکوں کے ذریعہ عام لوگوں تک رسائی حاصل کرنے پر زور دیا۔

مشہور و معروف ماہر ماحولیات اور  سینٹربرائے  سائنس  و ماحولیات کی ڈائریکٹر جنرل سنیتا نارائن نے  سوشل سائنس کی جانب بڑھنے کی ضرورت کواجاگر کیا اور کہاکہ‘‘ لوگوں کے ساتھ  انڈین سائنس کی شراکت داری کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ سیلاب کی پیشگوئی اور سمندری طوفان  کی پیش گوئی کےمعاملہ میں ہوا ہے’’۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر مکرانڈ آر  پرانجپی نے پالیسی میں  موضوعات کے اینٹی گریشن کو شامل کرنے اور ملک بھر میں  مہارت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت کے بارے میں بات کی۔

پبلک پالیسی کی پروفیسراوریونیورسٹی آف میچیگن میں سائنس ٹکنالوجی اور  پبلک پالیسی پروگرام کی ڈائریکٹر شوبیتا پارتھا سارتھی نے سماج ماحولیات اور معیشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی وکالت کی۔  انہو ں نے کہا زمینی سطح پر اختراع اور روایتی  علم بھارت کی طاقت ہیں اور اکثر مسائل کا حل کرتی ہیں۔ خواتین نے زمینی سطح کے زیادہ اختراعات میں اہم کردار ادا کیا ہے اوران کے رول کی ستائش کی جانی چاہئے۔

  ہمالین انوائرنمنٹل اسٹڈیز اینڈ کنزرویٹیو آرگنائزیشن (ایچ ای   ایس سی او) کے بانی ڈاکٹر انل پرکاش جوشی نے کہاکہ بھارت جیسے ملک میں جہاں بڑی  آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے وہاں  یقینی طور پر ایک پالیسی کو ان کی ضرورتوں اورامیدوں کو  ظاہر کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ  ‘‘روایتی علم کو  سائنسی جواز اور توثیق کی ضرورت ہے’’۔

 ممتازفیلو،آبزرورریسرچ فاؤنڈیشن(اوآر ایف) میں نیوکلیائی اورخلائی پالیسی اقدامات کی سربراہ ڈاکٹر راجیشوری راجا گوپالن نے کہاکہ  سرمایہ کاری اور  منافع کےوقتا فوقتا  آڈٹ کا نظام  ہونا چاہئے اورپالیسی کو  بہترین صلاحیت مند افراد کی ملک واپسی،  اعلی ترین صلاحیتوں کو ملک کے اندر رکھنے اور ملک میں واپس لانے پر دھیان مرکوز کرنا چاہئے۔

حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک مشیر (پی ایس اے) کےدفتراور حکومت ہند کے محکمہ برائے سائنس و ٹکنالوجی  (ڈی ایس ٹی) کی جانب سے  جاری کردہ رہنما خطوط کے ساتھ ڈاکٹر اکھلیش گپتا کی قیادت میں ایس ٹی آئی پی سکریٹریٹ کے ذریعہ  ایس ٹی آئی پی کے مسودہ کو ایک ساتھ اکٹھا کیا گیا۔ ایس ٹی آئی پی کے مسودہ کو 31 اکتوبر 2020 کو عوامی  مشاورت کے لئے جاری کیا گیا تھا۔ تب سے  تجاویز اور سفارشات  طلب کرنے کے لئے پہلے ہی کئی مابعد مشاورتوں کی شروعات کی جاچکی ہے۔  آئندہ دوہفتوں کے دوران مشاورتوں کی ایک  سیریز منعقد کرنے کی تجویز ہے۔  آرا ءو تجاویز حاصل کرنے کی آخری تاریخ 31 جنوری تک بڑھا دی گئی ہے۔

 

1.jpg

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

 (ش ح۔م ع۔ ف ر  (

U-860



(Release ID: 1692620) Visitor Counter : 96