امور داخلہ کی وزارت

سالِ اختتام کا جائزہ 2020 : وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کے ذریعے کئے گئے اہم فیصلوں ؍ اقدامات کی جھلکیاں

(کووڈ -19 سے متعلق وزارت داخلہ کی سرگرمیوں پر پریس ریلیز کا لنک ، ضمیمہ-1 میں ہے)

Posted On: 07 JAN 2021 8:03PM by PIB Delhi

تعارف:

 کووڈ – 19 وبا کے حملے اور  بھارت  میں اس کے تیزی سے پھیلنے سے  جڑی  تشویش میں اس سال کی ابتدا سے ہی وزارت داخلہ کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ کووڈ  - 19 سے متعلق  وزارت داخلہ  کی سرگرمیوں کی  تفصیل ضمیمہ -1  میں دیکھا جاسکتا ہے۔

سال 2020  کے دوران  وزارت داخلہ کی اہم سرگرمیاں – سال کے دوران  اہم سرگرمیوں کا خلاصہ۔

جموں  و کشمیر اور لداخ  - میں  مرکز  کے زیر انتظام  ریاستوں کی  یونین کے  ساتھ ملانے کی  سمت میں  اٹھائے گئے   آئندہ کے قدم۔

  • مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر  اور  مرکز کے زیر انتظام ریاست لداخ میں  مرکزی  قوانین  اور  ریاستی  قوانین کے درمیان  تال میل کیا گیا ۔
  • مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر  کے سلسلے میں 48  مرکزی  قوانین  اور  167 ریاستی  قوانین  کے تجزیئے سے متعلق  احکامات  کو نوٹیفائی کیا گیا۔
  • مرکز کے زیر انتظام ریاست کے تعلق سے  44  مرکزی قوانین اور 148  ریاستی قوانین  کے  تجزیئے سے متعلق  احکامات کو بھی  نوٹیفائی کیا گیا۔
  • جموں وکشمیر  کی تشکیل نو  (مسائل کو  دور کرنا)  حکم نامہ 2020  کو  31 مارچ  2020  کو  نو ٹیفائی کیا گیا۔ اس سے  جموں وکشمیر  اور لداخ کے  مشترکہ ہائی کورٹ کے لئے مقرر کئے گئے  نئے ججوں  کے عہدے کے حلف کے لئے جموں وکشمیر  تشکیل نو قانون 2019  کی  دفعہ 75 سے متعلق  رکاوٹوں کو  دور کیا گیا۔
  • جموں میں  8 جون 2020  کو  سینٹرل ایڈمنسٹریٹو کی ایک بینچ قائم کی گئی۔
  • جموں وکشمیر  سرکاری زبان  ایکٹ – 2020  کو  27 ستمبر  2020  کو  نوٹیفائی کیا گیا۔  یہ قانون  29 ستمبر  2020  سے لاگو کیا گیا۔ کشمیری ، ڈوگری ،  اردو  اور  انگریزی  مرکز کے  زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر کی  سرکاری زبانیں  بن چکی ہیں۔
  • سال 2020  میں  (15 نومبر تک) دہشت گردانہ واقعات کی تعداد میں ، سال 2019  کی  اسی مدت  کے مقابلے 63.93 فیصد تک کی  کمی آگئی ۔ سال 2020  میں (15 نومبر تک) خصوصی  حفاظتی دستوں کے شہید ہونے والے ملازمین کی  تعداد میں بھی  سال 2019  کی  اسی مدت  کے مقابلے 29.11  فیصد  تک کی کمی آئی  ہے اور شہریوں کی اموات کی تعداد میں بھی  14.28  فیصد  تک  کی کمی  آئی ہے۔
  • پاکستان کے قبضہ والے جموںوکشمیر ( پاک مقبوضہ جموں کشمیر) اور  چھمب کے 36384 بے گھر ہوئے  خاندانوں کو  وزیراعظم ترقیاتی پیکج کے تحت  فی خاندان 5.5  لاکھ روپے کی  یکمشت  مالی امداد  مہیا کرائی گئی ہے۔ پی او جے کے اور چھمب کے  بے گھر ہوئے  خاندانوں کی طرح ہی  جموں کشمیر میں  مغربی پاکستان کے  پناہ گزینوں (ڈبلیو پی آر) کے  5764 خاندانوں کو  5.5  لاکھ روپے  فی خاندان کی  شرح سے  یکمشت مالی امداد بھی  فراہم کی جارہی ہے۔
  • 4؍اپریل : وزارت داخلہ نے  جموں وکشمیر کے شہریوں کو  مرکز کے زیر انتظام ریاست میں تمام سرکاری  عہدوں کے لئے اہل بنانے  کا حکم  جاری کیا۔
  • 14؍ اکتوبر : مرکزی  کابینہ نے مالی سال 24-2023  تک  پانچ سال کی مدت کے لئے  مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر اور  لداخ کو  520 کروڑ روپے کا  خصوصی پیکج  دینے کی منظوری دی اور  مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر  اور لداخ میں  اس توسیع شدہ مدت کے دوران  فنڈ  کو غربت  کی شرح سے  جوڑے بنا  مانگ پر مبنی  بنیاد پر  دین دیال  انتودیئے یوجنا   نیشنل رورل لیولی ہوڈ مشن (ڈی اے وائی- این آر ایل ایم)  کو مالی امداد  فراہم کرانے کو  یقینی بنانے کی  منظوری بھی دی۔
  • 21؍ اکتوبر : مرکزی کابینہ نے  جموں وکشمیر میں  سال 21-2020  کے دوران سیب کی خرید کے لئے پچھلے سیزن یعنی  20-2019  میں مقرر شدہ  اصول وضوا بط کی بنیاد پر ہی  مارکیٹ  انٹروینشن اسکیم  میں  توسیع کو منظوری دی۔
  • 26؍ ستمبر :  لداخ کے  سینئر لیڈروں کے  ایک وفد نے  نئی دہلی میں  مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ  کے ساتھ  ملاقات کی۔
  • مرکزی وزیر داخلہ نے  وفد کو  یقین دلایا کہ  بھارت سرکار  لیہہ  اور کرگل کی لداخ  خود مختار  ہل ترقیاتی کونسل (ایل اے ایچ ڈی سی) کو  طاقت ور بنانے کے لئے عہد بند ہے اور سرکار  مرکز کے زیر انتظام ریاست لداخ کے عوام  کے مفادات  کا تحفظ کرے گی۔ یقین دہانی  کے بعد  وفد نے  آنے والے ایل اے ایچ  ڈی سی ،  لیہہ  الیکشن کے  بائیکاٹ کی اپیل واپس لینے پر  رضامندی کا اظہار کیا۔
  • مرکز کے زیر انتظام ریاست  جموں وکشمیر میں  ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) چناؤ۔
  • بھارت سرکار نے جموں وکشمیر کے ہر ضلع میں ضلع ترقیاتی کونسل قائم کرنے کے لئے 16 اکتوبر 2020  کو  جموں وکشمیر  پنچایتی راج ایکٹ – 1989  میں  ترمیم کیا۔ پہلی بار  لئے گئے  اس تاریخی فیصلے سے مغربی پاکستان سے آئے پناہ گزیں اپنے ووٹ  کا حق  استعمال کرنے کے اہل بن سکے۔ ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی)  کی تشکیل  مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں  پوری طرح  سر گرم   پنچایتی راج  عمل کو  قائم کرنے کا  آخری  اور فیصلہ کن  قدم تھا، جو  73 ویں  آئینی ترمیم  1992  کے تحت  لازمی تھا۔
  • جموں وکشمیر میں  جمہوریت کی بنیاد کو  مضبوطی  دینے کے وزیراعظم جناب نریندر مودی  کے عہد  اور حوصلے کو  تعبیر آشنا کرتے ہوئے  تاریخ میں پہلی بار  مرکز کے زیر انتظام ریاست  جموں وکشمیر میں  ڈی ڈی سی  الیکشن کرائے گئے۔ یہ الیکشن  نومبر  کے آخری ہفتے سے  دسمبر کے  تیسرے ہفتے تک  8 مرحلوں میں  اختتام پذیر ہوئے۔ 280  انتخابی حلقوں میں  2178 امیدواروں نے  الیکشن لڑا ۔ کُل  5834458 اہل  ووٹروں میں 3000185 نے  اپنے  ووٹ کے حق کا استعمال کیا اور مجموعی طور پر 51.42 فیصد  ووٹروں نے  ووٹ ڈالے۔
  • 6؍ مارچ : سی آئی ایس ایف  نے  جموں ہوائی اڈے  کی  سکیورٹی  کی ذمہ داری  سنبھالی۔ سری نگر ہوائی اڈے کی سکیورٹی  بھی  26  فروری کو  سی آئی ایس ایف کو سونپی گئی۔

شمال مشرقی خطہ  : امن  عمل کو مضبوطی

  • سال – 2014 کے بعد سے  شمال مشرق  میں سلامتی کی  صورت حال میں وسیع پیمانے پر بہتری آئی۔ پچھلے 6  برسوں میں  دہشت گردانہ واقعات میں غیر معمولی طور پر  کمی آگئی۔ دہشت گردانہ واقعات میں کمی کا سلسلہ 2020  میں بھی جاری رہا۔
  • پچھلے 6  برسوں میں  سلامتی کی  صورت حال میں  آئی بہتری کے سبب  مسلح افواج ، خصوصی اختیارات قانون کو میگھالیہ  اور تریپورہ  سے  پوری طرح ہٹالیا گیا اور  اروناچل پردیش میں  بھی  اس کے استعمال میں کمی آئی۔
  • 16 ؍ جنوری  : برو – ریانگ پناہ گزینوں کے بحران کو  ختم کرنے کے لئے تاریخی معاہدے پر دستخط۔
  • 23 سال پرانے  برو – ریانگ پناہ گزینوں کے بحران کو ختم کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ  جناب امت شاہ کی صدارت میں  16 جنور کو نئی دہلی میں  بھارت سرکار ،  تری پورہ اور  میزورم سرکار و برو- ریانگ  نمائندوں کے درمیان  ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ یہ  تاریخی معاہدہ  شمال مشرق کی ترقی  اور  خطے کے لوگوں کو  با اختیار بنانے کے لئے وزیراعظم جناب نریندر مودی  کے نقطہ نظر  کے عین مطابق ہے۔ تقریبا 37000 برو پناہ گزینوں کو  تریپورہ میں آباد کیا جائے گا اور ان کی باز آباد کاری و مجموعی  ترقی کے لئے مرکز کی طرف سے  تقریبا 600 کروڑ روپے کے  پیکج کے ذریعے  مدد  کی جائے گی۔
  • 27 ؍ جنوری : بوڈو معاہدہ
  • 50 سال سے زیادہ  پرانے  بوڈو بحران کا حل نکالنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی صدارت میں  27 جنوری کو  نئی دہلی میں  بھارت سرکار ،  آسام سرکار  اور  بوڈو نمائندوں کے درمیان  ایک تاریخی معاہدے پر  دستخط کئے گئے۔
  •  اس کے نتیجے میں  این ڈی ایف بی گروپوں کے  1615 ممبروں نے خود سپردگی  کی اور  9-10  مارچ  2020  کو  این ڈی ایف پی  کے  گروپوں نے خود کو تحلیل کردیا۔
  • بوڈوں علاقوں کی ترقی کے لئے مخصوص منصوبے چلانے کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے  تین سال میں 1500 کروڑ  روپے کا پیکج دیا جائے گا۔
  • شمال مشرق میں امن قائم کرنے کے لئے جاری کوششوں میں اُلفا  ؍ آئی،  این ڈی ایف بی،  اے ایل او  وغیرہ  مختلف گروپوں کے 644 ممبروں نے  23 جنوری  2020  کو  آسام میں اپنے ہتھیار ڈال دئے۔

اہم قوانین میں ترمیم

  • بین الاقوامی  امداد  (ریگولیشن) ایکٹ – 2010  میں ترمیم
  • غیر ملکی  امداد  (ریگولیشن) ترمیمی  قانون 2020  پارلیمنٹ کے ذریعے   ستمبر  2020 میں  منظور کیا گیا اور 28 ستمبر  2020  کو  نوٹیفائی کیا گیا۔ قانون میں  کی گئی ترمیم  مختلف تنظیموں کے ذریعے حاصل  غیر ملکی امداد کی وصولیابی  اور  استعمال کی مؤثر نگرانی میں تعاون کرے گا۔ سرکار نے  10 نومبر  2020 کو غیر ملکی امداد  (ریگولیشن)  2011 میں  ترمیم کو بھی  نوٹیفائی کیا۔
  • یہ  قانون  ایسی  کسی بھی  سرگرمیوں کے لئے  غیر ملکی امداد پر  پابندی لگا تا ہے، جو قومی  مفاد کے لئے  خطرہ پیدا کرتی ہیں۔
  • یہ ہندوستانی شہریوں کے لئے آدھار  اور غیر ملکیوں کے لئے پاسپورٹ یا  او سی آئی کو  شناخت ثابت کرنے کے لئے  لازمی بنا تا ہے۔
  • 9؍ ستمبر :  شری ہرمیندر صاحب کو ایف سی آر ے کی منظوری
  • وزارت داخلہ نے  سچ کھنڈ شری ہرمیندر صاحب،  شری دربار صاحب، پنجاب کو  رجسٹریشن کی  اجازت دی۔
  • مرکزی وزیر داخلہ  جناب  امت شاہ نے ایک غیر معمولی اور تاریخی فیصلے کی شکل میں  شری ہرمیندر صاحب کو  ایف سی آر  کی منظوری پر  مسرت کا اظہار کیا۔
  • اسے  ایک  خوش نصیبی  کا لمحہ بتاتے ہوئے جناب امت شاہ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی جی انتہائی خوش نصیب ہیں واہے گروجی نے  ان سے خدمت لی ہے۔ شری ہرمیندر صاحب کے لئے  ایف سی آر پر  فیصلہ  ایک غیر معمولی فیصلہ ہے، جو ایک بار  پھر  ہمارے سکھ بھائیوں اور بہنوں کی  خدمت کے  اعلیٰ جذبے کا  اظہار کرے گا۔
  • 29 ؍ ستمبر  :  ملک کے  قانون کی خلاف ورزی کے لئے انسانی حقوق  کو  بہانہ نہیں بنایا جاسکتا-  وزارت داخلہ۔
  • غیر قانونی طریقے سے  فنڈ کا  ناجائز استعمال کرنے کے  معاملے میں وزارت داخلہ نے  ایمنسٹی انٹرنیشنل  کے  ایف سی آر اے  لائسنس کو  منسوخ کیا۔
  • وزارت داخلہ نے  واضح کیا کہ  ایمنسٹی  بھارت میں  انسانی کام  جاری رکھنے کے لئے  آزاد تھا، جیسا کہ  دوسری کئی تنظیموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے، حالانکہ بھارت اپنے  مقرر شدہ قانون  کے توسط سے  غیر ملکی امداد کے ذریعے  فنڈ حاصل کرنے والی تنظیموں کی جانب سے داخلی ، سیاسی تنازعے میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔
  • 11؍ نومبر :  ایف آر آر او ، دہلی میں گوتم بدھ نگر ، غازی آباد اضلاع میں  رہنے والے او سی آئی  کارڈ رکھنے والوں کے سلسلے میں خدمات سے متعلق  معاملوں پر  قانونی  کارروائی کا اختیار دیا۔ کیرالہ میں  تین ایف آر آر او  کے  اختیار والے علاقے کی  واضح طور پر  نشان دہی کی گئی ہے ۔
  •  اب تک   اترپردیش کے گوتم بدھ نگر  اور  غازی آباد  جیسے اضلاع  پہلے سے ہی  ایف آر آر او لکھنو کے دائرے اختیار میں تھے۔
  • 24 ؍ فروری :  آرمس ایکٹ 1959، وہ  آرمس قانون 2016  میں  ترمیمات کو  نوٹیفائی کیا۔ نشانے بازوں کے لئے فائر آرمس اور گولہ بارود کی مقدار میں اضافہ کیا گیا۔
  • 8 ؍ جنوری: مجرمانہ نوعیت کے معاملوں میں باہمی  قانونی امداد کے لئے  ترمیم شدہ  گائڈ لائن ۔
  • بھارت سرکار نے  جرم  کے تعلق سے  زیرو  ٹالی رینس پالیسی  کو آگے بڑھانے اور تیزی سے  انصاف دلانے کی کوشش میں وزارت داخلہ نے  دسمبر 2019  میں  مجرمانہ نوعیت کے معاملوں میں باہمی  قانونی  امداد کے لئے  ترمیمی  گائڈ لائن جاری کی۔
  • بھارت  نے  42 ملکوں کے ساتھ  باہمی قانونی معاہدہ  ؍  سمجھوتے کئے اور مختلف  بین الاقوامی  مفاہمتی عرضداشت کو ، جیسے  یو این سی اے سی،  یو این ٹی او سی وغیرہ پر  دستخط  کئے ہیں۔
  • ترمیم شدہ  گائڈ لائن میں بھارت سمیت  پوری دنیا میں  نئے قوانین  ریگولیشن  مفاہمتی عرضداشت کو  اور کارروائی کے قوانین میں ترمیم کی بنیاد پر  بین الاقوامی تعاون میں  کی گئی  مناسب تبدیلی  شامل ہیں۔
  • 19 ؍ مارچ : مودی سرکار نے این سی سی سرٹیفکٹ یافتہ لوگوں کو  نیم فوجی دستوں میں  شامل کرنے کے لئے  تحریک دینے پر  اہم  قدم اٹھایا۔
  • نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی)  میں  بھارت کے نوجوانوں کی حصہ داری میں اضافے کے لئے وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خواب کو تعبیر آشنا کرنے کے لئے  مرکزی  وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  این سی سی  سرٹیفکٹ رکھنے والوں کو  بونس نمبر  دینے کے لئے  ایک انوکھا فیصلہ لیا ہے اور اب  مرکزی  مسلح  پولیس فورس  (سی اے پی ایف)  مسلح افواج کے مروج امتحانات میں این سی سی  کیڈٹ کو  الگ سے نمبر دیئے جائیں گے۔

یو اے پی اے ایکٹ کے تحت نامزد لوگ -  کستا شکنجہ

  • یکم ؍ جولائی :  وزارت داخلہ نے  سکھ دہشت گرد گروپوں سے  جڑے  9 لوگوں کو  یو اے پی اے کے تحت  دہشت گرد قرار دیا۔
  • 27 ؍ اکتوبر : 18 مزید اشخاص کو ، جو یہ تمام  پاکستان میں موجود  ہیں، غیر قانونی  سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ  1967  کے تحت  دہشت گرد قرار دیا گیا۔

وزارت داخلہ  کے نئے اقدامات – محفوظ بھارت کی تعمیر

  • 10؍ جنوری :  وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  نئی دہلی میں  بھارتی  سائبر کرائم  کوارڈی نیشن سیکٹر  (آئی -4 سی) کا افتتاح کیا۔ قومی سائبر جرائم  رپورٹنگ پورٹل کے لئے وقف۔
  • تمام طریقے  سائبر جرائم سے  وسیع  طور پر  اور  اشتراک کے ساتھ نمٹنے کے لئے  415.86 کروڑ روپے کی  مجموعی لاگت کے ساتھ  آئی 4 سی قائم کرنے کے منصوبے کو  اکتوبر  2018  میں منظور کیا گیا تھا۔
  • وزارت داخلہ کی پہل پر  15 ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں نے  متعلقہ ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں  علاقائی  سائبر  اشتراک  مراکز  قائم کرنے کے لئے  اپنی  رضامندی  دی ہے۔
  • 29 ؍ جنوری : این سی آر بی   نے  لاپتہ لوگوں کی تلاش  سے متعلق  اور  گاڑیوں کے  این او سی  بنانے کے لئے  قومی سطح کی  دو آن لائن  خدمات کا  آغاز کیا۔
  • یکم ؍ مارچ :  مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  کولکاتا میں  این ایس  جی  علاقائی  مرکز ی کیمپس  کاافتتاح کیا۔
  • کولکاتا میں  162 کروڑ روپے  لاگت سے  تعمیر شدہ این  ایس جی کے  انتہائی جدید  علاقائی مرکز کیمپس ایک  ماڈل علاقائی  مرکز بن  گیا ہے۔ اس مرکز کی ذمہ داریوں کے دائرے میں مغربی بنگال ، بہار، جھارکھنڈ اور پورا  شمال مشرقی خطہ  شامل ہیں۔
  • 2؍ دسمبر :  مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  55 ویں سالانہ  ڈی جی پی ؍ آئی جی پی اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ اس طرح کا  پہلا اجلاس  ورچوئل  طریقے سے  منعقد کیا گیا۔
  • اپنی افتتاحی تقریر میں وزیر داخلہ نے زور دیا کہ  دہشت گردی کے خلاف  زیرو ٹالیرینس ہونا چاہئے۔ شہریوں کا تحفظ اور ان کے وقار کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے  ایمرجنسی  حالات  اور  قدرتی آفات سے  نمٹنے کے لئے  پولیس  صلاحیت سازی کی  اہمیت  کو اجاگر کیا۔
  • وزیراعظم جناب نریندر مودی نے بھی بعد میں اس ورچوئل اجلاس میں شرکت کی اور پچھلے اجلاس  کی اہم نکات کا تجزیہ کیا۔
  • 4؍ مارچ :  وزارت داخلہ نے  این سی آر بی کے ذریعے  خود کار طریقے سے  چہرے کی شناخت، سسٹم کو  چلانے کی  منظوری دے دی۔ یہ  مجرموں، لاوارث لاشوں اور  لاپتہ  ؍ پائے گئے بچوں و اشخاص کی  بہتر  شناخت کے لئے  سہولت  مہیا کرے گا۔
  • اے ایف آرایس، پولیس ریکارڈ کا استعمال کرے گا اور صرف  قانون نافذ کرنے والی  ایجنسیوں کے لئے دستیاب ہوگا۔
  • مجرموں،  لاوارث لاشوں اور لاپتہ  ؍  پائے گئے بچوں اور اشخاص کی  حقیقی  شناخت کو ممکن بنانے کے سلسلے میں یہ  پرویسی کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
  • 12؍ مارچ : این سی آر بی نے  کرائم ملٹی ایجنسی سینٹر  (سی آر آئی – ایم اے سی)  اور  قومی  سائبر کرائم  تربیتی مرکز ( این سی ٹی سی)  کا آغاز کیا۔
  • سی  آر آئی – ایم اے سی  انتہائی  گھناؤنے جرم  اور  بین ریاستی  اشتراک سے  متعلق  دوسرے معاملوں پر  جانکاری کو  ساجھا کرنے میں  اہل بنانے کے لئے  پولیس افسران ، ججوں  ، وکلاء اور  دوسرے اسٹیک ہولڈرس کے لئے  وسیع پیمانے پر  سائبر  جرائم سے متعلق  جانچ کے لئے  پیشے وارانہ صلاحیت والی  ای- تربیتی خدمات  فراہم کرنے کے لئے این سی ٹی سی کی تشکیل۔
  • 13؍ اکتوبر : این سی آر بی کی ای – سائبر لیب کا افتتاح۔
  • انتہائی جدید  سائبر  فارنسک آلات کے ساتھ  این سی آر بی  کے ذریعے قائم  ای – سائبر لیب ، سائبر  جرائم کی  جانچ کی سمت میں ورچوئل تجربہ فراہم کرے گا۔
  • وزیراعظم جناب  نریندر مودی کی سرکار ، جرم اور دہشت  کو  برداشت نہیں کرنے میں  اعتماد کرتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی قیادت میں سرکار کا مقصد  جرم سے  آزاد بھارت تعمیر کرنا ہے۔
  • مرکزی وزیر داخلہ  جناب امت شاہ نے پولیس فورس کی جدید کاری  (ایم پی ایف)  کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مالی سال 20-2019  کے دوران بھارت سرکار نے  پورے بھارت میں  ایم پی ایف کے لئے 780 کروڑ روپے جاری کئے۔
  • 15؍ دسمبر :  سی سی ٹی این ایس اور  آئی سی جے ایس میں بہتر کام کرنے کی پالیسی پر  دوسرا اجلاس۔
  • وزارت داخلہ کے دو اہم جدید  کاری پروگرام ، مجرمانہ ٹریکنگ نیٹ ورک اور  سسٹم (سی سی ٹی این ایس) ؍  انٹر آپریبل کریمنل جسٹس سسٹم ( آئی  سی جے ایس)  نے  قانون پر عمل آوری  کو  مؤثر بنایا اور یہ  انتہائی  اہمیت کے ساتھ  مؤثر ثابت ہوئے۔
  • سی سی ٹی این ایس  تقریبا 2000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ ایک مشن موڈ  منصوبہ ہے، جس نے اپنی  وسیع  رسائی  اور  ربط کے ساتھ  جانچ اور  پولیس  نظم میں  انقلاب لادیا ہے۔ یہ  انتہائی دور دراز کے علاقوں میں پولیس اسٹیشنوں اور  دوسرے دفاتر کو  جوڑنے میں کامیاب رہی ہیں۔
  • ملک کے کُل 16098 پولیس اسٹیشنوں میں سے  95 فیصد سے زیادہ  پولیس اسٹیشنوں میں سی سی ٹی این ایف  سافٹ ویئر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ 97 فیصد  پولیس اسٹیشنوں میں  رابطے  کی سہولت دستیاب ہے اور  93 فیصد  پولیس اسٹیشنوں میں اب تک سی سی ٹی این ایف کے توسط سے 100 فیصد  ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں۔
  • آئی سی جے ایس کے توسط سے  ڈاٹا اشتراک کو  اعلیٰ سطح پر لے جایا جاسکا ہے اور یہ قانون  نفاذ  اور  قانونی  سسٹم کے درمیان  سچ کے ایک  ذریعے کو  یقینی بنا تا ہے۔ اس طرح  مجرمانہ  انصاف سسٹم کو چلانے کی صلاحیت میں  اصلاح  پیدا کرتا ہے۔ آئی سی جے ایس کے توسط سے  ای – فارنسک،  ای – سماعت اور  ای- جیل جیسے  گروپوں کو  کئی گنا  وسعت دی گئی ہے اور کئی مزید  ڈاٹا بیس سسٹم کے ساتھ  مربوط کیا گیا ہے۔
  • 28 ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کی عدالتوں میں اور  32 ریاستوں ؍ مرکز  کی زیر انتظام ریاستوں کی جیلوں میں سی سی ٹی این ایس ڈاٹا کا الیکٹرانک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ 9 ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں سی سی ٹی این ایس میں  کورٹ ڈاٹا  کا  ریورس ٹرانسفر بھی شروع ہوگیا ہے۔
  • وزیراعظم کے اسمارٹ پولسنگ کے نقطہ نظر کے تحت  جواب دہی ، شفافیت ، برادریوں پر مبنی حکمت عملیوں اور  صلاحیت پر  توجہ دینے کے ساتھ  قانونی  نظم وضبط کو  بنائے رکھنے کے لئے ایک  نیا ویژن سامنے آیا ہے۔

محفوظ شہر پروجیکٹ – شہریوں  باالخصوص خواتین کے لئے محفوظ ماحول مہیا کرنے کی سمت میں

  • محفوظ شہر پروجیکٹ میں 8 شہروں (احمد آباد، بینگلور،  چنئی، دہلی، حیدر آباد، کولکاتا، لکھنو اور ممبئی) کو پہلے مرحلے میں منظوری دی گئی۔
  • محفوظ شہر کا تصور ، ان شہروں میں موجود اثاثوں میں وسعت اور خواتین کے لئے محفوظ ماحول کے سسٹم کے لئے شہریوں کے مطالبات کو پورا کرنے کا پروجیکٹ ہے۔
  • محفوظ شہر منصوبے شہر کی رہنے والی خواتین کو مطالبے کو دھیان میں رکھتے ہوئے اور موجودہ  بنیادی ڈھانچے کی  خامیوں کو دور کرنے کے مقصد سے اسمارٹ پولیسنگ اور  حفاظتی نظم  کو مضبوط بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس  وشہر  کے  بلدیاتی اداروں کے ذریعے مشترکہ  طور پر وضع کی گئی جامع  و متحدہ  منصوبے  ہیں۔
  • ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو  مجموعی طور پر 1220 کروڑ روپے کی تقسیم کی گئی۔

دہلی فسادات – وزیر داخلہ کے ذریعے اٹھائے گئے قدم

  • 25؍ فروری : مرکزی وزیر داخلہ  جناب امت شاہ نے  دہلی میں  تشدد کو لے کر  سیاسی پارٹیوں اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ہوئی میٹنگ کی  صدارت کی۔
  • جناب امت شاہ نے  سیاسی پارٹیوں سے  اشتعال انگیز تقریروں اور بیانات سے  بچنے کی  گزارش کی، جس سے فرقہ ورانہ فساد ات بھڑک سکتے ہوں، انہوں نے کہا کہ پیشے وارانہ تجزیئے کی بنیاد پر  یہ کہا جاتا ہے کہ  دارالحکومت میں تشدد  از خود بھڑکے ہیں۔ مرکزی وزیر  داخلہ  جناب امت شاہ  نے  متاثرہ علاقوں میں اضافی  مسلح فورس کی تعیناتی کے احکامات دئے۔
  • 27 ؍ فروری: مرکزی وزیر داخلہ نے  دہلی میں  موجودہ  قانون وانتظام کی صورت حال کا جائزہ لیا۔
  • 12 ؍ مارچ : جناب امت  شاہ نے  راجیہ سبھا میں  دہلی کے کچھ علاقوں میں حال ہی میں قانون وانتظام کی  صورت حال پر  بحث کا جواب دیا۔
  • دہلی تشدد میں  جان ومال کے نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے  راجیہ سبھا میں قوم کو یقین دلایا کہ مودی سرکار  مجرموں کو  ان کے مذہب، ذات ، فرقے یا  سیاسی  وفاداری کی پرواہ کئے بغیر  قانون کے دائرے میں لاتے ہوئے سزا دلانے کے لئے عہد بند ہے۔
  • جناب امت شاہ نے زور دیا کہ کسی بھی مجرم کو  بخشا نہیں جائے گا اور یہ  سزا  مستقبل میں  مجرموں کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا کرے گی۔
  • انہوں نے کہا کہ فساد کے دوران  املاک کے تمام تر نقصانات کو  اس کے ذمہ دار لوگوں سے  وصولا جائے گا۔
  •  انہوں نے ایوان کو  مطلع کیا کہ  فساد  کی ابتدا سے ایک دن پہلے  کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے تھے اور انہیں فسادات کے ختم ہونے کے بعد بند کردیا گیا تھا۔ انہوں نے  سوشل میڈیا کے توسط سے  فساد بھڑکانے والے تمام لوگوں پر  کارروائی کرنے کا عہد لیا۔
  • جناب امت  شاہ نے کہا کہ مخصوص مفاد پرست عناصر بھارتی مسلمانوں کو گمراہ کرر ہے ہیں اور ان کے دل میں ایک ڈر پیدا کرر ہے ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے) ان کی شہریت چھین لے گا۔ سی اے اے کے خلاف  احتجاجی مظاہروں میں پچھلے دو مہینوں میں کی گئیں   اشتعال انگیز تقریریں دہلی  فسادات کا اہم سبب ہیں۔
  • وزیر داخلہ نے  لوگوں کو  یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ نیشنل  پاپولیشن رجسٹر ( این پی آر) کے عمل میں کسی بھی طرح کے دستاویز  کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور نیشنل پولیشن رجسٹر (این پی آر)  کی بنیاد پر  کسی کو بھی  شہریت کے تعلق سے مشتبہ کی شکل میں نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔
  • وزیر داخلہ نے  تمام سیاسی پارٹیوں سے  سیاست سے اوپر اٹھنے کا  اور  سب سے  اس سلسلے میں عام لوگوں کے دل سے خوف دور کرنے کی  گزارش کی۔

سرحدی علاقوں کی ترقی –سیمانگ وکاس اُتسو:  سرحدی علاقوں کی ترقی میں تیزی لانے اور قومی سلامتی میں ان کے کردار کے بارے میں مقامی لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے یہ ایک انوکھا پلیٹ فارم ہے۔

  • ملک کے سرحدی علاقوں کی مجموعی سلامتی میں وہاں کی آبادی  اہم رول ادا کرتی ہے۔ وہ ملک کے اور  خاص طور پر حفاظتی دستوں کے آنکھ اور کان کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ سرحدی علاقوں کی آبادی  در حقیقت  حفاظتی دستوں کی طاقت میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ اور ان کے نمائندے سرحد پر  نگرانی کے لئے اہم ذریعہ ہیں۔ کیونکہ وہ  کسی بھی  مشتبہ ؍  اجنبی؍  مشتبہ اشیاء  کی  آمد ورفت  کی شناخت کرتے ہیں اور  ان کے بارے میں خبر دیتے ہیں۔
  •  وزیراعظم جناب نریندر مودی کی پہل پر  12 نومبر 2020  کو  کچھ  (گجرات)  کے  دھوردو گاؤں  میں  ایک  سرحدی علاقہ ترقیاتی میلہ  2020  کا  انعقاد کیا گیا تھا، جو قومی سلامتی میں  سرحدی آبادی کے  رول کے بارے میں مقامی لوگوں کو  بیدار کرنے کے لئے  ایک انوکھا پلیٹ فارم ہے۔ ساتھ ہی  اس پلیٹ فارم کے ذریعے  مقامی آبادی کو  بھارت سرکار کے ذریعے  مہیا کئے جانے والے اہم بنیادی ڈھانچے اور  مقامی  سطح پر  ان کی روزی روٹی  کو یقینی بنانے کے لئے  شروع کئے گئے  ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی  معلومات دی جاتی ہے۔
  • مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  اس پروگرام کا  افتتاح کیا۔ پروگرام میں  پاکستان کی سرحد سے لگے  گجرات کے  تین سرحدی اضلاع  کچھ،  بناس کانٹھا او رپاٹن کے  158  سرحدی گاؤوں  کے گرام پردھانوں، ضلع  اور  تعلقہ  پنچایتوں کے ممبروں نے  حصہ لیا۔
  • مرکزی  وزیر داخلہ نے  سیمانگ وکاس  اُتسو 2020  کو خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  اس کا مقصد  اچھی حکمرانی  اور ترقی کو  سرحدی علاقوں تک لانا ہے۔
  • مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ  سرحدی گاؤوں میں  رہنے والے  شہریوں کو  شہروں میں رہنے والے  شہریوں کی طرح  سہولیات ملنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی  سیمانگ وکاس اتسو کا  مقصد  ان علاقوں کی  آبادی کو  قومی سلامتی کی  اہمیت کے حوالے سے  حساس بنانا  اور  سرحدی علاقوں  کی  سلامتی سے متعلق  پہلوؤں  اور  اس کی اہمیت  کے بارے میں  بیدار کرنا ہے۔

بھارت کو  آتم نربھر بنانے کے لئے سی اے پی ایف کا عہد – سودیشی کی حوصلہ افزائی:

  • وزیراعظم جناب نریندر مودی  نے  12 مئی کو بھارت کو  آتم نربھر بنانے اور  بھارت میں تیار مصنوعات کا  استعمال کرنے کی  اپیل کی۔
  • مرکزی وزیر داخلہ  جناب امت شاہ نے  اس اپیل کو  مستقبل میں بھارت کو گلوبل لیڈر یعنی  عالمی قائد  بنانے  والے ایک حوصلہ بخش ذریعے کے طور پر  پیش کیا۔
  • اس ضمن میں  وزارت  داخلہ نے  فیصلہ کیا کہ  ملک بھر کے سبھی  مرکزی مسلح پولیس فورس  کینٹین و اس  فورس میں  اب  یکم جون 2020  سے  صرف  سودیشی مصنوعات کی ہی فروخت ہوگی۔
  •  کیدریہ  پولیس  کلیان بھنڈار – کے پی کے بی (جسے پہلے سینٹرل پولیس کینٹین کے نام سے جانا جاتا تھا)  کو  یکم جون  2020  سے  صرف  سودیشی مصنوعات  کی  فروخت کرنے کا حکم دیا گیا۔ اسی سلسلے میں  کے پی کے بی نے  کھادی  اور  گرام ادھیوگ  کمیشن  (کے وی آئی سی)  کے ساتھ  ایک معاہدہ بھی کیا ہے، تاکہ  بھنڈاروں کے توسط سے  ان کی  مصنوعات کی فروخت کی جاسکے۔
  • سی اے پی ایف  کپڑوں اور  خوردنی اشیاء  کی اپنی  ضروریات  کو پورا کرنے کے لئے  کے وی آئی سی کی مصنوعات کو  خریدنے کے لئے  کوشش بھی کرر رہا ہے، اس سے  کھادی  اور  دیہی صنعت کو  بڑھاوا ملے گا  اور بڑے پیمانے پر  روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
  •  کل خرید قیمت  تقریبا  2800 کروڑ روپے کی ہوگی۔
  • مرکزی وزارت داخلہ  کے اس فیصلے کے ساتھ ہی  تقریبا  10 لاکھ  سی اے پی ایف  ملازمین کے  اہل خانہ کے  تقریبا  50 لاکھ  ممبر  سودیشی مصنوعاعت کا استعمال کریں گے۔

سی اے پی ایف  (مرکزی  مسلح پولیس فورس)  کی شجر کاری مہم:

  • 25 ؍ جنوری 2020  :مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے  خواہش  ظاہر کی کہ سینٹرل  مسلح پولیس فورس  (سی اے پی ایف)  یعنی  سرحدی  حفاظتی فورس  (بی ایس ایف) ، سینٹرل  ریزرو پولیس فورس ( سی آر پی ایف) ، مرکزی  صنعتی حفاظتی فورس (سی آئی ایس ایف) ، بھارت تبت سرحدی پولیس فورس (آئی ٹی بی پی) ، مسلح سرحدی  افواج (ایس ایف بی)، قومی سلامتی گارڈ (این ایس جی) اور آسام رائفلز (اے آر) کو  مانسون کے سیزن میں  شجر کاری مہم 2020  چلانی چاہئے  اور  کم سے کم  ایک کروڑ پودے  لگانے کا منصوبہ بنا نا  چاہئے ۔ اس دوران  لگائے جانے والے پودے  سودیشی قسم کے طویل  عمر والے ہوں اور  صحت کے لئے مفید ہوں۔ ان پیڑوں کی زندگی کی مدت  10 سے 100  سال تک ہونا چاہئے۔ اس کے مطابق  سی اے پی ایف نے  مانسون سیزن کے دوران  بڑے پیمانے پر  شجر کاری مہم 2020  چلانے کا عہد  کیا۔
  • 12 ؍ جولائی 2020 : مرکزی وزیر داخلہ نے  سی اے پی ایف  کے قومی سطح کی  شجر کاری مہم کی  شروعات کی۔
  • مرکزی وزیر داخلہ نے  12 جولائی کو  گرو گرام میں  سی آر پی ایف  کیمپس میں  پیپل کا ایک درخت لگا کر  سی اے پی ایف کے ملک گیر سطح کی  شجر کاری مہم  کا آغاز کیا۔
  • جناب امت شاہ نے  حفاظت کو یقینی بنانے  اور  کووڈ – 19  عالمی وبا کے خلاف  ملک کی لڑائی میں  تعاون دینے کے علاوہ  فروری 2020 سے ہی  اس  عظیم مہم کو چلانے  اور  ملک بھر میں  طویل  عمر والے  درختوں کے  ایک 1.37 کروڑ  سے زیادہ  درخت لگانے کے لئے  سی اے پی ایف کی ستائش کی۔
  • جناب امت شاہ نے  ایک  قدیم  ہندو سبق کا  حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  ایک درخت  10 سے  زیادہ  بیٹوں کے  مساوی ہے۔

دشکوپ سماواتی، دشوا پیس مہدا

دشہدسموپترو، دش پتر سمودرم

(ایک تالاب 10 کنوؤں کے برابر ہے، 10 تالابوں کے برابر ایک جھیل ہے

ایک بیٹا  10 جھیلوں کے جیسا ہے، ایک درخت  10 بیٹو ں کے برابر ہے)

  • اس  شجر کاری مہم کے لئے چنے گئے پودے  ، جیسے  پیپل ، جامن، نیم ، وٹ برکچھ،  برگد وغیرہ  آکسیجن دینے  اور  مختلف موسم میں  زندہ رہنے کی  صلاحیت پر  مبنی ہیں۔ اس کے تحت  ہر ممکن  مقامی  نسل کے  پودوں کو  لگایا جا رہا ہے اور کُل شجر کاری میں  تقریبا  آدھے حصے کے لئے 100 سال یا  اس سے  زیادہ کی  زندگی کی مدت کے ساتھ  لمبے وقت تک  چلنے والے دواؤں  و ماحولیات کے مطابق  درختوں کو اولیت دی گئی ہے۔
  • 30 نومبر  2020  تک سینٹرل  مسلح  پولیس  فورس کے ذریعے 27 ریاستوں  اور 7  مرکز کے وزیر انتظام ریاستوں میں 1216 مقامات پر  1.47 کروڑ  پودے لگائے جاچکے تھے۔ ان فورسز کے ذریعے  لگائے گئے  پودوں  کی تفصیل  اس طرح ہے:

سی اے پی ایف

شجر کاری کا نشانہ

30نومبر2020 تک لگائے گئے کُل درختوں کی تعداد

آسام رائفلز

75,95,350

76,42,484

سی آر پی ایف

22,92,408

27,86,800

ایس ایس بی

12,31,837

14,21,285

بی ایس ایف

11,52,013

11,82,379

سی آئی ایس ایف

7,49,848

8,98,656

آئی ٹی بی پی

5,00,000

5,45,652

این ایس جی

2,50,000

2,50,029

میزان

1,37,71,456

1,47,27,285

  • 23؍ جولائی :  مرکزی وزیر داخلہ نے  کوئلہ  وزارت  کی  شجر کاری مہم  2020 کا آغاز کیا۔
  • جناب امت شاہ نے  نئی دہلی میں  مرکزی وزیر برائے  کوئلہ ،  کانکنی  و  پالیمانی امور  جناب پرہلاد جوشی کی موجودگی میں کوئلہ وزارت کی  شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔
  • مرکز وزیر داخلہ نے  6 ایکو پارک  ؍ سیاحتی مقامات  کا افتتاح  و  سنگ بنیاد رکھا۔
  •  کوئلہ  ؍ لگنائٹ کے ذخیرے والی  10 ریاستوں کے  38 اضلاع میں  130 سے زیادہ مقامات پر  منعقد  شجر کاری مہم  کا آغاز  ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیا گیا۔

نئی  یونیورسٹیاں – نیشنل فارنسک سائنس یونیورسٹی اور  راشٹریہ  رکشا یونیورسٹی (آر آر یو):

  • بھارت سرکار نے  ایک  نیشنل فارنسک  سائنس  یونیورسٹی  قائم کی، جو  مجرمانہ  معاملوں میں  بہتری کے لئے ضروری  فارنسک سائنس کے شعبے میں  اعلیٰ معیار والے  مین پاور  کی بڑھتی  ضرورت کی  نشان دہی کرتا ہے۔ یہ یونیورسٹی  ایک قومی  اہمیت کا ادارہ ہے اور اس ادارے نے یکم  اکتوبر  2020 سے  اپنا  کام کاج شروع کردیا ہے۔
  • پولیس سے  جڑے  کاموں ،  مجرمانہ انصاف  اور  اصلاح ، انتظامیہ کی مختلف اکائیوں میں  اعلیٰ  صلاحیت والے  تربیت یافتہ  مین پاور  کی بڑھتی ضرورت  کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت سرکار نے  راشٹریہ رکشا  یونیورسٹی  (آر آر یو)  کے نام سے  ایک  قومی  پولیس یونیورسٹی  بھی  قائم کی ہے۔
  • یہ یونیورسٹی  ایک قومی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اور  اس کی  شروعات  یکم اکتوبر  2020 سے  ہو چکا ہے۔

قومی آفات  نظم – مناسب  منصوبہ بندی  اور  فوری مدد

امپھان طوفان:

  • 18 ؍ مئی :  وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  تیاریوں کا جائزہ لیا۔ مرکزی وزیر داخلہ  جناب امت  شاہ   بھارت سرکار کے  اعلیٰ افسران ، آئی ایم ڈی،  ایم ڈی  ایم اے اور  این ڈی آر ایف کے  افسران کے ساتھ موجود تھے۔
  • وزیراعظم نے  طوفان کے  راستے والے علاقوں کو  پوری طرح سے  خالی کرانے  اور ضروری اشیاء  کی مناسب  مقدار میں  سپلائی  بنائے رکھنے کے احکا مات دیئے ہیں۔
  • اس خطرناک طوفان  نے 20 مئی  2020  کو  بھارتی  ساحل پر  پہنچ کر  مغربی بنگال اور  اڈیشہ ریاستوں کو  متاثر کیا۔ یہ  185  کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے  سندر بن سے ہوتا ہوا  154 -165 کلو میٹر  گھنٹے کی رفتار کے ساتھ  مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کو پار کر گیا۔ کم دباؤ والے  علاقے سے لے کرصورت حال پر  24 گھنٹے  اعلیٰ سطح پر  نگرانی کی گئی تھی۔ وزارت داخلہ نے  این ڈی آر ایف اور حفاظتی دستوں کی تعیناتی سمیت  تمام ضروری مالی  اور  رسد امداد  مہیا کی۔ ریاستی سرکاروں ،  وزارت دفاع، این ڈی آر ایف اور دوسری مرکزی وزارتوں ؍ محکموں کے ساتھ احتیاط سے  تال میل  قائم کرنے اور وزارت داخلہ کی ٹھوس کوششوں سے انسانی زندگی  کے نقصان کو  کافی حد تک کم کرلیا گیا۔
  • وزیراعظم  جناب نریندر مودی نے  مغربی بنگال  اور اڈیشہ کے  طوفان متاثرہ اضلاع کا ہوائی سروے کیا، اور امدادی کام  فوری شروع کرانے کے لئے  مغربی بنگال کے لئے ایک ہزار کروڑ روپے  اور اڈیشہ کے لئے  500 کروڑ روپے کی  مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے  ان ریاستوں میں  طوفان میں  مرنے والوں کے ورثا کو  2 لاکھ روپے  اور  شدید طور سے زخمی ہونے والوں کو  50-50 ہزار روپے  کی امدادی رقم  دینے کا اعلان کیا۔ نقصانات  کی  جائزہ رپورٹ کی بنیاد پر  راحتی  کاموں پر  ہونے والے  اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مغربی بنگال ریاست کو  ایک ہزار کروڑ روپے  کی  پہلے سے جاری  مالی امداد  کے علاوہ  قومی  آفات  راحت فنڈ  (این ڈی آر ایف)  سے  1250.28 کروڑ روپے کی  رقم جاری کی گئی تھی۔

چکرورتی طوفان نیسرگ اور  نیوار طوفان؛

  • 03؍ جون 2020  کو  چکرورتی طوفان  نیسرگ  علی باغ  کے جنوب میں  مہاراشٹر کے  ساحل کو  100-110  کلو میٹر  فی گھنٹے سے لے کر  120  کلو میٹر  فی گھنٹے کی رفتار سے پار کر گیا۔
  • چکرورتی طوفان نیوار  25 اور 26 نومبر  2020  کی  رات کے دوران  خطرناک ہوا کے ساتھ  120-130  کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے لے کر 145 کلو میٹر  فی گھنٹے کی رفتار سے  پڈوچیری  کے  آس پاس کرائیکل اور  مملاپورم کے درمیان تمل ناڈو  اور  پڈوچیری  کے ساحل کو پار کر گیا۔
  • کم دباؤ والا علاقہ  بننے  کے آغاز سے  صورت حال پر 24 گھنٹے  اعلیٰ سطح پر  نگرانی رکھی جارہی تھی۔ طوفان متاثرہ ریاستوں میں  ضروری رسد، امداد  مہیا کرائی  گئی اور  این ڈی آر ایف  اور مسلح فورسز  کے ذریعے مین پاور  اور وسائل  کی تعیناتی کی گئی۔
  • نقصانات  کی جائزہ رپورٹ کی بنیاد پر  طوفان سے  ہوئے  نقصانات کی تلافی کے لئے  این ڈی آر ایف  سے  مہاراشٹر ریاست کو  268.59 کروڑ روپے  کی رقم جاری کی گئی۔
  • مرکزی  سرکار نے  تمل ناڈو،  آندھرا پردیش،  اور مرکز کے زیر انتظام  پڈو چیری  ریاستوں میں  اس طوفان کے  اثر سے  ہوئے  نقصانات کا  تجزیہ کرنے کے لئے  بین وزارتی  مرکزی ٹیموں (آئی ایم سی ٹی)  کی تشکیل کی۔
  • اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (ایس ڈی آر ایم ایف) ؍ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ (ایس ڈی آر ایف)  اور  نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ (این ڈی آر ایف) سے  رقم جاری کی گئی۔
  • سال 21-2020  کے لئے  ایس ڈی آر ایم ایف  ؍  ایس ڈی  آر ایف کو  مختص رقم  28983.00 کروڑ روپے ، جس میں سے  22184.00  کروڑ روپے  مرکز کا حصہ  ہیں اور  6799.00 کروڑ روپے  ریاستی سرکاروں کا حصہ ہے۔ سال  21-2020 (30 نومبر 2020 تک)  11170.425 کروڑ روپے کی  پہلی قسط 28 ریاستوں کو  مرکز کے این ڈی آر ایم ایف حصے کی شکل میں  جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ  سال 21-2020  کے لئے  ایس ڈی آر ایم ایف  کے  مرکزی حصے  کی دوسری قسط کی شکل میں  10 ریاستوں کو  5423.50 کروڑ روپے کی  رقم  جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ  10 ریاستوں کو این ڈی آر ایف کی طرف سے  4406.81 کروڑ روپے کی  مالی امداد  جاری کی گئی۔

علاقائی کونسل اور  جزیرہ ترقیاتی ایجنسی (آئی ڈی اے) – یکجہتی والے وقافی  ڈھانچے کو بڑھاوا:

  • 28؍ جنوری:  مرکزی وزیر داخلہ نے  نیا رائے پور چھتیس گڑھ میں مرکزی علاقائی کونسل کی 22 ویں  میٹنگ کی  صدارت کی۔
  • میٹنگ کے دوران  وزیر داخلہ نے  علاقائی کونسلوں کی  مستقل  میٹنگیں بلانے کی ضرورت زور دیا۔
  • جناب شاہ  نے جنگلات  سے متعلق  منظوری سے  جڑے  مسئلوں کا  تیزی سے  حل کرنے اور ہر گاؤں خاص طور پر  نکسل علاقوں میں پانچ کلو میٹر کے دائرے میں  سڑک کے کنارے  روایتی کاروبار کے لئے ممبران کو  تحریک دی۔
  • انہوں نے  ریاستوں سے  زور دیا کہ  وہ  پاکسو قانون کے تحت  جرائم کی جانچ کے لئے  دو ماہ  کی  ٹائم لائن  پر  عمل کریں۔
  • وزیر داخلہ نے  ریاستوں کو یاد دلایا کہ وہ سی آر پی  سی اور  آئی پی سی کی  وسیع  ترمیمات کے لئے تجاویز بھیجیں۔ اس کے لئے وہ  تمام وزرائے اعلیٰ کو پہلے ہی خط لکھ چکے ہیں۔
  • جناب امت شاہ نے  کسانوں کو  جلد ادائیگی  کرنے کی  تلقین کی اور  خطے میں  ریاستوں کو  یقین دہانی کرائی کہ اناج کی خرید اور  ان کے  ڈسپوزل سے متعلق، ان کے مسائل کو  جلد از جلد حل کیا جائے گا اور مطلع کیا ایک اعلی سطحی کمیٹی  اس معاملے پر  ابھی غور کررہی ہے۔
  • 28؍ فروری :  جناب امت شاہ نے  بھوبنیشور میں مشرقی  علاقائی کونسل کی  24 ویں میٹنگ کی صدارت کی۔
  • وزیر داخلہ نے  علاقائی  کونسل نظم کی  اہمیت پر  اطمنان کا اظہار کیا اور بتایا کہ  علاقائی کونسلوں کی حال کی  میٹنگوں کی بنیاد پر  70 فیصد سے  زیادہ  ایشوز کو  حل کرلیا گیا ہے اور باقی ماندہ  ایشوز بھی  حال کئے جارہے ہیں۔
  • 13 ؍ جنوری :  جناب امت شاہ نے  نئی اونچائیوں کو  چھوتے ہوئے جزیروں میں  سب ترقی پر  توجہ مبذول کرتے ہوئے جزیراتی ترقیاتی  ایجنسی  کی میٹنگ کی صدارت کی۔
  • ملک میں پہلی بار آئی ڈی اے کی رہبری میں  سائنسی  طریقے سے  تجزیہ کی جانے والی صلاحیت کے دائرے میں نشان زد  جزیروں میں  مسلسل ترقی  کی پہل کی گئی۔

مرکز کے زیر انتظام والی ریاستیں:

  • سرکار نے تصور کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں (یو ٹی) میں رہن سہن کا اعلیٰ معیار، شہری خدمات  اور  بنیادی ڈھانچہ ہونا چاہئے اور وہ  ملک کے باقی حصوں کے لئے اچھی حکمرانی  اور  ترقی کے ماڈل بنیں۔ بھارت سرکار کے آتم نربھر بھارت مہم کے اعلان کے بعد بھارت کے  ترقیاتی پروگراموں کو موثر اور نتیجہ خیز نفاذ کو  یقینی بنانے کے لئے  تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔
  • سمندری  معیشت کو  ترقی دینے کے لئے فطری  ایکو سسٹم  اور  جزیروں کی  سلامتی تشویش کو دور کرتے ہوئے اہم  بنیادی ڈھانچہ سیاحتی  منصوبوں کی  منصوبہ بندی کی گئی ہے اور نجی شعبے کی حصہ داری  اور  انڈومان ونکوبار  جزیرہ  گروپ  اور لکشدیپ میں مقامی  جزیرے  کے رہنے والوں کی حمایت سے انہیں نافذ کیا جا رہا ہے۔
  • اہم سرزمین کو پورٹ بلیئر اور  آگے سوراج جزیرے، چھوٹے انڈمان،  کار نکوبار، کمورتا، گریٹر نکوبار ، لونگ جزیرہ اور  رنگ سے جوڑنے والی بحری  آپٹیکل فائبر کیبل منصوبہ سی اے این آئی ،  (چنئی اور  انڈمان و نکوبار  جزیرہ ) کے  تمام  حصے  چالو کردئے گئے ہیں۔ یہ  ہائی اسپیڈ  براڈ بینک کنکٹی ویٹی  منصوبہ  اہم سرزمین بھارت کے برابر  تیز  اور   زیادہ قابل اعتماد  موبائل  اور زمینی  مواصلاتی خدمات فراہم کرنے میں معاون  ثابت ہوگی۔ سی اے این آئی  منصوبہ  جزیرے کے رہنے والوں کے لئے زبردست تبدیلی لائے گی اور جزیروں میں زندگی  اور  ای- حکمرانی  کو  آسان بنانے کے علاوہ  معیشت کو رفتار  مہیا کرے گی اور جزیرے میں رہنے والوں کی زندگی کے معیار میں بہتری لائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح۔  ج ق۔  ق ر )

U.NO. 339

 



(Release ID: 1688488) Visitor Counter : 28