مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
ہماچل پردیش نے 1567 سیٹوں کی تعمیر کی جو 876 سی ٹی/پی ٹی سیٹوں کے ہد ف سے زیادہ ہے
اتراکھنڈ نے 2611 سیٹوں کے ہدف کے مقابلے میں 20750آئی ایچ ایچ ایل اور4642 سی پی سی ٹی سیٹوں کی تعمیر کی
ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ نے ٹھوس کچرے کو سو فی صد ڈور ٹو ڈور اکھٹھا کیا
ہماچل پردیش میں 98 فی صد کچرے کی پروسیسنگ کی گئی
اتراکھنڈ میں 901.45 ڈی پی ڈی سے زیادہ اکٹھا کئے گئے کچرے کی پروسیسنگ کی گئی
ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں شہری مشنوں میں ہوئی ترقی کی جائزہ لیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2020 12:38PM by PIB Delhi
نئی دہلی،7 اکتوبر 2020/ہاؤسنگ اور شہری امورو کی وزارت میں سکریٹری جناب درگا شنکر مشرا نے گزشتہ مہینے ہماچل پردیش میں اتراکھنڈ ریاست میں چیف سکریٹری /پرنسپل سکریٹری/ سینئر افسران کے ساتھ اپنی بات چیت کی اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستوں کو جی ایف سی سرٹی فکیٹ یا تصدیق حاصل کرنے کے لئے شہروں کو تیاری کرنے کےلے فعال اقدام اٹھانے چاہئے۔ انہوں نے ریاستوں سے یہ دیکھنے کی اپیل کی کہ ان کے تمام ای یل بی او ڈی ایف + اور او ڈی ایف ++ میں اپنی صورتحال حالت سدھاریں اور وہ 2022 تک آدھے شہروں کے لئے 3 اسٹار جی ایفسی صورتحال حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
بات چیت کے دوران ہماچل پردیش نےبتایا کہ ریاست نے 1567 سیٹوں کی تعمیر کی، جو اس کے 876 سی ٹی /پی ٹی سیٹوں کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ اتراکھنڈ نے 2611 سیٹوں کے ہدف مقابلے میں 20750 یعنی 75 فی صد آئی ایچ ایچ ایل اور 4642 سی ٹی /پی ٹی سیٹوں کی تعمیر کی ہے ۔ ریاستوں سے آئی ایچ ایچ ایل کے ہدف جلد سے جلد حاصل کرنے کی درخواست کی گئی۔ ہماچل پردیش نے آگاہ کیا کہ 369.46 ٹی پی ڈی یعنی 98 فی صد کچرے کی پروسیسنگ کی گئی جبکہ اتراکھنڈ میں یہ جانکاری دی کہ 901.45 ٹی پی ڈی اکٹھا کئے گئے کچرے کو پروسیس کیا گیا۔
ریاستوں کے یہ یقینی بنانے کا مشورہ دیا گیا کہ ایم آئی ایس کو باقاعدہ طور سے اپ ڈیٹ کیا جائے۔
ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ نے بتایاکہ ٹھوس کچرے کا سو فی صد ڈور ٹو ڈور کلیکشن کیا ہے۔ سو فی صد وارڈوں میں اور اتراکھنڈ کے 65 فی صد وارڈوں میں کچرےکے ذرائع سے علیحدہ کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔ جنا ب مشرا نے اتراکھنڈ سے یہ یقینی بنانے کی درخواست کی تھی کہ ریاست میں سو فی صدی ذریعہ کچرے کو علیحدہ کیا جائے ۔ سو فی صد کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے کچرے کی پروسیسنگ کیلاگت میں کمی آئے گی۔
ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزارت میں جناب درگا شنکر مشرا نے بتایا کہ چھتیس گڑھ حکومت نے امبیکا پور ماڈل نافذ کیا جارہا ہے جو ذریعہ سے کچرے کی علیحدگی اور اہم مثال ہے۔ انہو ں نے ریاستی سرکاری کو مشورہ دیا کہ میونسپل افسران کی ایک ٹیم جس میں ردی بنانے والے بھی شامل ہوں ، امبیکا پور صفائی کے سروے 2021 میں ہوئی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتےہوئے انہوں نے کہاکہ نئے انعام کو ’ پریرک دور سماّن‘PrerakDauurSamman ‘ کہا جائے گا۔ اس اعزاز کے لئے اہل معیار کچرے کو علیحدہ کرنے، گیلے کچرے کی پروسینگ کی صلاحیت ، کچرے کی ری سائیکلنگ ، تعمیر اور توڑ پھوڑ سے پیدا شدہ کچرے کی ری سائیکلنگ، زمین کے بھراؤ یعنی لینڈ فل کے لئے بھیجے جانے والے کچرے کا سو فیصد اور شہروں کی صفائی کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ شہروں کی رینکنگ ’ دیوے ‘ انوپم، ’ اجول‘، ادت، ’ اور آروہی‘ ہوگی۔صفائی شہر کے بارےمیں تصور کو بدلنے کے علاوہ اسے خوبصورت بھی بناتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ شہر میں کچرے کا کیسے انتظام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستوں کو اس سمت میں دار کوششیںکرنی چاہے۔ جناب مشرا نے رائے ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں دونوں کو کم سے اجول (چاندی) کا ہدف مقرر کرنا چاہئے۔
ریاستوں نے اس مشن کے تحت سائنسی فضلے کو پروسیس کرنے سمیت ان کے ذریعہ کئے جارہی کوششوں سے آگاہ کرایا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستوں کی کارکردگی میں سدھار لانے کے لئے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے مشن کے تحت ریاستوں کے کام کے مظاہرے میں سدھار کے لئے کی جارہی کوششیں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے شہروں کے تئیں لوگوں کے تصور بدلے گا اور شہروں میں اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے ذریعہ کچرے کو علیحدہ کرنا ،صفائی اور خوشحالی کی کنجی ہے۔ انہوں نے اندور شہر کی مثال دی جہاں ایک بائیو میتھنیشن پلانٹ قائم کیا جارہا ہے جو میونسپلٹی سے خریدے گئے گیلے کچرے کے لئے ادائیگی کرے گا ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہرے/گیلے کچرے کو الگ کیا جائے اور گھروں /ہوٹلوں / پرکوں /کالجوں اور اداروں میں مقامی استعمال کے لئے اس سے کھاد بنائی جائے۔ انہوں نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے یہ اپیل کی کہ وہ ہدف مقرر کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے شہروں کے ساتھ کام کریں۔
م ن۔ ش ت۔ج
Uno-6171
(ریلیز آئی ڈی: 1662590)
وزیٹر کاؤنٹر : 158