سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

ہندوستان میں سپرکمپیوٹینگ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور قیام کو فروغ دینے کے لئے اہم تعلیمی اداروں کے ساتھ 13 اقرار ناموں پر دستخط کئے گئے

سپر کمپوٹینگ، کمپیوٹیشنل، کمپیوٹیشنل بائیولوجی، مولی کیولر، ڈائینامکس، نیشنل سیکورٹی کمپیوٹیشنل کیمسٹری سائبر، فزیکل نظام، بڑے ڈاٹا تجزیے، سرکاری انفارمیشن نظام جیسے کئی اہم شعبوں کی کنجی ہے: پروفیسر آشوتوش

Posted On: 13 OCT 2020 1:16PM by PIB Delhi

ہندوستان کے متعدد اہم تعلیمی ادارے جلد ہی ملک میں سپرکمپیوٹینگ بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے دیسی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ میں حصہ دار بنیں گے اور کم لاگت پر سہولتیں دستیاب کرائیں گے۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے تحت سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانس کمپیوٹینگ (سی-ڈیک) نے 12اکتوبر 2020 کو منعقدہ ورچوئل تقریب میں اسمبلی کے ساتھ سپرکمپیوٹینگ بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے، بھارت میں مینوفیکچرنگ کرنے اور قومی سپرکمپیوٹینک مشن کے اہم عناصر کے لئے ملک کے اہم تعلیمی اور تحقیق وترقی کے ہندوستان کے اداروں کے ساتھ کل 13 سمجھوتوں پر دستخط کیے۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر مملکت جناب سنجے شام راؤ دھوترے نے زور دے کر کہا کہ اہم اداروں کے ساتھ سمجھوتہ یا اقرار ناموں پر دستخط ہونے سے اتم نربھر بھارت کا مستقبل جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے سائنس وٹکنالوجی کے محکمے اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے محکمے کے ذریعے اور سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ایڈوانس کمپیوٹینگ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلور کے ذریعے شروع کیے گئے نیشنل سپرکمپیوٹینگ مشن میں کی گئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

سائنس وٹکنالوجی کے محکمے کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے کہا کہ 13 مفاہمت ناموں پر دستخط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مشن نے رفتار پکڑلی ہے اور یہ کمپیوٹینگ کی سہولت کے لئے ایک بڑی پیش رفت ہے اور گزشتہ 5سال میں اس مشن میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں، جہاں ہندوستان میں سپرکمپیوٹرس کی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کے ڈیزائن اور اور فیبری کیشن پر زور دیاگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دراصل وزیر اعظم کی طرف سے دی ئگی اتم نربھر بھارت کی واضح اپیل کے مطابق ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سپرکمپیوٹینگ، کمپیوٹیشنل بائیولوجی، مولی کیولر ڈائنامکس، قومی سیکورٹی، کمپیوٹیشنل کیمسٹری، سائبرفزیکل نظام، بڑے ڈیٹا تجزیوں، حکومت کے معلوماتی نظام جیسے کئی شعبوں کی کنجی ہے۔

بہت سے انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ 13 اقرار ناموں پر دستخط کے دوران الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی اسپیشل سکریٹری محترمہ جیوتی اروڑا اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری راجیندر کمار بھی موجود تھے۔

یہ مشن سائنس اور ٹکنالوجی کے محکمے اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی محکمے کے ذریعے ہندوستان کو سپرکمپیوٹینگ میں دنیا کا سربراہ بنانے کے لئے 7 سال کی مدت کے دوران 4500 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ مشترکہ طور سے نافذ کیاگیا ہے۔

 


http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003G3WM.jpg

 

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00488YB.jpg

 

http://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005TP9D.jpg

 

...............................................................

م ن، ح ا، ع ر

U-6343



(Release ID: 1664286) Visitor Counter : 53