قانون اور انصاف کی وزارت

ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت، 2992 کے نشانے میں سے ملک بھر میں، 2927 کورٹس کمپلیکس کو تیز رفتار وائڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این) سے جوڑ دیا گیا ہے


یہ رابطہ ، آر ایف، وی ایس اے ٹی وغیرہ جیسے متبادل ذرائع استعمال کرتے ہوئے ،دور دراز کی (تکنیکی اعتبار سے قابل عمل – ٹی این ایف) سائٹوں سے قائم کیا جارہا ہے

انڈو مان ونکوبار جزائر میں 5 ٹی این ایف سائٹوں کے رابطے کو نو افتتاحی زیر سمندر (سمندری کیبل کے تحت) کے ساتھ مربوط کیا جائے گا

Posted On: 11 DEC 2020 12:13PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی ،11؍ دسمبر 2020:   ملک بھر میں ابھی تک 2927 کورٹ کمپلیکس کو  ای-  کورٹ پروجیکٹ کے تحت تیز رفتار وائڈ ایریا نیٹ ورک (ڈبلیو اے این)  سے  جوڑ دیئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی  اُن  2992  سائٹوں میں سے 97.86 کا کام  پورا کرلیا گیا ہے، جنہیں پروجیکٹ کے تحت تیز رفتار  ڈبلیو اے این کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ بی ایس این ایل کے ساتھ  محکمہ انصاف (ڈی او جے)  باقی سائٹوں کو جوڑنے کے لئے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ای – کورٹ پروجیکٹ کے تحت محکمہ انصاف نے ہندوستان کی سپریم کورٹ کی ای – کمیٹی کے ساتھ مل کر  دنیا کے سب سے بڑے  ڈیجیٹل نیٹ ورک میں سے ایک کا کام  شروع کیا تھا، جو کہ  تیز رفتار  وائڈ ایریا نیٹ ورک  (ڈبلیو اے این) کے ذریعے  پورے ہندوستان میں  قائم  2992 کورٹ کمپلیکس کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ اس کے لئے رابطے کے مختلف موڈ استعمال کئے گئے، جیسے کہ  آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) ، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)،  ویری اسمال ایپرچر ٹرمنل ( وی ایس اے ٹی)  وغیرہ شامل ہیں۔ مئی 2018  میں  ان تمام سائڈوں کو منظم ایم پی ایل ایس  -  وی پی این  خدمات  فراہم کرنے کا کام  بی ایس این ایل کے سپرد کیا گیا تھا، جو کہ  ہندوستان میں   جدید ترین ٹیکنالوجی اور  ہائی اینڈ ٹیلی مواصلات بنیادی ڈھانچے  نیز ترسیلی آلات کے ساتھ بہت اچھی ساکھ والی اکائی ہے۔ بی ایس این ایل  ہندوستان کے ہر کونے میں موجود ہے، جس میں شمال مشرقی خطہ، جموں وکشمیر ، اترا کھنڈ ، انڈومان نکوبار آئر لینڈ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

ای-کورٹس  پروجیکٹ کے تحت  بہت سی عدالتیں  ایسے دور دراز علاقوں میں قائم ہیں، جہاں زمینی کیبل کے ذریعے  رابطہ فراہم کرنا ممکن نہیں۔ اس طرح کےعلاقوں کو  تکنیکی اعتبار سے  قابل عمل (ٹی این ایف) کا نام دیا جاتا ہے۔ اور یہ محکمہ انصاف کے ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کا حصہ ہے۔ ٹی این ایف کی سائٹوں میں  آر ایف،  وی ایس اے ٹی وغیرہ جیسے  متبادل ذرائع استعمال کرکے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ بی ایس این ایل  اور  عدالتوں سمیت  مختلف شرکت داروں کے ساتھ  وسیع تر  مذاکرات ، میٹنگیں اور  رابطے کے ساتھ  محکمہ  مجموعی ٹی این ایف کی سائٹوں کو  2019  میں  58 سے کم کرکے  2020  میں 14  کی تعداد تک لے آیا۔ اس طرح  عوامی پیشہ بچایا جاسکا، کیونکہ وی ایس اے ٹی جیسے متبادل ذرائع کے ذریعے رابطہ فراہم کرنا کافی مہنگا پڑتا ہے۔ محکمہ انصاف نے نو افتتاح شدہ  زیر سمندر (سمندر کے اندر) کیبل کو استعمال کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس سے انڈو بار ونکوبار  جزائر میں  5  ٹی این ایف سائٹوں کو رابطہ فراہم کیا جائے گا۔

کووڈ- 19 وبا کے تناظر میں رابطے کی  اہمیت وسیع تر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اچانک ہی عدالتوں کو مقدموں کی آن لائن سماعت کے لئے بڑے  دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لہذا محکمہ انصاف نے  ایک اعلی ٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جس میں  بی ایس این ایل، این آئی سی، ای- کمیٹی  وغیرہ کے نمائندے موجود ہیں، جس کا مقصد اس تبدیل شدہ  منظر نامے میں مطلوبہ بینڈ وتھ کا  احیاء کرنا ہے۔ محکمہ انصاف نے  ہندوستان کی سپریم کورٹ کی  ای – کمیٹی کے ساتھ مل کر  ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ضمن میں  نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور  عدلیہ کی  ٹرانسفارمنگ اور  عام آدمی کو  انصاف تک  رسائی فراہم کرنے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرنے میں اس کی کامیابی  کو  تمام سطحوں پر  سراہا جا رہا ہے۔

قومی ای – گورننس پروگرام کے حصے کے طور پر ، ای – کورٹس پروجیکٹ ایک  مربوط مشن موڈ پروجیکٹ ہے، جو کہ ہندوستانی عدلیہ کی آئی سی ٹی  فروغ کے لئے  سن 2007 سے زیر نفاذ ہے اور جو  ‘ہندوستانی عدلیہ میں معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے لئے قومی پالیسی اور ایکشن پلان  پر مبنی ہے۔

سرکار نے ای – کورٹس فیز-1 پروجیکٹ (15-2007) کے تحت 14249  ضلعی اور  ذیلی عدالتوں کے کمپیوٹر ائزیشن کو منظوری دی تھی۔ ای – کورٹس پروجیکٹ کا مقصد مدعیوں، وکیلوں اور عدلیہ کو نامزد خدمات فراہم کرانا ہے، جو کہ بہتر انصاف کی فراہمی کے لئے معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی)  کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں ضلع اور  ذیلی عدالتوں کے یکساں کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ تمام عدالتوں کا یکساں کمپیوٹرائزیشن کرکے آئی سی ٹی میں  مزید  اضافے کا مقصد رکھتے ہوئے اس پروجیکٹ کے فیز-11  کو  کیبنٹ نے جولائی 2015  میں منظوری دی تھی، جس کی لاگت 1670 کروڑ روپے ہے اور  جس کے تحت  16845 عدالتوں کو کمپیوٹرائز کیا گیا ہے۔

 

********

م ن۔ا ع۔ق ر

(U: 8014)



(Release ID: 1679985) Visitor Counter : 253