وزارت خزانہ

وزیرمالیات نے، کووڈ-19 کے خلاف جدوجہدمیں، رواں  مالی برس کے اختتام سے پہلے، صارفین کے اخراجات کو بڑھانے کی غرض سے،  73000  کروڑروپے مالیت کے اقدامات کا اعلان کیا


نقدادائیگی اور 21-2018کے دوران اینٹائلمنٹ کے مطابق ،ایک   ایل ٹی سی کے بدلے چھٹیاں اورنقد ادائیگی

گزیٹڈ اور نان –گزیٹڈ،دونوں طرح کے ملازمین کےلئے ،خصوصی تہوار ی  ایڈوانس اسکیم کا ،اقداماتی  احیا

12000 کروڑروپے کے کیپٹل اخراجات کے لئے، ریاستوں کو 50سال کے لئے ،خصوصی بناسود کا قرض

کیپٹل اخراجات کے لئے ،مرکزی بجٹ 2020 میں مختص 4.13 لاکھ کروڑروپے کے علاوہ 25000 کروڑروپےمالیت کے اضافی بجٹ   کی فراہمی

Posted On: 12 OCT 2020 5:06PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  13 اکتوبر 2020: مالیہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملاسیتارمن نے، لاک ڈاؤن کے بعد ،کووڈ-19 کے باعث معیشت  میں جاری  سست روی کو ختم کرنے کے لئے ،صارفین کے اخراجات میں بہتری لانے کی غرض سے ،آج 73000 کروڑروپے مالیت کے اقدامات کا اعلان کیا۔مالیہ اور کارپوریٹ امو ر کی مرکزی وزیر مملکت جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر  مالیہ کے سکریٹری ڈاکٹر اجے بھوشن پانڈے ، مالیاتی خدمات کے محکمے کے سکریٹری جناب دیباشیش پانڈا  اور اقتصادی امور کے محکمے کے سکریٹری جناب ترون بجاج بھی بہتری کے اس پیکج کے اعلان کے دوران موجود تھے۔

مطالباتی بہتری کے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ ’’ ا س بات کےاشارے ملے ہیں کہ سرکاری اور منظم شعبہ کے ملازمین کی بچت میں اضافہ ہوا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح کے افراد کو ترغیبات  دیں تاکہ کم خوش قسمت لوگوں کے فائدو ں کے لئے مطالبے کو بڑھایا جاسکے ۔‘‘ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگر آج اعلان کردہ بہتری لانے کے اقدامات پر مبنی مطالبے میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر  ان لوگوں پر ہوگا جو کووڈ-19سے متاثر ہوئے ہیں اورجو اپنے کاروبار کوجاری رکھنے کے لئے مطالبے کی جانب تک رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس نظرئیے پر زور دیا کہ آج کے حل سے  کل کا مسئلہ کھڑا نہیں ہونا چاہئے۔ محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ  سرکار،  عام شہری کو مستقبل کے افراط زر کے بوجھ کے نیچے نہیں دبانا چاہتی اورنہ ہی  سرکاری قرضے کو بھی غیر پائیدار راہ پر نہیں ڈالنا چاہتی۔

وزیر خزانہ نے  جو تجاویز آج پیش کی ہیں، وہ مالیات انتظامی  طریقے میں،  اخراجات کو بہتر بنانے کے لئے تیار کی گئی ہیں کیونکہ بہت سی تجاویز  یا تو آگے بڑھنے کے لئے ہیں یا بعدمیں تبدیلیوں کے ساتھ اخراجات کی  فرنٹ لوڈنگ کے لئے ہیں، جبکہ دیگر کا تعلق براہ راست مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافے سے منسلک ہے ۔ محترمہ سیتا رمن کا موجودہ اعلان  ،کووڈ-19 کے ذریعہ   پیداشدہ اقتصادی سست روی کے خلاف جدوجہد کے لئے  ،حکومت ہند کے ذریعہ  فعال  مداخلت کو اجاگر کرتا ہے۔تفصیلات  مندرجہ ذیل ہیں:

اے-     صارفین خرچے

1-      تعطیل کے سفر کی رعایت ( این ٹی سی ) نقدواؤچر اسکیم ۔

اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا ’’ این ٹی سی ایل نقدواؤچراسکیم حاصل کرنے کے لئے ملازمین  کے لئےسب سے بڑی ترغیب یہ ہےکہ اگر 2021  میں ختم ہونے والی  4سالہ بلاک کو استعمال نہ کیا گیا، تو وہ خارج ہوجائے گا۔اس کے بجائے یہ  ملازمین کو اُس سہولت کو حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا تاکہ وہ ان اشیا کو خرید سکیں جو ان کے کنبوں کی ضرورت ہو۔‘‘

مرکزی سرکارکے ملازمین  4سال کے بلاک میں   ایل ٹی سی حاصل کرسکتے ہیں جس میں  ان کے اسکیل یا اہلیت کے مطابق  یومیہ کی شرح سے ہوائی یا ریل کا کرایہ  انہیں ادا کیا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ  10 دن کی چھٹیوں کے بدلے  ( تنخواہ + ڈی اے ) نقد ادائیگی کی جاتی ہے۔البتہ کووڈ-19 کے باعث  ملازمین  21-2018 کے موجودہ بلاک میں  ایل ٹی سی استعمال کرنے کی پوزیشن میں  نہیں ہیں۔

لہٰذ ا سرکار نے فیصلہ کیا ہے کہ21-2018 کے دوران ، ایک ایل ٹی سی  کے بدلے  نقد ادائیگی کی جائے گی، جس میں  :

  • چھٹیوں کے بدلے نقدکی مکمل ادائیگی  اور
  • 3 فلیٹ ریٹ  سلیب  میں اہلیت کے زمرے کے مطابق کرائے کی ادائیگی۔
  • کرائے کا ادائیگی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔

جوایمپلائی اس اسکیم کو اختیار کرتا ہے ،اسے کرائے کے مقابلے 3  گنا مالیت کی اشیا یا خدمات خریدنی ہوں گی اور 31  مارچ 2021سے قبل ہی ایک مرتبہ کا چھٹیوں کے بدلے نقدکی ادئیگی حاصل کرنی ہوں گی۔

          اسکیم کےتحت یہ بھی لازم ہے کہ اس پیسے کو ان اشیا کو خریدنے کے لئے خرچ کیا جائے جن پر 12فیصد یا اس سے زیادہ جی ایس ٹی عائدہواور اسے  ڈجیٹل  موڈ کے ِذریعہ  کسی جی ایس ٹی اندراج شدہ  کمپنی سے خریدا جانا چاہئے ۔ملازم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس فائدے کو حاصل کرنے کے لئے جی ایس ٹی کی رسید پیش کرے ۔اگر مرکزی سرکار کے ملازمین اس اسکیم کو اختیار کرتے ہیں تو اس کی لاگت تقریباََ 5675 کروڑروپے کی ہوگی۔سرکاری شعبے کے بینکوں  ( پی ایس بی ) اور سرکاری شعبے کی کمپنیوں  ( پی ایس یو ) کو بھی یہ سہولت فراہم کرائی جائے گی اور ان شعبوں کی  تخمینی لاگت  1900 کروڑروپے ہوگی۔ٹیکس میں  رعایت  ، ریاستی سرکار نیز نجی شعبے  کے لئے بھی ہوگی۔یہ ان ملازمین کے لئے ہے جو اس وقت ایل ٹی سی حاصل کرنے کے اہل ہیں اور یہ مرکزی سرکارکی اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق ہوگی۔ مرکزی سرکار اور مرکزی سرکاری شعبے کی کمپنیو ں نیز سرکاری شعبے کے بینکوں کے ملازمین کے ذریعہ معیشت میں  مطالباتی  اثر کا تخمینہ تقریباََ 19000 کروڑروپے لگایا گیا ہے۔اُدھر ریاستی سرکارکے ملازمین کے ذریعہ مطالباتی بوجھ بھی 9000 کروڑروپے ہوگا۔توقع ہے کہ اس سے 28000 کروڑروپے کا اضافی صارفین مطالبہ وضع ہوگا۔

     2- خصوصی تہوار ی ایڈوانس اسکیم

نان گزیٹڈ ملازمین کے ساتھ ساتھ گزیٹڈ ملازمین کے لئے بھی ایک خصوصی  تہواری ایڈوانس اسکیم  کا احیا ،مطالبے میں تحریک پیداکرنے کے واحد مدتی  اقدام کے طور پر کیا جارہا ہے۔مرکزی سرکارکے تمام ملازمین اب 10000 روپے کا بلاسودایڈوانس  حاصل کرسکتے ہیں جسے انہیں  ملازمین کی پسند کے تہوار پر 31 مارچ 2021  تک خرچ کرنا ہوگا۔یہ بلاسود  کا ایڈ وانس ایمپلائی سے زیادہ سے زیادہ 10 قسطوںمیں وصول کیا جائے گا۔

           ملازمین کو  ایڈ وانس کی قدر کا پہلے سے ہی لوڈڈ روپے کارڈ  فراہم کرایا جائے گا۔سرکار اس کارڈ کے بینک کے چارجز ادا کرے گی۔روپے کارڈ کے ذریعہ ایڈوانس  کی فراہمی  ادائیگی کے ڈجیٹل موڈ  کو یقینی بناتی ہے جس کے نتیجے میں ٹیکس  وصول ہوگا اور ایماندار کاروبار کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

خصوصی تہواری ایڈوانس اسکیم (ایس ایف اے ایس ) کی واحدمدتی تقسیم سے توقع ہے کہ یہ 4000 کروڑروپے مالیت کی رقم تک جاپہنچے گی۔ اگر تمام ریاستی سرکاریں ایس ایف اے ایس فراہم کراتی ہیں تو توقع ہے کہ  8000 کروڑروپے کی مزید رقم  تقسیم کی جائے گی۔

بی- کیپٹل اخراجات

1- ریاستوں کو خصوصی امداد:

کیپٹل اخراجات سے تعلق رکھنے والے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ  بنیادی ڈھانچے اور اثاثے وضع کرنے پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے اس کا معیشت پر کئی گنا اثر ہوتاہے۔اس سے نہ صرف موجودہ مجموعی گھریلوپیداوار بڑھتی ہے بلکہ مستقبل کی  مجموعی گھریلو پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔سرکار ، ریاستوںاور مرکز ، دونوںمیں، کیپٹل  اعتراضات ایک نئی توجہ مرکو زکرنا چاہتی ہے۔محترمہ ستیارمن نے کہا کہ مرکزی سرکار ریاستوں کو ایک خصوصی بلاسود 50سالہ قرض جاری کررہی ہے جوکہ 12000 کروڑروپے  کی مالیت کے کیپٹل اخراجات کے لئے ہوگا۔اس اسکیم کے تین حصے ہوں گے :

حصہ -1 میں  اسکیم کے تحت فراہم کیا جائے گا:

  • شمال مشرق کی 8 ریاستوں کے لئے ہرایک کو 200 کروڑروپے ( 1600 کروڑروپے )
  • اتراکھنڈ، ہماچل پردیش میں سے ہرایک ریاست کو 450 کروڑروپے ( 900کروڑرروپے )

حصہ -2 میں  اسکیم کے تحت فراہم کیا جائے گا:

          باقی ریاستوں کے لئے ، 15ویں مالی کمیشن  کے مطابق  75000 کروڑروپے

وزیر خزانہ نے کہا کہ  ریاستوں کو دئے جانے والے بلاسود کے  آزاد  قرضوں کے حصہ اول اور حصہ دوم ، دونوںکو  31  مارچ  2021  تک خرچ کرنا ہوگا اور اس میں سے 50 فیصدفوری طورپر جبکہ باقی بچاہوا 50 فیصدپہلےدئے ہوئے 50 فیصد کو استعمال کرنے کے بعد ہی دیا جائے گا۔غیر استعمال شدہ رقوم کومرکزی سرکاری دوبارہ مختص کرے گی۔

حصہ3 کے تحت ریاستوں کو 12000 کروڑروپے مالیت کے بلاسودکے آزادقرضوں کو ان ریاستوںکو فراہم کرایا جائے گا ، جنہوں نے آتم نربھر بھارت پیکج  ( اے این بی پی )میں محکمہ اخراجات کے لیٹرایف این 40 (06)/پی ایف –ایس /18-17 وولیوم V بتاریخ 17 مئی سن 2020 کے ذریعہ  شامل 4 اصلاحات میں سے کم سے کم 3 کو پورا کیا ہو۔2000 کروڑروپے دوسری قرِضے کی حدودکے  علاوہ اور مبرا ہے۔

اس اسکیم کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اسے جدیداور جاری ان  کیپٹل پروجیکٹوں کے لئے جنہیں  فنڈز کی ضرورت ہے ،یا  ان پروجیکٹوں  پر ٹھیکیداروں نیز  سپلائرز کے بلوں کی  ادائیگی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
  • سی اے پی ای ایچ کو 31 مارچ 2021 تک خرچ کیا جانا چاہئے۔
  • یہ رقم کی فراہمی ریاستوں کو دی گئی دیگر اضافی قرضہ جاتی حدود سے مبرا  ہے۔
  • 50سال بعد بلٹ  واپسی ادائیگی  ، 50 سال کے لئے کوئی سروس کی ضرورت نہیں۔

2 –اور زیادہ بجٹ گنجائشیں

وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2020 میں مختص 4.13 لاکھ کروڑروپے کی رقم کے علاوہ  ، 25000 کروڑروپے مالیت کا اضافی بجٹ  ، شاہراہوں ، دفاع ،پانی کی فراہمی ،شہری ترقیات  اور اندرون ملک تیار کیپٹل آلات پر کیپٹل اخراجات کے لئے فراہم کیا جارہا ہے۔

سرکاری کاروبار کو آسانی کے ساتھ پورا کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لئے، تمام رقموںکو  ،متعلقہ وزارتوں کےساتھ وزارت خزانہ کی آئندہ ہونے والے، ریوائزڈ  اسٹیمیٹ  تبادلہ خیال میں،  مختص کیا جائے گا۔

آپ کو یاد دلادیں کہ پردھان منتری غریب کلیان پیکج(پی ایم جی کے پی ) کے تحت  1.70 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے پیکج کا اعلان 26 مارچ 2020 کو کیا گیا تھا۔اُدھر وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 12 مئی 2020 کو ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کے 10فیصدکی مالیت  کے برابر  ، آتم نربھر بھارت پیکج کے (اے این بی پی )کا اعلان کیا تھا جو کہ 20لاکھ کروڑروپے مالیت کا خصوصی ،اقتصادی اور جامع پیکج ہے۔وزیر اعظم نے خودکفیل ہندوستانی تحریک کے لئے پُر زور اپیل کی تھی  اور انہوں نے آتم بربھر بھارت کے 5ستونوں کو بھی اجاگر کیا تھا ، جن میں معیشت ، بنیادی ڈھانچہ ، نظام ، نوجوان اورباصلاحیت آبادی  نیز مطالبہ شامل ہیں۔

*************

  م ن۔اع ۔رم

(13-10-2020)

U- 6321



(Release ID: 1663963) Visitor Counter : 272