کابینہ

مرکزی کابینہ نے اسکولی تعلیم میں بہتری کے لئے عالمی بینک سے امداد یافتہ 5718 کروڑ روپئے کے پروجیکٹ ’اسٹارس‘ کو منظوری دی

Posted On: 14 OCT 2020 4:47PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  14 /اکتوبر 2020 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے درج ذیل کو منظوری دی ہے:

  1. عالمی بینک سے 500 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 3700 کروڑ روپئے)سمیت مجموعی طور پر 5718 کروڑ روپئے کی مجموعی لاگت والے پروجیکٹ اسٹرینتھیننگ ٹیچنگ – لرننگ اینڈ ریزلٹ فار اسٹیٹس (اسٹار) کا نفاذ ۔
  2. اسٹارس پروجیکٹ، محکمہ  اسکولی تعلیم و خواندگی، وزارت تعلیم (ایم او ای) کے تحت مرکز کے زیر اہتمام ایک نئے پروجیکٹ کی شکل میں نافذ کیا جائے گا۔
  3. محکمہ اسکولی تعلیم و خواندگی، وزارت تعلیم کے ایک آزاد اور خودمختار ادارے کے طور پر ایک نیشنل اسیسمنٹ سینٹر، ’پرکھ‘ کا قیام اور اس کی مدد کرنا۔

اس پروجیکٹ میں 6 ریاستیں  - ہماچل پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور اڈیشہ شامل ہیں۔ ان نشان زد ریاستوں کو تعلیم کے معیار میں بہتری لانے کی مختلف تدابیر کے لئے مدد فراہم کی جائے گی۔ اس پروجیکٹ کے علاوہ پانچ ریاستوں – گجرات، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ اور آسام میں بھی اسی طرح کے اے ڈی بی امداد یافتہ پروجیکٹ نافذ کرنے کی بھی بات ہے۔ سبھی ریاستیں اپنے تجربے اور بہترین طور طریقوں کو مشترک کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کریں گی۔

اسٹارس پروجیکٹ، بہتر لیبر مارکیٹ نتائج کے لئے بہتر تعلیمی نتائج اور اسکولوں کے ذریعے ٹرانزیشن اسٹریٹیجیز  کے ساتھ کام کرنے کے لئے راست جڑاؤ کے ساتھ تدابیر کو فروغ دینے، نافذ کرنے، تجزیہ کرنے اور بہتری لانے میں ریاستوں کی مدد چاہتا ہے۔ اسٹارس پروجیکٹ کا بحیثیت مجموعی فوکس اور اس کے اجزاء معیار پر مبنی تعلیمی نتائج کی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

اس پروجیکٹ میں منتخب ریاستوں میں مداخلتوں کے توسط سے بھارت کے اسکولی نظام تعلیم میں جامع نگرانی اور پیمائشی سرگرمیوں میں بہتری لانے کا تصور کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ ان نتائج کے ساتھ فنڈ کے حصول اور تقسیم کو جوڑکر حقیقی نتائج کے ساتھ ان پٹ اور آؤٹ پٹ کے رکھ رکھاؤ کے التزام سے توجہ مرکوز کرنے کے عمل میں تبدیلی لاتا ہے۔

اسٹارس پروجیکٹ کے دو اہم اجزاء ہیں:

  1. قومی سطح پر اس پروجیکٹ میں درج ذیل تدابیر کا تصور کیا گیا ہے، جن سے سبھی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے مستفید ہوں گے:
  • طلباء کے ریٹنشن، ٹرانزیشن اور کمپلیشن شرحوں کے بارے میں مضبوط اور معتبر ڈیٹا حاصل کرنے کے لئے وزارت تعلیم کے قومی ڈیٹا سسٹم کو مضبوط کرنا۔
  • ایس آئی جی (اسٹیٹ انسینٹیو گرانٹس) کے توسط سے ریاستوں کے انتظامی اصلاحات ایجنڈے کی حوصلہ افزائی کرکے ریاستوں کے پی جی آئی اسکور میں بہتری لانے کے لئے وزارت تعلیم کی مدد کرنا۔
  • لرننگ اسیسمنٹ سسٹمز کو مضبوط بنانے میں تعاون کرنا۔
  • نیشنل اسیسمنٹ سینٹر (پرکھ) کے قیام کے لئے وزیر تعلیم کی کوششوں میں مدد کرنا۔ ایسے مرکز کے کاموں میں آن لائن پورٹلوں (مثال کے طور پر شگن اور دکشا)، سوشل و دیگر میڈیا انگیجمنٹ، تکنیکی ورکشاپوں، ریاستی دوروں اور کانفرنسوں کے ذریعے دیگر ریاستوں کے ساتھ ان تجربات کی کلیکٹنگ، کیوریٹنگ اور شیئرنگ کرکے آپریشن کے لئے منتخب ریاستوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

اس کے علاوہ اسٹارس پروجیکٹ میں قومی جزو کے تحت کنٹن جینسی ایمرجنسی رسپانس کمپونینٹ (سی ای آر سی) شامل ہیں، جو اسے کسی قدرتی مصنوعی اور صحت سے متعلق تباہ کاریوں کے لئے زیادہ جواب دہ بنائیں گے۔ یہ اسکول بندی / بنیادی ڈھانچہ سے متعلق نقصان، غیرتشفی بخش سہولیات اور ریموٹ لرننگ میں مدد فراہم کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے لرننگ لوس کو بڑھاوا دینے والے حالات سے نمٹنے میں حکومت کی مدد کریں گے۔ سی ای آر سی کمپونینٹ مالی مدد کی فوری ازسرنو درجہ بندی اور آسان مالی گزارشات سے متعلق عمل کے استعمال میں مدد کرے گا۔

  1. ریاستی سطح پر پروجیکٹ میں درج ذیل تصورات کو شامل کیا گیا ہے:
  • ابتدائی تعلیم اطفال اور بنیادی تعلیم کی صورت حال کو مضبوط بنانا۔
  • لرننگ اسیسمنٹ سسٹمز کو بہتر بنانا۔
  • اساتذہ کے فروغ اور اسکول لیڈرشپ کے ذریعے کلاس روم میں ہدایات اور ریمیڈی ایشن کو مضبوط بنانا۔
  • خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے گورنینس اور مرکوز بندوبست۔
  • اسکول سے محروم بچوں کو مین اسٹریم میں لاکر کیریئر سے متعلق رہنمائی اور مشورے دے کر، انٹرن شپ دے کر اسکولوں میں پیشہ وارانہ تعلیم کو مضبوط بنانا۔

آتم نربھر ابھیان کے جزو کے طور پر پی ایم ای-ودیا، فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومیریسی مشن اور نیشنل کریکولر اینڈ پیڈاگوگیکل فریم ورک فار ارلی چائلڈہوڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن کے لئے پروگرام جیسے اقدامات پر زور دینا بھی اسٹارس پروجیکٹ کا ہدف ہے۔

چنندہ ریاستوں میں گریڈ 3 زبان میں کم از کم مہارت والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونا، سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کی شرح میں بہتری، گورنینس انڈیکس اسکور میں اضافہ، لرننگ اسیسمنٹ سسٹمز کی مضبوطی، ریاستوں کے درمیان تدریسی سہولتوں کے لئے شراکت داری کا فروغ اور بی آر سی و سی آر سی کی ٹریننگ کے توسط سے غیرمرکوز بندوبست کے لئے منصوبہ بندی اور بندوبست سے متعلق صلاحیتوں کی مضبوطی، عمدہ تعلیمی خدمات کی فراہمی  کے لئے ہیڈ ٹیچروں اور پرنسپلوں کی ٹریننگ کے ذریعے اسکول کے بندوبست کی مضبوطی اس پروجیکٹ کے کچھ قابل توجہ نتائج ہیں۔

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 6376



(Release ID: 1664575) Visitor Counter : 11